پڑھا۔ راوی کہتاہے میں نے عرض کی میں آپ پرقربان جاؤں کیا ائمۃ ہے، فرمایا ہاں خدا کی قسم، میں نے کہا لوگ تو اربی پڑھتے ہیں، حقارت سے ہاتھ جھٹک کرفرمایا اربی کیا۔۳؎
دہم: آپ کے زعم میں بسم اﷲ شریف کاجزءِ ہرسورت ہونا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایۃً صحیح ہوچکااور آپ تصریح کرتے ہیں کہ باتفاق مذاہب اربعہ یہاں صرف صحت روایت پرمدار ہے، ائمہ حنفیہ کاحال توافادہ ۸ میں ظاہرہولیاکہ انہوں نے کیونکر آپ کے اس مدار کادمارنکالا، مالکیہ سے پوچھئے وہ کیافرماتے ہیں، ہمارے یہاں توباوصف جہرسور اخفا ہی کاحکم تھا امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کامذہب مشہوریہ کہ فرضوں میں بسم اﷲ ہرگزپڑھے ہی نہیں، نہ آواز سے نہ آہستہ، روایت اباحت ضعیف ہے، پڑھے گا تونمازمکروہ ہوگی، ہاں نفلوں میں اختیارہے کیاانہیں اپنے شہرمبارک مدینہ طیبہ کے امام قراء ت حضرت نافع کاحال معلوم نہ تھا کہ بروایت قالون بسم اﷲ پڑھتے ہیں، علامہ زرقانی مالکی شرح موطائے امام مالک میں فرماتے ہیں:
المشھور من مذھب مالک کراھتھا فی الفرض۱؎۔
امام مالک رحمہ اﷲ تعالٰی کامشہور مذہب یہ ہے کہ فرضوں میں یہ مکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المؤطا)
مقدمہ عشماویہ علامہ عبدالباری منوفی رفاعی مالکی میں ہے:
المشھور فی البسملۃ والتعوذ الکراھۃ فی الفریضۃ دون النافلۃ وعن مالک القول بالاباحۃ۲؎۔
بسم اﷲ اور اعوذباﷲ کے بارے میں مشہورہے کہ ان کاپڑھنا فرضوں میں مکروہ ہے نفلوں میں مکروہ نہیں ، اور امام مالک سے ایک قول میں مباح ہے۔(ت)
(۲؎ المقدمۃ فی الفروع المالکیۃ للعشماوی)
عمدۃ القاری میں ہے:
قال ابوعمر قال مالک لاتقرؤالبسملۃ فی الفرض سرا ولاجھرا وفی النافلۃ ان شاء فعل وان شاء ترک۳؎۔
ابوعمرنے کہاکہ امام مالک نے فرمایا بسم اﷲ کوفرضوں میں نہ بلندآواز سے پڑھو نہ پست آواز سے، اور نفلوں میں پڑھنے نہ پڑھنے کااختیارہے۔(ت)ذرا اس تفریق کوبھی اپنے مدار سے تطبیق دیجئے۔
(۳؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر حدیث ۱۳۱ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ /۲۸۴)
یازدہم تاشانزدہم: تقریر شریف میں یہ فقرات عجیب ہیں کہ زمانہ قراء سبعہ زمانہ اجتہاد تھا زمانہ تابعین تھا، ائمہ مذہب تا زمانہ قراء محتاج الیہ ومحصور نہ تھے بلکہ بعد قراء کے تھے قراء کامذہب پوچھنا عبث ہے، ان فقرات کومقصود میں بھی کچھ دخل ہے یابرائے بیت ہیں جب آپ کے نزدیک اس مسئلے میں مذہب کواصلاً دخل ہی نہیں تو زمانہ قراء زمانہ اجتہاد ہو یاعصرتقلید، عہدتابعین ہو یا وقت جدید، ائمہ مذہب اس وقت محتاج الیہم ہوں یابیکار، معدودے چندہوں یابے شمار، قراء سے سابق ہوں یالاحق، قاری مجتہدہوں یامقلد، ان امور سے علاقہ ہی کیا رہا، اور ان کے خلاف بھی مانئے توتفاوت کیا، فتوائے سامی میں اس سے پہلے تین چارسطر کی تقریر اسی کے متعلق کہ زمانہ تبع تابعین ومحدثین تک چارہیں حصرمذاہب نہ تھا مجتہدین بکثرت تھے، جب اور مذہب مندرس ہوگئے مذہب اہل حق ان چارمیں محصورہوگیا، اوربھی ہے کہ وہ بھی محل سے یوں ہی بیگانہ واجنبی ہے۔
ہفدہم: ثبوت دیجئے کہ قراء سبعہ سب مجتہد مطلق تھے اگرمجتہد فی المذہب بھی ہوئے تومذہب پوچھنا کیوں حماقت ہونے لگا۔
ہیجدہم: اس زمانہ میں عدم حصروکثرت مجتہدین مسلم مگرکیا اس وقت کاہرفرد بشر یاہرعالم اگرچہ کسی فن کاہو فقیہ ومجتہدتھا اس کا تو زعم نہ کرے گا مگرسخت احمق جاہل، یاانتساب گوعام نہ تھا اس کابھی مدعی نہ ہوگا مگر بے خبرغافل، کیا امام ابویوسف و اما م محمد وغیرہا حنفیہ اور امام اشہب و امام قاسم وغیرہما مالکیہ میں معدود نہیں(کتب طبقات ملاحظہ ہوں) اور جب یقینا قطعاً تقلید بھی تھی اختصاص بھی تھا تو اس وقت کے قاریوں کامذہب پوچھنا کیوں حمق ہوا۔
