Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
151 - 158
افادہ تاسعہ: اقول بطورمناظرہ علی التنزل اگرمان لیجئے کہ اختلاف قراء روایت جزئیت و عدم جزئیت ہے تاہم جس نے ختم میں ایک بار بسم اﷲ شریف پڑھی اس نے یقینا کلام اﷲ ختم کیا نقص اگرہوا تو روایت میں نہ کہ قرآن میں، توپورے قرآن کا ثواب نہ ملنا کیامعنی، کیاسنت یہ ہے کہ مثلاً امام عاصم کی روایت تراویح میں پوری کی جائے یایہ کہ قرآن عظیم کا ختم کامل ہو، اگراول مانو تو محض باطل اور شرع مطہرپرکھلا افتراء کس دلیل شرعی کاحکم ہے کہ خاص فلاں روایت کااہتمام مسنون، اور ثانی مانواور وہی حق ہے توقرآن عظیم تو بالقطع والیقین یوں بھی ختم ہوگیا پھرکامل ثواب نہ ملنا یعنی چہ، کیابعض روایات پرقرآن کامل ہے بعض پرمعاذاﷲ ناقص، حاش ﷲ ہرطرح تام و کامل ہے ورنہ لازم آئے کہ بعض بلکہ ہرعرض میں حضور پرنورسیدالعالمین و حضرت جبریل روح الامین صلی اﷲ تعالٰی علیہما وسلم میں ناقص قرآن کادورہوا ہرقاری کے پاس ناقص قرآن رہا کہ ہرقرأت میں بہ نسبت دوسری کے کچھ نہ کچھ اثبات وحذف ہے، اپنے نزدیک تمامی عنداﷲ تمامی کو مستلزم نہیں، اور جب عنداﷲ تمامی تونقص ثواب کا زعم رب العزت کی جناب میں سوئے ظن ہے
اِنَّ اﷲَ لایُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنo۱؎
 (بیشک اﷲ تعالٰی نیکی کرنے والوں کااجرضائع نہیں فرماتا۔ت)

(القرآن    ۹/۱۲۰)
اگرکہئے گویہ قرآن فی نفسہٖ تام وکامل ہے مگر مثلاً امام عاصم کے نزدیک پورانہ ہوا۔
اقول دوحال سے خالی نہیں یاتوقراء کے نزدیک روایات اُخربھی متواترہ نہیں اور ان میں ایک کا اعتبار اس بناپر کہ اپنے اساتذہ پریونہی پڑھا اُن کے نزدیک اپنی ہی روایت متواترہوئی یاتواترباقی پراطلاع نہ ملی علی الاول بلاشبہ امام عاصم پریہ اعتقاد فرض کہ کلام الٰہی پوراختم ہوگیا اگرچہ اُن کی روایت پوری نہ ہوئی اور ثواب کامل اسی پر منوط تھا، نہ خاص ان کی روایت پر،وعلی الثانی جب ہم پر مہرنیمروزوماہ نیم ماہ کی طرح اُن روایات کاتواترروشن ہوگیاتو امام عاصم کانہ جاننا، مطلع نہ ہونا کچھ حجت نہیں، غرض نہ عاصم کی روایت پرثواب محصور نہ عاصم کے خیال کی تقلید ضرورجبکہ بالقطع والیقین حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس کا خلاف بتواتر ماثور، کیا مزے کی بات ہے کہ امام مذہب بلکہ انصافاً امام الائمہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کامذہب تومحض اپنے اس زعم باطل پرچھوڑاجائے کہ
اذا صح الحدیث فھو مذھبی
(جب حدیث صحیح ہوتو وہی میرامذہب ہے۔ت) قول احناف ہے اور امام عاصم کاایک خیال کہ عدم اطلاع پرمبنی ہوا، اس پرجمود ایساضرور کہ اس کے مقابل حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تواتر قطعی بھی نامنظور۔
افادہ عاشرہ: اگربعد طلوع فجر ساطع وظہور حق لامع، اپنی خطا پرمطلع ہوکر دعوی نقصان ثواب سے عدول کرکے، اس راہ چلئے کہ بلاشبہہ قرآن بھی کامل ختم، ختم کامل کاثواب بھی حاصل مگرجبکہ ہم قرأت امام عاصم اختیارکئے ہوئے ہیں تو ہم پرشرعاً یہی واجب کہ انہیں کی روایت پرقرآن ختم کریں۔
اقول یہ بھی محض باطل اتباع قرأت واحدہ صرف ہنگام روایت واجب ہے کہ روایت احدالقراء کا نام کرکے بعض حروف روایت دیگرپڑھے توکذب فی النسبۃ وتخلیط وتغلیط لازم آئے کہ اس تقدیر پر اس کامفاد، یوں ہوگا کہ یہ لفظ اس طرح اس امام کی روایت ہے حالانکہ وہ اس کی روایت نہیں، تلاوت میں تعیین قرأت واجب نہیں کہ آخرسب قرآن اور سب حق منزل من عندالرحمن ہے توتخصیص بعض وانکار بعض کے کیامعنی، اختلاف قرأت مثل اختلافِ مذاہب نہیں کہ تعیین واجب یاتلفیق باطل ہو، یہاں اگربعض سور بلکہ ایک سورت کی بعض آیات بلکہ ایک آیت کے بعض کلمات ایک قرأت کے مطابق پڑھے اور بعض دیگرکے توعندالتحقیق اصلاً ممانعت نہیں جب تک وہ تلفیق موجب اختلال نظم یافساد معنی نہ ہو، اور اگر ایک کلام ختم ہوکر دوسری بات شروع ہوجب تواحق واولی بالجواز ہے خصوصاً جبکہ مجلس متبدل ہو، امام خاتم الحفاظ جلال الحق والدین سیوطی اتقان شریف میں امام سیدالقراء شیخ المقرئین شمس الملۃ والدین ابوالخیر ابن الجزری سے نقل فرماتے ہیں:
الصواب ان یقال ان کانت احدی القرائتین مرتبۃ علی الاخری منع ذلک منع تحریم کمن یقرأ فتلقی اٰدم من ربہ کلمٰت برفعھما اونصبھما اخذارفع اٰدم من قراء ۃ غیرابن کثیر ورفع کلمات من قراء تہ ونحوذلک مما لایجوزفی العربیۃ واللغۃ ومالم یکن کذلک فرق فیہ بین مقام الروایۃ وغیرھا فان کان علی سبیل الروایۃ حرم ایضا لانہ کذب فی الروایۃ وتخلیط وان کان علٰی سبیل التلاوۃ جاز۱؎۔
یہ کہنادرست ہوگا کہ دونوں قراء ات میں ایک دوسری پرمرتب ہے تویہ ممنوع بطورتحریم ہے جیسا کہ فتلقی اٰدم من ربہ کلمٰت میں لفظ "اٰدم"اور "کلمٰت" دونوں پرپیش پڑھے یادونوں پرزبرپڑھے، یوں کہ ''اٰدم''پر پیش کو غیر ابن کثیر کی قراء ت سے اور ''کلمٰت'' کی پیش ابن کثیر کی قرأت سے اخذ کرے، اس طرح یہ عربی میں اور لغت میں جائزنہیں، اور اگر ایسانہ ہو توپھر روایت اور غیرروایت کے مقام میں فرق ہوگا، اور اگر روایت کے طورپر ہوتوبھی حرام ہے کیونکہ یہ روایت میں خلط اور کذب ہوگا، اور اگر برسبیل تلاوت ہوتویہ جائز ہے۔(ت)
 (۱؎ الاتقان فی علوم القرآن        النوع الخامس فی آداب تلاوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۱۰)
ہاں ائمہ کرام نے حفظ دین عوام کویہ وصیت فرمائی کہ جاہلوں کے سامنے قرأت غریبہ ووجوہ عجیبہ نہ پڑھیں کہ مبادا وہ انکاریاطعن یااستہزاء کی آفت میں نہ پڑیں، درمختار میں ہے:
یجوز بالروایات السبع لکن الاولی ان لایقرء بالغریبۃ عندالعوام صیانۃ لدینھم۱؎۔
قرأت سبعہ پڑھناجائز ہے مگرعوام کے لئے اجنبی قرأت کونہ پڑھے تاکہ عوام کے دین میں خلل نہ ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار        فصل ویجہرالامام    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت        ۱ /۸۰)
ردالمحتارمی ہے:
قولہ یجوز بالروایات السبع، بل یجوزبالعشر ایضاکمانص علیہ اھل الاصول،قولہ بالغریبۃ ای بالروایات الغریبۃ و الامالات، لان بعض السفھاء یقولون مالایعلمون فیقعون فی الاثم والشقاء، ولاینبغی للائمۃ ان یحملواالعوام علی مافیہ نقصان دینھم،ولایقرؤ عندھم مثل قرأۃ ابی جعفر و ابن عامر و علی بن حمزۃ والکسائی صیانۃ لدینھم فلعلھم یستخفون اویضحکون وان کان کل القراء ات والروایات صحیحۃ قطعیۃ ومشائخنا اختارواقرأۃ ابی عمر وحفص عن عاصم اھ عن التتارخانیۃ عن فتاوی الحجۃ۲؎۔
قولہ روایت سبعہ جائزہے بلکہ عشرہ بھی جائزہے جیسا کہ اہل اصول نے تصریح کی ہے، قولہ اجنبی یعنی روایات اور امالات اجنبیہ کونہ پڑھے کیونکہ بعض جاہل لوگ لاعلمی کی وجہ سے باتیں بنائیں گے اور گناہ اور بدی میں مبتلا ہوں گے، امامت کرانے والے حضرات کومناسب نہیں کہ لوگوں کودینی نقصان میں ڈالیں، اور ان کے سامنے امام ابوجعفر، ابن عامر، علی اور کسائی جیسی قرأت نہ کریں، ہوسکتاہے کہ عوام لاعلمی کی بناپر ان کی قراء ات کوحقیرجانتے ہوئے ان پرہنسنا شروع کردیں اور ان کادین محفوظ رکھناضروری ہے اگرچہ یہ تمام قراء ات قطعی طور پر صحیح ہیں، جبکہ ہمارے مشائخ نے ابوعمرو کی عاصم سے روایت کردہ قرا ء ت کواپنایاہےاھ یہ فتاوی الحجہ سے تتارخانیہ کی روایت ہے۔(ت)اسی طرح عٰلمگیریہ وغیرہا میں ہے.
 (۲؎ ردالمحتار        فصل ویجہرالامام    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۱ /۵۴۱)
Flag Counter