Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
154 - 158
سبحان اﷲ! حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تواتر درکنار ان حضرات عالیہ کے نزدیک کچھ بھی ثبوت ہوتا توکیا یہ اجلہ صحابہ وتابعین معاذ اﷲ اسے بدعت بتاتے یاگنواروں کا فعل کرسکتے تھے
ولٰکن الجہلۃ یقولون مالایعلمون
(لیکن جاہل لوگ غیرمعلوم باتیں کرتے ہیں۔ت) نہایت کہ امام الفقہاء امام المحدثین اوحدالاولیا اوحد المجتہدین سیدنا امام سفیان ثوری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اختیار جہربسم اﷲ کاقول سخت مہجور ومحجور مانا اور اس کے اخفا کوافضل واولٰی سمجھنا تتمہ عقائد اہل سنت جانا محدث لالکائی کتاب السنہ میں بسند صحیح راوی:
حدثنا المخلص نا ابو الفضل شعیب بن محمد نا علی بن حرب بن بسام سمعت شعیب بن جریر یقول قلت لسفین الثوری حدث بحدیث السنۃ ینفعنی اﷲ بہ فاذا وقفت بین یدیہ وسألنی عنہ قلت یارب حدثنی بھذا سفین فانجوانا وتوخذ فقال اکتب بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم القراٰن کلام اﷲ غیرمخلوق منہ (وجعل یسرد الی ان قال) یاشعیب لاینفعک ماکتبت حتی تری المسح علی الخفین وحتی تری ان اخفاء بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم افضل من الجھر بہ وحتی تؤمن بالقدر (الی ان قال) اذا وقفت بین یدی اﷲ فسألک عن ھذا فقل یارب حدثنی بھذا سفٰین الثوری ثم خل بینی وبین اﷲ عزوجل۱؎۔
یعنی شعیب بن جریر نے امام سفیان ثوری سے کہا مجھے عقائد اہلسنت بتادیجئے کہ اﷲ عزوجل مجھے نفع بخشے اور جب میں اس کے حضورکھڑاہوں اور مجھ سے ان کے متعلق سوال ہوتو عرض کردوں کہ الٰہی! یہ مجھے سفیان نے بتائے تھے تو میں نجات پاؤں اور جو پوچھ گچھ ہو آپ سے ہوتو فرمایا لکھو بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم قرآن اﷲ کاکلام ہے مخلوق نہیں، اور اسی طرح اور عقائد ومسائل لکھواکر فرمایا اے شعیب! یہ جو تم نے لکھا تمہیں کام نہ دے گا جب تک مسح موزہ کاجواز نہ مانو اور جب تک یہ اعتقاد نہ رکھو کہ بسم اﷲ کاآہستہ پڑھنا، بآوازپڑھنے سے افضل ہے اور جب تک تقدیرالٰہی پرایمان نہ لاؤ، جب تم اﷲ عزوجل کے حضور کھڑے ہواور تم سے سوال ہو تو میرانام لے دینا کہ یہ عقائد ومسائل مجھے سفیان ثوری نے بتائے پھر مجھے اﷲ تعالٰی کے حضور چھوڑکر الگ ہوجانا۔امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں:
ھذا ثابت عن سفٰین وشیخ المخلص ثقۃ۲؎
۔ یہ روایت سفیان سے ثابت ہے اور راوی ثقہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ تذکرۃ الحفاظ للذہبی    عنوان سفیان بن سعید ثوری ۴۳ بحولہ اللالکائی    مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباددکن    ۱ /۱۹۳)

(۲؎ تذکرۃ الحفاظ للذہبی عنوان سفیان بن سعید ثوری ۴۳    بحولہ اللالکائی    مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباددکن    ۱ /۱۹۳)
افادہ ثالثہ عشر: اقول ہم آفتاب روشن کی طرح ثابت کرآئے کہ اگربفرض باطل مذہب ثابت نہیں کہ ان کاطریقہ نماز میں ہرجگہ جہربسم اﷲ تھا تاہم ان کی قراء ت اختیارکرنی، ہرگز اسے مستلزم نہیں کہ نماز میں درباہ جہر واخفاء اُن کی پیروی ضرورہوکہ یہ مسئلہ فقہیہ ہے اور ہم فقہ میں اُن کے مقلدنہیں، آخرنہ دیکھا کہ ہمارے ائمہ کرام نے ان کی قراءت اختیار فرمائی اور نمازمیں بسم اﷲ شریف کے اخفاء کاحکم دیا، لاجرم ہمارے علماء نے صاف صریح تصریح فرمائی کہ جہر و اخفائے بسم اﷲ شریف میں امام قراء ت کا اتباع بیرون نماز ہے نماز میں اخفا ہی کرے، اور بیرون نماز بھی اتباع قاری خاص صرف بروجہ اولویت ہے نہ بطور وجوب ولزوم و ضرورت۔
لما قدمنا ان القراء ات کلھا حقۃ بالیقین لااحتمال فیہا للخطأ ولاینافی بعضھا بعضا فلاھجر فی شیئ منھا لاجمعا ولاافراد مالم یؤد التلفیق الی التغییر بخلاف المجتھدات الخلافیۃ فان المجتھد یخطئ ویصیب فلا نعد وعما اعتقدنا انہ صواب یحتمل الخطأ الی ماظننا انہ خطأ یحتمل الصواب ولئن لفقت لربما اتفق الاقوال علی فساد العمل۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ تمام قراء ات برحق ہیں، ان میں خطاء کااحتمال نہیں ہے اورایک دوسرے کے منافی بھی نہیں ہیں، لہٰذا ان کوملاکرپڑھنا یاعلیحدہ علیحدہ پڑھنا اس وقت تک جائزہے جب تک ان کامختلف انداز معنی کی تبدیلی پیدانہ کرے۔ اس کے برخلاف اجتہادی اختلافی مسائل میں چونکہ مجتہد کے اجتہاد میں درستی اور خطا دونوں کااحتمال موجود ہے اس لئے وہاں ہم اپنے ظن میں درست کو اپنائیں گے اورجس کو ہم خطاسمجھیں گے اس کونہیں اپنائیں گے کیونکہ ہم اعتقاد کے پابند ہیں اگرچہ فی الواقع اس کی خطاء کااحتمال ہے، اور یہاں اجتہادی مسائل میں مختلف مجتہدین کے اجتہاد کواپنانا عمل میں فساد پیداکردے گا۔(ت)
مجتبی شرح قدوری پھر کفایہ شرح ہدایہ پھر ردالمحتار حاشیہ درمختارمیں ہے:
لایجھر بھا فی الصلٰوۃ عندنا خلافا للشافعی وفی خارج الصلٰوۃ اختلاف الروایات و المشایخ فی التعوذ والتسمیۃ قیل یخفی التعوذ دون التسمیۃ والصحیح انہ یتخیر فیھما ولکن یتبع امامہ من القراء وھم یجھرون بھما الا حمزۃ فانہ یخفیھما۱؎۱ھ۔
ہمارے نزدیک نمازمیں جہرنہیں ہے، امام شافعی اس کے خلاف ہیں، اور خارج ازنماز بسم اﷲ اور اعوذباﷲ میں مشائخ اور روایات کااختلاف ہے ایک قول میں اعوذباﷲ کومخفی اور بسم اﷲ کوجہرکے ساتھ لیکن صحیح یہ ہے قاری کو اختیارہے کہ دونوں کوآہستہ پڑھے یابلندپڑھے، لیکن ائمہ قراء میں سے اپنے امام کی اتباع بہترہے امام حمزہ جہر کے قائل نہیں ہیں باقی ائمہ جہرکے قائل ہیں ۱ھ(ت)بحمداﷲ تعالٰی یہ خیالات وہابیہ کے رَد میں ہمارے علماء کانص صریح ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار بحوالہ الکفایہ عن المجتبٰی     فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰۃ الخ    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۴۹۰)
افادہ رابعہ عشر: اقول وباﷲ التوفیق حقیقت امریہ ہے کہ روایات قراء طبقۃً فطبقۃً قرناً فقرناً بذریعہ تدریس وتعلیم وتلقی تلامذہ عن الشیوخ ہیں تو یہ جہر و اخفا اوقات تعلیم واقرا کی خبر دیتے ہیں نہ خاص حال نماز کی، حضورپرنور سیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد توطریقہ تعلیم قرآن عظیم معین رہاکہ تلامذہ پڑھتے استاذ سنتے بتاتے، نہ یہ کہ نمازوں میں سن سن کرسیکھتے جس میں سوال وجواب وتفہیم وتفہم کاکوئی موقع نہیں، بیرون نماز بھی قراء ت شیوخ کادستورنہ تھابلکہ اسے ناکافی سمجھتے اگرچہ یہاں ممکن تھا کہ جو طرز ادا تلمیذ کی سمجھ میں نہ آتا دریافت کرلیتا استاد اعادہ کردیتا۔ اتقان شریف میں ہے:
اوجہ التحمل عند اھل الحدیث السماع من لفظ الشیخ والقراء ۃ علیہ، والسماع علیہ بقراء ۃ غیرہ، والمناولۃ والاجازۃ والمکاتبۃ والعرضیۃ والاعلام والوجادۃ، فاما غیرالاولین فلایاتی ھنا لما یعلم مما سنذکرہ، واما القراء ۃ علی الشیخ فھی المستعملۃ سلفا وخلفا، واما السماع من لفظ الشیخ فیحتمل ان یقال بہ ھنا لان الصحابۃ رضی اﷲ عنہم انما اخذوا القراٰن من فی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکن لم یأخذ بہ احد من القراء  والمنع فیہ ظاھر لان المقصود ھھنا کیفیۃ الاداء و لیس کل من سمع من لفظ الشیخ یقدر علی الاداء کھیأتہ، بخلاف الحدیث فان المقصود فیہ المعنی اواللفظ لابالھیاٰت المعتبرۃ فی اداء القراٰن ، واما الصحابۃ فکانت فصاحتھم وطباعھم السلیمۃ تقتضی قدرتھم علی الاداء کما سمعوہ من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانہ نزل بلغتھم، ومما یدل للقراء ۃ علی الشیخ عرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم القراٰن علٰی جبریل فی رمضان کل عام۱؎۱ھ
محدثین کے ہاں اپنے شیخ سے حدیث اخذ کرنے کے کئی طریقے ہیں، شیخ کے الفاظ کوسننا، شیخ پرپڑھنا، دوسرے شاگرد کوپڑھتے ہوئے سننا، لکھے ہوئے کو لینا، مرویات کی اجازت لینا، لکھنا، وصیت کے طورپراپنانا، اطلاع حاصل کرنا، شیخ کے لکھے ہوئے کو پہچان کریادکرنا، لیکن قرآن کی قراء ت کے بارے میں پہلے دوطریقوں کے علاوہ دوسرے طریقے جائز نہیں جیسا کہ اس کی وجہ ہم بیان کریں گے، یہاں قراء ت میں شیخ پرشاگرد کاپڑھنا ابتداء سے آج تک مروّج ہے اور شیخ سے سننا بھی یہاں جائز ہوسکتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم نے قرآن کو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارک سے سن کر اخذکیا ہے، لیکن قراء حضرات نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا اس کی وجہ یہ ہے کہ قراء ۃ میں ادائیگی کی کیفیت حاصل کرنامقصود ہوتا ہے، اور یہ ضروری نہیں کہ استاذ کی ادائیگی کی کیفیت کومحض سننے پراخذکرلے، لہٰذا قراء ت میں یہ طریقہ منع ہے مگرحدیث میں معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ یہاں معنی یا لفظ مقصود ہوتے ہیں لیکن ادائیگی والی کیفیت قرآن کی طرح یہاں معتبرنہیں ہے، ہاں صحابہ کرام کامعاملہ الگ ہے کیونکہ وہ اپنی فصاحت اور سلامتی طبع کی بناء پر حضورعلیہ السلام سے سن کر قراء ت کواسی کیفیت سے اداکرنے پرقدرت رکھتے تھے اور اس لئے بھی کہ قرآن ان کی لغت میں نازل ہوا ہے، اور قرآن کواخذ کرنے میں شیخ کوسنانے والاطریقہ اس لئے بھی جائزہے کہ ہرسال حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام رمضان میں جبرائیل علیہ السلام کو قرآن سناتے تھے۱ھ(ت)
 (۱؎ الاتقان فی علوم القرآن        النوع الرابع والثلاثون الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۹۹)
Flag Counter