Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
19 - 158
مسئلہ ۸۷۱ : ازشہرکہنہ    ۲۱ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ہجری

    کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مقام پرجماعت نماز کی ہوتی ہے اور زید بھی نماز پڑھتاہے اور جماعت کے وقت حاضربھی رہتاہے جماعت ترک کرکے اول جماعت سے یابعد جماعت کے نماز پڑھتاہے اس میں کیاحکم ہے؟
الجواب

گرامام میں کوئی ایسا نقص ہو جس کے سبب اس کے پیچھے نمازفاسد یامکروہ تحریمی ہو مثلاً قرآن عظیم غلط پڑھنا جس سے نماز میں فسادآئے یاوہابی رافضی یاغیرمقلد ہو یاکم ازکم تفضیلیہ یافاسق ہونا، تو زید پرالزام نہیں،اور اگربلاوجہ شرعی جماعت ترک کرتا ہے توسخت گنہگار فاسق ہے، اس پر توبہ واجب ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساء ت مصیرا ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا جو شخص ہدایت کے واضح ہو نے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستہ کے علاوہ کوئی دوسری راہ چلے، اسے ہم اسی طرف پھیردیتے ہیں جونہایت براٹھکانہ ہے(ت)
 (۲؎ القرآن     ۴ /۱۱۵)
بحکم قرآن ایسا معلن شخص کہ بلاعذر شرعی جماعت ترک کرے مستحق جہنم ہے خصوصاً ترک بھی ایسا کہ جماعت ہوتی رہے اور یہ بیٹھارہے۔
مسئلہ ۸۷۲ : ازبنگالہ ضلع ڈھاکہ موضع چیتارچر    مرسلہ نواب عبدالواحدصاحب    ۱۰جمادی الاخری۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے مع ایک مقتدی کے نماز شروع کی، بعد ایک رکعت کے دوسرااور ایک شخص آیاتواس صورت میں امام سامنے بڑھے گایاوہ شخص مقتدی کو پیچھے کی طرف کھینچے گا،اگرامام سامنے بڑھے توقبل اشارہ کے یابعد اشارہ کے،اگربعد اشارہ کے توقبل تکبیر تحریمہ کے اشارہ کرے گا یابعد،اگرقبل تکبیر تحریمہ کے اشارہ سے امام بڑھے گا یا مقتدی کو قبل تحریمہ کے وہ شخص اپنی جانب کھینچے گا تو اس صورت میں نماز فاسد ہوگی یانہیں؟
الجواب

    جب امام کے ساتھ ایک مقتدی ہو اور دوسرا آئے توافضل یہ ہے کہ مقتدی پیچھے ہٹے،ہاں اگرمقتدی مسئلہ نہ جانتاہویاپیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں تو ایسی صورت میں امام کوبڑھنا چاہئے کہ ایک کابڑھنادوکے ہٹنے سے آسان ہے پھر اگر(مقتدی) مسئلہ جانتاہو توجب کوئی دوسرا ملاچاہتاہے توخودہی پیچھے ہٹنا چاہئے خواہ امام خود ہی آگے بڑھ جائے ورنہ اس آنے والے شخص کو چاہئے کہ مقتدی کو اور وہ مسئلہ نہ جانتاہو تو امام کواشارہ کرے،انہیں مناسب ہے کہ معاً اشارہ کے ساتھ ہی حرکت نہ کریں کہ امتثال امرغیر کا شبہہ نہ ہو بلکہ ایک تامل خفیف کے بعد اپنی رائے سے اتباع حکم شرع وادائے سنت کے لئے،نہ اس کااشارہ ماننے کی نیت سے حرکت کریں،اس صورت میں برابر ہے کہ یہ آنے والا مقتدی نیت باندھ کر اشارہ کرے خواہ بلانیت کے بہرحال وہ اطاعت حکم شرع کریں گے،نہ اس کے حکم کی اطاعت اور جو جاہل اس کا حکم ماننے کی نیت کرے گا تو اس کاتکبیر تحریمہ کے بعداشارہ کرنا کیا نفع دے گا کہ امام یامقتدی کودوسرے مقتدی کاحکم ماننا کب جائز ہے، لقمہ قرأت میں یا افعال میں لینا کہ امام کو جائز ہے وہ بھی بحکم شرع ہے نہ کہ اطاعت حکم مقتدی جو اس کی نیت کرے گا اس کی نماز خود ہی فاسد ہوجائے گی اور جب وہ امام ہے تواس کے ساتھ سب کی جائے گی۔
فی الدر المختار لوامتثل امرغیرہ فقیل لہ تقدم فتقدم اودخل فرجۃ الصف احد فوسع لہ فسدت بل یمکث ساعۃ ثم یتقدم برأیہ قہستانی معزیاللزاھدی۱؎ وفی ردالمحتار عن المنح لوجذبہ اٰخر فتاخرالاصح لاتفسد صلاتہ۱ھ۔
درمختار میں ہے اگرنمازی نے کسی غیرنمازی کاحکم مان لیا مثلاً کہاگیا آگے ہو، وہ آگے ہوگیا یاکوئی صف کے اندرداخل ہوا اور نمازی نے اس کے لئے جگہ کشادہ کی تو نماز فاسد ہوجائے گی، بلکہ وہ ایک ساعۃ ٹھہرارہے پھراپنی رائے سے آگے ہوجائے، قہستانی نے زاہدی کے حوالے سے یہی بیان کیاہے، ردالمحتار میں منح کے حوالے سے ہے اگرنمازی کو دوسرے نے کھینچا اور وہ پیچھے ہوگیا تواصح مذہب پر اس کی نماز فاسد نہ ہوگی ۱ھ
 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلاۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۸۹)
وعن الشرنبلالی فی تیسرالمقاصد ان امتثالہ انماھولامررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلایضر۱ھ وعن الطحطاوی لوقیل بالتفصیل بین کونہ امتثل امرالشارع فلاتفسدوبین کونہ امتثل امرالداخل مراعاۃ لخاطرہ من غیرنظر لامرالشارع فتفسد لکان حسنا۱؎۱ھ۔ رأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول وھو من الحسن بمکان بل ھوالمحمل لکلمات العلماء و بہ یحصل التوفیق وباﷲ التوفیق۲؎
 (۱؎ ردالمحتار        باب الامامت     ۱ /۴۲۲)

