لایثبت کونھا اٰیۃ من کل سورۃ من السور بلادلیل قطعی کمافی سائر الاٰیات واجماع الصحابۃ علی اثباتھا فی المصحف لایلزم منہ انھا اٰیۃ من کل سورۃ بل اللازم منہ مع الامر بالتجرید عن غیرالقراٰن انھا من القراٰن وبہ نقول انھا اٰیۃ منہ نزلت للفصل بین السور۲؎۔
قطعی دلیل کے بغیر اس کا تمام سورتوں میں سے کسی کاجزہونا اور آیت ہوناثابت نہیں ہوسکتا، جس طرح باقی آیات کے بارے میں ہے، اور صحابہ کرام کا اس کو مصحف میں لکھنے پراجماع ہونااس بات کومستلزم نہیں کہ یہ کسی سورۃ کی آیت ہے بلکہ قرآن کوغیر سے مبرّا رکھنے کے حکم سے اتنالازم آتاہے کہ یہ بسم اﷲ قرآن کی آیت ہے جوکہ فصل کے لئے نازل کی گئی ہے۔(ت)
بسم اﷲ قرآن ہے کیونکہ تواتر سے قرآن میں شامل چلی آرہی ہے لیکن سورتوں کی ابتدائی آیت ہونے کے انکار سے کفرلازم نہیں آئے گا کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت نہیں۔
(۳؎ منحۃ الخالق حاشیہ علی البحر الرائق فصل واذا اراد الدخول فی الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۳۱۲)
علامہ سیدابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین میں فرماتے ہیں:
بسم اﷲ کے قرآن ہونے پرتواترنہ ہونے کی وجہ سے اگرکوئی اس بات کاانکار کرے تو کفرنہ ہوگا نہر میں عدم تکفیر کی یہی علت بیان کی گئی ہے(ت)
(۱؎ فتح اﷲ المعین علی شرح الکنز فصل واذااراد الدخول فی الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۱۸۷)
علامہ سیدی احمد طحطاوی مصری حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں:
لانھا وان تواترت کتابتھا فی المصاحف ولم یتواتر کونھا قراٰنا ۲؎ ۔
مصحف میں اس کولکھنے کے تواتر سے اس کے قرآن ہونے کاتواتر ثابت نہیں ہوتا۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۴۱)
علامہ شہاب خفاجی عنایۃ القاضی وکفایۃ الرازی میں فرماتے ہیں :
ولم یتواتر تسمیتھا قراٰنا واٰیۃ بالنقل عنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام اذلو تواتر لکفر جاحدھا وھو لایکفر بالاتفاق۳؎۔
بسم اﷲ کانام، قرآن یاسورۃ کی آیۃ، تواتر سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منقول نہیں اور اگریہ بات تواترسے ثابت ہوتی تواس کاانکار کفرہوتا،حالانکہ باتفاق یہ کفرنہیں ہے۔(ت)
ان المحققین من الشافعیۃ وعزاہ الماوردی للجمہور علی انہ اٰیۃ حکما لاقطعا قال النووی والصحیح انھا قراٰن علی سبیل الحکم ولوکانت قراٰنا علی سبیل القطع لکفرنا فیھا وھوخلاف الاجماع۲؎۔
محققین شافعیہ نے اور ماوردی کے بیان کے مطابق ان کے جمہور نے کہاہے کہ بسم اﷲ کافاتحہ کی جزہوناحکمی بات ہے قطعی نہیں ہے، اور امام نووی نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ بسم اﷲ کاقرآن ہوناحکمی ہے اور اگرقطعی ہوتاتو ہم مخالف کوکافرکہتے جبکہ یہ بات اجماع کے خلاف ہے۔(ت)
(۲؎ غیث النفع فی القراء ات السبع علٰی حاشیہ سراج القاری، باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۹)
اسی میں شرح منہاج النووی تصنیف امام جلال الدین محلی شافعی سے ہے:
البسملۃ منھا ای من الفاتحۃ عملا لانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عدھا اٰیۃ منھا صححہ ابن خزیمۃ والحاکم ویکفی فی ثبوتھا من حیث العمل الظن۳؎۔
بسم اﷲ سورہ فاتحہ کاحصہ ہے کیونکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کوفاتحہ کی آیت شمار کیاہے جس کی ابن خزیمہ اور حاکم نے تصحیح کی ہے اور اس کے عملی ثبوت کے لئے ظن ہی کافی ہے۔(ت)
( ۳؎ غیث النفع فی القراء ات السبع علٰی حاشیہ سراج القاری، باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۹)
افادہ سابعہ: اقول وباﷲ التوفیق قرآن عظیم کے ختم میں لااقل ایک باربسم اﷲ شریف پڑھنے پر تمام قراء کااجماع قطعی ہے کہ ابتداء تلاوت(عـہ) سور ت غیربرأت میں اتیان بسملہ مجمع علیہ ہے پھر ہردوسورت کے درمیان اثبات وحذف میں قراء مختلف ہیں امام نافع مدنی بروایت قالون اور امام عبداﷲ بن کثیرمکی وامام عاصم بن بہدلہ کوفی و امام علی بن حمزہ کسائی کوفی پڑھتے اور امام مدنی بروایت ورش اور امام عبداﷲ بن عامر شامی و امام حمزہ بن حبیب زیات کوفی و امام ابوعمروبن العلاء بصری حذف کرتے ہیں تواگر جلسہ واحدہ میں کوئی شخص قرآن عظیم بابتدائے واحد ختم کرے، تاہم ایک بار بسم اﷲ شریف باجماع قراء پڑھے گااور تکرار میں اختلاف رہے گا۔
(عـہ)شروع تلاوت اگرابتدائے سورت کے علاوہ، کہیں وسط سے ہو، توبسم اﷲ کی حاجت نہیں، بہترہے اور اگرابتدائے سورت سوائے برأت سے تلاوت آغاز کرے توبسم اﷲ بالاجماع پڑھے، پھراثنائے تلاوت میں جوسورتیں آتی جائیں اُن پربسم اﷲ پڑھنے نہ پڑھنے میں اختلاف ہے۱۲(م)
غیث النفع میں ہے:
لاخلاف بینھم فی ان القارئ اذا افتتح قراء تہ باول سورۃ غیربرائۃ انہ یبسمل سواء کان ابتداء ہ عن قطع اووقف (الی ان قال) واختلفوا فی اثبا تھا بین السورتین سواء کانتا مرتبتین اوغیرمرتبتین فاثبتھما قالون والمکی وعاصم وعلی وحذفھا حمزۃ ووصل السورتین (الی قولہ) وانما اختلفوا فی الوصل ولم یختلفوا فی الابتداء لانھا مرسومۃ فی المصاحف فمن یترکھا فی الوصل لولم یأت بھا فی الابتداء لخالف المصاحف وخرق الاجماع۱؎الخ۔
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ قاری کسی سورۃ کو ابتداء سے شروع کرے توبسم اﷲ پڑھے ماسوا سورۃ براء ت کے، خواہ قاری قطع کے بعد ابتداء کرے یاوقف کے بعد، ہرطرح بسم اﷲ پڑھے( اس کے بعد یہاں تک فرمایا) اور تلاوت میں دوسورتوں کے درمیان بسم اﷲ پڑھنے میں انہوں نے اختلاف کیا ہے خواہ دونوں کو ترتیب سے پڑھے یا غیرترتیب پرپڑھے، امام قالون، مکی، عاصم اور علی نے بسم اﷲ کو ثابت ماناہے اور امام حمزہ نے حذف کرنا، قراردیاہے اور دونوں سورتوں میں وصل کاقول کیاہے (اور پھر اس کوبیان کیاکہ) ان ائمہ نے دونوں سورتوں کے وصل کے بارے میں یہ اختلاف کیاہے، اور ابتداء کرتے وقت بسم اﷲ پڑھنے میں اختلاف نہیں کیا، کیونکہ بسم اﷲ قرآن میں لکھی ہے لہٰذا اگرکوئی دونوں سورتوں میں وصل کرتے وقت بسم اﷲ کوترک کرے اور سورۃ سے ابتداء کرتے وقت بھی ترک کرے تومصاحف اور اجماع کے خلاف ارتکاب کرے گاالخ(ت)
(۱؎ غیث النفع فی القراء ات السبع علی حاشیہ سراج القاری باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۲)