Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
21 - 158
مسئلہ ۸۸۰ :ازعبدالغفور صاحب میونسپل کمشنر کیکڑی ضلع اجمیر شریف    ۵/ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مذہب حنفی امامت کررہا ہے اور اس کے مقتدی کل حنفی ہیں اور ان میں چنداشخاص غیرمقلد شریک ہوکر آمین بالجہر ورفع یدین کریں تو اس صورت میں ادائے نمازحنفی میں نقص واقع ہوتاہے یانہیں کہ جس سے نماز مکروہ ہوتی ہے یافاسد۔
الجواب

غیرمقلدین زمانہ بحکم فقہا وتصریحات عامہ کتب فقہ کافر تھے ہی، جس کا روشن بیان رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ ورسالہ السیوف ورسالہ النھی الاکید وغیرہا میں ہے اور تجربہ نے ثابت کردیا کہ وہ ضرور منکران ضروریات دین ہیں اور ان کے منکروں کے حامی وہمراہ، تویقینا قطعاً اجماعاً ان کے کفروارتداد میں شک نہیں، اور کافر کی نمازباطل، تو وہ جس صف میں کھڑے ہوں گے اتنی جگہ خالی ہوگی اور صف قطع ہوگی اور قطع صف حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ۱؎۔
جوصف کو ملائے اﷲ اپنی رحمت سے اسے ملائے اور جوصف قطع کرے اﷲ اپنی رحمت سے اسے جدا کرے۔
(۱؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)
توجتنے اہلسنت ان کی شرکت پرراضی ہوں گے یاباوصف قدرت منع نہ کریں گے سب گنہگار ومستحق وعید عذاب ہوں گے اور نماز میں بھی نقص آئے گا کہ قطع صف مکروہ تحریمی ہے اور اگرصرف ایک ہی صف ہواور اس کے کنارہ پرغیرمقلد کھڑاہو تو اس صورت میں اگرچہ فی الحال قطع صف نہیں مگر اس کا احتمال و اندیشہ ہے کہ ممکن کہ کوئی مسلمان بعد کو آئے اور اس غیرمقلد کے برابر یادوسری صف میں کھڑا ہو توقطع ہوجائے گا اور جس طرح فعل حرام حرام ہے یونہی وہ کام کرنا جس سے فعل حرام کاسامان مہیا اور اس کا اندیشہ حاصل ہو وہ بھی ممنوع ہے ولہٰذا حدوداﷲ میں فقط وقوع کومنع نہ فرمایا بلکہ ان کے قرب سے بھی ممانعت ہوئی کہ
تلک حدوداﷲ فلاتقربوھا ۱؎
(یہ اﷲ کی حدود ہیں ن کے قریب نہ جاؤ اس کے باوجود۔ت)
(۱؎ القرآن    ۲ /۱۸۷)
مع ھذا ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتصلوا علیھم ولاتصلوا معھم۲؎۔
نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔بدمذہبوں کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ کنزالعمال    الفصل الاول فی فضائل الصحابہ اجمالا    مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱۱ /۵۴۰)
مسئلہ ۸۸۱ :ازنجیب آبادضلع بجنور        مسئولہ احمد حسین خاں صاحب    ۷/ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ

وباردوم ازقصبہ سرواڑ علاقہ کشن گڑھ متصل اجمیر شریف ہوشیاروں کی مسجد مسئولہ قاضی اکبر صاحب    ۲۰ذیقعد ۱۳۳۰ھ

کیا کسی امام کے مذہب میں آمین بآواز بلند کہناجائز ہے، اگرکوئی جماعت میں آمین زور سے کہتاہو حنفی سنیوں کی جماعت میں شریک کرنے سے نماز میں توکچھ نقص واقع نہیں ہوتا۔
الجواب

    آمین بالجہرامام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ہے اگرکوئی سنی شافعی مذہب آمین بآواز کہے وہ بلاتکلف حنفیوں کی جماعت میں شریک ہوبلکہ بشرائط مذکورہ کتب فقہ وہ امامت کرے ہم اس کے پیچھے نماز پڑ ھ لیں گے کہ ہم اور وہ سب حقیقی بھائی ہیں، ہمارا باپ اسلام، ہماری ماں سنت سید الانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام۔ مگریہاں جوآمین بالجہر والے ہیں یہ غیرمقلد وہابی ہیں یہ اﷲ ورسول کی توہین کرنے والے ہیں یہ ہمارے ائمہ کرام کوگالیاں دینے والے ہم کو مشرک کہنے والے ہیں ان کی شرکت جماعت حنفی سے ضرور ضرر ہے کہ ان کے عقائد باطلہ تکذیب خداوتوہین رسول کے باعث ان کی نماز ہی نہیں تو جماعت میں ان کا کھڑا ہونا بالکل ایسا ہے کہ ایک شخص بے نماز بیچ میں داخل ہے اس سے صف قطع ہوگی اور صف کا قطع کرناحرام، حدیث میں فرمایا:
من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ۳؎۔
جوصف کوملائے اﷲ اسے اپنی رحمت سے ملائے گا اور جوصف کو قطع کرے گا اﷲ اسے اپنی رحمت سے جدا کردے گا(ت)
(۳؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف            مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)
حدیث میں حکم فرمایا کہ نمازمیں خوب مل کرکھڑے ہو کہ بیچ میں شیطان نہ داخل ہو۔ یہاں آنکھوں دیکھا شیطان صف میں داخل ہے یہ جائز نہیں تو بشرط قدرت اسے ہرگز اپنی جماعت میں نہ شامل ہونے دیں اور جومجبور ہے معذور ہے۔
مسئلہ ۸۸۲ :ازریاست الورراجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمد رکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ہجری
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ قاطع بدعت وضلالت جامع معقول ومنقول جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب ادام فیوضہم وبرکاتہم!
السلام علیکم ورحمۃ ا ﷲ وبرکاتہ فقیر حقیر مسکین محمد رکن الدین حنفی نقشبندی مجددی نادیدہ مشتاق زیارت (عـہ)دومسئلہ خدمت شریف میں پیش کرکے امیدوار ہے کہ جناب اپنی تحقیق سے اس عاجز کو ممنون فرمائیں اﷲ تعالٰی اس کااجرعظیم عطافرمائے گا، ایک مسئلہ تو جماعت ثانی کا ہے اس میں گزارش یہ ہے کہ ردالمحتار میں جواقوال کراہت وعدم کراہت کے نقل کئے ہیں ان میں سے کراہت کاقول اس محلہ کی مسجد کی نسبت کہ جس میں امام اور مؤذن اور نمازی معین ہوں ظاہر الروایۃ بیان کیا ہے اور اس کو مدلل بھی کردیا ہے اور عدم کراہت کے قول کی صحت بھی منقول ہے کہ جو منسوب امام ابویوسف رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ سے ہے وہ بھی اس میں موجود ہے اب یہ فرمائیے کہ ظاہرالروایۃ کے مقابلہ میں جبکہ وہ مدلل بھی ہو دوسرے قول بلاد دلیل کی ترجیح کس طرح ہوسکتی ہے۔ بینواتوجروا
(عـہ) اول یہ ہے دوسرانوافل میں مسطورہے۱۲ (م)
الجواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ، ونصلّی علی رسولہ الکریم

بملاحظہ مولانا المبجل المکرم المکین جعلہ اﷲ تعالٰی ممن شیدبہم رکن الدین۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
ہمارے امام ہمام سراج الامہ امام الائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مذہب مہذب وظاہر الروایۃ یہ ہے کہ مسجد محلہ جس کے لئے اہل معین ہوں جب اس میں اہل محلہ باعلان اذان وامام موافق المذہب صالح امامت کے ساتھ جماعت صحیحہ مسنونہ بلاکراہت اداکرچکے ہوں توغیراہل محلہ یاباقی ماندگان اہل محلہ کو اذان جدید کے ساتھ اس میں اعادہ جماعت مکروہ وممنوع وبدعت ہے۔ مجمع البحرین و بحرالرائق میں ہے:
لاتکررھا فی مسجد محلۃ باذان ثان۱؎
محلہ کی مسجد میں دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت جائز نہیں۔(ت)
(۱؎ بحرلرائق            باب الامامۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۴۵۔۳۴۶)
شرح المجمع للمصنف و فتاوٰی علمگیریہ میں ہے:
المسجد اذاکان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لایباح تکرارھا فیہ باذان ثان۲؎۔
جب مسجد کاامام اورجماعت محلہ میں متعین ہو اور اہل محلہ نے جماعت کے ساتھ نمازادا کرلی تو دوسری اذان کے ساتھ اس میں تکرار جماعت مباح نہ ہوگی(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ        الفصل الاول فی الجماعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۸۳)
اسی طرح فتاوی بزازیہ و شرح کبیرمنیہ و غرر و درر و خزائن الاسرار و درمختار و ذخیرۃ العقبٰی وغیرہا میں ہے اور اس کا حاصل حقیقۃ کراہت اعادئہ اذان ہے
فان الحکم المنصب علی مقید انما ینسحب علی القید کما قدعرف فی محلہ ولھذا۔
وہ حکم جو کسی مقید پر ہو وہ قید پر وارد ہوتاہے جیسا کہ یہ ضابطہ اپنے مقام ومحل پرمعروف ہے(ت)

امام محقق ابن امیر الحاج حلبی ارشد تلامذہ ابن الہمام نے حلیہ میں اسی مذہب مہذب کو اس عبارت سے ادا فرمایا:
المسجد اذاکان لہ اھل معلوم فصلوا فیہ اوبعضھم باذان واقامۃ کرہ لغیراھلہ والباقین من اھلہ اعادۃ الاذان والاقامۃ۳؎۔
جب مسجد کے اہل معلوم ہوں اور ان تمام یابعض نے اذان واقامت کے ساتھ نماز اداکرلی تو اب غیراہل اور بقیہ لوگوں کے لئے اذان واقامت کا اعادہ جائز نہیں(ت)
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ولہٰذا کتب مذہب طافحہ ہیں کہ بے اعادہ اذان مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے اس کے جواز واباحت پرہمارے جمیع ائمہ کااجماع ہے عباب و ملتقط و منبع و شرح در البحار و شرح مجمع البحرین للمصنف و شرح المجمع ابن ملک ورسالہ علامہ رحمت اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام و ذخیرۃ العقبٰی و خزائن الاسرار شرح تنویر الابصار و حاشیۃ البحر للعلامۃ خیرالدین رملی و فتاوٰی ہندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں اس پر اتفاق واجماع نقل فرمایا، خزائن میں ہے:
لوکرر اھلہ بدونھمااوکان مسجدطریق جاز اجماعا۱؎۔
اگراذان واقامت کے بغیر اہل محلہ تکرارجماعت کریں یا وہ مسجد راستہ کی ہو تو یہ تکرار جماعت بالاجماع جائز ہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ خزائن الاسرار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۰۸)
Flag Counter