Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
152 - 158
افادہ حادیہ عشر: اقول جس مصلحت کے لئے یہاں علما نے  پیش عوام ، روایت غریبہ کی تلاوت سے منع کیا،مسئلہ بسملہ میں انصافاً دیکھئے تو ہمارے بلاد میں خاص صورت اخفاء میں ہے کہ یہاں کہ تمام حفاظ وقراء وسامعین عامہ مسلمین کے کان ہرسورت پرجہربسم اﷲ سے آشنا نہیں وہ اسے سن کر مخالفت کریں گے طعن واعتراض سے پیش آئیں گے تمہارے زعم میں یہ اعتراض اس امرپرہوگاجو قرناً فقرناًحضور پرنورسیدیوم النشورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواترہے،اور دوسراامر جس کے وہ عادی ہیں یعنی اخفاء تم خود بھی مقر ہوکہ وہ بھی حق وصحیح اورحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ایساہی متواتر ہے تواسی کوکیوں نہ لیجئے اور عکس کرکے مسلمانوں میں فتنہ عوام میں شورش کیوں پیداکیجئے اب اپنے زعم باطل پر تم خود اس کے باعث ہوتے ہوکہ امرمتواتر عن المصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرمسلمانوں سے انکار و اعتراض کراؤ کیااسی کاشریعت مطہرہ نے حکم دیاہے،کیااسی پر قاری یاملا ہونارہ گیاہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ جب تک بات نئی بیگانہ، تازی، جدا، اکثرمسلمین کے گوش ناآشنانہ ہو، شہرت نام کاذریعہ نہیں ہوتی مگر پناہم بخدا،کہ قاریان قرآن، قرأت قرآن سے شہرت نام کی نیت رکھیں، علمائے کرام ایسے محل پرترک افضل کی رائے دیتے ہیں نہ کہ ترک مساوی،
امام علامہ جلال الدین زیلعی نصب الرایہ میں نقل فرماتے ہیں:
یسوغ للانسان ان یترک الافضل لاجل تالیف القلوب واجتماع الکلمۃخوفامن التنفیر،کما ترک النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بناء البیت علی قواعد ابراھیم لکون قریش کانواحدیثی عھد بالجاھلیۃ، وخشی تنفیرھم بذلک، ورای تقدیم مصلحۃ الاجتماع علی ذلک، ولما انکراالربیع علی ابن مسعود اکمالہ الصلٰوۃ خلف عثمان، قال الخلاف شر، وقد نص احمدوغیرہ علی ذلک فی البسملۃ وفی وصل الوتروغیر ذلک ممافیہ العدول عن الافضل الی الجائز المفضول مراعاۃ لائتلاف المامومین اولتعریفھم السنۃ وامثال ذلک و ھذا اصل کبیر فی سدالذرائع۱؎۔
لوگوں کی تالیف قلبی اور ان کو مجتمع رکھنے کے لئے افضل کوترک کرناانسان کے لئے جائز ہے تاکہ لوگوں کو نفرت نہ ہوجائے جیسا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے بیت اﷲ شریف کی عمارت کو اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پرقائم رکھا تاکہ قریشی نومسلم ہونے کی وجہ سے اس کی نئی بنیادوں پرتعمیر کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں تو آپ نے اجتماع کو قائم رکھنے کی مصلحت کومقدم سمجھا،اور جیساکہ حضرت ربیع نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نمازمیں اختلاف کی بناپر روکاتو انہوں نے فرمایا کہ خلاف کرنے میں شرہے، اسی لئے امام احمد وغیرہ نے بسم اﷲ اور وتر کے وصل وغیرہ کے بارے میں اس کی تصریح کی ہے،یہ وہ معاملات ہیں جن میں افضل سے عدول کرکے جائز مفضول کواختیارکیاگیاہے تاکہ مقتدی حضرات کی تالیف قلبی اور ان کی سنت شناسی وغیرہ کاپاس کیاجاسکے،یہ بات فتنہ کے سدّباب کے لئے بڑاضابطہ ہے۔(ت)
 (۱؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ    کتاب الصلوٰۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ    ۱ /۳۲۸)
یہ سب اس تقدیرپرتھاکہ بفرض باطل قطعیت جزئیت مان لی جائے ورنہ حق وتحقیق کاایضاح پہلے ہوچکااس تقدیرپرقاری وملا اپنی اس تنفیرواثارت فتنہ کی حدیں بتائیں یہاں توبداہۃ عوام اس غیرقصدی الزام سے بھی محفوظ اور یہ تنفیروایقاع اختلاف ویسے مستند معتمد سے نامحفوظ
کما لایخفی واﷲ الھادی
(جیسا کہ مخفی نہیں، اور اﷲ ہی ہدایت دینے والاہے۔ت)
افادہ ثانیہ عشر: یہاں تک دعوی قطعیت جزئیت ولزوم نقصان ختم کارد تھاکہ بحمداﷲباحسن وجوہ ظاہرہوا اب بعونہٖ تعالٰی جہرواخفا کی طرف چلئے، تراویح میں جہربسملہ کاحضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر کہناحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرصریح افتراہے تواتردرکنار، زنہارکسی حدیث احادسے بھی اس کاثبوت نہیں، جہرفی التراویح توجدا، مطلقاکسی نماز میں حضوروالا صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کابسم اﷲ شریف جہر سے پڑھنا ہرگز ہرگز متواترنہیں، تواترکیسا نفس ثبوت میں سخت کلام ونزاع ہے، امام حافظ عقیلی کتاب الضعفاء میں لکھتے ہیں:
لایصح فی الجھر بالبسملۃ حدیث مسند۲؎۔ ذکرہ فی عمدۃ القاری۔
بسم اﷲ میں کوئی حدیث مسندصحیح نہیں،اسے عمدۃ القاری میں ذکرکیاگیاہے۔
 (۲؎ عمدۃ القاری        باب مایقول بعد التکبیر   مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۵ /۲۸۸)
امام دارقطنی فرماتے ہیں:
لم یصح فی الجھر حدیث۳؎۔ ذکرہ فی عنایۃ القاضی۔
جہرتسمیہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہوئی۔ اسے عنایۃ القاضی میں ذکرکیاگیا۔
 (۳؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی    مبحث البسملۃ   مطبوعہ دار صادربیروت        ۱ /۳۱)
یہی امام دارقطنی جب مصر تشریف لے گئے کسی مصری کی درخواست سے دربارہ جہرایک جز تصنیف فرمایا بعض مالکیہ نے قسم دے کرپوچھا کہ اس میں کون سی حدیث صحیح ہے آخر براہ انصاف اعتراف فرمایا کہ:
کل ماروی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الجھر فلیس بصحیح۱؎۔ ذکرہ الامام الزیلعی عن التنقیح عن مشایخہ عن الدار قطنی والمحقق فی الفتح۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے جہرمیں جوکچھ روایت کیاگیاہے اس میں کچھ صحیح نہیں۔ اس کو امام زیلعی نے اپنے مشائخ کی تنقیح قراردے کر دارقطنی سے نقل کیاہے اور محقق نے فتح القدیر میں ذکرکیا۔
 (۱؎ نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ    کتاب الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ    ۱ /۳۵۹)
امام ابن الجوزی نے کہا:
لم یصح عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الجھر شیئ۲؎۔ ذکرہ القاری فی المرقاۃ۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے جہربسم اﷲ میں کوئی روایت صحیح نہیں۔ اسے ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں ذکرکیا۔
 (۲؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ         باب القرأۃ فی الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲ /۲۸۶)
یہاں تک کہ تنقیح میں احادیث جہرلکھ کرفرماگئے:
ھذہ الاحادیث فی الجملۃ لاتحسن بمن لہ علم بالنقل ان یعارض بھا الاحادیث الصحیحۃ، ولولاان یعرض للمتفقۃ شبھۃ عند سماعھا فیظنھا صحیحۃ لکان الاضراب عن ذکرھا اولی، ویکفی فی ضعفھا اعراض المصنفین للمسانید والسنن عن جمہورھا۳؎۔
ان احادیث کو صحیح احادیث کے معارض قراردینا نقل کے فن میں علم والے کودرست نہیں۔ اگر ان روایات کوفقیہ سن کرغلط فہمی کی بناپرصحیح گمان کرنے کاخدشہ نہ ہوتاتوان کوذکرنہ کرنا مناسب تھا،اور ان روایات کے ضعف پردلیل تمام مسانید وسنن کے مصنفین کاان کوذکرنہ کرناہی کافی ہے۔(ت)
 (۳؎ نصب الرایہ بحوالہ التنقیح    کتاب الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ    ۱ /۳۵۸)
خلاصہ یہ کہ وہ احادیث نہ احادیث صحیحہ کے مقابل نہ ذکرکے قابل،ولہٰذا مصنفان مسانید وسنن نے ان کے ذکرسے اعراض کیا
نقلہ فی نصب الرایۃ
(اس کو نصب الرایہ میں ذکرکیاگیاہے۔ت)خود پیشوائے وہابیہ ابن القیم نے اپنی کتاب مسمی بالہدی میں لکھا:
فصحیح تلک الاحادیث غیرصریح وصریحھا غیرصحیح۴؎۔نقلہ امام الوھابیہ الشوکانی فی نیل الاوطار۔
ان حدیثوں میں جوصحیح ہے وہ جہرمیں صریح نہیں اور جو جہرمیں صریح ہے وہ صحیح نہیں۔ اس کو وہابیوں کے امام شوکانی نے نیل الاوطار میں ذکرکیاہے۔
 (۴؎ نیل الاوطار        باب ماجاء فی بسم اﷲ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲ /۲۲۸)
امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں:
الحاصل ان احادیث الجھر لم تثبت۱؎۔ اثرہ السید الازھری فی الفتح۔
خلاصہ یہ کہ جہرکی حدیثیں ثابت نہ ہوئیں۔ سیدازہری نے اس کو فتح میں نقل کیا ہے۔
 (۱؎ تبیین الحقائق        فصل اذااراد الدخول فی الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ امیریہ بولاق مصر    ۱ /۱۱۲)
Flag Counter