اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے اگرچہ بسبب کمال افادہ حضور فاعل کامل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و نہایت استعداد نفوس قوابل رضی اﷲ تعالٰی عنہم حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سن کر سیکھا مگروہ بھی بطور تعلیم وتلقین ظاہر و باطن ونظم ومعنی وحکم وحکمت تھا نہ یوں کہ صرف نماز میں قراء ت اقدس سے لفظ یادکرلئے، صحابہ کرام دس دس آیتیں مع ان کے علم وعمل کے سیکھتے جب ان پرقادر ہوجاتے دس اور تعلم فرماتے۔ اسی طرح امیرالمومنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بارہ برس میں سورہ بقرحضورپرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پڑھی جب ختم فرمائی ایک اونٹ ذبح کیا، عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے آٹھ سال میں پڑھی کہ جس قدرتدبر زائد دیر زائد، ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، قال:
کنا اذا تعلمنا من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عشراٰیات من القراٰن لم نتعلم من العشر التی نزلت بعدھا حتی نعلم مافیہ، فقیل لشریک من العمل قال نعم۲؎۔
ہم جب حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے قرآن کی دس آیات کاعلم حاصل کرتے تواس کے بعد والی دس آیات کی تعلیم حاصل نہ کرتے جب تک پہلی آیات میں بیان شدہ اعمال کومعلوم نہ کرلیتے۔ شریک سے پوچھاگیاکہ آیات کے بیان شدہ اعمال سیکھنا مرادہے، توانہوں نے کہاہاں۔(ت)
(۲؎ مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر عنوان عبداﷲ بن مسعود بن غافل نمبر۲۳ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱۴ /۵۹)
ابوبکربن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ابوعبدالرحمن سلمی سے راوی، قال:
حدثنا من کان یقرینا من اصحب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انھم کان یقترؤن من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عشراٰیات ولایأخذون فی العشر الاخری حتی یعلموا مافی ھذہ من العلم والعمل فانا علمنا العلم والعمل۱؎۔
صحابہ کرام میں سے جوحضرات ہمیں قراء ت پڑھاتے انہوں نے فرمایا ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دس آیات پڑھتے اور ان کے بعد دس آیات کو اس وقت تک اخذنہ کرتے جب تک پہلی دس آیات کے علم وعمل کونہ سیکھ لیتے، یوں ہم علم اور عمل دونوں کوحاصل کرتے۔(ت)
(۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب فضائل قرآن ۱۷۵۵ حدیث ۹۹۷۸ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ /۴۶۰)
ابن سعد طبقات میں بطریق عبداﷲ بن جعفر عن ابی الملح عن میمون اور امام مالک موطا میں بلاغاً راوی:
ان ابن عمر تعلم البقرۃ فی ثمان سنین۲؎۔
بیشک عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے سورہ بقرہ کوآٹھ سال میں سیکھا۔(ت)
(۲؎ موطاامام مالک باب ماجاء فی القرآن مطبوعہ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۰)
خطیب بغدادی کتاب رواۃ مالک میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، قال:
تعلم عمر البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمہا نحرجزورا۳؎۔
حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہنے سورہ بقرہ کوبارہ سال میں سیکھا، جب انہوں نے اسے ختم کیا تو ایک اونٹ ذبح کیا۔(ت)
(۳؎ رواۃ مالک للخطیب بغدادی)
توظاہر ہواکہ یہ روایات جہر واخفا قراء ا ت خارج ازنماز کی نقل ہیں اب بحمداﷲ تعالٰی اس ارشاد علماء کا راز واضح ہواکہ بیرون نمازاتباع امام قراء ت مناسب ہے اس کی نظیر منیرمسئلہ تعوذ ہے عامہ قرا کااس کے جہرپر اتفاق ہے۔ امام اجل ابوعمرو دانی نے اس پراجماع عــہ اہل ادا نقل فرمایا، امام عارف باﷲ شاطبی نے باوصف حکایت خلاف، تصریح فرمائی کہ ہمارے حفاظ رواۃ اس کا اخفانہیں مانتے۔ تیسیر باب ذکرالاستعاذہ میں ہے:
قرآنی نص اور سنت کی اتباع میں قرآن کی ابتداء میں اور پاروں وغیرہ کی ابتداء میں تلاوت شروع کرتے وقت جیسا کہ ایک جماعت کامذہب ہے۔ اعوذباﷲ کو جہرسے پڑھنے میں اہل ادایعنی قراء حضرات کا اختلاف نہیں ہے۔(ت)
(۴؎ تیسیر باب ذکرالاستعاذہ)
عــہ ای وان جاء ت الروایۃ علی انحاء وصلہا۱۲منہ
اگرچہ تعوّذ کے بارے میں مختلف صورتیں مروی ہیں ۱۲منہ (ت)
حرزالامانی و وجہ التہانی میں ارشاد فرمایا:؎
اذا ما اردت الدھر تقرءٖ فاستعذ
جھارا من الشیطان باﷲ مسجلا۱؎
(توزندگی بھرجب بھی قرآن کی قراء ت کرے تواعوذباﷲ کوبلندآواز سے پڑھ، مسجّلاً۔ت)
(۱؎ حرزالامانی و وجہ التہانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۰)
سراج القاری میں ہے:
''قولہ مسجلا ای مطلقا لجمیع القراء و فی جمیع القراٰن''۔۲؎
اس کاقول مسجلاً یعنی تمام قراء حضرات کے نزدیک اور تمام قرآن میں۔(ت)
(۲؎ سراج القاری المبتدی شرح منظومہ حرزالامانی، باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۳۱)
پھر فرمایا: ؎
واخفاؤہ فصل آباہ وعاتنا
وکم من فتی کالمھدوی فیہ اعملا۳؎
(۳؎ حرزالامانی و وجہ التہانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۰)
اس کی شرح میں ہے:
ای روی اخفاء التعوذ عن حمزۃ ونافع اشار الی حمزۃ بالفاء من فصل والی نافع بالالف من اباہ وجھربہ الباقون وھم ابن کثیر و ابوعمرو وابن عامر وعاصم والکسائی ھذا ھو المقصود بھذا النظم بالباطن ونبہ بظاھرہ علی ان من ترجع قراء تہ الیھم من الامۃ ابوالاخفاء ولم یاخذوا بہ بل اخذوا بالجھر للجمیع ولذلک امربہ مطلقا فی اول الباب۴؎۔ ملخصا
یعنی امام حمزہ اور نافع سے اعوذباﷲ کااخفاء مروی ہے ''فصل'' کی فاء سے حمزہ کی طرف ''آباہ'' کے الف سے نافع کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور باقی قراء حضرات نے اعوذباﷲ کو جہرمانا ہے اور باقی حضرات یہ ہیں: ابن کثیر، ابوعمرو، ابن عامر، عاصم اور امام کسائی۔ باطنی طورپر اس نظم کا یہ مقصد ہے، اور ظاہر میں انہوں نے یہ تنبیہ کی ہے کہ جن ائمہ کی طرف قراء ت منسوب ہے انہوں نے اخفاء کاانکارکیاہے اور اس پرعمل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اعوذباﷲ کاجہرکیا ہے اور یہاں اول میں مطلقاً کہہ کر تمام قرآن میں تعوذ کے جہر کی طرف اشارہ کیا ہے(ت)
(۴؎ سراج القاری المبتدی شرح منظومہ حرزالامانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۳۲)
اب کون عاقل کہے گا کہ یہ اطباق جمہور رواۃ واتفاق جمیع اہل ادا، نماز وغیرنماز سب کوشامل، وہ سب تمام قراء کے طورپر نمازمیں بھی اعوذ بجہر پڑھتے تھے، حاشا، بلکہ قطعاً یہ روایات ونقول سب محل روایت وتلاوت بیرون نماز سے متعلق ہیں لاجرم شرح میں فرمایا:
اس کاقول ''جھارا'' یہ تمام قراء حضرات کاقول ہے، یہ اس صورت میں ہے جب قاری استاذ کے سامنے یامجمع میں پڑھے، لیکن اگر کوئی شخص خلوت میں یانمازمیں قراء ت کرے توپھراخفاء کرنااولٰی ہے(ت)
(۱؎ سراج القار ی المبتدی شرح حرزالامانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۳۱)
امام جلیل جلال سیوطی اتقان میں کتاب النشر امام القراء محمدمحمدمحمدابن الجزری سے ناقل:
المختار عند ائمۃ القراء ۃ الجھر بھا وقیل یسر مطلقا وقیل فیما عدا الفاتحۃ وقد اطلقوا اختیار الجھر وقیدہ ابوشامہ بقید لابد منہ وھو ان یکون بحضرۃ من یسمعہ لان الجھر بالتعوذ اظھار شعار القراء ۃ کالجھر بالتلبیۃ وتکبیرات العید ومن فوائدہ ان السامع ینصت للقراء ۃ من اولہا لایفوتہ منہا شیئ واذا اخفی التعوذ لم یعلم السامع بھا الابعد ان فاتہ من المقر وشیئ وھذا المعنی ھو الفارق بین القراء ۃ فی الصلٰوۃ وخارجھا۲؎۱ھ۔
قراء ت کے ائمہ کے ہاں اعوذباﷲ کاجہر ہے اور ایک قول میں یہ ہے کہ اس کومطلقا آہستہ پڑھے، اورایک قول میں ہے کہ سورہ فاتحہ کے علاوہ باقی قرآن میں آہستہ پڑھے جبکہ جہرکاعموم راجح ہے،اور ابوشامہ نے اس جہر کو ایک ضروری قید سے مقیدکیا ہے کہ جب مجلس میں سننے والے ہوں تو جہرکرے کیونکہ اعوذباﷲ کاجہرقراء ۃ کاشعار ہے اور اس کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب قاری اعوذباﷲ کا جہرکرے گا توسامع ابتداء سے ہی خاموشی سے سنناشروع کرے گا اور اس کاسماع فوت نہ ہوگا، اور جب اعوذباﷲ کو آہستہ پڑھے گا تو سامع کوتلاوت کے شروع ہونے کاعلم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ سماع ابتداء فوت ہوجائے گا، نمازاورخارج نمازاعوذباﷲ کے بارے میں یہی وجہ فرق ہے۔(ت)
(۲؎ اتقان النوع الخامس والثلاثون فی آداب تلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۱۰۵)
افادہ خامسہ عشر: قرآنیت بسم اﷲ ضرور حق ہے مگر وہ ہرگز من حیث الروایہ ثابت نہیں بلکہ کتابت مصاحف واجماع علی التجرید سے، ولہذا جب امام ولی صالح قدس سرہ المجید نے قصیدہ میں فرمایا:
وبسمل بین السورتین بسنۃ
رجال نموھا دریۃ وتحملا
(دوسورتوں کے درمیان بسم اﷲ سنت صحابہ سے ثا بت ہے جس کوانہوں نے جاری رکھا، عقل ونقل کے طورپر)
(سنۃ التی نموھا سے مراد صحابہ کرام کا بسم اﷲکومصحف شریف میں لکھنا ہے۔ت) پھر اس کاحاصل بھی صرف اس قدرکہ بسم اﷲ کلام الٰہی ہے نہ یہ کہ ہرسورت کی جزہے یاختم میں ہرجگہ اس کاجہرلازم
کمامر فی الافادۃ السادسۃ
(جیسا کہ چھٹے افادہ میں گزرا۔ت) اور جب اسے چھوڑ کر نفس روایت بمعنی متعارف کی راہ لیجئے اور صرف اس کی صحت کومناط مان کر اثبات مدعا کاحوصلہ کیجئے تویہ محض باطل وہوس عاطل، فقط صحت روایت پرمدار قراء ت ہونے سے کیامقصود ہے، آیا یہ کہ صرف اس قدر سے قرآنیت ثابت ہوجاتی ہے تو قطعاً مردود کہ قرآنیت بے دلیل قطعی یقینا مفقود، افادہ ششم میں اس کابیان موجود۔
اقول:ولانسلم انہ فی القراٰن حتی عن السبعۃ مالم یتواتر و ان اشتھر بل القراٰن متواتر قطعا بجمیع اجزاء ہ وان لم تقف انت علی تواتر بعضہ فلیس من شرط المتواترہ عندک۔
اقول(میں کہتاہوں) قرآن ہونامحض شہرت سے اگرچہ سبعہ سے منقول ہو ثابت نہیں ہوگا جب تک قطعی تواتر سے تمام اجزاء منقول نہ ہوں، اگرتجھے تواتر کابعض اجزاء کے بارے میں علم نہیں تو متواتر ہونے کے لئے تیرے ہاں تواتر ضروری بھی نہیں ہے۔(ت)
اتقان میں ہے:
لاخلاف ان کل ماھو من القراٰن یجب ان یکون متواترا فی اصلہ واجزاء ہ واما فی محلہ و وضعہ وترتیبہ فکذلک عند محققی اھل السنۃ للقطع بان العادۃ تقضی بالتواتر فی تفاصیل مثلہ لان ھذا المعجز العظیم الذی ھو اصل الدین القویم والصراط المستقیم مما تتوفر الدواعی علی نقل جملہ وتفاصیلہ فمانقل اٰحاد اولم یتواتر یقطع بانہ لیس من القراٰن قطعا الخ۱؎۔
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جوکچھ قرآن کاحصہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود اور اس کے تمام اجزاء متواتر ہوں، قرآنی حصہ کامحل، مقام اور ترتیب بھی اسی طرح متواتر ہونا اہلسنت کے محققین کے ہاں ضروری ہے کیونکہ اس معاملہ میں تفصیل عادتاً تواتر سے ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ یہ عظیم معجزہ جوکہ دین قویم اورصراط مستقیم کی بنیاد ہے اس کے اجمال وتفصیل کے دواعی وافرطورپرپائے جاتے ہیں، جواجزاء خبر واحد یاغیرمتواتر طورپرثابت ہوں ان کے قطعی طور پر قرآن ہونے کایقین نہیں کیاجاسکتا الخ(ت)
(۱؎ الاتقان النوع الخامس والثلاثون فی آداب تلاوتہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۷۷)
اور اگریہ مراد کہ جب روایت صحیح ہو، رد نہ کریں گے صرف اسی قدر پرپڑھنا جائزسمجھیں گے تواوّلاً یہ بھی چاروں مذہب میں باطل جمہور محققین قراء ومحدثین وفقہاء واصولیین اس کے بطلان کے قائل،
اقول:کیف لا وانما الکلام فی قراء تہ قراٰنا وھی موقوفۃ علی ثبوت قراٰنیتہ الموقوف علی تواترھا والا فلاشک فی جواز قراء ۃ الاحاد بل الشواذ للاحتجاج بھا فی حکم کخبر الواحد اولاستشھاد بھا علی مسئلۃ ادیبۃ مثلا اذا لم یعتقد قراٰنیتھا ولم یوھمھا والاحرم باجماع مسلمین کما نص علیہ فی غیث النفع عن ابی القاسم النویری فی شرح طیبۃ النشر عن الامام ابی عمر فی التمھید۔
اقول یہ کیسے نہ ہوجبکہ بحث قرآن ہونے کے لحاظ سے قراء ت میں ہے، قراء ت بطور قرآن کا ثبوت اس کے قرآن ہونے پر اور قرآن ہونا موقوف ہے اس کے تواتر پر، ورنہ محض قراء ت کاجواز تواحاد بلکہ شاذ سے بھی ثابت ہوجاتا ہے جبکہ اس سے کسی ادب کے بارے مسئلہ پرشاہد بنانا مقصود ہوبشرطیکہ اسے قرآن نہ سمجھاجائے اور نہ ہی اس سے قرآن ہونے کا وہم پیدا ہو، ورنہ قرآن ہونے کااعتقاد کرنا تمام مسلمانوں کے اجماع پرحرام ہے جیسا کہ اس کی تصریح غیث النفع میں ابو القاسم نویری کے حوالہ سے کی ہے کہ انہوں نے طیبۃ النشر کی شرح میں امام ابوعمر کے حوالہ سے کہ انہوں نے تمہید میں ذکرکیا ہے۔(ت)