| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
وثانیاً لعل الباقی من اھلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للجماعۃ النساء الطاھرات وحدھن فاحب الجماعۃ ولم یحب ان یخرجھن وحدھن للجماعۃ للمسجد وعسی ان یراہ الناس ممن قدصلوا فیحبوا اعادۃ الصلوۃ خلفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اویجییئ بعض من لم یصل بعد فیقفوا خلفھن فتفسد صلاتھم۔
(۲) یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی صرف ازواج مطہرات ہی جماعت سے باقی رہ گئی ہوں آپ نے گھر میں ہی جماعت کوپسندفرمایا اور مسجد میں صرف ان کی جماعت کے لئے ان کو نکالنا پسند نہ فرمایا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نماز اداکرلینے والے آپ کو دیکھ کر آپ کے پیچھے نماز کااعادہ پسند کریں یابعض لوگ پہلی جماعت میں شرکت نہ کرسکے تھے اب آئے تو ان خواتین کے پیچھے کھڑے ہوگئے تو اس صورت میں ان کی نماز فاسد ہوجائے گی۔
وثالث من فاتتہ الجماعۃ وحدہ فھو مخیرفی الانفراد واتباع الجماعات وان یاتی اھلہ فیجمع بھم کما نص علیہ فی الخانیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقدنصوا کما فی ردالمحتار وغیرہ ان الاصح انہ لوجمع باھلہ لایکرہ وینال فضیلۃ الجماعۃ لکن جماعۃ المسجد افضل ۱؎ ۱ھ وقد کان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ربما یترک الافضل لبیان الجواز وکان حینئذ ھوالافضل فی حقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما فیہ من التبلیغ المبعوث لہ من عند ربہ عزوجل فکیف یسلم قولہ ولوجاز ذلک لما اختار۔
(۳) جب تنہاآدمی جماعت سے رہ جائے تو اب اسے اختیار ہے کہ وہ تنہا نماز اداکرے یاجماعت کے ساتھ کہ وہ گھرچلاجائے اور اپنے اہل کو اکٹھا کرکے نماز پڑھے، اس پر خانیہ، بزازیہ وغیرہا میں تصریح ہے، ردالمحتار وغیرہ میں یہ تصریح ہے اگر اس نے اپنے اہل کو جمع کرکے نماز ادا کی تو کراہت نہیں بلکہ جماعت کاثواب پائے گا، البتہ مسجد کی جماعت افضل ہے ۱ھ،اور بعض اوقات سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیان جواز کے لئے افضل کوترک فرمادیتے تھے اور اس صورت میں آپ کے حق میں وہ بیان جوازہی افضل ہوگا کیونکہ اس میں احکام خداوندی کی تبلیغ (جس کے لئے اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں)ہے ان کایہ قول ''ولوجاز ذلک لمااختار ''کیسے درست ہوگا۔
(۱؎ ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۲۹۲)
وفیہ رابعاً مایفیدہ العلامۃ المحشی ان قد انعقد الاجماع بلانزاع علی جواز اعادۃ الجماعۃ فی المسجد العام بل صرحوا قاطبۃ انہ الافضل ومعلوم قطعا ان مسجدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس مسجد محلۃ فلوتم ھذا الاستدلال لصادم الاجماع واتی بتحریم مالیس فی حلہ بل ولافضلہ محل نزاع۔
(۴) جوعلامہ محشی نے کہا ہے کہ اس بات پراجماع کے انعقاد میں کوئی نزاع نہیں کہ مسجد عام میں اعادہ جماعت جائز ہے بلکہ واضح تصریح کی ہے کہ یہ افضل عمل ہے اور یہ بھی قطعاً معلوم ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مسجد مبارکہ مسجد محلہ نہیں، اگرمعترض کایہ استدلال درست ہو تو یہ اجماع سے ٹکرائے گا اور ایسی چیز کو حرام قراردینا ہوگا جس کے حلال بلکہ اس کے افضل ہونے میں کوئی محل نزاع نہیں۔
اقول ومثلہ فی الضعیف بل اضعف ماقدم فی الاذان من الاستدلال بماروی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عہ ان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانوا اذا فاتتھم الجماعۃ فی المسجد صلوا فی المسجد فرادی۱؎،فانہ لیس فیہ ان الجماعۃ کانت تفوت جماعۃ منھم معافکانوایصلون فی المسجد فرادی مجتمعین وحاش ﷲ متی عھد ھذا من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی منھم وانما کانت تفوت نادرا واحدا بعد واحد منھم ولادلالۃ بصیغ الجمع علی القرآن فی الفعل،فان معناہ انھم کانواکل من فاتتہ الجماعۃ صلی فی المسجد منفرداًولم یکونوایتتبعون المساجدنفیاللحرج فکان کقول انس ایضا صلیت خلف النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ابی بکر وعمر وعثمان فکانوا یستفتحوان القرأۃ بالحمدﷲ رب العٰلمن رواہ احمد ومسلم
