التقیید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز عن الشارع وبالاذان الثانی احتراز عما اذا صلی فی مسجد المحلۃ جماعۃ بغیر اذان حیث یباح اجماعا۳؎۔
مسجد کو محلہ کے ساتھ مختص کرنے سے مسجد شارع اس سے خارج ہوگئی اور اذان ثانی کی قید سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے، جب اہل محلہ نے اذان ثانی کے بغیر جماعت کروائی ہو کیونکہ اس صورت میں تکرارجماعت بالاجماع مباح ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۸)
حاشیۃ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
اما اذا کررت بغیر اذان فلاکراھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون۴؎۔
جب بغیر اذان کے تکرار جماعت ہو تو اب بہرحال کراہت نہیں اور تمام مسلمان اسی پرہیں(ت)
(۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۴۰)
یہ عبارت تونہ صرف ہمارے ائمہ کااتفاق بلکہ جملہ مسلمانوں کا اسی پرعمل بتاتی ہے اور خود لفظ اجماع ائمہ کتب میں واقع اسی طرف ناظر تو کیونکر ممکن کہ ظاہرالروایۃ اس کے خلاف ہو،ظہیریہ میں کہ تنہا پڑھنا لکھ کر اسے ظاہرالروایۃ بتایا ۔ اقول : واجب کہ اس سے مراد نفی وجوب جماعت ہو نہ وجوب نفی جماعت کہ اجماع کے خلاف پڑے اور یہ ضرور حق ہے اس کا حاصل اس قدر کہ جس طرح جماعت اولٰی چھوڑ کرتنہا پڑھنا ناجائز و گناہ تھا یہاں ایسا نہیں یہ الگ الگ پڑھ لیں وہ نہیں پڑھ سکتے تھے عقل ونقل کے قاعدہ متفق علیہا سے واجب ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف ردکریں نہ کہ محکم کو محتمل سے رد کریں تو عبارت ظہیریہ سے ردنقول متظافرہ اجماع ناممکن ہے بلکہ اگروہ دوسرے معنی صحیح نہ رکھتی نہ اصلا محتمل بلکہ خلاف اجماع میں نص مفسر ہوتی تو حسب قاعدہ قاطعیہ نقول عامہ کے خلاف خود ہی بوجہ غرابت نامقبول ٹھہرتی نہ کہ بالعکس، ردالمحتار باب سجود التلاوۃ میں ہے:
ھذا عزاہ فی البحر الی المضمرات و قال ان الثانی غریب ۱ھ وجہ غرابتہ انہ انفرد بذکرہ صاحب الظھیریۃ ولذا عزاہ من بعدہ الیہا فقط۱؎۔
اس کی نسبت بحر میں المضمرات کی طرف کی ہے اور کہا دوسرانادر ہے ۱ھ نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صرف صاحب ظہیریہ ہی نے ذکر کیاہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد والوں نے اس کی نسبت صرف ان کی طرف ہی کی ہے۱ھ(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۶۷)
اسی کے باب المیاہ مسئلہ اعتبار عمق میں ہے:
قولہ فی الاصح ذکرہ فی المجتبی والتمر تاشی والایضاح والمبتغی وعزاہ فی القنیۃ الی شرح صدر القضاۃ وجمع التفاریق وھو متوغل فی الاعراب مخالف لما اطلقہ جمہورالاصحاب کما فی شرح الوھبانیۃ۲؎۔
قولہ فی الاصح اسے مجبتی، تمرتاشی، ایضاح اور مبتغی نے ذکر کیا، قنیہ میں اس کی نسبت شرح صدرالقضاۃ اور جمع التفاریق کی طرف کی ہے، شرح الوہبانیہ کے مطابق جمہور کے اطلاق کی مخالفت کی وجہ سے یہ اغراب میں ڈوبا ہو ا ہے(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۶۷)
پھر جبکہ بحال اعادہ اذان اصل مذہب وظاہرالروایۃ کراہت تحریم تھی،
لما فی ردالمحتار قولہ ویکرہ ای تحریما لقول الکافی لایجوز والمجمع لایباح۳؎۔
ردالمحتار میں وقولہ ویکرہ یعنی تحریمی مراد ہے کیونکہ صاحب کافی نے کہا یہ جائز نہیں، اور مجمع میں ہے یہ مباح نہیں(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۶۷)
اور بے اذان ثانی جواز وعدم کراہت پراجماع تو اب اس میں اختلاف ہوا کہ آیا یہ جوازواباحت محض خالص ہے یاکہیں کراہت تنزیہ سے بھی جامع، امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے روایت آئی کہ محراب ہی میں ہو تو کراہت ہے:
فان المکروہ تنزیھا من قسم المباح کما فی ردالمحتار وحققناہ فی جمل مجلیۃ۔
کیونکہ مکروہ تنزیہی قسم مباح ہی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور ہم نے اس کی تحقیق ''جمل مجلیہ'' میں کی ہے(ت)