(۲؎ جدالممتار علٰی ردالمحتار        ۱ /۲۷۳)
شرنبلالی سے ہے تیسرالمقاصد کے حوالہ سے ہے کہ اس کا امتثال (حکم بجالانا) حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم کی بناپر ہے لہٰذا فساد کا سبب نہیں اہ۔ اور طحطاوی سے ہے کہ اگرتفصیل کرتے ہوئے کہا جائے کہ شارع کے حکم پرعمل کرتے ہوئے کسی کا حکم بجالایا تونماز فاسد نہ ہوگی اور اگروہ بغیر رعایت امرشارع کے فقط آنے والے نمازی کوخوش کرنے کے لئے کرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی تویہ تفصیل کرنانہایت ہی اچھا تھا۱ھ مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے یہاں یہ لکھا ہے اقول (میں کہتاہوں) یہ صرف حسن ہی نہیں بلکہ کلمات علماء کامحمل بھی ہے اور اسی کے ساتھ ان میں موافقت بھی پیداہوجائے گی اور اﷲ ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔
وفی الھندیۃ رجلان صلیا فی الصحراء وائتم احدھمابالاخروقام عن یمین الامام فجاء ثالث وجذب المؤتم الی نفسہ قبل ان یکبر للأفتتاح حکی عن الشیخ الامام ابی بکر طرخان انہ لاتفسدصلاۃ المؤتم جذبہ الثالث الی نفسہ قبل الکتبیر اوبعدہ کذا فی المحیط وفی الفتاوی العتابیۃ ھو الصحیح کذا فی التاتارخانیۃ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے دوآدمیوں نے صحرا میں نماز ادا کی ایک نے دوسرے کی اقتدا کی اور امام کے دائیں طرف کھڑا ہوگیا اب تیسراآیا تو اس نے مقتدی کو تکبیر افتتاح سے پہلے اپنی طرف کھینچ لیا، تو امام ابوبکر طرخان سے منقول ہے کہ اس صورت میں مقتدی کی نماز فاسد نہ ہوگی خواہ اسے تیسرا شخص تکبیر سے پہلے کھینچے یابعد میں، اسی طرح محیط میں ہے۔ فتاوٰی عتابیہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے اور تاتارخانیہ میں بھی اسی طرح ہے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی بیان مقام الامام الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۸۸)
مسئلہ ۸۷۳ تا ۸۷۵ :ازفیض آباد     مرسلہ احمدحسین صاحب خرسند نقشہ نویس اسسٹنٹ انجینئر ریلوے ۲جمادی الآخری ۱۳۲۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ:

