Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
20 - 158
مسئلہ ۸۷۷ :ازکھمریاپوٹہ کلاںضلع پیلی بھیت مرسلہ شرف الدین صاحب زمیندار    ۱۷رمضان المبارک ۱۳۲۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ظہر کی نماز دوبج کرپچیس منٹ پرتین شخص جماعت کرلیں وہ بہترہے یادوبج کر پینتیس منٹ پر پچیس آدمیوں کی جماعت ہو یہ بہترہے ان دونوں جماعتوں میں کون سی جماعت اولٰی ہے، فقط۔
الجواب

جماعت جتنی کثیر ہوگی ثواب عظیم ہوگا اورا س دس منٹ میں کچھ وقت تنگ نہیں ہوتا کثرت جماعت ہی کے لئے شرع مطہرنے نمازفجر کو آخر وقت میں پڑھنے پرثواب زیادہ رکھاہے اصل حکم یہ ہے اور اگر کسی جگہ کوئی خاص صورت باعث فتنہ ہو تو فتنہ سے بچنا لازم ہے اور وبال فتنہ کرنے والے پر،اور مسجد محلہ میں امام معین اکثر اہل محلہ کے ساتھ جوجماعت بروجہ سنت اداکرے وہ جماعت اولٰی ہے اس سے پہلے دوچار بلاوجہ یا اپنے کسی کام کے سبب جماعت کرجائیں تو وہ ان اکثرین کی جماعت کاثواب کم نہ کرے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۷۸ :بتوسط جناب مولانا مولوی محمد وصی احمدصاحب محدّث سورتی    ۷صفر ۱۳۲۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ مسجد میں آتے ہیں اور جماعت ابھی تک نہیں پڑھ گئی امام کے حاضر ہونے میں ابھی کچھ وقفہ ہے امام معین کی انتظاری نہیں کرتے، اپنے میں سے ایک کو امام بنایا اور نمازباجماعت ادا کی اور چل دئیے امام سے بھی امامت کااذن نہیں لیا علٰی ہذا اگر جماعت ہوچکی اور دیکھا کہ دوچارآدمی اور بھی جمع ہیں جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے ایک کو امام بنایا اور جماعت کرائی اسی طرح پراورآئے اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا بعض کی عادت ہے کہ امام کا مصلی جو اس کے نام سے نامزد ہے اور وہ اس پرہمیشہ کھڑا ہوکر امامت کرتاہے جیسا کہ دستور ہے اٹھایا اور اس پر نماز ادا کی یا بیٹھ گئے امام سے پوچھا بھی نہیں، لوگوں کو اگرمنع کیاجاتاہے تو کہتے ہیں کہ نیک کام ہے اس سے روکنا نہ چاہئے سابقوا الخیرات (خیرات میں سبقت حاصل کرو۔ت) حکم ہے، ضرورت کے وقت چونکہ شمولیت جماعت مقرر ہ سے شریعت کی جانب سے رخصت ہے اور انفرادی حالت میں بہ نسبت جماعت کے ثواب کم ہے اس واسطے شریعت کی جانب سے ایسی امامت کی نہی نہیں معلوم ہوتی اور مضمرات کی عبارت:
ولوصلی بعض اھل المسجد باقامۃ وجماعۃ ثم دخل المؤذن والامام وبقیۃ الجماعۃفالجماعۃ المستحبۃ لھم والکراھۃ للاولی۱؎۔ (عالمگیریۃ)
اگراقامت وجماعت کے ساتھ بعض اہل محلہ نے نماز ادا کی، پھر مؤذن، امام اور بقیہ لوگ آئے تو ان کے لئے جماعت مستحب اور پہلی مکروہ ہوگی(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الاول فی صفتہ واحوال المؤذن    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۵۴)
کوبلاضرورت اقامت جماعت للاعراض عن المقررۃ یااحداث فتنہ پرمحمول رکھتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مساجد کی وضع عبادت کے لئے ہے صفیں جیسے مقتدیوں کی نماز کے لئے ہیں ایسے مصلّٰی امام کے لئے، امام صف پرنماز پڑھاسکتاہے ایسا ہی اگرمصلے پرکوئی غیر امام نمازپڑھ لے تو کچھ حرج نہیں، بعض کا قول ہے مصلّٰی امام کی ملک نہیں، فقہ کی متداولہ کتابوں پرنظرڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ معین امام کی انتظاری لازم ہے اور بغیر اجازت امام معین کے امامت نہ کرائیں اگر انتظار میں وقت مکروہ ہوتاہو یا کسی ضروری کام کے لئے جاناچاہتاہو مثلاً ریل کاوقت جاتارہے گا تو الگ الگ نمازپڑھ کر چلے جائیں ترک جماعت میں ان کے حق میں امام کااذن نہ دینا اس قبیل سے ہوگا جو اس حدیث میں ہے۔
حدیث لایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ ولایقعد فی بیتہ علی تکرمتہ الاباذنہ۱؎ رواہ مسلم معناہ ماذکرہ اصحابنا وغیرھم ان صاحب البیت والمجلس وامام المسجد احق من غیرہ وان کان ذلک الغیر افقہ واقرء و اورع وافضل منہ ۲؎ الخ نووی شرح مسلم۔
ایک آدمی دوسرے آدمی کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیرجماعت نہ کروائے اور نہ ہی اس کے گھرمیں بغیراجازت اعلٰی مقام پر بیٹھے، اسے مسلم نے روایت کیا، معنی یہ ہے ہمارے ائمہ نے یوں بیان کیاکہ صاحب خانہ، صاحب مجلس اور امام مسجد غیر سے امامت کے زیادہ مستحق ہوتاہے اگرچہ وہ غیر اس سے زیادہ فقیہ، قاری، صاحب تقوٰی وفضیلت ہو الخ نووی شرح مسلم (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم            باب من احق بالامامۃ    مطبوعہ نورمحمد، اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۳۶)

۲؎ شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم    باب من احق بالامامۃ    مطبوعہ نورمحمد، اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۳۶
قولہ فی سلطانہ ای موضع یملکہ اویتسلط علیہ بالتصرف کصاحب المجلس وامام المسجد۳؎۔ مجمع بحارالانوار

قولہ فی سلطانہ اس سے مراد اس کا مالک اور زیرتصرف ہوناہے جیسا کہ صدرمجلس اور امام مسجد۔ مجمع بحارالانوار (ت)
 (۳؎ مجمع بحارالانوار        زیر لفظ سلطٰن    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۲ /۱۳۰)
لیس للقاضی ان یصلی بھم اذا لم یؤمر بہ صریحا اودلالۃ (کبیری۴؎)
قاضی کے لئے نمازپڑھانا جائز نہیں جب تک اس کو صراحۃً یااشارۃً حکم نہ ہو، کبیری(ت)
 (۴؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۳)
علت نہی کی یہ ہے:
وھذالئلا یؤدی الٰی تھوین امرسلطنتہ و خلع ربقۃ الطاعۃ والی التباغض و الخلاف التی شرع الاجتماع لرفعہ۵؎۔ مجمع بحارالانوار۔
یہ اس لئے ہے تاکہ امرسلطنت کو ہلکاجان کر لاپروائی نہ ہو اور طاعت امیر سے بغاوت اور بغض نہ ہو اور ایسا اختلاف نہ ہو جس کے رفع کے لئے اجتماع مشروع ہوا، مجمع بحارالانوار(ت)
 (۵؎ مجمع بحارالانوار        زیرلفظ سلطٰن    مطبوعہ المطبع العاد نولکشورلکھنؤ    ۲ /۱۳۰)
ان منقولات سے پایاجاتاہے کہ امام کہیں ہو جہاں تک ممکن ہو امام سے اجازت لے کر امامت کرائیں کہ امامت بلااذن منع ہے امام کا جماعت میں بالفعل موجود ہونا شرط نہیں اور عموم حدیث کی دلالت بھی اسی پرہے
مرض الامیر فصلی الشرطی لم یجزالاباذنہ۱؎
 (امیر بیمار ہوگیا کسی لشکری نے نماز پڑھائی تو اجازت کے بغیرجائز نہ ہوگی۔ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب السادس عشر فی صلوٰۃ الجمعۃ    نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۱۴۵)
علمگیریہ کی عبارت کابھی یہی مقصود ہے بعض کاخیال ہے کہ حدیث مذکورہ بالا سے یہ امرثابت ہے کہ منع امامت امام دیگر، بوقت حضورامام المحلہ ہے نہ بوقت عدم حضور کیونکہ مراد رجل اولٰی سے امام دیگرہے اور رجل ثانی سے امام محلہ یاصاحب البیت ہے اور کہا رجل اول رجل ثانی کی امامت نہ کرے، اگررجل ثانی حاضر ہوگا تو اس کی امامت ممکن ہے اور نہی امور ممکنہ سے متعلق ہواکرتی ہے، جماعت ثانیہ اگرتحت عموم حدیث کے ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے اور یہی علت ہے اگرخارج ہے توبھی فقہا نے اسے مکروہ تحریمہ لکھاہے اور بعض کہتے ہیں اگرہیئت اولٰی کے خلاف ہے تو مکروہ نہیں جیسا کہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے روایت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نفی جو امام ابی یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے مذکور ہے مراد اس سے کراہت تحریمہ کی نفی ہے نہ مطلق، بہرحال کراہت سے خالی نہیں، مصلّی پر امام کے نماز پڑھنا یا بیٹھنا بلا اس کے اذن کے اس کی ممانعت بھی مذکورہ بالا کے آخری فقرہ میں
ولایقعد فی بیتہ علی تکرمتہ الاباذنہ۲؎
سے پائی جاتی ہے
 (۲؎ صحیح مسلم    باب من احق بالامامۃ        مطبوعہ نورمحمد، اصح المطابع کراچی        ۱ /۲۳۶)
قولہ علی تکرمتہ ھو موضع خاص لجلوسہ عن فراش اوسریر ممایعد لاکرامہ ن ھی بفتح تاء وکسرھا ط کفراش وسجادۃ ونحوھما،مجمع بحارالانوار۳؎۔
قولہ تکرمتہ سے مراد وہ جگہ ہے جوبیٹھنے کے لئے ہو یا وہ چارپائی جواکرام کے لئے رکھی گئی ہوتی ہے ن اس کی تاء پرفتحہ اور کسرہ دونوں آسکتے ہیں ط مثلاً فراش اور سجادہ وغیرہ، مجمع بحارالانوار۔(ت)
 (۳؎ مجمع بحارالانوار    زیرلفظ کرم            مطبوعہ المطبع العاد نولکشور لکھنؤ        ۳ /۲۰۹)
چونکہ ہرسہ سوالات کی نسبت اقوال علماء وعبارات کتب مختلف ہیں اس واسطے بہت تردّد رہتاہے اور تسکین نہیں ہوتی ہے بظاہر عبارات کتب سے تونہی راجح معلوم ہوتی ہے اور اقوال علمائے مخالف، اس لئے ادب سے التماس ہے کہ حقیقت امر سے مفصل اور مدلل طور پر بحوالہ کتب اور عبارات سے آگاہ فرمائیں تاکہ شق راجح عملدرآمد ہو۔بینواتوجروا
الجواب

مسجد اگرجامع یاسرایابازار یااسٹیشن کی، غرض مسجد عام ہے کہ ایک جماعت خاصہ سے مخصوص نہیں جب تو اس میں ان سوالات کامحل ہی نہیں اس کی سب جماعتیں جماعت اولٰی ہیں جو گروہ آئے اپنی جماعت کرے اور محراب ہی میں امامت کرے، اور افضل یہ ہے کہ ہرگروہ جداجدا اذان واقامت کرے
کما نص علیہ فی فتاوٰی قاضی خاں وغیرھا
(جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں وغیرہ میں اس پرتصریح ہے۔ت) ہاں مسجد محلہ جس کے لئے جماعت معین امام معین ہے اس میں ضرور امام مقرر کا حق مقدم ہے جبکہ اس کی طہارت، قرأت، عقیدے، عمل میں خلل نہ ہو
کما فی الدر المختار وردالمحتار وغیرھما من الاسفار
 (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار اور دیگرکتب میں ہے۔ت) اور قصداً بلاوجہ شرعی تفریق جماعت ضرور مو جب ذم وشناعت ،خواہ یوں ہوکہ امام معین سے پہلے پڑھ جائیں یاجماعت اولی فوت کرکے اپنی جماعت الگ بنائیں۔رہے اہل ضرورت وہ مستثنٰی ہیں اور ان کی جماعت اگرچہ پہلے ہو(مثلاً جماعت معینہ کا ابھی وقت نہ آیا اور انتظار میں ریل کا وقت نہ رہے پڑھ کر چلے گئے) امام اور اہل محلہ کے حق میں جماعت اولٰی نہ ہوگی تو اس سے حق امامت میں مزاحمت نہ ہوگی
الالایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ
 (آدمی کو دوسرے کی حکومت میں جماعت نہیں کروانی چاہئے۔ت) کاکچھ خلاف نہ ہوا کہ نہ امام معین کی امامت کی نہ اس کی امامت میں مزاحمت کی اور ہرگز شرع مطہر سے کوئی دلیل نہیں کہ ایسے لوگ بے اذن امام جماعت سے ممنوع ہیں نہ اصلاً کہیں ان پر یہ حکم ملے گا کہ مجتمع ہوتے ہوئے الگ الگ پڑھیں اور روافض سے تشبہ کریں، یوں ہی جواتفاقاً بلاتقصیر جماعت سے رہ گئے وہ شرعاً انفراد پرمجبورنہیں، نہ شرع سے کوئی دلیل کہ جماعت میں اذن امام کے محتاج ہیں کہ یہاں بھی اس کے حق میں مزاحمت نہیں البتہ تمیز جماعت اولٰی وابانت فرق واحتراز صورت مزاحمت کے لئے محراب سے الگ ہوناچاہئے۔
وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ ھوالصحیح وبہ ناخذ۱؎ کمااثرہ، فی ردالمحتار۔
محراب سے ہٹ کر نماز ادا کرنے سے ہیئت مختلف ہوجاتی ہے یہی صحیح ہے اور ہم اس پرعمل پیراہیں جیسا کہ ردالمحتار میں منقول ہے(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الاذان    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۲۹۱)
عبارت مضمرات کا محل وہی صورت تفریق بلاضرورت ہے یونہی حکم انتظار محل عدم ضرورت میں ہے
ماجعل علیکم فی الدین من حرج۲؎۔
تم پردین میں اس نے تنگی نہیں کی(ت)
 (۲؎ القرآن            ۲۳ /۷۸)
بصورت ضرورت بوجہ مذکور جماعت میں نہ امام معینہ کی تہوین نہ کوئی وجہ تباغض نہ تحزین، عبارت علمگیری وعبارت کبیری دونوں دربارہ جمعہ ہیں اور جماعات کا اس پر قیاس باطل کہ جمعہ میں شرط ہے کہ امام خود سلطان ہو یا اس کا ماذون اسی کی تفریع میں دونوں کتابوں کی وہ عبارات ہیں کبیری میں فرمایا:
الشرط الثانی کون الامام فیھاسلطانااومن اذن لہ السلطان(الی ان قال)المتغلب الذی لامنشورلہ اذاکان سیرتہ فی الرعیۃ سیرۃ الامراء یجوزلہ اقامتھا لان بذٰلک تثبت السلطنۃ فیتحقق الشرط ولیس للقاضی ان یصلی بھم۱؎الخ
دوسری شرط یہ ہے کہ امام سلطان ہو یا جسے سلطان نے حکم دیاہو(آگے کہا) اقتدارپرغلبہ پانے والا وہ شخص جس کو اجازت نامہ حاصل نہیں، اگررعیت میں وہ امیر جیسی صورت ومقبولیت حاصل کرلے تو جمعہ کاقیام جائز ہے کیونکہ اس صورت میں اقتدار قائم ہونے سے جمعہ کی شرط پائی گئی ہے (سلطان یانائب) کی موجودگی میں قاضی کوجمعہ پڑھانا جائز نہیںالخ(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الجمعۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۳)
علمگیریہ میں ہے:
منھا السلطان حتی لاتجوز اقامتھا بغیر امرالسلطان اوامرنائبہ مرض الامیر۲؎ الخ
ان میں سے سلطان ہے حتی کہ اقامت جماعت امرسلطان یا اس کے نائب کے حکم کے بغیر جائز نہیں امیر بیمار ہوگیاالخ(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    الباب السادس عشر فی صلوٰۃ الجمعۃ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۴۵)
حدیث کی عبارۃ النص اگرچہ صورت امامت للامام میں ہے مگربلاوجہ شرعی اس کی امامت فوت کرکے خود امام بن جانے کو بھی دلالۃً شامل،
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشروا ولاتنفروا۳؎۔
حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے لوگوں کو خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ(ت)
 (۳؎ صحیح بخاری باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ الخ     مطبوعہ اصح المطابع کراچی    ۱ /۱۶)
اور جوصورتیں اوپر گزریں نہ ان میں عبارۃ منصوص نہ دلالۃ داخل، جماعت ثانیہ کی تفصیل فتاوٰی فقیر میں ہے جس کامجمل یہ ہے کہ مسجد عام میں ہرجماعت اولٰی ہے اور مسجد محلہ میں قصداً تفریق یا اولٰی کی تفویت بلاعذر صحیح شرعی ناجائز ورنہ باعادہ اذان ہو تو مکروہ تحریمی، اور محراب نہ بدلیں تو خلاف اولٰی ورنہ اصلاً کراہت نہیں
ھوالصحیح وبہ ناخذ
(یہی صحیح ہے اور اسی پر ہماراعمل ہے۔ت) تاترخانیہ مصلّٰی اگرملک امام ہے جب توظاہر کہ اس کے بے اذن اس میں تصرف حرام اور اگرواقف نے خاص جماعت اولٰی کے لئے وقف کیا جب بھی اور لوگ استعمال نہ کریں
لان شرط الواقف کنص الشارع
 (کیونکہ واقف کی شرط نص شارع کی طرح ہے۔ت) ورنہ اس پرنماز میں اصلاً حرج نہیں جبکہ بلاوجہ امام سے مزاحمت یاتنفر ناحق یااثارت فتنہ نہ ہو، احکام کہ فقہ میں مذکور ہوئے آپ پرواضح ہیں اور بعض کی استبانت کے لئے یہ عبارت بحرالرائق پیش نظر ہونانافع:
قال رحمہ اﷲ تعالٰی من ھنایعلم جہل بعض مدرسی زماننا من منعھم من یدرس فی مسجد تقرر فی تدریسہ اوکراھتھم لذلک زاعمین الاختصاص بھادون غیرھم حتی سمعت من بعضھم انہ یضیفھا الی نفسہ ویقول ھذہ مدرستی اولاتدرس فی مدرستی وھذا کلہ جہل عظیم فقد قال اﷲ تعالٰی وان المسٰجد فلایتعین مکان مخصوص لاحد حتی لوکان للمدرس موضع من المسجد یدرس فیہ فسبقہ غیرہ الیہ لیس لہ ازعاجہ و اقامتہ منہ ۱؎۱ھ مختصرا واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
صاحب بحرالرائق رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا:یہاں سے ہمارے دور کے بعض مدرسین کی جہالت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اس شخص کو اس مسجد میں تدریس کرنے سے منع کرتے ہیں جس تدریس کے لئے ان کاتقرر ہو یا اسے مکروہ جاننے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان مدارس کو دوسروں کے علاوہ اپنے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں حتی کہ بعض لوگوں کو میں نے دیکھا وہ اپنی طرف نسبت کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ میرا مدرسہ ہے، یا تو میرے مدرسے میں تدریس نہ کر، یہ تمام بہت بڑی جہالت ہے اﷲ تعالٰی کافرمان ہے بیشک مساجد اﷲ کی ہیں پس کوئی جگہ کسی کے لئے مخصوص نہیں لہٰذا اگرایک مدرس مسجد کے کسی مقام پر بیٹھ کر درس دیتا تھا پھر کوئی دوسرا اس کی جگہ پربیٹھاتو پہلے مدرس کوجائز نہیں کہ دوسرے کو وہاں سے ہٹا کر خود وہاں بیٹھے، ۱ھ مختصراً واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۴)
مسئلہ ۸۷۹ :ازشہر محلہ مسجد جامع مسؤلہ مولوی محمد احسان صاحب

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب بہ ہنگام ضرورت محراب مسجد میں یعنی آثاردیوار پچھیت مسجد کے اندرکھڑا ہے اور اپنے دائیں وبائیں برابر ایک ایک یا زیادہ مقتدی کھڑے کرلئے باقی اور صفیں عقب حدود مسجد میں ہوں توایسی صورت میں نماز ہوجائے گی یا نہیں، بینواتوجروا۔
الجواب

وقت ضرورت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں اور اپنے برابر کسی مقتدی کے لینے کی حاجت نہیں بلکہ دومقتدیوں کاامام کے برابرہوناخود مکروہ ہے، امام کا محراب میں ہونا بضرورت تھا کہ مکروہ نہ رہا یہ کس ضرورت سے ہوا اور اگرتین یازیادہ مقتدی امام کے برابر ہوجائیں گے تونماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوجائے گی، محراب میں بلاضرورت کھڑاہونا بھی ایسا ہی مکروہ بلکہ یہ سخت وشدید مکروہ ممنوع ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter