اخبران رجالا بسملوا بین السورتین وھم قالون والکسائی وعاصم وابن کثیر والباقین لایبسملون بین السورتین لان ھذا من قبیل الاثبات والحذف۲؎۱ھ ملخصا۔
معلوم ہوا ہے کہ کئی لوگوں نے کوئی دوسورتوں میں بسم اﷲ پڑھنے کاقول کیا ہے اور وہ قالون، کسائی، عاصم اور ابن کثیر ہیں اور باقی لوگوں نے ان دونوں سورتوں میں بسم اﷲ نہ پڑھنے کاقول کیاہے کیونکہ یہ معاملہ اثبات وحذف والاہےاھ ملخصاً(ت)
(۲؎ سراج القاری شرح شاطبیہ لابن القاصح مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۸)
اب نظرغائر کیجئے توحذف صراحۃً نافی ومنافی جزئیت ہے کہ اگر جزہوتی توحذف کیونکر ہوسکتی،اور اثبات اصلاً مفیدجزئیت نہیں کہ اثبات اعوذ پربھی اجماع قراء ہے او وہ بھی مثل اثبات بسملہ متواتر، حالانکہ باجماع مسلمین قرآن نہیں، غیث النفع میں ہے:
لاخلاف بین العلماء ان القارئ مطلوب منہ فی اول قرأتہ ان یتعوذ۱؎الخ
علماء میں یہ کوئی اختلاف نہیں کہ قاری قرآن کی تلاوت کے شروع میں اعوذ باللہ پڑھے الخ(ت)
(۱؎ غیث النفع فی القراءت السبع باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۸)
شرح الشاطبیہ لابن القاصح میں ہے:
الاستعاذۃ قبل القرأۃ باجماع وقولہ مسجلا ای مطلقا الجمیع القرأۃ وفی جمیع القراٰن۲؎۔
اعوذباﷲ قرأ ت شروع کرنے سے قبل بالاجماع پڑھی جائے، اس کے قول مسجلا کامعنی تمام قراء کے نزدیک تمام قرآن کے شروع میں۔(ت)
(۲؎ تذکارالمقری شرح شاطبیہ لابن القاصح باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۲۶)
تومجرد اثبات و روایت متواترہ قراء سے عندالتحقیق جزئیت قرآن پربھی جزم نہ ہوسکتا نہ کہ خاص جزئیت سورت پر، ولہٰذا علمائے عالم جیسا کہ اثبات وتواتر تعوذپراجماع کرکے اس کی عدم قرآنیت پراجماع رکھتے ہیں یونہی اثبات و تواتربسملہ یک بارمطلقاً پراجماع فرماکر اس کی قرآنیت میں اختلاف رکھتے ہیں تو مجرد اثبات قراء وتواتر روایت سے جزئیت پردلیل لانی محض باطل ہے، ہاں قرآنیت بسم اللہ پر اس کے سواایک دلیل قطعی قائم ہوئی جس کاذکر اوپرگزرا، جمہورائمہ قائل قرآنیت ہولئے اور جزئیت سورت پرکوئی دلیل قطعی نہیں لہٰذاجمہورائمہ جانب جزئیت نہ گئے،بحمداﷲ تعالٰی اس تقریر سے مثل آفتاب روشن ہوگیاکہ ائمہ قراء ت کااثبات متواتر اصلاً مفیدجزئیت نہیں، اس بنا پر حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یاصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے تواتر جزئیت کاادعائے باطل درکنار قراء سے تواتر قول بالجزئیت بھی ثابت نہیں ہوسکتا بالجملہ یہ کہنا حق ہے کہ اثبات وحذف دونوں متواتر قطعی اور یہ کہنا باطل کہ جزئیت و عدم دونوں القطع مروی کہ اثبات وجزئیت میں شرق وغرب کافرق ہے اس پرایک دلیل جلیل واضح وروشن یہ بھی ہے کہ قائلان جزئیت بعض احادیث احاد سے احتجاج واستناد کی طرف جھکے اور اس بناپر کہ ثبوت قطعی نہیں ظنیت مسئلہ کی تصریحیں کرگئے دفع اعتراض کے لئے یہاں کفایت ظن کے قائل ہولئے جیسا کہ ابھی کلمات امام حجۃ الاسلام و امام ماوردی و امام نووی محلی و امام ابن حجروغیرہم سے مذکور ہوااگراثبات قراء مثبت جزئیت ہوتا تو اسی پر تعویل کرتے قطعیت چھوڑ کر ظنیت کی طرف کیوں اُترتے
ھذاکلہ جلی واضح عند کل من لہ فھم وعقل فضلا عن اھل العلم والفضل
(یہ تمام اہل فہم اور اہل عقل کے ہاں واضح ہے چہ جائیکہ اہل علم وفضل پرواضح نہ ہو۔ت) اور یہیں سے یہ بھی ظاہرہوگیا کہ اس مسئلہ میں مذہب کو دخل نہ ماننا محض جہالت وسخت سفاہت ہے بلکہ حقیقتاً روایت قراء نے جزئیت میں کچھ دخل نہ دیا واژگوں فہموں نے الٹاسمجھ لیا، آخرامام قرطبی وغیرہ کاارشاد سن چکے کہ مسئلہ اجتہادیہ ہے۔
علامہ بہاری وعلامہ بحر فرماتے ہیں:
(ترکہا نصف القراء) وھم ابن عامر ونافع بروایۃ الورش وحمزۃ وابوعمر وقال مطلع الاسرار الالھیۃ قدس سرہ فی غیرالفاتحۃ (وتواترانہ) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہ واصحابہ وسلم (ترکہا) عند قراء ۃ السورلان قراٰۃ القراء متواترۃ(ولامعنی عند قصد قراء ۃ سورۃ ان یترک اولھا) فیجب أن لاتکون جزأ ویشھد علیہ ماروی فی الخبر الصحیح عدم الجھر بہا فی الصلٰوۃ فان قلت قدقرأھا الباقون من القراء فتواتر قراء تہ علیہ وعلٰی اٰلہ واصحابہ الصلٰوۃ والسلام فیجب ان تکون جزأ قال(وتواتر قرأتھاعنہ) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (بقراء ۃ) القراء (الاٰخرین لایستلزم کونھا) جزء (منھا) لجواز ان یکون للتبرک کالاستعاذۃ۱؎۔
اس کو نصف اہل علم اور قراء حضرات نے ترک کیا ہے اور وہ ابن عامر، نافع اور ورش کی روایت کے مطابق ابوعامراور حمزہ ہیں، اور مطلع الاسرار الٰہیہ قدس سرہ نے غیرفاتحہ کے بارے میں فرمایا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے تواترکے ساتھ ثابت ہے کہ سورتوں کو پڑھنے میں آپ نے بسم اﷲ کوترک فرمایاکیونکہ قراء حضرات کی قراء ت متواترہ ہیں، اور ممکن نہیں کہ سورۃ کوپڑھتے وقت اس کے اول (بسم اﷲ) کوچھوڑدیں لہٰذا ضروری ہے کہ بسم اﷲ سورتوں کاجزنہیں، اور یہ بات اس کی شاہد ہے کہ صحیح طور ر مروی حدیث میں ہے کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نماز میں بسم اﷲ کاجہرنہیں فرمایا اگر تیرا یہ اعتراض ہو کہ باقی قراء حضرات نے بسم اللہ کو سورتوں کے ساتھ پڑھا ہے اور جب قراء حضرات کی قراء ت متواتر ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ بسم اللہ کا سورتوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واٰلہ وصحبہ سے متواتر ہو گا اس سے توثابت ہوتاہے کہ یہ سورتوں کاجز ہے توجواب میں کہا کہ باقی قراء حضرات کی قراء ت سے حضور علیہ السلا م کی قراء ت کے متواتر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ سورتوں کا جز ہوجائے کیونکہ ہوسکتاہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تبرک کے طورپرپڑھا ہو جیسا کہ اعوذباﷲ کاحکم ہے۔(ت)اسی طرح اور کتب میں ہے مگرجہال زمانہ کوخبرنہیں۔
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ منشورات الرضی قم ایران ۲ /۱۴)
افادہ ثامنہ: اقول روایت اثبات کااثبات جزئیت عندالمبسلمین سے بھی بے علاقہ ہوناتوظاہر ہوچکا اور ہم یہ بھی ثابت کرآئے کہ شمارآیات وسور دلیل واضح ہے کہ قراء مبسملین بھی جزئیت سورنہیں مانتے تاہم اب اگربالفرض کسی طریقہ سے ثابت بلکہ متواتربھی ہوکہ امام عاصم کامذہب جزئیت تھا تووہ جدابات ہے اس میں ہمیں کلام نہیں، مذہب میں ہم ان کے مقلد نہیں، نہ ان کی قراء ت کااختیار برخلاف مذہب،ان کے مذہب پرعمل لابد کرسکے، امر واضح پردلیل روشن درکار ہوتوسنئے،شک نہیں کہ ہمارے ائمہ نے قرأت عاصم بروایت حفص اختیار فرمائی اور شک نہیں کہ بالاجماع نمازسریہ وجہریہ سب میں ہمارے یہاں اخفاء بسملہ کاحکم اور شک نہیں کہ مذہب امام پرنمازجہریہ میں ایک آیت کے سہواً اخفا پربالاجماع سجدہ اور عمداً پراعادہ لازم، توقطعاً ثابت کہ حفص وعاصم اگرچہ جزئیت فاتحہ کی طرح جزئیت ہرسورت بھی مانتے ہوں مگر ان کی قرأت اختیارکرنے نے ہمیں عمل قول جزئیت پر مجبور نہ کیا ورنہ ضرورجہریہ میں جہر تسمیہ علی الفاتحہ کاحکم ہوتا او ر اس کاترک سجدہ سہو یا اعادہ چاہتا، پھربعد فاتحہ سر سورت پراتیان بسملہ میں عامہ متون مذہب مثل ہدایہ و وقایہ و نقایہ و اصلاح و غرر و ملتقی الابحر و تنویر وغیرہا انکار محض پرہیں اور اسی پر بدائع و شرح وقایہ ودرر و جوہرہ نیرہ و مجمع الانہر وغیرہا شروح نے مشی فرمائی، محققین کے نزدیک اگرچہ اس کاحاصل کراہت نہیں صرف نفی سنیت ہے
(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی ''العطایا النبویۃ فی فتاوٰی الرضویۃ'' میں بیان کیاہے۔ت) تاہم اگر اختیار قرأت عاصم، اختیار جزئیت لازم کرتا تونفی سنیت اور التزام ترک بسملہ میں نفی کراہت پراجماع حنفیہ ناممکن تھا، ابھی مسلم وفواتح سے سن چکے کہ سورت پڑھتے وقت اس کے اول سے ایک آیت چھوڑدینا بے معنی ہے
سیّدنا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
فیہ ھجر شیئ من القراٰن وذلک لیس من اعمال المسلمین۱؎اھ نقلہ الشامی عن النھر عن الامام فی باب سجود التلاوۃ۔
اس میں بعض قرآن کا ترک لازم آئے گا، حالانکہ یہ بات مسلمانوں کے عمل سے بعید ہےاھ اس کو علامہ شامی نے باب سجود التلاوۃ میں نہر کے حوالے سے امام صاحب سے نقل کیاہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۱۱۷)
پس آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ ہمیں عمل قول جزئیت پرمجبورکرنا ہمارے ائمہ کرام کے اجتماع تام کے خلاف اور محض اپنے ذہن کی تراشیدہ بات ہے قصدوعدم قصد ختم سے تفرقہ محض جہالت، اختیار قرأۃ عاصم موجب عمل برجزئیت نہیں، توختم میں کیانقصان، اور اگر ہے توفرض میں وجوب جہرکیوں نہیں، کیافرائض میں ہم قرآن بقرأت عاصم نہیں پڑھتے، بھلاختم میں اتنا ہی ہے کہ سنت ناقص رہی، یہاں تو واجب ترک ہوتاہے۔