اقول لاتائید ولاخلاف فان یصلون لیس نصافی الایجاب ومن تتبع ابواب صفۃ الصلاۃ والحج من ای کتاب شاء وجد قناطیر مقنطرۃ من صیغ الاخبار واردۃ فیما لیس بواجب بل ولاسنۃ انما اقصاہ الندب، وقد قال فی البحر الرائق والطحطاوی فی حاشیۃ الدر ان ذلک ای دلالۃ الاخبار علی الوجوب فیما اذا صدرمن الشارع اما من الفقھاء فلایدل ھو ولا الامر منھم علی الوجوب کما وقع لمحمد حیث، قال فی صفۃ الصلاۃ افترش رجلہ الیسری ووضع یدہ وامثال ذلک کثیرۃ ۱ھ ولست انکرانہ کثیرا مایجیئ للوجوب کمابیناہ فی کتابنا ''فصل القضاء فی رسم الافتاء'' وانما ارید ان المحتمل لایقضی علی المفسر فکیف یرد بہ الاجماع المتظافر علی نقلہ المعتمدات بل کیف یصح ان یحمل علی مایصیر بہ مخالف للاجماع ولوکان کذا لکان ھو احق بالرد من الاجماع اذ الحاکی الواحد عن ظاہرالروایۃ اقرب الی السھو من الجماعۃ بل لقائل ان یقول لایمکن الحمل ھھنا علی الوجوب اصلا وان قلنا بکراھۃ تکرارالجماعۃ فی مسجد الحی مطلقا وذلک کمانصوا علیہ فی الوجیز والتبیین والھندیۃ وغیرھا وسیاتی شرھا وحاشیۃ ان من فاتتہ فی مسجدہ ندب لہ طلبھا فی مسجد اخرالاالمسجدین المکی والمدنی کما فی القنیۃ ومختصر البحر وبحث فی الغنیۃ الحاق الاقصی، وذکر القدوری یجمع باھلہ ویصلی بھم ای وینال ثواب الجماعۃ کما فی الفتح فاذا الجماعۃ معھم لایحتاجون الی التفتیش عنھا فمن ذاالذی حرم علیھم ان یذھبوا الی بعض البیوت مثلا ویجمعوا وینالوا الفضل ۔
اقول (میں کہتاہوں یہاں نہ تائید ہے نہ ہی مخالفت، کیونکہ لفظ '' یصلون '' سے صراحۃً ایجاب ثابت نہیں ہوتا اور جس نے بھی کسی کتاب کے ابواب صفۃ صلوٰۃ وحج کامطالعہ کیا ہے وہ بہت س)ے الفاظ خبر کا ذخیرہ پائے گا جو ایسی جگہ وارد ہیں جو واجب بلکہ سنت بھی نہیں، ہاں زیادہ سے زیادہ مستحب کے درجے میں ہوتے ہیں، بحرالرائق میں ہے اور طحطاوی نے حاشیہ در میں کہا ہے جملہ خبریہ کی دلالت وجوب پر اس وقت ہوتی ہے جب وہ شارع علیہ السلام سے صادر ہو، اور اگروہ فقہاء کرام سے منقول ہو تو اس جملہ خبریہ بلکہ فقہاء کے امر کی بھی وجوب پردلالۃ نہیں ہوتی جیسا کہ امام محمد سے واقع ہے انہوں نے صفۃ صلوٰۃ میں فرمایا نمازی بایاں پاؤں بچھائے اور ہاتھ رکھ دے اور اس پر متعدد مثالیں شاہد ہیں۱ھ اور میں اس بات کامنکر نہیں کہ بہت سے مقامات پرمفید وجوب بھی ہیں جس طرح ہم نے اس کی تفصیل گفتگو ''فصل القضاء فی رسم الافتاء''میں کی ہے، مراد یہاں یہ ہے کہ محتمل کو مفسر پرترجیح حاصل نہیں، اور معتمدات کی منقولات کے باوجود اس کے ساتھ اجماع متظافر کو کیسے رد کیاجائے بلکہ ان عبارات کواس پر کیسے محمول کیاجائے جو اجماع کے خلاف ہوں،اگرمعاملہ یہی ہے تو ایسی ظاہرالروایۃ کورد کردینا اجماع کے رد سے بہتر ہے کیونکہ اکیلا ظاہرروایت نقل کرنے والے کابھول جانا جماعت کے بھول جانےسے زیادہ قریب ہے بلکہ کوئی