مسئلہ ۸۸۳ :ازسنبھل ضلع مرادآباد مرسلہ از سید محمد علی مدرس فارسی مدرسہ جارج مسلم اسکول
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید کہتاہے کہ مسجد کے فرش پرمحراب کے محاذ میں جماعت ہونا افضل ہے خواہ نمازی کم ہو، خواہ کسی درخت وغیرہ کے ہونے کی وجہ سے نمازیوں کی طبیعت پربارہو اور دلیل اس کی یہ ہے کہ شامی کے اندر یہ مضمون ظاہرکرتاہے کہ محراب میں امام کاکھڑاہونا افضل ہے اسی پرقیاس کرلیاجائے، عمریہ کہتاہے کہ تمام فرش مسجد کا ایک حکم میں ہے، کسی جگہ کے واسطے فضیلت نہیں ہوسکتی،اگر اس قدرنمازی ہوں کہ محراب سے راست وچَپ میں جماعت ممکن ہو اور نمازیوں کوبھی وہاں آسائش ہو تو ضرور جماعت کرلی جائے دوسرے یہ کہ ائمہ مجتہدین کے قیاسات کااختتام ہوگیا، علمائے حال کاقیاس کیاہوسکتاہے جبکہ علمائے حال کی یہ کیفیت ہے کہ لفظ کے لغوی معنی غلطی سے کچھ سے کچھ خیال کرتے ہیں لہٰذا مکلف خدمت ہوں کہ جواب مع دلیل تحریر فرمائیں، مکرر یہ کہ زیدمحراب کے محاذ میں جماعت ہونے کی فضیلت میں کوئی قول منقول پیش نہیں کرتا محض قیاس سے کام لیناچاہتاہے عمرقیاس کو رَد کرکے منقول دلیل مانگتاہے۔
الجواب
فی الواقع سنت متوارثہ یہی ہے کہ امام وسط مسجد میں کھڑا ہو اور صف اس طرح ہو کہ امام وسط صف میں رہے محراب کانشان اسی غرض کے لئے وسط مسجد میں بنایاجاتاہے اور اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اگرامام ایک کنارے کی طرف جھکا ہواکھڑا ہو تو اگرجماعت زائد ہے فی الحال امام وسط صف میں نہ ہوگا اور ارشاد حدیث توسطوا الامام(امام کو درمیان میں کھڑا کرو۔ت) کاخلاف ہوگا اور اگر ابھی جماعت قلیل ہے توآئندہ ایسا ہونے کااندیشہ ہے لاجرم خود امام مذہب سیدامام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کانص ہے کہ گوشہ میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کنارہ مسجد میں کھڑاہونا مکروہ ہے کہ حدیث کاارشاد ہے امام کو وسط میں رکھو یہ طاق جسے اب عرف میں محراب کہتے ہیں حادث ہے زمانہ اقدس وزمانہ خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین میں نہ تھا محراب حقیقی وہی صدرمقام اس کا مسجد میں قریب حدقبلہ ہے یہ محراب صوری اس کی علامت ہے جس مسجد کے دوحصے ہوں ایک مسقف دوسراصحن، جیسا کہ اب اکثرمساجد یوں ہی ہیں وہ دومسجدیں ہیں مسقف مسجد شتوی ہے یعنی جاڑوں کی مسجد اور صحن مسجد صیفی یعنی گرمیوں کی مسجد، ہرمسجد کے لئے وہ محراب حقیقی موجود ہے، اگرچہ محراب صوری صرف مسجد شتوی میں ہوتی ہے اعتبار اسی محراب حقیقی کاہے یہاں تک کہ اگرمحراب صوری وسط میں نہ ہو یاجانب مسجد بنادینے سے اب وسط میں نہ رہے توامام اس میں نہ کھڑا ہو بلکہ محراب حقیقی میں کہ وسط مسجد ہے، اور جب یہ حکم عام ہے جملہ مساجد کوشامل، اور صحن مسجد بھی ایک مسجد ہے تووہ بھی یقینا اس حکم منصوص میں خود داخل ہے نہ کہ یہاں کسی قیاس کی حاجت ہے، صحن مسجد میں جوجگہ قریب حد قبلہ وسط میں ہے وہ خود محراب حقیقی ہے خواہ محراب صوری کے محاذی ہو یانہ ہو یاسرے سے اس مسجد میں محراب صوری نہ بنی ہو اس محراب حقیقی میں امام کاکھڑاہونا سنت ہے بشرط جماعت اولٰی، لیکن جماعت ثانیہ کے لئے اسی مقام سے دہنے یابائیں ہٹ کرامامت کرنا، نافی کراہت ہے، معراج الدرایہ شرح ہدایہ میں ہے:
فی مبسوط بکر، السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولوقام فی احدجانبی الصف یکرہ ولوکان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلأ المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ والاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ قال اکرہ ان یقوم بین الساریتین اوفی زاویۃ اوفی ناحیۃ المسجد او الی ساریۃ لانہ خلاف عمل الامۃ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم توسطوا الامام وسدوالخلل۱؎۔
مبسوط بکرمیں ہے امام کا محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں اعتدال ہو، اگر وہ صف کی کسی جانب کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہوگا، اگرمسجد صیفی جانب شتوی میں ہو اور مسجد بھرجائے توامام دیوار کی طرف کھڑا ہوتا کہ قوم دونوں اطراف میں برابر ہوجائے، اصح طور پر امام ا بوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں امام کے دوستونوں کے درمیان یاگوشہ مسجد یاکنارہ مسجد یاستون کی طرف کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہوں کیونکہ یہ عمل امت کے مخالف ہے، حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: امام کودرمیان میں کھڑاکرو اور صفوں کے خلا کو پُرکرو۔(ت)
(۱؎ ردالمحتاربحوالہ معراج الدرایۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۲۰)
اسی میں ہے:
المحاریب مانصبت الا اوسط المساجد و ھی قدعینت لمقام الامام۲؎۔
محراب نہیں بنائے جاتے مگر درمیان مسجد میں اور وہ مقام امام کومتعین کرتے ہیں۔(ت)
واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ ردالمحتاربحوالہ معراج الدرایۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۲۰)
مسئلہ ۸۸۴ ازکان پور نئی سڑک مسئولہ حاجی فہیم بخش صاحب عرف چھٹن ۱۳صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین زید اور عمرو کے بارے میں، دونوں حنفیت کادعوٰی کرتے ہیں اور ترجمہ حدیث یزید بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاجوباب
من صلی الصلاۃ مرتین
(جس نے نماز دوبارپڑھی۔ت)
میں ہے حسب ذیل کرتے ہیں زید آخری حصہ حدیث:
اذا جئت الصلٰوۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت کن لک نافلۃ وھذہ مکتوبۃ۱؎۔
جب تو نماز کے لئے آیا تو لوگوں کو نماز اداکرتے پایا تو ان کے ساتھ نماز میں شامل ہوجا اگر تونماز پڑھ چکا تو وہ نفلی ہوگی اور یہ فرضی ہوگی۔(ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۸۵)
کاترجمہ یہ کرتاہے کہ پہلی نماز جو گھر میں پڑھی گئی ہو نفل ہوگی اور جوجماعت کے ساتھ پڑھی جائے وہ فرض ہوجائے گی دلیل یہ ہے:
وان کانت قدصلیت تکن لک نافلۃ
میں آیاکرتاہے اس کے بعد مستقل جملہ اور کلام مستانف ہواکرتاہے یہاں ایسا نہیں ، عمرو کہتاہے کہ زیدکا یہ ترجمہ مذہب حنفی کے موافق نہیں بلکہ مخالف ہے، عمرو آخری حصہ حدیث مندرجہ بالا کاترجمہ یوں کرتاہے کہ گھروالی نماز جوپہلے پڑھی ہے وہ فرض ہوگی اور جو بعد میں جماعت سے پڑھی ہے وہ نفل ہوگی، اس وجہ سے کہ ان وصلیہ ہے، دلیل یہ ہے کہ وان کنت قدصلیت میں اول واؤ داخل ہے دوسرے کنت موجود ہے جوماضی کے لئے مخصوص ہے اور قد تحقیق ماضی کے لئے نیز ھذہ اسم اشارہ قریب ذکری کے لئے ہے پس قدصلیت سے جوصلوٰۃ مدلول ہے وہ مشارٌ الیہ ہے اور یہ پہلی ہی ہوگی وہ فرض ہوگی اور جوصلوٰۃ فصل معھم سے مدلول وہ بعیدذکراً ہے وہ مشارٌ الیہ نہیں اگرخود کنت ماضی کو شرط بنایاجائے تو تکن جزاء مرتب کون مخاطب پرنہیں ہے نیز فصل معھم امربھی جواب کوچاہتاہے اور شرط بھی جزا کو علٰی سبیل التسلیم تب بھی تکن لک نافلۃ جواب امر کا ہے جزا نہیں بوجہ مقدم ہونے امر کے جیسے جملہ قسمیہ جب مقدم ہو شرط پرتوجزا نہیں ہوتی بلکہ جواب قسم سے استغنا ہوجاتاہے ان دونوں قائلوں میں کون ساقائل راستی پر ہے نیز اوپربیان کی ہوئی دلیلیں قابل قبول ہیں یانہیں؟ زید و عمرو کی دلیلوں میں سے کس کی دلیلیں زیادہ صحت کے ساتھ مانی جاسکتی ہیں اور قبول کی جاسکتی ہیں؟ دیگرجونماز رکوع وسجود والی علاوہ مجرد عصرومغرب جماعت سے پڑھی یاپڑھائی ہو عام ہے کہ نماز عید وجمعہ ہی کیوں نہ ہو دوبارہ جماعت ملنے پرنفلاً تکرارنماز کرسکتاہے یانہیں؟ اگراوپر بیان کی ہوئی حدیث سے تکرار نماز پر اس طور سے کہ پہلے پڑھی ہوئی نماز فرض یاواجب اقتدا یاامامت کرکے دوسری جماعت دوسرے روز ملنے پرتکرار نماز کرسکتاہے اور وہ نفل ہوگی استدلال لایاجائے تو صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا رحمکم اﷲ تعالٰی۔
الجواب
زید کا قول غلط اور دلیل باطل
اولاً ان وصلیہ کاآخر کلام ہی میں آنا اور اس کے بعد جملہ اور وہ بھی کلام مستانف ہی ہوناسب باطل وبے اصل ہے وہ کلام واحد کے وسط اجزا میں آتاہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
قولہ تعالٰی ومااکثر الناس ولوحرصت بمؤمنین۱؎۔
اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے اگرچہ آپ (ایمان پر) حریص ہیں مگر اکثرلوگ ایمان نہ لائیں گے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۱۲ /۱۰۳)
رضی میں ہے:
قدتدخل الواو علی ان المدلول علی جوابھابما تقدم ولاتدخل الاذاکان ضدالشرط اولی بذلک المقدم والظاھر ان الواو فی مثلہ اعتراضیۃ ونعنی بالجملۃ الاعتراضیۃ مایتوسط بین اجزاء الکلام متعلقا بمعنی مستانفا لفظا کقولہ ع:
تری کل من فیھا وحاشاک فانیاکقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ''انا سیّد ولد اٰدم ولافخر'' فتقول فی الاول زید وان کان غنیا بخیل وفی الثانی زید بخیل وان کان غنیا والاعتراضیۃ تفصل بین ایّ جزئین من الکلام کانا بلاتفصیل اذا لم یکن احدھما حرفا۲؎۱ھ مختصرا
کبھی واؤ اس لئے آتاہے کہ اس جواب کا مدلول سابقہ ہے یہ وہیں ہوگا جہاں ضد شرط اس مقدم کے زیادہ مناسب ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسے مقام پر واؤ اعتراضی ہوتی ہے او رجملہ معترضہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اجزائے کلام کے درمیان ایسے کلمات آجائیں جومعنی ومفہوم کے اعتبار سے اس سے متعلق ہوں اور لفظاً اس سے جدا ہوں جیسے شاعر کا یہ مصرعہ ہے: وہ دنیا میں ہرچیز کوفانی جانتاہے اور تومحفوظ رہے۔
بعض اوقات تمام کلام کے بعد واؤ آتی ہے، مثلاً حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: میں اولاد آدم کاسردار ہوں مگرفخرنہیں، پہلے کی مثال ''زید بخیل وان کان غنیا'' ہے، جملہ معترضہ بلاتفصیل کسی بھی کلام کے دوجزوں میں فصل پیدا کرتاہے بشرطیکہ دونوں میں سے کوئی جز حرف نہ ہو ۱ھ مختصراً (ت)
(۲؎ شرح رضی مع الکافیۃ، بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۵۸، ۲۵۷)
لاجرمصحیحین میں ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن عبد قال لاالٰہ الا اﷲ ثم مات علی ذلک الادخل الجنّۃ وان زنی وان سرق وان زنی وان سرق وان زنی و ان سرق علی رغم انف ابی ذر۱؎۔
جس بندے نے بھی لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہا پھر اسی پرفوت ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا اگرچہ اس نے زنا وچوری کی ہو، اگرچہ اس نے زنا وچوری کی، اگرچہ اس نے زناوچوری کی، ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب اللباس باب الثیاب البیض مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۷)
ثانیا حدیث کی بہتر تفسیر حدیث ہے امام مالک و احمد و نسائی نے محجن بن اورع دیلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلاۃ فصل مع الناس و ان کنت قد صلیت۲؎۔
جب تو مسجد میں آئے اور نماز پڑھ چکاتھا اور جماعت کھڑی ہوئی تو تو لوگوں کے ساتھ نمازپڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکاتھا۔(ت)
(۲؎ مؤطا امام مالک اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵)
(مسند احمد بن حنبل حدیث محجن الدیلمی مطبوعہ دارالفکربیروت ۴ /۳۴)
(سنن النسائی اعادۃ الصلوٰۃ مع الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ /۹۹)
یہاں یقینا وصلیہ ہے، مرقاۃ میں ہے:
(فصل) ای نافلۃ لاقضاء ولااعادۃ (مع الناس وان) وصلیۃ ای ولو (کنت قدصلیت)۳؎۔
(تونماز پڑھ) یعنی نفل نماز نہ قضاء اور نہ اعادہ (لوگوں کے ساتھ اگرچہ) ''ان'' وصلیہ ہے یعنی اگرچہ (تونماز پڑھ چکا تھا)۔(ت)
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ /۱۰۶)
ثالثا صرف ''ان'' کاوصلیہ یاشرطیہ ہونا یہاں احد المعنیین کی تعیین نہیں کرتا تو اس میں بحث فضول اور اس سے استناد
نا مقبول مدارضمیر تکن کے مرجع اور ھذہ کے مشارالیہ پر ہے اگرضمیر ثانیہ کے لئے ہے اور اشارہ اولٰی کی طرف کہ وہی اقرب ذکراً ہے کما قالہ عمرو(جیسا کہ عمرو نے کہا۔ت) تو اولٰی فرض اور ثانیہ نفل ہوگی اگرچہ ''اِن'' شرطیہ ہو اور عکس ہے توعکس اگرچہ ''اِن'' وصلیہ ہو وھذا ظاھرجدا(اور یہ بہت واضح ہے۔ت) ۔ اشعہ اللمعات میں ہے:
(وان کنت قدصلیت) و اگرچہ ہستی تو کہ بتحقیق نماز گزارد (تکن لک نافلۃ) باشد نمازیکہ دوم بارمیکنی بامردم نفل مرترا (وھذہ مکتوبۃ) وباشد ایں نماز کہ نخست گزاردہ فرض وایں معنی موافق است بظاہر احادیث کہ دلالت داردبربودن نمازدوم نفل ازجہت سقوط ذمہ بادائے اولٰی۱؎۔
(وان کنت قدصلیت) اگرچہ تونے نماز اداکرلی ہو(تکن لک نافلۃ) دوسری دفعہ لوگوں کے ساتھ جو تونے نماز پڑھی وہ تیری نفل نماز ہوگی (وھذہ مکتوبۃ) اور جوتونے پہلے پڑھی وہ فرض نماز ہوگی اور یہ معنی ومفہوم ان ظاہر احادیث کے موافق ہے جو اس بات پر دال ہے کہ دوسری نماز نفل ہوگی کیونکہ فرضی نماز پہلی نماز اداکرنے سے ساقط ہوگئی ۔(ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۴۹۵)
پھر طیبی شافعی سے دوسرے معنی نقل کئے، دیکھو اِنْ شرطیہ لیا اور نماز دوم کو نافلہ قراردیا، مرقاۃ میں ہے:
(فصل معھم وان کنت قدصلیت) لیحصل لک ثواب الجماعۃ وزیادۃ النافلۃ (تکن) ای صلاتک الاولی (لک نافلۃ وھذہ) ای التی صلیتھا الاٰن قیل ویحتمل العکس (مکتوبۃ۲؎)
(لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تونماز پڑھ چکا ہو) تاکہ تجھے جماعت کاثواب اور نوافل میں اضافہ حاصل ہوجائے، یعنی تیری پہلی نماز(تیرے لئے نفل اور یہ) یعنی وہ نماز جوتونے ابھی پڑھی، بعض محدثین نے فرمایا کہ معاملہ میں اس کے عکس کا احتمال ہے(تیرے لئے فرض)۔(ت)
(۲؎ مرقاہ شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ /۱۰۷۹)
شرح میں وان کنت قدصلیت کے بعد لیحصل لک الخ لانے سے ظاہر ہے کہ ان وصلہ لیا ورنہ شرط وجزا کے بیچ میں اس کے لانے کاکوئی محل نہ تھا فصل معھم کے بعدلکھتے اور نماز دوم کو فریضہ بتایا ۔
اقول ولایبعد ان یکون القدح فی ذھنہٖ اولاماھو الاوفق بالاحادیث و الالصق بالقواعد فجعل ان وصلیۃ ویؤیدہ قولہ وزیادۃ النافلۃ وان امکن تاویلہ بان المراد بالنافلۃ ھی الاولی وترتبھا علی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصل معھم مع وقوعھا سابقا باعتبار وصف نافلیۃ فانہ انما یظھر بصلاتہ معھم فافھم ثم اذا اتی علی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تکن حاد النظر الی حاشیۃ الطیبی فنقل مافیھا واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول ممکن ہے ان کے ذہن میں پہلے ہی وہ کھٹکا موجود ہو جو احادیث وقواعد کے موافق ہے تو انہوں نے اِنْ کو وصلیہ بنایا اس کی تائید ان کا قول ''وزیادۃ النافلۃ'' کررہاہے اگرچہ اس کی تاویل یوں بھی ممکن ہے کہ نافلہ سے مراد پہلی نماز ہے انہوں نے حضور علیہ السلام کے ارشاد گرامی فصل معھم(ان کے ساتھ نمازپڑھ) پر اسے مرتب کیا ہو اگرچہ اس کا وقوع باعتبار وصف نفل کے سابق ہے کیونکہ اس نفل نماز کا ظہورجماعت کے ساتھ ہوگا، اسے یادرکھو، پھر جب آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد گرامی تکن پرآئے تو نظر حاشیہ طیبی کی طرف گئی جو کچھ وہاں تھا اسے نقل کردیا، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
عمرو کا قول صحیح اور دلائل زائل اولاً ہم بیان کرچکے کہ اِن کا وصلیہ ہونا کچھ مفید نہ شرطیہ ہونا مضر۔
ثانیاً دخول واؤ وصلیہ ہونے پر کیا دلیل شرطیہ پربھی عاطفہ آتاہے۔
ثالثاً کنت اور قد بھی منافی شرطیہ نہیں قد کا دخول خود فعل شرط پرممنوع ہے
فعلی ھذا لاتقول ان قد فعلت وان قد تفعل۱؎۱ھ ''رضی''
(۱؎ شرح رضی مع الکافیہ بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۶۲)
یہاں فعل شرط کنت ہے جسے ابقائے معنی ماضی ہی کے لئے شرط کرتے ہیں
کقولہ تعالٰی عن عبدہ عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام ان کنت قلتہ فقد علمتہ۲؎
جس طرح اﷲ تعالٰی نے اپنے بندے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کایہ قول ذکر کیا ''اگر میں نے یہ کہا تو تو جانتا ہے''
(۲؎ القرآن ۵ /۱۱۶)
وقولہ تعالٰی عن شاھد یوسف علیہ الصلاۃ والسلام وان کان قمیصہ قدمن دبر۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گواہ کے حوالے سے فرمایا اگر ان کاقمیص پیچھے سے پھٹا ہے (ت)
(۳؎ القرآن ۱۲ /۲۷)
یعنی وہ فعل ماضی جسے شرط کرنا اور معنی ماضی پرباقی رکھنا منظور ہو، اگر اس پر ان داخل کرتے مستقبل کردیتالہٰذا اسے خبر کان اور کان کو شرط کرتے ہیں اب وہ فعل اپنے معنی ماضی پرباقی رہتاہے، رضی میں ہے:
اعلم ان یکون شرطھا فی الاغلب مستقبل المعنی فان اردت معنی الماضی جعلت الشرط لفظ کان کقولہ تعالٰی ان کنت قلتہ، وان کان قمیصہ وانمااختص ذٰلک بکان لان الفائدۃ التی تستفاد منہ فی الکلام الذی ھو فیہ الزمن الماضی فقط ومع النص علی المضی لایمکن استفادہ الاستقبال۱؎۔
پھر جان لے کہ (اِن) کے لئے اغلب طور پر یہ شرط ہے کہ وہ معنی کے اعتبار سے مستقبل پردلالت کرتاہے اگرتو معنی ماضی کاارادہ کرے تو تو لفظ کان کو شرط کردے جیسے فرمان الٰہی ہے ''ان کنت قلتہ وان کان قمیصہ'' اسے کان سے اس لئے مختص کیا ہے کہ وہ فائدہ جو اس میں مقصود ہے وہ فقط ماضی والی کلام سے حاصل ہے اور ماضی پرنص کے باوجود استقبال کااستفادہ ممکن نہیں رہتا۔(ت)
(۱؎ شرح رضی مع الکافیہ بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۶۴)
اور جب وہ فعل معنی ماضی پربحالہ ہے تو ماضی کے لئے قد کاآنا کیامحال ہے۔
رابعاً: نماز اول اگر قریب ذکراً ہے دوم قریب وقوعاً ہے اور شک نہیں کہ جدید متاخرالوقوع قدیم متاخر الذکر سے اقرب ہے۔