اس باب میں امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے روایت آئی کہ محراب ہی میں ہو تو کراہت ہے اور اس سے ہٹ کر اصلاً کراہت نہیں، ائمہ ترجیح نے اسی کی تصحیح کی ولوالجیہ و وجیزکردری و تاتارخانیہ و غنیہ وغیرہا میں اسی کو ھوالصحیح وبہ ناخذ (صحیح یہی ہے اورا سی کو ہم نے اختیار کیاہے۔ت) فرمایا، بحمداﷲ تعالٰی اس تقریر منیر وتوفیق وتحقیق سے واضح ہوا کہ نہ یہ تصحیحیں ظاہرالروایہ کے خلاف ہیں نہ ظاہرالروایہ کی حکایت اجماع کے خلاف، اور مسئلے میں قول منقح یہ نکلا کہ مسجد محلہ میں بشرائط مذکورہ (جن کے محترزات کی تفصیل جمیل فتاوٰی فقیر میں مذکور ہے) باعادہ اذان جماعت ثانیہ ناجائز ومکروہ تحریمی ہے یہی ظاہرالروایہ ومذہب امام ہے اور بے اذان ثانی بلاشبہہ جائزاس پر خود اتفاق واجماع ائمہ ہے مگر محراب میں بکراہت اور اس سے ہٹ کر خالص مباح بلاکراہت، یہی صحیح وماخوذ ومعتمد ہے اب شبہہ اصل سے منقطع ہوگیا اور بالفرض اگربراہ تنزّل مان بھی لیں کہ ائمہ نے خلاف ظاہر الروایہ کی تصحیحیں فرمائیں تو ہم پرلازم کہ انہیں کااتباع کریں، ظاہر الروایہ کی ترجیح اس وقت ہے کہ اس کے خلاف پرتصحیححصریح نہ ہوچکی ہو ورنہ ترجیح ضمنی تصریح تصحیح کے معارض نہ ہوسکے گی اور اسی تصحیح تصریح کا اتباع ہوگا۔
درمختار میں ہے:
امانحن فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتوافی حیاتھم۱؎۔
ہمارے لئے اس قول کی اتباع وپیروی لازم ہے جسے فقہانے ترجیح دی اور تصحیح کی جیسے اس صورت میں ہم پر ان کی پیروی لازم تھی کہ اگروہ ہمارے زمانے میں زندہ ہوتے اور فتوٰی دیتے۔(ت)
اذا کان التصحیح بصیغۃ تقتضی قصرالصحۃ علی تلک الروایۃ فقط کالصحیح والماخوذ بہ ونحوھما مما یفید ضعف الروایۃ المخالفۃ لم یجز الافتاء بمخالفھا لما سیأتی ان الفتیا بالمرجوح جھل۲؎۔
جب تصحیح ایسے صیغے کے ساتھ ہو جو صرف اسی روایت کی صحت کاتقاضاکررہاہو مثلاً لفظ صحیح یاماخوذبہ وغیرہما جو مخالف روایت کے ضعف پردال ہو تواب اس کے مخالف پرفتوٰی دیناجائز نہ ہوگا، جیسا کہ عنقریب آرہاہے کہ مرجوح پرفتوٰی جہالت ہوتی ہے(ت)
لوذکرت مسئلۃ فی المتون ولم یصرحوا بتصحیحھا بل صرحوا بتصحیح مقابلھا فقد افادالعلامۃ قاسم ترجیح الثانی لانہ تصحیح صریح ومافی المتون تصحیح التزامی والتصحیح الصریح مقدم علی التصحیح الالتزامی ای التزام المتون ذکرماھو الصحیح فی المذھب۳؎۔
اگر کسی مسئلہ کاذکر متون میں ہوا اور اس کی تصحیح کی تصریح فقہا نے نہ کی ہو بلکہ اس کے مقابل کی تصحیح کی ہو توایسی صورت میں علامہ قاسم کے نزدیک دوسرے کوترجیح ہوگی کیونکہ تصحیح پر تصریح ہے اور متون میں تصحیح الزامی ہو اور تصحیح صریح تصحیح الزامی پرمقدم ہوتی ہے یہاں تصحیح التزامی سے مراد یہ ہے کہ متون نے یہ الزام کیاہوتاہے کہ ہم وہی ذکرکریں گے جومذہب میں صحیح قول ہوگا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار خطبۃالکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۳ا)
اب رہیں بعض تعلیلات، اول توبعد تصحیح ائمہ ترجیح ہمیں نظر فی الدلیل کی حاجت نہیں، نہ وہ ہمارا منصب، پھربعونہٖ تعالٰی اس کاحال ملاحظہ تعلیقات سے واضح ہوگا جوفقیر نے کتاب مستطاب ردالمحتار پرلکھیں اسعا فاللمرام اس مقام سے اس کی نقل مسطور،
قولہ ولنا انہ علیہ الصلاۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم فعاد الی المسجد وقدصلی اھل المسجد فرجع الی منزلہ فجمع اھلہ وصلی ولوجاز ذلک لما اختار الصلاۃ فی بیتہ علی الجماعۃ فی المسجد۱؎۔
قولہ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام بعض لوگوں کے درمیان صلح کے لئے تشریف لے گئے جب آپ مسجد میں واپس آئے تو اہل مسجد نے نماز ادا کرلی تھی تو آپ گھرتشریف لائے آپ نے اپنے اہل کو جمع کیا اور نماز ادا کی اگرتکرار جماعت جائز ہوتا تو آپ مسجد میں جماعت پرگھر کی جماعت کواختیار نہ فرماتے(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۰۹)
اقول اولاً لایتعین ھذا سببا لذلک فان فی اعادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الجماعۃ فی المسجد کان ایھام انہ لم یرض بجماعۃ القوم فلعلہ اراد دفع ذلک الوھم وتاکید تقریرھم علی مافعلوا۔
اقول(میں کہتاہوں) (۱) تکرار جماعت کے ناجائز ہونے کے لئے اس کو سبب قراردینا متعین نہیں بلکہ اس کی وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ آپ مسجد میں جماعت کااعادہ فرماتے تو یہ وہم ہوتا کہ آپ نے لوگوں کی جماعت کو پسند نہیں کیا، تو ممکن ہے آپ نے اس وہم کے ازالے اور لوگوں کی جماعت کو صحیح قراردینے کے لئے ایسا کیاہو۔