الحمدﷲ آفتاب عالم تاب، حق وصواب بے نقاب وحجاب، شک وارتیاب جلوہ فرمائے منظر احباب ہوا اب کیاحاجت کہ حشویات زائدہ ولغویات بے فائدہ کے رد وابطال میں تضیع وقت کیجئے زیدبے قید اپنی شدت جہالت و قوت سفاہت کے باعث خود اس قابل نہیں کہ اس کی بات قابل التفات ہو اس نے کوئی مطلب روشن علم پر تحریرنہ کیا، زورِتناقض وشورِ تعارض نے جابجا اپناہی لکھا، خود رد کردیا، عناد واجتراو مکابرہ وافترا، سب وشتم علمائے کرام بیت اﷲ الحرام کے ماورا، جوباتیں اصل مقصد میں لکھیں اپنے دونوں متبوعوں ہی کے کلام سے اخذ کیں، متبوعین میں گنگوہی صاحب نے طرفہ تماشاکیا کہ اول تواپنے پیشوا جناب قاری صاحب کاصاف رَد لکھا قاری صاحب نے فرمایاتھا اس مسئلے میں مذہب کوکچھ دخل نہیں، گنگوہی صاحب فرماتے ہیں قبلہ یہ باطل مبین، دخل نہ ہونا کیا معنی صریح اجتہادیہ ہے حفص کامذہب جہر، امام اعظم کامذہب اخفاء ہے جس کی پیروی کیجئے درست وبجا ہے، قاری صاحب ، جہرفی الختم اگرچہ نمازمیں ہو حفص کی روایت ہے، عاصم کی قراء ت ہے منقول عن الرسول بروجہ صحت ہے، گنگوہی صاحب حضرت نہیں بلکہ حفص کی رائے ہے عقلی اجتہاد سے، ہاں مذہب سب بجاہیں،یوں حق ارشاد ہے، قاری صاحب یہ اُن امور سے جن میں نزاع کی گنجائش ہی نہیں یہاں تک کہ بدمذہب بھی خلاف سے کنارہ گزیں، گنگوہی صاحب قبلہ یہ لاف ہے صاف گزاف ہے، خود ائمہ سنت نزاع کررہے ہیں، خود امام اعظم کاصریح خلاف ہے، قاری صاحب یہاں چاروں مذہب میں صرف صحت روایت پر مدارکارہے، گنگوہی صاحب حضرت چاروں درکنار، خود اپنے مذہب میں اس سے انکار ہے، قاری صاحب جب مسئلہ بروایت صحیحہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہوچکا خلاف ابوحنیفہ باقی ہی کب رہا،
اذا صح الحدیث فھو مذھبی
(جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرامذہب ہے۔ت) قول احناف ہے، تو بعد صحت روایت خلاف وتخالف سے مطلع صاف ہے گنگوہی صاحب قبلہ یہ تو بداہۃً مردود، خلاف امام اعظم قطعاً موجود، قاری صاحب بعد صحت روایت کسی مذہب کی کیاحاجت یعنی کوئی خلاف کرے بھی تو کیا قابل سماعت، گنگوہی صاحب واہ حضرت سب حق وہدایت جس کی اقتداء کرواہتداء کی بشارت، غرض اوّلاً قاری صاحب کے خیالات کارَدِ کلی فرماکر اخیرمیں سارا دھڑا قاری صاحب کے سردھرا، کہ یہ سب کچھ ہے مگرحافظوں پروہی ضرورجوحضرت قبلہ قاری صاحب کومنظور، ملک خدائے غالب کاحکم، جناب قاری صاحب کا، جوہرسورت پرجہربسم اﷲ نہ کرے گا ختم کامل کے ثواب سے محروم پھرے گا۔
اقول: ان سب خرافاتوں کاردِ بالغ وطرز بازغ، توطرح طرح سے افادات میں گزرا، یہاں حضرت سے اوّلاً اتنا دریافت کرنا ہے کہ جب سب مذہب حق تھے سب کااتباع ہدایت، سب کے اقتدا کی عام اجازت، تواب حفاظ پرخاص ایک ہی کااتباع کیوں لازم وضرورہوگیا، حفص کاخلاف توپہلے بھی معلوم ہی تھا اس وقت تو آپ یہی فرمارہے تھے کہ اس میں عیب، نہ اس میں حرج، اب قاری صاحب کے فرمان میں کیا کسی تازہ وحی نے نزول کیاجس نے ایک حق کو ناحق، ایک ہدایت کو ضلالت، ایک جائزکوناجائزکردیا۔
ثانیاً یہ آپ فتوٰی لکھ رہے ہیں یاکوئی اپنی خانگی پنچایت، قاری صاحب کافرمان حدیث ہے یا آیت یا فقہی روایت، کون سی شرعی حجت،
ثالثاً ثبوت تودیجئے کہ مذہب حفص تمام سورمیں جزئیت بسامل تھا۔
رابعاً پہلے اسی سے چلئے کہ امام حفص کومنصب اجتہاد حاصل تھا۔
خامساً مسئلہ اجتہادیہ ہے یانہیں، اگرنہیں تو اپنے فتوٰی میں ذکرفرمان پانی پت تک جوکچھ لکھا سب پرپانی پھیرلیے اور اگرہاں تو آپ اجتہادیات میں امام اعظم ملت امام ائمہ امت کے مقلد ہیں یامجتہد العصر پانی پت کے، باتباع ہوا تقلید امام کو آگ دکھانا، پانی پت کی خاک پردھونی رمانا، کس نے مانا اور یوں بھی سہی تو آپ کو اپنی ذات کااختیار مسلم حنفیہ کو اُن کے خلاف امام فتوی بتاناکیسا ستم، افسوس کہ آپ نے اول تو تقلید شخصی کو ایسا چھوڑا کہ سب مذہب بجا سب پر عمل روا،آخر میں پکڑا تو ایسا پکڑا کہ امام کا اتباع متروک و مہجور اور تقلید پانی پت کی پت رکھنی ضرور، اس شتر گربگی کی کیاسند،
صُلت علی الاسد وبُلتُ عن النقد
(شیر پرحملہ کیا اور بکری کے ڈر سے پیشاب آگیا۔ت)، خیر انہوں نے سب ڈھلی بگڑی، قاری صاحب پرڈھال کر اُن کی ڈھال پکڑی۔ قاری صاحب کی سنئے تواُن سے بہت کچھ کہنا ہے:
یکم: وہ بھی کوئی سند نہ لاسکے، ایک کتاب کی عبارت بھی نہ دکھاسکے، اور عاقل جانتاہے کہ محل فتوٰی میں ادعائے بے دلیل، ذلیل وعلیل۔
دوم: سند دکھانا کہاں کاخوب جانتے تھے کہ یہ جملے خلاف مذہب کہے، لہذا وہ راہ چلے کہ اتباع مذہب کاجھگڑا ہی نہ رہے، اتنی عمرآئی غیرمقلدوں سے معرض ہیں،ترک تقلید پرمعترض ہیں، انہیں گمراہ ومفسد بتایاکرتے ہیں، تحریراً وتقریراً جلی کٹی سنایاکرتے ہیں، اب کہ اپنا اجتہاد گرمایا، وہ کچھ فرمایا کہ انہیں بھی شرمایا، بعد صحت روایت کسی مذہب کی کیاحاجت، عمل بالحدیث ہی طریق انصاف ہے، جب حدیث صحیح ہو پھرکیا خلاف ہے
فھو مذھبی
(حدیث صحیح ہی میرامذہب ہے۔ت) خود قول احناف ہے، زمانہ قراء زمانہ اجتہاد وعمل بالسنہ گزرا، تخصیص دلیل ہے کہ جب دورتقلید آیا عمل بالسنہ نے منہ چھپایا، حالانکہ تقلید ائمہ ہی عمل بالسنہ ہے اس کاخلاف صریح فتنہ ہے
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
سوم :اذا صح الحدیث توسن لیا مگر صحت فقہی وصحت حدیثی میں فرق نہ کیا، خاص اس بات میں فقیرکا رسالہ
الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی
مطالعہ کیجئے کہ مطلب کھلے، شک و ریب کی ظلمت دھلے۔
چہارم: اگر تلقی والقائے بیرون نماز میں صحت روایت جہر مراد، چشم ماروشن دل ماشاد، اس سے تراویح پرحکم خرط القتاد، اور اگر خود مطلق نماز یاخاص تراویح میں روایت جہر کی صحت مقصود توممنوع ومردود ، افادہ ۱۲ و ۴ یادکیجئے اور خدا انصاف دے
اذا صح الحدیث
سے اپنے عکس مراد کامژدہ لیجئے کہ حدیث صحیح ہمارے ہی ساتھ، اور خصوص تراویح میں تو آپ یک دست خالی ہاتھ۔
پنجم: مذہب کو دخل نہ ہونے کی بھی ایک ہی کہی، مجرد کسی روایت صحیحہ کاوجود، مسئلے کو مجتہد فیہانہ رکھے یہ تو بداہۃً مردود وکتب معللہ خلافیہ دیکھئے ہزاروں مسائل اجتہادیہ ہیں ہرفریق یا ایک ہی کے پاس ایک یاچند روایات صحیحہ موجود، ہاں نص قطعی مشہور متواتر دکھاسکتے کہ بسم اﷲ ہرسورت کاجز ہے یاختم تراویح میں ہرسورت پراس کاجہرچاہئے تویہ کہناٹھکانے سے ہوتاکہ مذہب مسائل اجتہادیہ میں ہوتاہے نہ ان منقولہ میں اور جب اس کی قدرت نہیں تو محض ربانی ادعاؤں سے مذہب حنفیہ رَد ہوجائے حاشایہ ہوس ہی ہوس ہے۔
ششم :جزئیت جمیع سور میں اختلاف ائمہ قراء ت آپ نے کہیں دیکھا یامحض طبعی جودت، افادہ ۴ ملاحظہ ہو کہ ماورائے فاتحہ میں قول جزئیت حادث وبے اصل ہے، افادہ ۵ معلوم ہوکہ سورہ بقرہ سے سورہ ناس تک بسم اﷲ باتفاق قراء سورت سے خارج امارت فصل ہے۔
ہفتم: ایک سوچودہ آیتوں کی کمی کس حساب سے جمی، قرآن عظیم میں کل سورتیں اسی قدرہیں اور براء ت میں بالاجماع بسم اﷲ نہیں توبسامل اوائل ایک سوتیرہ ہی رہیں۔ حفاظ بالاتفاق ایک بارجہر کے عامل، تو آپ کے طور پربھی صرف ایک سوبارہ ہی کانقصان حاصل، چودہ کس گھر سے آئیں، کیاحفدوخلع بھی دوسورتیں شمارفرمائیں، بالفرض کوئی جاہل حافظ مطلقاً تارک جہر ہی سہی تاہم کیا براء ت مستثنی ہوکربھی گنتی چودہ کی چودہ ہی رہی، اس سے تو زید بیچارہ آپ کامقلد ہی اچھا رہا جس نے کہیں کہیں اپنے خیال سے تیرہ کہا۔
ہشتم: یہ تو اہل اہوا گمراہان باطغوی کی خوب ہی حمایتیں فرمائیں، قراء ت امرمنقول ہے نہ اجتہادی لہذا اس میں کسی بدمذہب کاخلاف نہیں، سبحان اﷲ مگرگمراہوں کاخلاف فروعات ظنیہ اجتہادیہ سے مخصوص یاوہ اشقیاء صراحۃً بداہۃً منکر صدہا قواطع ونصوص
(افسوس ہے اے استاذ! معلوم ہوتاہے تجھے سمجھ نہیں جوتیری زبان پرجاری ہے، پس اگرتو سمجھ نہیں رکھتا الخ۔ت)
نہم: قراء ت میں اہل ہوا کاخلاف نہ ماننا بھی عجب بے خبری ہے یاکوتاہ نظری، خلاف کی دوصورتیں ہیں ہمارے ائمہ کی کسی قراء ت پرطاعن ومنکرہوں یاکہیں اپنی نئی گھڑت کے مظہر، اہل ہوا خذلہم اﷲ تعالٰی دونوں راہ چل چکے، سردست تحفہ اثناعشریہ ہی کاتحفہ کافی جسے ہرفارسی خواں بھی سمجھ سکے، باب دوم مکائد روافض قتلہم اﷲ تعالٰی میں فرماتے ہیں:
کیدسیزدہم آنست کہ گویند عثمان ابن عفان بلکہ ابوبکروعمرنیز رضی اﷲ تعالٰی عنہم قرآن را تحریف کردند وآیات فضائل اہلبیت اسقاط نمودند ازاں جملہ وجعلنا علیا صھرک کہ در الم نشرح بود ۱؎''۔ ملخصاً
تیرہواں مکریہ ہے کہ کہتے ہیں عثمان ابن عفان بلکہ ابوبکر اور عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے قرآن میں تحریف کردی ہے، اور انہوں نے فضائل اہل بیت کی آیات کو ساقط کردیا ہے اور ان میں سے ایک ''الم نشرح'' میں یہ آیت تھی کہ علی کو ہم نے تیرا داماد بنایا ہے۔(ت)
(۱؎ تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم ازباب دوم کیدسیزدہم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۸)
ایک سنی نے اس پر ظرافۃً کہا ہاں اس کے بعد ایک آیت اور تھی وہ رافضیوں نے گھٹادی یعنی
وعلی الروافض قھرک
(رافضیوں پرتیرا قہر ہے۔ت) تتمہ باب چہارم میں اُن اشقیا کازعم نقل کیا:
''صحابہ بجائے من المرافق الی المرافق ساختند وبجائے ائمۃ ھی ازکی من ائمتکم، امۃ ھی اربی من امۃ نوشتند وعلٰی ہذا القیاس''۲؎
صحابہ نے من المرافق کی بجائے الی المرافق کردیا اور ائمۃ ھی ازکٰی من ائمتکم کی بجائے امۃ ھی اربی من امۃ کردیا (یعنی تمہارے اماموں سے زیادہ پاکیزہ امام'' کی جگہ ''امت یہ دوسری امت سے بڑی'' کردیا) علٰی ہذاالقیاس۔ (ت)
(۲؎ تحفہ اثنا عشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ باب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۰)
شرح حدیث الثقلین میں ذکرکیا کلینی رافضی نے کافی میں کہ روافض کے نزدیک اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے روایت کی کسی نے امام جعفرصادق کے حضور قرآن کے کچھ لفظ ایسے پڑھے کہ لوگوں کی قراء ت میں نہ تھے امام نے فرمایا کیا ہے ان الفاظ کو نہ پڑھ جیسالوگ پڑھ رہے ہیں اسی طرح پڑھ، یہاں تک کہ مہدی آکر قرآن کو ٹھیک ٹھیک پڑھیں۳؎۔ اسی میں روایت ہے امام زین العابدین نے یہ آیت یوں پڑھی:
وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی ولامحدث
(نہ بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہ نبی نہ محدث جس سے فرشتے باتیں کریں) اور فرمایا مولٰی علی محدث تھے۴؎۔
( ۳؎ و ۴؎ تحفہ اثنا عشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ باب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۰)
اسی میں روایت ہے امام جعفر صادق نے فرمایا:
امۃ ھی اربی من امۃ
(یہ اُمت دوسری امت سے بڑی۔ت) کلام اﷲ نہیں اس میں تحریف ہوئی اﷲ تعالٰی نے یوں اتارا تھا
لفظ ویلک قبل از لاتحزن ان اﷲ معنا نیز ساقط کردہ اند ولفظ عن ولایۃ علی بعدازیں آیت وقفوھم انھم مسؤلونo ویملکہ بنوامیۃ بعد خیرمن الف شھر وبعلی بن ابی طالب بعد وکفی اﷲ المؤمنین القتال واٰل محمد ازیں لفظ وسیعلم الذین ظلموا، اٰل محمد منقلب ینقلبون ولفظ علی بعد از ولکل قوم ھاد، وذکر کل ذلک ابن شھر اٰشوب المازندرانی فی کتاب المثالب لہ و علی ھذا القیاس کلمات بسیار وآیات بے شمار راکردہ اند۲؎۔ملخصاً
''نہ ڈر اﷲ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے'' سے پہلے لفظ ''ویلک''(تجھے ہلاکت ہو) ساقط کردیا۔ ''ان کوکھڑا کرو ان سے سوال کیاجائے گا'' کے بعد ''عن ولایۃ علی'' (علی کی ولایت کے بارے میں) ساقط کردیا۔''اوربنوامیہ بادشاہ نہیں بنیں گے'' کو ''خیرمن الف شھر''(ہزارمہینوں سے بہتر) کے بعد بڑھادیا ہے اور ''کفی اﷲ المؤمنین القتال'' کے بعد''بعلی بن ابی طالب'' بڑھایا،یعنی ''اﷲ تعالٰی مومنوں کوجنگ میں کافی'' کے بعد رافضیوں نے ''علی کی وجہ سے'' بڑھادیا۔ اور ''سیعلم الذین ظلموا کے بعد ''اٰل محمد''کالفظ انہوں نے بڑھادیا، یعنی ''عنقریب اﷲ تعالٰی اپنے علم کوظالموں کے بارے میں ظاہرفرمائے گا'' کے بعد ''آل محمد پرظلم کرنے والے'' بڑھادیا۔ اور ''ہرقوم کے لئے ہادی'' کے بعد لفظ ''علی'' بڑھادیا۔ یہ سب کچھ ابن شہرآشوب المازندرانی نے اپنی کتاب ''المثالب'' میں ذکرکیا، اور اسی طرح انہوں نے بہت سے کلمات اور بہت سی آیات بڑھادیں۔(ت)