Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
153 - 158
امام زیلعی نصب الرایہ میں فرماتے ہیں:
فھذہ الاحادیث کلھا لیس فیھا صریح صحیح، ولیست مخرجۃ فی شیئ من الصحیح ولاالمسانید ولاالسنن المشھورۃ وفی رواتھا الکذّابون والضعفاء والمجاھیل۲؎الخ
ان حدیثوں میں کوئی حدیث صریح وصحیح نہیں، نہ یہ صحاح ومسانید وسنن مشہورہ میں مروی ہوئیں ان کی روایتوں میں کذاب، ضعیف، مجہول لوگ ہیں الخ
(۲؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ    کتاب الصلوٰۃ             مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ    ۱ /۳۵۵)
امام عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں:
احادیث الجھر لیس فیھا صریح بخلاف حدیث الاخفاء فانہ صحیح صریح ثابت مخرجہ فی الصحیح والمسانید المعروفۃ والسنن المشھورۃ۳؎۔
جہر کی حدیثوں میں کوئی حدیث صحیح وصریح نہیں بخلاف حدیث اخفا کہ وہ صحیح وصریح اور صحاح و مسانید وسنن مشہورہ میں ثابت ہے۔
(۳؎ عمدۃ القاری        النوع الرابع اختلاف الفقہاء فی البسملۃ    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۵ /۲۹۱)
امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالک وامام شافعی وامام احمدچاروں ائمہ مذہب اور بخاری ومسلم و ابوداؤدو ترمذی و نسائی وابن ماجہ چھئوں ائمہ حدیث اور دارمی وطحطاوی وابن خزیمہ وابن حبان ودارقطنی و طبرانی و ابویعلٰی و ابن عدی وبیہقی وابونعیم و ابن عبدالبراکابرحفاظ و اجلہ محدثین اپنی صحاح وسنن ومسانید ومعاجیم میں باسانید کثیرہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں:
صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخلف ابی بکر و عمر و عثمٰن فلم اسمع احدا منھم یقرأ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۱؎ ھذا لفظ مسلم وفی لفظ للامام احمد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ وغیرھم باسناد علی شرط الصحیح کما افادہ فی الفتح کانوالایجھرون ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۲؎ وفی لفظ لابن خزیمۃ والطبرانی وابی نعیم کانوا یسرون ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۳؎ ولابن ماجۃ فکلھم یخفون بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۴؎۔
میں نے حضوراقدس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابوبکر صدیق و عمر فاروق و عثمان غنی کے پیچھے نمازپڑھی ان میں کسی کو بسم اﷲ شریف پڑھتے نہ سناوہ بسم اﷲ شریف کاجہر نہ فرماتے تھے وہ بسم اﷲ شریف آہستہ پڑھتے تھے، یہ امام مسلم کے الفاظ تھے، امام احمد، نسائی اور ابن حبان اپنی صحیح میں اور دوسروں نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ جیسا کہ فتح القدیر نے بیان کیاہے، جن کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ حضرات بسم اﷲ کاجہرنہ فرماتے تھے،اور ابن خزیمہ، طبرانی، ابونعیم کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ بسم اﷲ کوپوشیدہ پڑھتے تھے، اور ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں کہ، کہ وہ سب بسم اﷲ کااخفاء فرماتے تھے۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم            باب حجۃ من قال لایجہر بالبسملۃ        مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی        ۱ /۱۷۲)

(۲؎ مسنداحمدبن حنبل        مروی ازانس بن مالک رضی اﷲ عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳ /۱۷۹، ۲۷۵

فتح القدیر            باب صفۃ الصلوٰۃ            مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۵۴)

(۳؎ صحیح ابن خزیمہ        معنی قول انس رضی اﷲ عنہ انہم کانوا یسرون الخ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت        ۱ /۲۴۹)

(۴؎ سنن ابن ماجہ         باب افتتاح القراء ت            مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ص۵۹)
یہ وہ حدیث جلیل ہے جس کی تخریج پرچاروں ائمہ مذہب اور چھئوں اصحاب صحاح متفق ہیں بلکہ طبرانی (ف) نے انہیں سے روایت کی:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یسرببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم وابابکر وعمر وعثمٰن وعلیا۵؎۔
بیشک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسم اﷲ شریف آہستہ پڑھتے تھے۔
(۵؎ المعجم الکبیر    مروی از انس رضی اﷲ عنہ    حدیث ۷۳۹    مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت        ۱ /۲۵۵

صحیح ابن خزیمہ        معنی قول انس رضی اﷲ تعالٰی عنہم کانوایسرون الخ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۲۵۰)
(ف) طبرانی کبیراور صحیح ابن خزیمہ میں عثمان و علی رضی اﷲ عنہما کاذکرنہیں۔ نذیراحمد
امام الائمہ امام ابوحنیفہ و امام محمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم ابن عبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، قال:
سمعنی ابی وانا اقول بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم فقال ای بنی ایاک والحدث قال ولم اراحدا من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان ابغض الیہ الحدث فی الاسلام یعنی منہ قال وصلیت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومع ابی بکر ومع عمر ومع عثمٰن فلم اسمع احدا منھم یقولھا فلاتقلھا، انت اذا صلیت فقل الحمد ﷲ رب العٰلمین۱؎۔
یعنی مجھے میرے باپ نے نماز میں بسم اﷲ شریف پڑھتے سنا، فرمایا اے میرے بیٹے! بدعت سے بچ۔ابن عبداﷲ کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابہ میں اُن سے زیادہ کسی کو اسلام میں نئی بات نکالنے کادشمن نہ دیکھا، انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ابوبکرصدیق و عمرفاروق و عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے ساتھ نماز پڑھی کسی کو بسم اﷲ شریف پڑھتے نہیں سنا تم بھی نہ کہو جب نمازپڑھو الحمدﷲ رب العالمین، سے شروع کرو۔
(۱؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی ترک الجہربسم اﷲ الرحمن الرحیم مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ /۳۳

سنن ابن ماجہ        باب افتتاح القراء ت            مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ص۵۹)
انہی عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کسی امام کو بسم اﷲ جہرسے پڑھتے سنا، پکارکرفرمایا:
یاعبداﷲ انی صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر وعمر وعثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنھم فلم اسمع احدا منھم یجھربھا۲؎۔ رواہ الامام الاعظم ذکرہ فی الفتح۔
اے خدا کے بندے! میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابوبکر و عمر و عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ان میں کسی کوبسم اﷲ جہر سے پڑھتے نہ سنا،اس کو امام اعظم رحمہ اﷲ نے روایت کیا اسے فتح میں ذکرکیاگیاہے۔
(۲؎ مسندالامام الاعظم        بیان عدم الجہر بالبسملۃ        مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی        ص۵۸

فتح القدیر            باب صفۃ الصلوٰۃ            مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۵۴)
امام اعظم و امام محمد و امام احمد و امام طحاوی و امام ابوعمر ابن عبدالبر حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
الجھر ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم قرأۃ الاعراب۳؎۔
بسم اﷲ شریف آواز سے پڑھنی گنواروں کی قراء ت ہے۔
(۳؎ شرح معانی لآثار        باب قراء ت بسم اﷲ الخ        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۱ /۱۴۰

المصنف لابن ابی شیبۃ    من کان لایجہر بسم اﷲ الخ        مطبوعہ ادارۃ القرآن الخ کراچی        ۱ /۴۱۱)
نیز اسی جناب سے مروی ہوا:
لم یجھر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالبسملۃ حتی مات۱؎۔ ذکرہ المحقق فی الفتح۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی بسم اﷲ شریف کاجہر نہ فرمایا یہاں تک کہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اسے محقق نے فتح میں ذکرکیا۔
(۱؎ فتح القدیر        باب صفۃ الصلوٰۃ     مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۵۴)
اثرم بسند صحیح عکرمہ تابعی شاگرد خاص حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
انا اعرابی ان جھرت ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۲؎۔
میں گنوار ہوں اگر بسم اﷲ شریف جہرسے پڑھوں۔
سعید بن منصور اپنی سنن میں راوی:
حدثنا حماد بن زید عن کثیربن شنظیر ان الحسن سئل عن الجھر بالبسملۃ فقال انما یفعل ذلک الاعراب۳؎۔
حماد بن زید نے کثیر بن شنظیر سے بیان کیاکہ امام حسن بصری سے جہربسم اﷲ کاحکم پوچھاگیا، فرمایا یہ گنواروں کاکام ہے۔
 (۳؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ سنن سعیدبن منصور    کتاب الصلوٰۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ    ۱ /۳۵۸)
ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں امام ابراہیم نخعی تابعی سے راوی:
الجھرببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم بدعۃ۴؎۔
بسم اﷲشریف شریف جہر سے کہنابدعت ہے۔
 (۴؎ مصنف ابن ابی شیبہ    من کان لایجہر ببسم اﷲ الخ    مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۴۱۱)
اثرم انہیں سے راوی:
ماادرکت احدا یجھر بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم والجھربھا بدعۃ۵؎۔
میں نے صحابہ وتابعین میں کسی کو بسم اﷲ شریف کاجہرکرتے نہ پایا اس کاجہربدعت ہے۔
 (۵؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ    بحوالہ الاثرم، کتاب الصلوٰۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ        ۱ /۳۵۸)
Flag Counter