اقول (میں کہتاہوں) اس کی طرح ضعیف بلکہ اضعف ہے وہ استدلال جو اذان کی بحث میں اس حدیث کے حوالے سے گزرا جو حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جب اصحاب رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مسجد میں جماعت فوت ہوجاتی تو وہ مسجد میں تنہا نمازادا کرتے تھے کیونکہ اس میں یہ ہرگز نہیں کہ اگرصحابہ کے ایک گروہ کی معاجماعت فوت ہوجاتی تو وہ سب مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے حاشا للہ ایسی بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت نہیں البتہ نادرا کسی ایک صحابی کی کسی ایک وقت کی جماعت رہ جاتی تھی گروہ کی نہیں، اور جمع کے صیغہ کی قران فی الفعل پر کوئی دلالت نہیں کہ ایک سے زیادہ افراد مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگران میں سے کسی کی جماعت فوت ہوجاتی تو وہ مسجد میں تنہا نماز اداکرلیتا اور نفی حرج کی وجہ سے دیگرمساجد کی طرف نہ جاتے تھے یہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اس قول کی طرح بھی ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے تو وہ الحمدﷲ رب العالمین سے قرأت کی ابتداء کرتے تھے، اسے احمداور مسلم نے روایت کیاہے
(۱؎ ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۲۹۱)
درج ذیل حاشیہ کانمبر عبارت میں نہیں ہے
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند انس بن مالک رضی اﷲ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۲۲۳)
ھل لقائل ان یقول ان فی نفس الحدیث دلیلا علی ھذا المعنی وذلک انا لانسلم ان المراد بالجماعۃ الجماعۃ الاولی عینا بل نجریھا ھی علی ارسالھاوالجماعۃ لاتفوت الجماعۃ الاان یمنعوا عن تکرارھا، فیتوقف الاستدلال بہ علی اثبات ممانعۃ التکرارفیعودمصادرۃ علی المطلوب وقدذکرالبخاری فی صحیحہ عن انس نفسہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ جاء الی مسجد قدصلی فاذن واقام وصلی جماعۃ۱؎۱ھ فلم تفتہ الجماعۃ اذلم یکن وحدہ و صح ان رجلا دخل المسجد وقد صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصحابہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من یتصدق علی ھذافیصلی معہ فقام رجل من القوم فصلی معہ۲؎ رواہ احمد وابوداؤد والترمذی وابوبکر بن ابی شیبۃ والدارمی وابویعلی وابن خزیمۃ وابن حبان وسعید بن منصور والحاکم کلھم عن ابی سعید الخدری والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ وعن عصمۃ بن مالک و ابن ابی شیبۃ عن الحسن البصری مرسلا عبدالرزاق فی مصنّفہ وسعید بن منصور فی سننہ عن ابی عثمن النھدی مرسلا ایضا وفی الباب عن ابی موسی الاشعری والحکم بن عمیر کما فی الترمذی رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین وفی بعضھا ان ذلک المتصدق علی الرجل ابوبکر ن الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنھما قولہ ولان فی الاطلاق ھکذا تقلیل الجماعۃ معنی فانھم لایجتمعون اذا علموا انھا لاتفوتھم۱؎۔
کیا کوئی قائل یہ کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے مضمون میں اس مفہوم پردلیل ہے؟ اور یہ اس لئے کہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ یہاں جماعت سے مراد جماعت اولٰی عینی ہے بلکہ ہم اسے مطلق جماعت پرمحمول کرتے ہیں اور ایک گروہ سے جماعت تب فوت ہوگی جب انہیں تکرار جماعت سے منع کیا ہو، لہٰذا اس سے استدلال ممانعت تکرار کے اثبات پرموقوف ہوگا، تو یہاں مصادرت علی المطلوب عود کرے گی، اور بخاری نے اپنی صحیحمیں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہی سے روایت کی ہے کہ وہ مسجد میں آئے حالانکہ جماعت ہوچکی تھی تو انہوں نے اذان دی تکبیر کہی اور جماعت کرائی۱ھ توتنہا نہ ہونے کی صورت میں ان کی جماعت فوت نہ ہوئی اور یہ بھی ثابت ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا حالانکہ حضورعلیہ السلام نے صحابہ کو جماعت کرادی تھی، توآپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر کون صدقہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟ توایک شخص کھڑا ہوا او ر اس کے ساتھ نماز ادا کی، اس کو مسند، ابوداؤد، ترمذی، ابوبکر بن ابی شیبہ، دارمی، ابویعلی، ابن خزیمہ، ابن حبان، سعید بن منصور اور حاکم ان سب نے حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے،اورطبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ اور حضرت عصمہ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے، اور ابن ابی شیبہ نے حضرت امام حسن بصری سے مرسلاً روایت کیاہے، عبدالرزاق نے مصنف اور سعید بن منصور نے سنن میں ابوعثمان النہدی سے بھی مرسلاً روایت کیاہے۔ اس باب میں حضرت ا بوموسٰی اشعری اور حکم بن عمیر سے بھی روایت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے رضی اﷲ عنہم اور بعض روایات میں ہے کہ وہ صدقہ کرنے والے حضرت سیّدنا ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ تھے قولہ کیونکہ ایسے اطلاق سے تقلیل جماعت کامعنی پایاجاتاہے اس لئے کہ وہ جب جان لیں کہ جماعت فوت نہ ہوگی توجمع نہ ہوں گے۔
(۱؎ صحیح البخاری باب فضل صلوٰۃ الجماعۃالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۹) (۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند ابی سعید الخدری رضی اﷲ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۴۵) (۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۹)
اقول لسنانبیح تعمد ترک الجماعۃ الاولی اتکالا علی الاخری فمن سمع منادی اﷲ ینادی ولم یجب بلاعذر اثم وعزرفاین الاطلاق وانما نقول فیمن غابوا فحضروا اوکانوا مشتغلین بنحو الاکل تاقت الیہ انفسھم او التخلی وغیرذلک من الاعذار فتخلفھم عن الاولی قدکان باذن الشرع فعلی مایعاقبون بحرمان الجماعۃ وفیم تودی الی التقلیل وقد اثبتنا فی رسالتنا ''حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ'' ان الواجب ھی الجماعۃ الاولی عینا، فاذا علموا انھم لولم یحضروا فاتھم الواجب فکیف لایجتمعون، اما الکسالی وقلیل المبالاۃ فلایجتمعون وان علموا انھم تفوتھم الاولٰی والاخری جمیعا الاتری ان (عـہ)بعض العصریین ممن یدعی العلم والدین قدشدد فی ذلک تشدید ابلیغا وزعم ان تکرار الجماعۃ معصیۃ مطلقا فتبعہ بعض عوام تلک البلاد فی ترک تکرار الجماعۃ ولم یتبعوہ فی اتیان الاولی فتری فوجامن الاحابیش یاتون بعد الجماعۃ فیصلون معا فرادی فیزیدون مشابھۃ بالروافض واﷲ المستعان ۔
اقول( میں کہتاہوں) ہم جماعت اولٰی کے عمداً ترک کو دوسری جماعت پربھروسا کی بناء پر مباح نہیں رکھتے اور جس شخص نے بھی اﷲ تعالٰی کی طرف سے بلاواسُنااور اس نے اسے قبول نہ کیا وہ گنہگار ہوگا اور وہ قابل تعزیر ہے تو یہاں اطلاق کہاں ہے، ہم تو ان لوگوں کی بات کررہے ہیں جو موجود نہ تھے اب آئے یا وہ کسی معاملہ میں مشغول تھے مثلاً سخت بھوک کی وجہ سے کھاناکھارہے تھے یارفع حاجت کے لئے گئے تھے یا اس جیسے دوسرے اعذار ہوں تو اب ایسے لوگوں کا پہلی جماعت سے رہ جانا باجازت شرع ہوگا، اب ان پرجماعت سےمحروم ہونے کی وجہ سے کیونکر ملامت کی جاسکتی ہے اور انہیں تقلیل جماعت کا سبب کیوں قرار دیاجائے؟ ہم نے رسالے ''حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ''میں ثابت کیا ہے کہ واجب عینی جماعت اولٰی ہی ہے پس جب انہوں نے جانا اگروہ حاضر نہ ہوئے تو واجب فوت ہوجائے گا تووہ جمع کیسے نہ ہوں؟ رہا معاملہ سستی اور لاپروائی کرنے والوں کا، وہ جمع نہیں ہوں گے خواہ انہیں علم ہو کہ ہماری پہلی اور دوسری جماعت فوت ہوجائے گی کیا آپ کے علم میں نہیں کہ بعض معاصرین جوعلم ودین کادعوٰی کرتے ہیں انہوں نے اس میں بہت زیادہ تشدید کی اور کہا کہ تکرارجماعت ہرحال میں معصیت وگناہ ہے اور ان کے علاقے میں کچھ عام لوگوں نے تکرارجماعت کے ترک میں اس کا اتباع کیا حالانکہ وہ پہلی جماعت کے درپے نہیں ہوئے آپ متعدد گروپوں کوملاحظہ کریں گے کہ وہ جماعت کے بعد آتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر تنہاتنہا نماز اداکرتے ہیں تو اس عمل سے روافض کے ساتھ مشابہت میں اضافہ کرتے ہیں اور اﷲ ہی مدد کرنے والا ہے
(عـہ)وھو رشید احمد گنگوھی ۱۲(م)
قولہ ویؤیدہ مافی الظھیریۃ لودخل جماعۃ المسجد بعدماصلی فیہ اھلہ یصلون وحداناوھوظاھر الروایۃ ۱ھ وھذا مخالف لحکایۃ الاجماع المارۃ۱؎
قولہ اور اس کی تائید ظہیریہ کی یہ عبارت کرتی ہے اگرکوئی جماعت مسجد میں داخل ہوئی حالانکہ اہل محلہ نے جماعت کرالی تھی تووہ تنہا نماز اداکرلیں، اور یہ ظاہر روایت ہے۱ھ اور یہ بات سابقہ منقول اجماع کے خلاف ہے
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۹)