قائل یہ کہہ سکتاہے کہ یہاں وجوب پرمحمول کرنا بالکل ممکن ہی نہیں اگرچہ ہم یہ کہیں کہ مسجد محلہ میں تکرارجماعت ہرحال میں مکروہ ہے وہ اس لئے کہ وجیز، تبیین، ہندیہ وغیرہ میں اس پرتصریح موجود ہے اور عنقریب تفصیلاً آئے گا کہ جس نے نماز مسجد میں فوت کردی اس کے لئے دوسری مسجد میں تلاش جماعت مستحب ہے مگردو مساجد، حرم مکی اور حرم مدنی میں جیسا کہ قنیہ اور مختصرالبحر میں ہے،قنیہ میں مسجد اقصٰی کو بھی شامل کیاگیا ہے، قدوری نے ذکرکیاکہ وہ اپنے گھروالوں کو جمع کرے اور جماعت کرائے، یعنی وہ جماعت کاثواب پالے گا۔ فتح میں اس طرح ہے اہل کے ساتھ جماعت اس کی تلاش کی محتاج نہیں رہتے تو ان پر کس نے حرام کیا ہے اس بات کو مثلاً وہ گھر کی طرف جائیں اورانہیں جمع کریں اور ثواب جماعت پائیں۔
فان قلت عاقھم عن الخروج الدخول قلت کلامھم المذکور مطلق فیمن دخل ومن لم یدخل والخروج لادراک الجماعۃ لایمنعہ الدخول الاتری ان مقیم الجماعۃ یخرج تکبیر الجماعۃ الاولٰی باذنیہ فلاٰن یجوز لھؤلاء الخروج ولاتکبیر ولااولی لَاولی وبالجملۃ لامحل ھھنا للایجاب وعلیہ کان یتوقف التائید والخلاف فان قُلتَ فاذلا وجوب فمامنزع الکلام قُلتُ افادۃ جوازالانفراد لھم بلاحظرولاحجر بخلاف مالولم تقم الجماعۃ بعد حیث لایجوز الصلاۃ منفرداالابعذرلما فیہ من تفویت الجماعۃ الواجبۃ علی المعتمد او القریبۃ من الوجوب علی المشہور فاذن کان علی وزان ماقال العینی فی عمدۃ القاری،قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سھا اونام او شغلہ عن الجماعۃ شغل جمع باھلہ فی منزلہ وان صلی وحدہ یجوز۱؎۱ھ وھذا معنی لاغبار علیہ ان شاء اﷲ تعالٰی وبہ یزول کل اشکال وﷲ الحمد ۔
فان قلت (اگرکوئی کہے کہ) مسجد میں داخلہ دوسری جگہ جانے کو مانع ہے میں کہتاہوں ان کا مذکورہ کلام مطلق ہے خواہ وہ شخص داخل ہے یاداخل نہیں اور ادراک جماعت کے لئے خروج اس کو دخول سے مانع نہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ دوسری جگہ جماعت کامنتظم، پہلی جماعت کی تکبیر کے وقت مسجدسے نکل سکتاہے تو ان کے لئے خروج ہرطور جائز ہوگا نہ تکبیر ہے اور نہ جماعت اولٰی، الغرض یہاں ایجاب کامحل نہیں اور اسی پرتائید اور خلاف موقوف تھا، اگر اے معترض تو یہ کہے کہ جب وجوب ہی نہیں توکلام کامنشاکیاہوگا؟ تومیں اس کاجواب دیتاہوں کہ ان کے لئے بلاخوف وخطر تنہا نمازادا کرنے کا جواز بیان کرنا مقصود ہے، بخلاف اس صورت کے جب ابھی جماعت نہ ہوئی ہو کہ اب عذر کے بغیر تنہا نمازجائز نہ ہوگی کیونکہ اب اس جماعت کا فوت کرنا لازم آئے گا جو مختار قول کے مطابق واجب اور مشہور قول کے مطابق قریب واجب ہے اوریہ بات اس طریقہ پرہوگی جو امام عینی نے عمدۃ القاری میں بیان کیاکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ نے فرمایا جب کوئی بھول گیا یاسوگیا یا کسی اہم مصروفیت کی بنا پر جماعت میں شرکت نہ کرسکا تو وہ اپنے گھروالوں کوجمع کرے اورباجماعت نماز اداکرے اور اگر اس نے تنہانماز ادا کرلی تب بھی جائز ہے۱ھ یہ معنی نہایت ہی واضح ہے اس میں کوئی غبارنہیں ان شاء اﷲ تعالٰی اورا س کے ساتھ ہراشکال بھی زائل ہوجاتاہے
(۱؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب وجوب صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ /۱۶۲)
قولہ وعن ھذا ذکر العلامۃ الشیخ رحمہ اﷲ السندی تلمیذ المحقق ابن الھمام فی رسالتہ ان مایفعلہ اھل الحرمین من الصلاۃ بائمۃ متعددۃ وجماعات مترتبۃ مکروہ اتفاقا الٰی قولہ واقرہ الرملی فی حاشیۃ البحر۱؎
قولہ اس بارے میں علامہ شیخ رحمہ اﷲ السندی جو شیخ ہمام کے شاگرد ہیں نے اپنے رسالہ میں لکھا کہ اہل حرمین جومتعدد ائمہ اور مترتب جماعات کی صورت میں نماز اداکرتے ہیں یہ بالاتفاق مکروہ ہے، اس کے اس قول تک ذکر ہے کہ اسے رملی نے حاشیہ بحر میں ثابت رکھا ہے
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۹)
اقول یاسبحٰن اﷲ ای مساس لھذابمانحن فیہ فان انکارھم علی التفریق العمدی کماھوالواقع فی الحرمین المکرمین فانھم جزّؤا الجماعۃ اجزاء وعینوالکل جزء اماماوالتفریق بالقصدحیث لاباعث علیہ شرعالایجوزاجماعاوالالماسن اﷲ تعالٰی صلاۃ الخوف وھذا تستوی فیہ مساجد الاحیاء والقوارع والجوامع والبراری جمیعاقولا فصلامن دون فصل ثم وقع الخلاف فی الاقتداء بالمخالف علی وجوہ فصلھافی البحر وردالمحتار وغیرھماواتیناعلی لبابہ فی فتاوٰنا فمن لاکراھۃ عندہ اصلا ای اذا لم یعلم ان الامام لایراع مذھب غیرہ بناء علی اعتبارہ رأی المقتدی کماھو الاصح او علم انہ غیرمراع عند من یقول العبرۃ برأی الامام فھذا التفریق عندہ من دون باعث شرعی وھؤلاء ھم الذین حضرواالموسم تلک السنۃ وانکروا ومن حکم بالکراھۃ عند الشک فی المراعات اواعتقدان الافضل الاقتداء بالموافق مھما امکن وان تحققت المراعاۃ فھو عندہ بوجہ شرعی وھم الجمہور وعلیہ العمل فلاانکار علی اھل الحرمین و لیس فی فعلھم خلل ولازلل والعلامۃ السید المحشی ھوالناقل فیما سیاتی عن الملا علی القاری انہ قال لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخرعلی مااستحسنہ عامۃ المسلمین وعمل بہ جمہور المؤمنین من اھل الحرمین والقدس ومصروالشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم۱؎۱ھ وعلی کل فھذا الکلام من واد اٰخرلاتعلق لہ بجواز التکرار وعدمہ
اقول (میں کہتاہوں)اے اﷲ! تو پاک ہے ، اس عبارت کو ہمارے زیربحث مسئلہ کے ساتھ کیاواسطہ ہے؟ ان کی انکاری گفتگو اس تفریق پرہے جو دانستہ ہو، جیسا کہ حرمین شریفین میں واقع ہے کیونکہ وہ جماعت کومختلف حصص میں بانٹ کر ہرایک حصہ کے لئے الگ الگ امام مقرر کرتے ہیں اور تفریق قصدی کاشرعاً کوئی باعث نہیں اور وہ بالاتفاق جائز نہیں ورنہ اﷲ تعالٰی صلوٰۃ فوت کاطریقہ یوں جاری نہ فرماتا، اور اس میں تمام مساجد برابرہیں خواہ وہ محلہ کی ہیں یاشوارع یاشہر کی جامع یادیہات وجنگل کی،ان میں کوئی تفریق نہیں،پھرمخالف مذہب کی اقتدا میں متعدد وجوہ پر اختلاف واقع ہوا ہے اس کی تفصیل بحر، ردالمحتار وغیرہ میں موجود ہے ہم نے اس کا خلاصہ اپنے فتاوٰی میں ذکرکردیاہے اور جس کے نزدیک بالکل کراہت نہیں یعنی جب مقتدی کوعلم نہ ہو کہ امام دوسرے مذہب کی رعایت نہیں کرتا تویہ حکم مقتدی کی رائے کے اعتبار پرمبنی ہے اور یہی صحیح ہے یامقتدی کو معلوم ہو کہ امام رعایت نہیں کرتاتواس صورت میں عدم کراہت کاحکم امام کی رائے کے اعتبار پر مبنی ہے تو (عدم کراہت کے قائل )کے نزدیک ان متفرق جماعتوں کے لئے شرعی جواز نہیں اور یہی عدم کراہت کے قائل لوگ اس سال حاضر ہوئے اورانہوں نے انکار کیا،اور وہ شخص جس نے رعایت میں شک کی صورت میں کراہت کاحکم لگایا یاوہ یہ اعتقاد رکھتاہے کہ افضل موافق کی اقتداء ہی ہے جیسے بھی ممکن ہو تو اب اگرچہ رعایت متحقق ہوجائے تو یہ اس کے نزدیک وجہ شرعی کی بناپر ہوگا اور یہی جمہور کی رائے ہے اور اسی پرعمل ہے لہٰذا اہل حرمین پرکوئی انکارواعتراض نہیں اور نہ ہی ان کے عمل میں کوئی خلل ونقص ہے اور علامہ سیدمحشی نے آگے چل کر ملاعلی قاری سے یہ نقل کیا ہے کہ اگرہرمذہب کاامام ہو جیسا کہ ہمارے دَورمیں ہے تواقتداموافق امام کی افضل ہے خواہ وہ جماعت پہلے ہو یابعد میں، اسے عامۃ المسلمین نے مستحسن جانا اور جمہور مسلمان مثلاً اہل حرمین، قدس، مصروشام کاعمل اسی پرہے اور اس کے خلاف رائے رکھنے والے کا کوئی اعتبارنہیں۱ھ ہرحال میں اس کلام کاتعلق کسی اور معاملے سے ہے اس کا تعلق تکرارجماعت کے جواز اور عدم جواز سے نہیں۔
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۱۷)
قولہ لکن یشکل علیہ ان نحوالمسجد المکی والمدنی لیس لہ جماعۃ معلومون فلایصدق علیہ انہ مسجد محلۃ بل ھوکمسجد شارع وقدمرانہ لاکراھۃ فی تکرارالجماعۃ فیہ اجماعا۱؎ فلیتامل
قولہ لیکن اس پریہ اشکال ہے کہ مثلاً مسجد مکی اور مسجد مدنی جن کی جماعت معین ومعلوم نہیں تو انہیں مسجد محلہ نہیں کہاجاسکتا بلکہ مسجد شارع کی طرح ہوں گی، اورپہلے گزرچکاہے کہ مسجد شارع میں بالاتفاق تکرارجماعت میں کراہت نہیں، اسمیں مزید غورکرناچاہئے
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۹)
اقول انما نشأ الاشکال من حملہ علی مسئلۃ التکرار وقد علمت ان لم یقصدوھا وانما انکرواتعمد التفریق وھو محظور قطعا ولوفی مسجد شارع فالعجٍب من السیّد العلامۃ المحقق المحشی یورد علی مسئلۃ التکرار مالاورودلہ علیھا ثم یستشکل ھذا الوارد بمالااشکال بہ اصلا ولکن لکل جواد کبوۃ نسأل اﷲ سبحٰنہ عفوہ۔
اقول (میں کہتاہوں) یہ اشکال تب ہے جب اس کو مسئلہ تکرارپرمحمول کیاجائے حالانکہ آپ جان چکے وہ ان کے یہاں مقصود نہیں، انہوں نے دانستہ تفریق سے انکارکیا ہے اور وہ یقینا ممنوع ہے اگرچہ مسجد شارع ہی کیوں نہ ہو توتعجب ہے علامہ محقق محشی پرکہ انہوں نے اسے مسئلہ تکرار پرمحمول کیا حالانکہ اس کایہ محل نہیں ہے پھر اس حمل پرمبنی ایسااشکال بنالیا جس سے کوئی اشکال پیداہی نہ ہوسکتاتھا لیکن ہرشاہسوار کے لئے ٹھوکرہوتی ہے ہم اﷲ تعالٰی سے اس پر ان کے لئے معافی کے طلبگار ہیں
ثم اقول واشد العجب من العلامۃ الشیخ رحمۃ اللہ رحمۃ اللہ تعالی حیث قال الاحتیاط فی عدم الاقتداء بہ ''ای بالمخالف'' ولومرا عیا۲؎کماسینقلہ المحشی عنہ ثم قال ھھنا بکراھۃ ترتیب الجماعۃ وادعی الاتفاق علی خلاف ماعلیہ الجمہورولیت شعری اذاکان ھذا مکروھا وفاقا فکیف یعمل بالاحتیاط الذی اعترفتم بہ ایجعل الناس کلھم علی مذھب واحد ام یسکن مقلدوا کل امام فی بلدہ علیحدۃ اویجعل لکل منھم مسجد بحیالہ ویمنع اھل ثلثۃ مذاھب عن الصلاۃ فی المسجدین الکریمین اوتجعل الجماعۃ لمذھب واحد ویؤمرالباقون بالصلاۃ فرادی،
ثم اقول (پھرمیں کہتاہوں) سب سے زیادہ تعجب علامہ شیخ سندی رحمہ اﷲ پرکہ انہوں نے یہ فرمایاہے ''مخالف کی اقتداء نہ کرنے میں احتیاط ہے اگرچہ وہ رعایت کرتاہو'' جیسا کہ محشی عنقریب اس کو ان سے نقل کرے گا، پھریہاں کہا کہ ترتیب جماعت مکروہ ہے اور جمہور کے مؤقف کے خلاف اتفاق کادعوٰی کیا، افسوس صدافسوس اگریہ عمل بالاتفاق مکروہ ہے تو اس احتیاط پرعمل کیسے ہوگا جس کا تم نے خود اعتراف کیاہے، کیا تمام لوگ ایک مذہب کے ہوجائیں گے یاہرشہر میں ہرمذہب کے مقلدین الگ الگ آباد ہوں گے، یا ہرمذہب کی الگ الگ مسجد بنائی جائے گی،اور ان دومبارک مساجد سے بقیہ تین مذاہب کے لوگوں کو نماز ادا کرنے سے روک دیاجائے گا یا ایک مذہب والوں کی جماعت ہوگی اور دوسرے لوگوں کو تنہا نماز اداکرنے کوکہاجائے گا،
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱ /۴۱۷)
ثم اقول ویرد مثلہ علی تقریر العلامۃ خیرالملۃ والدین الرملی رحمہ اﷲ تعالٰی لما مروھوالناقل کماسیأتی حاشیۃ عن العلامۃ الرملی الشافعی انہ مشی علی کراھۃ الاقتداء بالمخالف حیث امکنہ غیرہ وبہ افتی الرملی الکبیر واعتمدہ السبکی والاسنوی وغیرھماقال والحاصل ان عندھم فی ذلک اختلافا وکل ماکان لھم علۃ فی الاقتداء بناصحۃ وفسادا و افضلیۃ کان لنامثلہ علیھم وقدسمعت مااعتمدہ الرملی و افتی بہ والفقیر اقول مثل قولہ فیما یتعلق باقتداء الحنفی بالشافعی والفقیہ المنصف یسلم ذلک ؎
وانا رملی فقہ الحنفــــــــی
لامرابعد اتفاق عالمین۱؎۱ھ
فاذا کان الفقہ والانصاف ھوکراھۃ الاقتداء بالمخالف فکیف ینکر علی مافعلہ اھل الحرمین لاجرم رجع العلامۃ نفسہ فی حاشیتہ علی شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی والمتن للامام ابن الہمام الی موافقۃ الجمہورفقال کمانقلہ فی منحۃ الخالق علی البحرالرائق بقی الکلام فی الافضل ماھوالاقتداء بہ اوالانفراد لم ارمن صرح بہ من علمائناوظاہرکلامھم الثانی،والذی یظھرویحسن عندی الاول لان فی الثانی ترک الجماعۃ حیث لاتحصل الابہ ولولم یکن بان کان ھناک حنفی یقتدی بہ الافضل الاقتداء ۱؎بہ الخ فقداعترف ان الافضل الاقتداء بالحنفی اذا وجد وان کان الشافعی الذی یؤم صالحا عالما تقیا نقیا یراعی الخلاف کما وصفہ فی تلک الحاشیۃ
ثم اقول (پھر میں کہتاہوں) اسی طرح کااعتراض علامہ خیرالملت و الدین رملی رحمہ اﷲ پربھی وارد ہوتاہے جیسا کہ گزرا وہی ناقل ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا حاشیہ علامہ رملی شافعی سے ہے کہ جب مخالف کے علاوہ کسی امام کوپانا ممکن ہو تو مخالف کی اقتداء مکروہ ہے، اسی پر رملی کبیر نے فتوٰی دیا، سبکی اور اسنوی وغیرہ نے اس پراعتماد کیا ہے کہا، الحاصل، ان کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے اور ہروہ علت جس کی بنا پر ہماری اقتداء ان کے لئے صحیح، فاسد یا افضل ہے ایسا ہی معاملہ ہمارا ان کے ساتھ ہے اور آپ نے وہ سن ہی لیا ہے جس پر رملی نے اعتماد کیا اور فتوٰی دیا ہے میں فقیر انہی کی مثل کہتاہوں اس مسئلہ میں جہاں حنفی کسی شافعی کی اقتداء کرے انصاف پسند فقیہ اسے تسلیم کرے گا ؎
اور میں فقہ حنفی کا رملی ہوں(رملی شافعی اور رملی حنفی)
دونوں عالموں کے اتفاق کے بعد کوئی جھگڑانہیں ہے۔
پس جب دانش وانصاف کافیصلہ مخالف کی اقتدا کامکروہ ہوناہے تو اہل حرمین کے عمل پر انکار کیسے کیاجاسکتاہے یقینا علامہ خیرالدین رملی نے شرح زاد الفقیر علامہ غزی جس کا متن امام ابن ہمام کاہے کے حاشیہ میں رجوع کرکے جمہور کے ساتھ موافقت کی اور کہا جیسا کہ اسے منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں نقل کیاہے، باقی رہا معاملہ اس بات کا کہ مخالف کی اقتدا افضل ہے یاانفراد، تو اس بارے میں ہمارے علماء میں سے کسی کی تصریح میری نظر سے نہیں گزری، بظاہر ان کی عبارات سے دوسری بات (انفراد کاافضل ہونا) ہی سمجھ آتی ہے اور جومیرے نزدیک واضح واحسن ہے وہ پہلی بات (اقتدائے مخالف) ہے کیونکہ دوسری صورت میں ایسی جگہ ترک جماعت لازم آئے گا جہاں اس کے بغیر جماعت حاصل نہیں ہوتی اور اگرایسی صورت نہ ہو مثلاً وہاں کسی حنفی کی اقتداء کی جاسکتی ہے تو اقتدائے حنفی ہی افضل ہوگی الخ تویہاں انہوں نے خود اس بات کااعتراف کرلیا ہے کہ اگرحنفی امام موجود ہو تو اسی کی اقتداء افضل ہے اگرچہ شافعی امام صالح، متقی، صاحب ورع اور اختلافی صورت میں حنفی مذہب کی رعایت کرنے والا موجود ہوجیسا کہ اسی حاشیہ میں اس کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔(ت)
یہ تمام عبارات تعلیقات فقیر علی ردالمحتار کی ہے اور بحمداﷲ تعالٰی اس سے حق واضح وجلی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۱۷)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۶)