(۱) مسجد یاخلاف مسجد امام کا مصلی مقتدیوں کی صف سے ملارہے یاعلیحدہ، اگرعلیحدہ ہو تو کس قدر فاصلہ پر، امام مصلّے کے کنارے پرکھڑاہو یاکچھ آگے بڑھ کر تاکہ مقتدیوں کوکافی جگہ ملے، فرمائیے ، اﷲ آپ کو اجرعظیم عطافرمائے۔

(۲) زید مسجد یاخلاف آں نماز فرض پڑھ رہاہے اور اس کی پہلی رکعت ہے یاکوئی اور رکعت، اور بکرتنہا یادوشخص داخل ہوئے باوجود اطلاع ہوجانے کے تنہابکر یادونوں شخصوں نے اسی مقام پر اور اسی صف پر علیحدہ فرض پڑھے اور زید کے مقتدی نہ بنے، کیاحکم ہے ان کی نماز کا، یاپہلے ان کو اطلاع نہ تھی نیت باندھنے کے بعد رابع نے بآوازبلند کہہ دیا، اب کیاحکم ہے بکر کی نماز کا؟ آیا وہ درست ہوئی، اگرنہیں تو اطلاع پانے تک جس قدر ہوچکی ہے وہیں سے ترک کردے یا پوری کرکے وہ نماز اعادہ کرے؟ مفصل فرمائیے۔ بینواتوجروا

(۳) اگرہجڑا یاعورت یانابالغ یاشیعہ جن کی امامت بالاتفاق ناجائز ہے نمازفرض پڑھ رہاہے مسجد میں یاباہر، اور زید بھی نماز فرض پڑھناچاہتاہے، آیا اس مصلے پرنماز پڑھ سکتاہے یانہ،کیا اس شخص کے نماز ختم ہونے تک زید کو انتظار لازم ہے؟ بینواتوجروا
الجواب

(۱) فصل بقدر کفایت وحاجت ہو جس میں مقتدی بخوبی سجدہ کرلیں اور اس سے زائد فصل کثیر مکروہ وخلاف سنت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲) اگرزید قابل امامت تھا اور انہیں معلوم تھا کہ یہ فرض پڑھ رہاہے اور انہوں نے اقتدانہ کی بلکہ جدا جدا فرض پڑھے تواگرجماعت اولٰی ہوچکی ہے جب توفضل سے محروم رہے اور اگریہی جماعت اولٰی ہوئی توگنہگار ہوئے، اور اگرزید قابل امامت نہیں اور ان دونوں میں کوئی قابل امامت تھا تواب بھی وہی احکام ہیں،اور اگران میں بھی کوئی قابل امامت نہیں تو اصلاً حرج نہ ہوااور نماز تینوں صورتوں میں مطلقاً ہوجائے گی اور اورنیت توڑدینا صرف جماعت قائمہ کی تحصیل کے لئے ہے مثلاً ایک شخص نے ظہر کے فرض شروع کئے ایک رکعت یا اس سے کم پڑھنے پایاتھا کہ جماعت قائم ہوئی تونیت توڑدے باقی جماعت معدومہ کی تحصیل کے لئے نیت توڑنے کی کہیں اجازت نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۳) پڑھ سکتاہے اور ختم نماز تک انتظار کرنا کچھ ضرور نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۷۶ :از شہرفیروزپور    محلہ پیراں والا     مرسلہ منشی عنایت اﷲ شاکی قادری

چہ می فرمایند علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثردیکھاجاتاہے کہ بعض لوگ مسجد میں آتے ہیں اور جماعت اولیہ پڑھی نہیں گئی اورامام کے حاضرہونے میں ابھی کچھ وقفہ ہے وہ اپنے کام کے واسطے امام معین کاانتظارنہیں کرتے، حاضرین میں سے کسی کو بغیر اجازت امام کے امام بنادیتے ہیں اور نماز بجماعت اداکرلیتے ہیں یا اگرجماعت ہوچکی ہے اور آنے والا شامل جماعت نہیں ہواتوپھردیکھاکہ ایک دو اور آدمی موجود ہیں جو شامل جماعت نہیں ہوئے ان کو ہمراہ لے کر جماعت پڑھائی یا ان میں سے کسی اور کو امام بنادیا اور امام سے نہیں پوچھابعض کی یہ عادت ہے کہ مسجد میں آئے اور امام کا مصلّٰی لیااور بچھایا اور اس پرنماز پـڑھی یا یونہی بیٹھ گئے، کیا ان کاایساکرنااور بغیر امام کے نماز پڑھنادرست ہے یانہیں، جواب بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں بینوابالدلیل وتوجروابالاجرالجزیل(دلیل کے ساتھ بیان کرواﷲ تعالٰی آپ کو اجرجزیل عطافرمائے گا۔ت)
الجواب