نوزدہم: درفن تاریخ ہم کمالے دارند (فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ت) ائمہ مذہب بعد قراء کے تھے، شہب جانے دیجئے، بدور ہی میں کلام کیجئے، سات میں چار ہمارے امام سے وفاۃً متاخر ہیں، امام ابوعمروبن العلاء بصری نے ۱۵۴ھ یا۱۵۵ھ، امام حمزہ زیات نے ۱۵۴ یا۱۵۶ یا ۱۵۸ھ، امام نافع مدنی نے ۱۶۹ھ، امام علی کسائی نے ۱۸۹ھ، امام الائمہ ابوحنیفہ نے ۱۵۰ھ میں انتقال فرمایا رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، اور یہ امام کسائی تو ہمارے امام سے چالیس پچاس برس چھوٹے ہیں، امام کی ولادت ۸۰ یا۷۰ھ عــہ میں ہے اور ان کی ۱۱۹ھ میں۔ یہ ہمارے امام کے صاحب صغیر سیدنا امام محمد کے اقران سے ہیں، دونوں صاحبوں نے ایک ہی سال انتقال فرمایا جس پر خلیفہ ہارون رشید نے کہاتھا میں نے رَے میں فقہ وادب دونوں دفن کردئیے۔ اب کون جاہل کہے گا کہ امام اعظم امام محمد کے بعد ہوئےہیں۔
عــہ بلکہ ایک قول میں ولادت امام ۶۱ھ ہے کما فی وفیات الاعیان (جیساکہ وفیات الاعیان میں ہے۔ت) یوں تقریباً ۶۰ برس چھوٹے ہوں گے ۱۲(م)
بستم: ائمہ مذہب محتاج الیہ ومحصورنہ تھے یہ خاص ائمہ اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی نسبت فرمایا یا مطلق، اول توبداہۃً عقل سے عاطل، چارکبھی بھی نامحصورنہیں ہوسکتے اور ثانی اس سے بڑھ کر شنیع وباطل، زمانہ صحابہ سے آج تک کوئی وقت ایسانہیں نہ گزرا کہ ائمہ کی طرف احتیاج نہ ہو، ہرزمانے میں مقلدین کاعدد مجتہدین سے بدرجہا زائد رہا ہےتوائمہ سے بے نیازی کیونکر ممکن بلکہ علما کی طرف حاجت توجنت میں بھی ہوگی حالانکہ وہاں احکام تکلیفی نہیں، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اھل الجنۃ یحتاجون الی العلماء فی الجنۃ وذلک انھم یزورون اﷲ تعالٰی فی کل جمعۃ فیقول لھم تمنوا علی ماشئتم فیلتفتون الی العلماء فیقولون ماذا نتمنی فیقولون تمنوا علیہ کذا وکذا فھم یحتاجون الیھم فی الجنۃ کمایحتاجون الیھم فی الدنیا۱؎۔ رواہ ابن عساکر عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما
بے شک اہل جنت، جنت میں علماء کے محتاج ہوں گے یوں کہ ہرجمعہ کو انہیں اﷲ تعالٰی کادیدار نصیب ہوگا، مولٰی سبحانہ وتعالٰی فرمائے گا جوجی میں آئے مجھ سے مانگو(اب جنت سے مکان میں جاکر کون سی حاجت باقی ہے کچھ سمجھ میں نہ آئے گا کہ کیامانگیں) علما کی طرف منہ کرکے کہیں گے ہم کیاتمناکریں، وہ فرمائیں گے اپنے رب سے یہ مانگو، تولوگ جنت میں بھی علما کے محتاج ہوں گے، اس کو ابن عساکر نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ذکرکیا۔
(۱؎ الجامع الصغیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۲۲۳۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۳۵ و ۱۳۶)
اللھم انی اسألک بعلماء امۃ حبیبک محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان ترحمنا بھم فی الدنیا والاٰخرۃ وتررزقنا بحاھھم عندک العلم النافع والقلب الخاشع والعفو والعافیۃ والمغفرۃ وصل وسلم وبارک علی سیدنا ومولانا محمد واٰلہٖ وصحبہ اٰمین والحمد ﷲ رب العٰلمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اے اﷲ! میں تجھ سے تیرے حبیب پاک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علماء کے وسیلے سے دعاکرتاہوں کہ توہم پران کے وسیلے سے دنیاوآخرت میں رحم فرمااور ان کوجوعزت وکرامت تیرے ہاں حاصل ہے اس کی برکت سے ہمیں نافع علم، خشوع والا دل، معافی، عافیت اور مغفرت عنایت فرما اور درودوسلام اوربرکت ہمارے آقاومولٰی محمد اور ان کی آل اور صحابہ پرفرما، آمین والحمدﷲ رب العالمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر زیرعنوان صفوان ثقفی دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ /۴۳۷
مختصر تاریخ ابن عساکر زیرعنوان صفوان ثقفی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱۱ /۹۹)