مذھب الاصولیین وفقھاء المذاھب الاربعۃ والمحدثین والقراء ان التواتر شرط فی صحۃ القراء ۃ ولاتثبت بالسند الصحیح غیرالمتواتر ولو وافقت رسم المصاحف العثمانیۃ والعربیۃ وقال الشیخ ابو محمد مکی القراء ۃ الصحیحۃ ماصح سندھا الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وساغ وجھھا فی العربیۃ ووافقت خط المصحف وتبعہ علی ذلک بعض المتأخرین ومشی علیہ ابن الجزری فی نشرہ وطیبتہ وھذا قول محدث لایعول علیہ ویؤدی الٰی تسویۃ غیرالقراٰن بالقراٰن ولایقدح فی ثبوت التواتر اختلاف القراء فقد تواتر القراء ۃ عند قوم دون قوم۱؎الخ
اہل اصول، چاروں فقہاء کرام، محدثین اور قراء حضرات کا مذہب یہ ہے کہ قرآن کی قراء ت کے طورپر متواترہوناضروری ہے، اور محض صحیح سند سے ثابت ہوناکافی نہیں ہے اگرچہ وہ الفاظ مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط اور عربی کلام کے معیارپرکیوں نہ ہو، شیخ ابومحمد مکی نے فرمایا کہ قراء ۃ صحیحہ وہ ہے کہ جس کی سند حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام تک صحیح ہو اور اس کا انداز عربی ہو اور قرآنی رسم الخط کے موافق ہو، اس کو بعض متاخرین نے معیار بنایاہے اور ابن جزری نے بھی اپنی کتاب نشر اور طیبہ میں اس کی پیروی کی ہے حالانکہ یہ معیارنئی بات ہے اور اس پراعتمادنہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس سے قرآن اورغیرقرآن مساوی ہوجائیں گے، تواترکے ثبوت میں قراء حضرات کا آپس کااختلاف مانع نہیں ہے کیونکہ ہرایک تواتر سے قراء ت کرتا ہے اگرچہ ہرایک کا تواترمختلف ہے الخ(ت)
(۱؎ غیث النفع فی القراء ات السبع علی ھامش سراج القاری ،فوائد تشدید الحاجۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵،۶)
اور بعض متاخرین کہ جائز رکھتے ہیں وہ بھی شہرت واستفاضہ وقبول قراء شرط کرتے ہیں، مجردصحت روایت پرقناعت کسی معتمدفی الفن کاقول نہیں، خود امام ابن الجزری جنہوں نے نشر میں یہ ضابطہ باندھا کہ:
جب وہ قراء ۃ مشہور و معروف ہو اور امت نے صحیح سند سے اس کو قبول کرلیاہو، یہ اس لئے ضروری ہے کہ تلقی اُمت، رکن اعظم اور مضبوط بنیادہے(ت)
(۳؎ الاتقان بحوالہ کتاب النشرلابن جزری النوع الثانی الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۷۵)
پھرفرمایا:
نعنی بہ ان یروی تلک القراء ۃ العدل الضابط عن مثلہ وھکذا حتی تنتھی و تکون مع ذلک مشھورۃ عند ائمۃ ھذا الشان۱؎۔
ہماری مرادیہ ہے کہ اس قراء ت کوعادل کامل ضبط شخص نے اپنے ہی جیسے سے آخرتک سلسلہ وار روایت کیاہو اور اس کے باوجود وہ ایسے ہی عظیم شخصیات کے ہاں مشہوربھی ہو۔(ت)
(۱؎ الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ کتاب النشر النوع الثانی والثالث مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۷۶)
امام جلیل جلال سیوطی جنہوں نے یہاں کلام امام القراء کی تعریف کی اگرچہ اس کے بعد وہ کلام، مذکورسابق افادہ فرمایا جس نے اس کے مضمون کی تضعیف عــہ۱ کی:
اعنی لاخلاف ان کل ماھو من القراٰن یجب ان یکون متواترا۲؎ الٰی اخرمامر۔
یعنی جوبھی قرآن ہے اس کامتواتر ہوناواجب ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔(ت)
اس کلام کی تلخیص میں فرماتے ہیں:
اتقن الامام ابن الجزری ھذا الفصل جدا وقد تحرر لی منہ ان القراء ات انواع الاول المتواتر الثانی المشھور وھو ماصح سندہ ولم یبلغ درجۃ التواتر و وافق العربیۃ والرسم واشتھر عند القراء و یقرؤ بہ علی عــہ۲ ماذکر ابن الجزری الثالث الاٰحاد وھو ماصح سندہ وخالف الرسم او العربیۃ اولم یشتھر الاشتہار المذکور ولایقرؤبہ۲؎۱ھ۔
امام ابن جزری نے اس بحث کوخوب مضبوط بنایا، مجھے ان کی بحث سے یہ واضح ہواکہ قراء تیں کئی قسم ہیں،ایک متواتر، دوسری مشہور، یہ وہ ہے کہ جس کی سند صحیح ہو مگردرجہ تواتر کونہ پہنچی ہو اور عربی قواعد اور رسم الخط کے موافق ہو، اور قراء حضرات کے ہاں مشہورہو اور اس کی قراء ت کی جاتی ہو، جیسا کہ ابن جزری نے ذکرکیاہے، اور تیسری احاد ہے اور یہ وہ ہے کہ جس کی سندصحیح ہو لیکن عربی رسم الخط یاقواعد کے خلاف ہو اور مذکورہ شہرت کے معیارکونہ پائے اورنہ ہی اس کی قراء ت کی جاتی ہو۱ھ(ت)
عــہ۱ بلکہ یہاں بھی ایک لفظ سے اپنی براء ت اس سے ظاہر فرمادی کماسیأتی ۱۲منہ (م)
عــہ۲ ھذہ کلمۃ التبری ۱۲منہ (م)
(۲؎ الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ کتاب النشر النوع الثانی والثالث مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۷۷)
ثانیاً اگربالفرض یہ مسلم بھی ہو تو اس سے حاصل کتنا، جواز قراء ت نہ بروجہ قرآنیت، یہ محض ایک امرزائد وخارج ہے جس سے نہ لزوم وضرورت ثابت ہوسکے نہ بحال ترک کسی عاقل کے نزدیک، حکم نقصان ختم کی راہ ملے،
اے اﷲ! مگرجومجنون بے عقل ہو جوبات کونہ سنے نہ سمجھے کہ وہ کیاکہہ رہاہے۔(ت)
بالجملہ یہاں تین چیزیں اثبات مبسلمین کتابت مصاحف، روایت منصوصہ۔
اول تو اولا بحث سے محض برکراں جس سے جزئیت سور درکنار، قرآنیت کااثبات بھی ظاہر البطلان،
ثانیاً روایات جہرواثبات، سب بیرون نماز کی حکایات، اس سے مطلق نمازیاخاص تراویح پرحکم ناقابل التفات۔
ثالثاً بفرض باطل بطورمناظرہ، ادعائے نقصان ختم میں،یوں بھی کلام، کہ خلاف واثبات دونوں طورپرقرآن تمام۔
دوم ثبوت قرآنیت پرضرور دلیل مبین مگرحاشاجزئیت سور و جہرفی الصلوٰۃ سے علاقہ نہیں، نہ تکرر نزول تعدد آیات پردلیل معقول، توایک بار پراقتصار میں، نقصان ختم، کازعم مخذول۔
سوم کی دوصورتیں ہیں: تواتر یامجردصحت، اور ہرایک دربارہ جہرفی التراویح یادر باب جزئیت بسم اﷲ شریف میں تواتر نص تو سرے سے دربارہ قرآنیت ہی نہیں تابجزئیت چہ رسد اور جہرمذکور وجزئیت سورمیں نفس صحت معدوم، تابتواتر چہ کشد، خودقائلان جزئیت، مصرحان ظنیت اورنافیان ظنیت اور عندالتحقیق انتفائے قطعیت خودانتفائے جزئیت ولہٰذا صحابہ وتابعین وجمہورائمہ دین کو اس سے انکار اور قول جزئیت کے محدث و نوپیدا ہونے کاصاف اظہار، ہاں صرف دربارہ فاتحہ، بعض اخبار آحاد مذکور، کہ عندالمحققین مخالفت قاطع کے سبب مہجور اور مجرد صحت روایت پراقتصار و قناعت باطل ومقہور، پھرعلی التسلیم ان سے ثابت ہوگا تو وہ امرجدید جو دعوی مخالف کے عموم وخصوص دونوں کا مخالف ورَد شدید یعنی صرف جزئیت فاتحہ تو ہرسورت پرجہرکے لئے، یہ تعمیم سور کارد ہوا اور فاتحہ کے ساتھ فرائض جہریہ میں اخفاء کس وجہ سے، اس نے تخصیص تراویح کو باطل کیا، یہ توامور ثابتہ تھے ولوبوجہ جن میں مخالف کے لئے اصلاً سندنہ کوئی صورت کسی پہلو پر اس کی مستند اور یہیں سے واضح کہ مسئلے کو منصوصہ قطعیہ اجماعیہ غیراجتہادیہ ماننا، مذہب کو اس میں دخل نہ جاننا، محض جہل مسترد، اب نہ رہا مگریہ جاہلانہ زعم زاعم کہ جزئیت سوریا جہرفی التراویح مذہب عاصم، اور ان کی قراء ت کے آخذ پرجہر واخفاء نمازمیں ان کااتباع لازم، اول ائمہ قراء ت پرافترا وتہمت اور ثانی محض جہل وسفاہت مخالفت تصریح ائمہ حنفیت، غرض حفاظ حنفیہ پر سرہرسورت پرجبرجہر، محض ظلم وقہر نہ شرع سے اس پردلیل قائم بلکہ دلائل شرعیہ اصلیہ وفرعیہ ہمارے قول پر حاکم، ہمارے ہی قول کی ناصر، وراعی مصالح شرعیہ ہمارے ہی قول کی طرف داعی