    جو لوگ جماعت معینہ سے پہلے جماعت کرکے چلے جائیں اس میں چند صورتیں ہیں اگرامام معین محلہ میں واقعی کوئی معذور شرعی ہے مثلاً وضو طہارت کاٹھیک نہ ہونا یاتجوید وقرأت میں ایسی غلطی کہ مورث فساد نماز ہو یامعاذاﷲ بدمذہبی مثل وہابیت وغیرمقلدی وغیرہما یافسق بالاعلان مثلاً داڑھی حد شرع سے کم رکھنا تو ان تین صورتوں میں ان لوگوں پرکوئی الزام نہیں بلکہ اسی جماعت محلہ پرالزام ہوگاجوایسے امام ناقابل امامت یاممنوع التقدیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں یونہی اگر وہ مسجد کسی خاص جماعت کی مسجد نہ ہو جیسے مسجد شارع وسرا واسٹیشن،جب بھی کوئی الزام نہیں کہ وہاں امام معین ہوناکوئی معنی نہیں رکھتاجوجماعت آئے جدا اذان کہے اور جدااقامت کرے اور اپنے سے ایک شخص صالح امامت کو امام بناکر جماعت پڑھے یہ سب جماعتیں جماعت اولٰی ہوں گی ان میں سے کسی دوسرے پرترجیح نہیں اور اگرمسجد محلہ ہے جس کے لئے امام وجماعت معین ہے اورامام میں کوئی معذور شرعی نہیں اور چندلوگ اپنی کسی ضرورت خاصہ شرعیہ سے پیش ازجماعت نماز پڑھ کر جاناچاہتے ہیں مثلاً کہیں انہیں جانے کی ضرورت جائزہ ہے اور جماعت کاانتظار کریں توریل کاوقت جاتارہے گا ایسی صورت میں بھی ان کواجازت ہوگی کہ باہم جماعت کرکے چلے جائیں کہ شرع نہ ان کویہ حکم دے گی کہ جماعت کا انتظار کرو اور ریل نکل جانے دونہ یہ حکم دے گی کہ جبکہ تم جماعت کاانتظار نہیں کرسکتے الگ الگ پڑھو اورجماعت نہ کرو نہ اس جماعت میں منصب امام معین سے کوئی منازعت ہوگی کہ وہ محلہ کی جماعت اولٰی کاامام معین ہے،اہل محلہ کے لئے جماعت اولٰی وہی ہوگی جووہ اپنے امام کے ساتھ اپنے وقت معین پرپڑھیں گے،ان چندآدمیوں کابضرورت پہلے جماعت کرجاناان کے ثواب جماعت میں کچھ کمی نہ کرے گااور جب منازعت نہیں تو استیذان امام کی بھی حاجت نہیں،پھر بھی احسن یہ ہے کہ محراب سے ہٹ کرجماعت کریں تاکہ صورت معارضہ سے بچیں اور باعث تنفیر ووحشت امام معین نہ ہواوراگران کی کوئی ضرورت شرعیہ نہیں توضرور موردالزام شرعی ہیں کہ مرتکب تفریق جماعت ہوئے پھرنیت کے اختلاف سے حکم اشدہوتاجائے گامثلاً اپنے کسی لہوولعب مباح کی جلدی کے باعث جماعت کرگئے توصرف تفریق جماعت کاالزام ہے اور اگرکسی لہوولعب ناجائز کی جلدی تھی یا کسی ناجائز جگہ جانے والے تھے اور وقت ریل کے سبب جلدی کی توالزام دوچند ہے اور اگراپنی بدمذہبی کے باعث امام سنی صحیح العقیدہ صالح امامت کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہی توالزام سب میں سخت ترہے
والکل ظاھر عند من لہ ادنی مسکۃ فی العلم
 (یہ تمام اس شخص پرظاہر ہے جسے اس علم سے ادنٰی تمسک ہے۔ت)یہ صورت تقدیم کاجواب ہوا، رہی صورت تاخیر اس میں بھی اگروہ مسجد مسجد محلہ نہیں تو ہم اوپرکہہ چکے کہ یہاں نہ تقدیم ہے نہ تاخیرہے نہ معین امام کے کوئی معنی ، سب جماعت اولٰی ہیں اور سب یکساں، اور اگر مسجد مسجد محلہ ہے اور امام معین میں کوئی عذر شرعی تھاجس کے سبب انہوں نے قصداً تاخیر کی جب بھی ان پرکچھ الزام نہیں کہ مقصود اصلاح جماعت سے اثارت فتنہ ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر یکساں، اور اگرامام میں کوئی عذر شرعی بھی نہیں مگرجماعت اولٰی بے اذان یااذان خفی ناکافی اعلان کے ساتھ کی گئی جب بھی ان کوباعلان اذان اعادہ جماعت کی اجازت بلکہ حکم ہے کہ پہلی جماعت جماعت مسنونہ نہ ہوئی جماعت مکروہہ ہوئی اوراگر یہ بھی نہیں مگرامام معین مذہب فقہی میں اس جماعت باقیہ کامخالف ہے مثلاً وہ شافعی المذہب ہے یہ حنفیہ ہیں اپنی جماعت جدا کرناچاہتے ہیں توکوئی بھی الزام نہیں کہ افضل یہی ہے کہ امام موافق المذہب کے پیچھے نماز پڑھی جائے، اگرمخالف المذہب حتی الامکان مراعات مذاہب اربع رکھتاہو،ان سب صورتوں میں اس جماعت ثانیہ کو نہ اذن امام اول کی حاجت نہ تبدیل محراب ومصلی کی ضرورت، اگر ان سب وجوہ سے جداہو توپھرتاخیر میں بنظرباعث وہی شقوق عود کریں گے جوتقدم میں تھیں، اگرباعث تاخیر کوئی ضرورت شرعیہ تھی مثلاً بھوکا ہونا یا استنجے کی ضرورت ہونا وغیر ذلک جواعذار فقہا نے تحریر فرمائے ہیں تو ان پرکوئی الزام نہیں مگراعادہ اذان کی اجازت نہ ہوگی اور محراب نہ بدلنا مکروہ، اور بعد تبدیل محراب شرعی اجازت ہے اذن امام کی حاجت نہیں، نہ اس کے منصب میں منازعت نہ اس میں اس کے لئے تنفیر ووحشت، اور اگرہوبھی اور وہ کہے کہ اگرچہ جماعت اولٰی میں نے ہی کی اور میرے حق میں کوئی دست اندازی نہ ہوئی پھر بھی تم نے میری مسجد میں بے میرے اذن کے کیسے جماعت ثانیہ کرلی تو اس وحشیانہ وحشت کاالزام خود اس پر ہے نہ ان پر۔ اور اگر بے ضرورت شرعیہ کسی امر مباح کے سبب تاخیر کی تو تفریق جماعت وترک جماعت اولٰی کا ان پروبال ہے اور اگرکسی امرناجائز کے سبب تووبال دوچنداور اپنی بدمذہبی کے باعث امام سنی صالح الامامت کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہی تو وبال سب میں سخت ترہے کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرا۔ت) اور مصلائے امام کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ خاص اس کی ملک ہو کہ اس نے اپنے لئے مسجد میں بچھارکھاہے یہ توظاہر ہے کہ بے اس کے اذن کے کسی کام میں استعمال نہیں ہوسکتا جو استعمال کرے گا گنہگار ہوگا۔ دوسرے یہ کہ مصلّٰی وقف ہو، اس میں پھر تین صورتین ہیں، ایک یہ کہ واقف نے صرف امام کے لئے وقف کیا تو اسے کوئی نمازی منفرد یامقتدی بھی نہیں لے سکتا چہ جائیکہ غیر۔بلکہ اگرخاص امام جماعت اولٰی کے لئے وقف کیاہو توامام جماعت ثانیہ بھی نہ لے سکے گا جبکہ واقف نے اسے جائز نہ رکھاہو۔تیسرے یہ کہ مسجد کے لئے وقف کیا اور صراحۃ یادلالۃ حاضران مسجد کے لئے اس کاستعمال مطلق ہے جس طرح چٹائیوں میں معروف ہے تو اسے نماز کے لئے بھی لے سکتے ہیں اور غیروقت نماز میں کسی ایسے جلوس کے لئے بھی کہ شرعاً مسجد میں جائز ہو، پھراتنا لحاظ رہے کہ بحال اطلاق بھی جس طرح صفیں جماعت کے لئے ہوتی ہیں مصلّے میں حق امام زیادہ ملحوظ ہوتاہے توعین وقت امامت امام کو اس سے محروم نہیں کیاجاسکتا، ہاں خالی وقت میں لے لینا اور وقت امامت کے لئے مقام امام پرپھر بچھادینا بھی کوئی حرج نہیں رکھتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter