Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
26 - 158
خامساً: ضمیر بھی مرجع قریب چاہتی ہے تکن سے قدصلیت متصل ہے تو ضمیر بھی مرجع قریب چاہتی ہے تکن سے قدصلیت متصل ہے تو ضمیر سابقہ کی طرف اور اس کا تقاضا اقتضائے ھذہ سے پہلے ہولیا۔

سادساً: شرط بلاشبہہ کنت ہے مگرمعنی سببیت کہ شرط میں نفس فعل شرط میں نہیں ہوتے بلکہ
مع جمیع متعلقات ان تلوتم ٰیسۤ فی بیتی عند رأسی ثلاث لیال مستقبلی القبلۃ متؤضیین فانتم احرار
 (اگر تم میرے گھر میں، میرے سر کے قریب تین راتیں باوضو قبلہ رو ہوکر ٰیسۤ پڑھو تو تم آزاد ہو۔ت) ان ساتوں قیود کے جمع ہونے سے آزاد ہوں گے مجردتلاوت سے نہیں ہوتے خصوصاً کان جس کی دلالت حدث مطلق وزمانہ ماضی کے سوا کسی چیز پر نہیں کما قدمنا اٰنفا عن الرضی (جیسا کہ ہم نے رضی کے حوالے سے ابھی ذکر کیا۔ت) تو سبب کَوْن،مخاطب نہیں بلکہ کَوْنہ قدصلی یعنی تقدم ایقاع صلاۃ کہ اس کا نافلہ ہونا اس کے وقوع پرموقوف۔
سابعاً : امر کے لئے جواب لاسکتے ہیں نہ یہ کہ امرطالب جواب ہے بخلاف قسم، تونامستدعی جواب کاتقدم، شرط مستدعی جزا کے اقتضا پرمرجح نہیں ہوسکتا۔

ثامناً: اگرتکن جواب امرہی ہو تو یہ بھی تعیین احد المعنیین سے عاری ہے جزائے ان کنت نہ سہی اس سے پہلے قد صلیت کلام میں توواقع ہے رجوع ضمیر کو اتنا ہی درکا ہے۔

بالجملہ دلائل طرفین کچھ نہیں ہمیں اس تمام بیان کی حاجت نہ تھی اگرسوال میں نہ ہوتا کہ کس کی دلیلیں قبول کی جاسکتی ہیں اور طریق صحیح یہ ہے کہ

اوّلاً: کلام اس میں ہے کہ پہلے فرض بہ نیّت فرض وقت میں باستجماع شرائط اداکرچکا ہو ورنہ بداہۃً پہلی نماز نماز ہی نہ تھی یاکوئی نفل تھی اگردوسری میں شامل نہ ہوتا جب بھی وہ نفل یا باطل ہی رہتی اور جب صورت یہ ہے تو قطعاً اس وقت پڑھنے سے فرض ذمہ سے ساقط ہوگیا اب نہ وہ وقت میں عود کرسکتا ہے نہ وقت میں دو فرض ہوسکتے ہیں تو یقینا یہ دوسری نہ ہوگی مگرنفل ۔ہاں اس کافائدہ یہ ہوگا کہ برکت وثواب جماعت میں حصہ ملے گا۔
کما فی حدیث مالک وابی داؤد عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فذلک لہ سھم جمع۱؎۔
جیسا کہ امام مالک اور ابوداؤد نے حضرت ابوایّوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لئے جماعت کے ثواب کا حصہ ہے(ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    باب من صلی فی منزلہ الخ     مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)

(مؤطا الامام مال    اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام    مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی        ص۱۱۶)
واقول ثانیاً : اگرثانی فرض ہو تو طلب جماعت فرض ہو حالانکہ اس حکم کو حدیث نے مصلی کے آنے پر محمول فرمایاہے کہ
اذا جئت الی الصلاۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت۲؎۔
جب تونماز کے لئے اور لوگوں کو نماز میں پائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکا ہو(ت)
 (۲؎ سنن ابوداؤد    باب من صلی فی منزلہ الخ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)
یہ نہیں فرمایا:
اذا صلیت فی رحلک افترض علیک ان تأتی الجماعۃ فتصلی معھم۔
جب تونے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تو تجھ پر فرض ہے کہ تو جماعت کی طرف آئے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرے۔(ت)

ابوداؤد و ترمذی و نسائی کی حدیث میں یزید بن الاسود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا صلیتما رحالکما ثم اٰتیتما مسجد جماعۃ فصلیا معھم فانھا لکما نافلۃ۱؎۔
جب تم دونوں اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرچکو پھر تم مسجد کی طرف آؤتو لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھو کہ (جماعت والی نماز) تمہارے لئے نفل ہوگی(ت)
 (۱؎ سنن النسائی    اعادۃ الفجر مع الجماعۃ        مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ۱ /۹۹)

(جامع الترمذی    باب ماجاء فی الرجل یصلی وحدہ الخ    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱ /۳۰)
بلکہ حدیث میں تخییر کی تصریح ہے کہ جی میں آئے توشامل ہوجاؤ، سنن ابی داؤد میں عبادہ ابن صامت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال سیکون علیکم بعدی امراء تشتغلھم اشیاء عن الصلٰوۃ لوقتھا حتی یذھب وقتھا فصلوا الصلٰوۃ لوقتھا فقال رجل یارسول اﷲ اصلی معھم قال نعم ان شئت ۲؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد تم پر ایسے امراء آئیں گے جنہیں بعض اشیاء کی مشغولیت نماز بروقت سے غافل رکھے گی یہاں تک کہ وقت چلاجائے گا، تو تم نماز بروقت اداکرو، ایک آدمی نے عرض کیا: یارسول اﷲ ! میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں؟ فرمایا: ہاں اگر تو چاہے تو پڑھ۔(ت)
 (۲؎ سنن ابوداؤد    باب اذا اخرالامام الصلوٰۃ عن الوقت    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۶۲)
فرض میں اختیار کیسا!
اقول والمراد بالوقت المستحب ای یؤخرون الی وقت الکراھۃ اذھو المعھود من اولٰئِک الامراء، لا ان یصلوا العصر جماعۃ بعد الغروب والعشاء بعد الطلوع۔
میں کہتاہوں یہاں وقت سے مراد وقت مستحب ہے یعنی وہ مکروہ وقت تک نماز کو مؤخر کریں گے یہی بات ان امرا سے معروف ہے یہ نہیں کہ وہ نما ز عصر کی جماعت غروب کے بعد اور نماز عشاء کی جماعت طلوع کے بعد کریں گے(ت)
وثالثاً:  دارقطنی بسند صحیح عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا صلیت فی اھلک ثم ادرکت فصلہا الا الفجر والمغرب۱؎۔
جب تونے اپنے اہل میں نماز ادا کرلی پھر تو نے جماعت کوپالیا تو اسے دوبارہ پڑھ سوائے فجر و مغرب کے۔(ت)
 (۱؎ المصنف لعبد الرزاق باب الرجل یصلی فی بیتہ ثم یدرک الجماعۃ حدیث ۳۹۳۹    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۴۲۲)

۰کنزالعمال    اعادۃ الصلوٰۃ     حدیث ۲۲۸۳۲         مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۸ /۲۶۲)
فجرومغرب کا استثناء اسی بناء پر ہوسکتاہے کہ یہ دوسری نفل ہو کہ نہ فجر میں تنفل ہے نہ نفل میں ایتار، اگر یہ فرض ہوتی تو فجر و مغرب میں ادائے فرض سے کون مانع ہے۔

ورابعا: حدیث بتارہی ہے کہ ان میں ایک کانفل ہونا اس کے شریک جماعت ہونے پرمرتب ہے ''تکن'' اگرجواب امر ہے جب توظاہر اور جزائے ان کنت قدصلیت ہے جب بھی مطلب یہی ہے یہ ہرگز مراد نہیں کہ جس وقت فرض پہلے پڑھے تھے اسی وقت وہ نفل ہوئے تھے چاہے بعد کو جماعت ملتی یا نہیں، شریک ہوتا یانہیں، اور جب ترتب نفلیت شرکت پر ہے اب اگر اس ایک سے نماز دوم مراد لو تو بے تکلف مستقیم ہے کہ یہ نفل اسے شرکت ہی سے ملیں گے، اور اگر اول مراد لو تو معنی یہ ہوں گے کہ اب تک اس سے فرض اداہوئے تھے اس جماعت کی شرکت ان فرضوں کونفل کی طرف منقلب کردے گی اور یہ کہ حتماً مطلوب نہ تھی فرض واقع ہوگی، ان دونوں باتوں کے لئے شرع میں نظیرنہیں۔

وخامساً : مسند احمدوصحیح مسلم میں ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کیف اذاکانت علیک امراء یمیتون الصلاۃ اوقال یوخرون الصلاۃ عن وقتھا قال قلت فما تأمرنی قال صل الصلٰوۃ لوقتھا فانھا لک نافلۃ۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا حال کیاہوگا جب تم پر ایسے امراء مسلّط ہوں گے جو نماز کو فوت کریں گے ، یافرمایا: وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے۔ کہا میں نے عرض کیا: حضور! آپ کا میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: تم نماز اپنے وقت پرپڑھو، پھر اگر ان کے ساتھ جماعت پالے تو نماز پڑھ لے کہ یہ تیرے لئے نفل ہوجائے گی(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم باب کراہۃ تاخیر الصلوٰۃ عن وقتہا الخ            مطبوعہ نورمحمد اصح المطا بع کراچی    ۱ /۲۳۰)
اس میں ضمیر انھا صاف نمازثانی کی طرف راجع ہے اولٰی کی طرف ارجاع بعد عن الفہم ہونے کے علاوہ ارشاد اقدس
صل الصلٰوۃ لوقتھا
 (نماز کو اس کے وقت پرپڑھو۔ت) کے منافی ہے کہ پہلی کو اس کے وقت میں پڑھ کہ اوقات فرائض کے لئے ہیں نہ کہ نفل کے واسطے۔

وسادساً: حدیث مذکور عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مسند احمد رحمہ اﷲ تعالٰی میں یوں ہے کہ فرمایا
واجعلوا صلا تکم معھم تطوعا۱؎
 (تم اپنی نماز کو ان کے ساتھ نفل بنالو۔ت) اس میں صاف تصریح ہے کہ یہ دوسری نفل ہوگی۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث ابی ابن امرأۃ عبادہ رضی اﷲ عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت     ۶ /۷)
سابعاً: اگریہی ماناجائے کہ نافلہ پہلی اور مکتوبہ دوسری کو فرمایا تو فقیر کے ذہن میں یہاں ایک نکتہ بدیعہ ہے ظاہر ہے کہ نماز تنہا ناقص اور جماعت میں کامل ہے، جس نے فرض اکیلے پڑھ لئے پھرنادم ہوکر جماعت میں ملاتو قضیہ اصل وحکم عدل یہ ہے کہ اس کے فرض ناقص اور نفل کامل ہوئے مگر اس کی ندامت اور جماعت کی برکت نے یہ کیا کہ سرکار فضل نے اس کامل کو اس کی فہرست فرائض میں داخل فرمالیا اور ناقص کونفل کی طرف پھیردیا تو یہ نفل کامل فرض لکھے گئے اور وہ فرض ناقص نفل میں محسوب ہوئے کہ کمال فرض کا جمال فضل پائے اور یہ اس کی رحمت سے بعید نہیں جوفرماتاہے:
اولئِک یبدل اﷲ سیأتہم حسنٰت ۲؎۔
اﷲ تعالٰی لوگوں کے گناہوں کونیکیوں کے ساتھ بدل دیتاہے(ت)
 ( ۲؎ القرآن        ۲۵ /۷۰)
جب اس کا کرم گناہوں کونیکیوں سے بدل لیتاہے نفل کو فرض میں گن لینا کیادشوار ہے۔ اب حاصل یہ رہا کہ ہے تو پہلی ہی فرض اور دوسری نفل مگررحمت الٰہی اس نفل کو فرض میں شمار فرمائے گی، اسی طرف مشیر ہے عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما کاارشاد جب ان سے پوچھا گیا میں ان دونوں میں کس کو اپنی نماز یعنی فرض تصور کروں؟ فرمایا:
وذلک الیک انما ذلک الی اﷲ عزوجل یجعل ایتھما شاء۳ ؎۔ رواہ الامام مالک ھذا ماعندی، العلم بالحق عند ربی۔
یہ کیا تیرے ہاتھ ہے، یہ تو اﷲ کے اختیار میں ہے ان میں جسے چاہے (فرض) شمار فرمائے گا۔ اسے امام مالک نے روایت کیا، یہ میری تحقیق ہےحق کا علم میرے رب کے ہاں ہے(ت)
 (۳؎ مؤطا امام مالک    اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام        مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی    ص۱۱۶)
ظہروجمعہ وعشا نفلاً دوبارہ پڑھ سکتاہے نماز عید کے ساتھ تنفل شرع سے ثابت نہیں۔ حدیث دوسرے روز ملنے پرکسی طرح دلیل نہیں کہ وہ اس صورت میں ہے کہ یہ نماز تنہا پڑھ چکا اب اس کی جماعت قائم ہوئی، حدیث محجن رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں تھا:
کنت قدصلیت فاقیمت الصلٰوۃ۱؎۔
تونے نماز پڑھ لی پھر نماز کے لئے تکبیر کہی گئی(ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث محجن الدیلمی            مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴ /۱۱۵)

(سنن النسائی     اعادۃ الصلوٰۃ مع الجماعۃ            مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ۱/۹۹)

(مشکوٰۃ المصابیح     الفصل الثالث من باب من صلی مرتین        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ص۱۰۳)
حدیث ابوایوب رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ہے:
یصلی احدنا فی منزلہ الصلاۃ ثم یاتی المسجد فتقام الصلاۃ۲؎۔
جب تو کوئی اپنے گھرمیں نماز پڑھتا ہے پھر مسجد کی طرف آتاہے پھر نماز کی جماعت کھڑی ہوجائے(ت)
 (؎ سنن ابوداؤد        باب من صلی فی منزلہ الخ        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)
حدیث ابوذررضی اﷲ تعالٰی عنہ میں تھا:
فان ادرکتھا معھم۳؎
 (پس اگر توان کے ساتھ نمازکو پائے۔ت)
 (۳؎ صحیح مسلم        باب کراہۃ تاخیرالصلوٰۃ عن وقتہاالخ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۳۰)
سنن ابی داؤد میں حدیث یزید بن الاسودرضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ایک لفظ یہ ہیں:
اذا صلی احدکم فی رحلہ ثم ادرک الصلاۃ مع الامام فلیصلھا معہ فانھا لہ نافلۃ ۴ ؎۔
جب کسی نے گھر پرنماز پڑھ لی پھر امام کے ساتھ نماز پالی تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھے کہ یہ اس کے لئے نفل ہوجائے گی(ت)
 ( ۴؎ سنن ابوداؤد    باب من صلی فی منزلہ الخ        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)
حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما میں تھا
اذا صلیت فی اھلک ثم ادرکت۵؎
 (جب تونے اپنے اہل میں نماز پڑھ لی پھر تونے جماعت کو پایا۔ت)
 (۵؎ المصنف لعبدالرزاق باب الرجل یصلی فی بیتہ الخ    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت۲ /۴۲۲)
حدیث اخیر ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما میں ہے:
اصلی فی بیتی ثم ادرک الصلاۃ فی المسجد مع الامام۶؎
 (میں اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہوں پھر میں امام کے ساتھ مسجد میں نماز کو پالیتا ہوں۔ت)
 (۶؎ مؤطا الامام مالک        اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام        مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی        ص۱۱۵)
دوسرے روز اس نماز کی جماعت نہیں ہوسکتی آج کی ظہر، ظہر دیروزہ کی غیر ہے ولہٰذا امام ومقتدی کاقضاء ادا میں اختلاف مبطل اقتدا ہے او ر دوسرے دن اگرلوگ کل کی قضا بجماعت پڑھتے ہوں تو اسے ادراک نہ کہیں گے اور واجب سے تو اسے علاقہ ہی نہیں کہ وہ یاوتر ہے یانماز عیدین اول میں تنفل گناہ اور ثانی میں شریعت مطہرہ سے ثابت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter