افادہ خامسہ: تمام مصاحف حفصیہ میں ہربسم اﷲ شریف پر نشان آیت موجودہے وہ بلاشبہ اُن کے نزدیک آیت تامہ ہے، اب سورہ بقر سے لے کر سورہ ناس تک تمام سورمیں آیات حفصیہ کی گنتی بتائیے، دیکھئے توکہیں بھی بسم اﷲ شریف گنتی میں آئی ہے، مثلاً سورہ اخلاص چارآیت ہے بسم اﷲ سے الگ ہی چار آیتیں ہیں، سورہ کوثرمیں تین آیتیں ہیں بسم اﷲ سے جداہی تین آیتیں ہیں وعلی ھذا القیاس بخلاف سورہ فاتحہ کہ سات آیتیں ہیں اور ان کے نزدیک انعمت علیھم پر آیت نہیں ولھذا ہمارے مصاحف میں اس پرنشان آیت، عندالغیر۵، لکھتے ہیں نہ o،یہ صاف دلیل واضح ہے کہ ہمارے قراء کے نزدیک بسم اﷲ بقرہ سے ناس تک کسی سورت کی جزنہیں بلکہ ایک انہیں قاریوں کی کیاتخصیص، سب کے نزدیک، سوافاتحہ کے، کہ مختلف فیہاہے باقی تمام سورتوں کے شمار آیات سے بسم اﷲ شریف خارج ہے یہ بھی اس ارشاد علما کاپتا دیتاہے کہ قول جزئیت حادث وخلاف اجماع ہے۔
امام زیلعی تبیین پھر علامہ ازہری فتح المعین میں فرماتے ہیں:
ان کتاب المصاحف کلھم عدوا اٰیات السور فاخرجوھا من کل سورۃ وقال بعض اھل العلم۱؎ الی اٰخرمامر۔
قرآن پاک کے تمام کاتبوں نے سورتوں کی آیات کو شمار کیاہے اور انہوں نے بسم اﷲ کوکسی سورت کی آیات میں شمارنہیں کیا، اور بعض علماء نے گزشتہ قول کوانہوں نے آخر تک بیان کیا۔(ت)
(۱؎ فتح المعین علی شرح الکنز فصل واذا اراد الدخول مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۱۸۷)
عمدہ میں امام عینی کاارشاد گزرا:
لم یعدھا احد اٰیۃ من سائر السور۲؎
(اس کو کسی نے باقی سورتوں کی آیۃ نہیں مانا۔ت)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ /۲۹۲)
تنبیہ: شمار سے اخراج توعدم جزئیت میں صریح ظاہر ہے اور ادخال میں علمائے کرام نے جائز فرمایا کہ صرف ظن کی طرف مستند ہوتومفید قطعیت جزئیت نہ ہوسکے گا، امام زیلعی نصب الرایہ اور امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں:
لعل اباھریرۃ مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقرأھا فظنھا من الفاتحۃ، فقال انھااحدی اٰیاتھا ونحن لاننکرانھا من القراٰن،ولکن النزاع وقع فی مسئلتین احدٰھما انھا اٰیۃ من الفاتحۃ، والثانیۃ ان لھا حکم سائر اٰیات الفاتحۃ جھرا وسرا، ونحن نقول، انھا اٰیۃ مستقلۃ قبل السورۃ، ولیست منھا، جمعابین الادلۃ، وابوھریرۃ لم یخبر عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال: ھی احدی اٰیاتھا، وقراء تھاقبل الفاتحۃ لایدل علی ذلک و اذاجازان یکون مستند ابی ھریرۃ قراء ۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لہا، وقد ظھر،ان ذلک لیس بدلیل علی محل النزاع، فلایعارض بہ ادلتنا الصحیحۃ الثابتۃ ۱؎اھ۔
ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کوپڑھتے ہوئے سنا توخیال فرمایا کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ کی جز ہے توانہوں نے کہہ دیا کہ یہ فاتحہ کی آیات میں شامل ہے، بسم اﷲ کاقرآن کی آیت ہونے سے ہمارا انکار نہیں ہے صرف بحث دومسئلوں میں ہے ایک یہ کہ کیا یہ سورہ فاتحہ کی آیت ہے اور دوسرا یہ کہ کیا بسم اﷲ کاحکم فاتحہ کی دوسری آیات والاہے کہ جہروسر میں ان کی طرح پڑھی جائے گی یانہیں، جبکہ ہم یہ کہتے ہیں یہ ایک مستقل آیت ہے یہ سورہ فاتحہ کی آیات میں شمارنہیں،یہ بات دلائل کو مطابق بنانے کے لئے ہے، حالانکہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہ خبرنہیں دی کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاکہ یہ سورۃ فاتحہ کی ایک آیۃ ہے جبکہ محض سورۃ فاتحہ سے پہلے پڑھنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی اور جب صرف حضور کاپڑھنا ہی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی دلیل ہوتو یہ محل نزاع یعنی فاتحہ کاجز ہونے پردلیل نہیں ہوسکتی، لہٰذا یہ روایت ہمارے صحیح ثا بت شدہ دلائل کے مقابل نہیں ہو سکتی اھ (ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح بخاری احادیث البسملۃ فی الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ /۲۸۶
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیۃ ریاض الشیخ ۱ /۳۴۳)
افادہ سادسہ: جزئیت بسم اﷲ شریف کوقطعی کہنامحض جہالت اورتصریحات ائمہ کرام، علمائے عظام، سے غفلت ہے بلکہ جزئیت سورت درکنار جزئیت قرآن بھی خبراً متواترنہیں،
ولذا انکرھا الامام الاوزاعی والامام مالک و بعض مشایخنا ونسب للمتقدمین بل وقع فی التلویح وحواشی الکشاف وغیرھما انہ المشہور من مذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۲؎ قال القھستانی ان ھذالم یوجد۳؎ قال الشامی فی ردالمحتار ای بل ھو قول ضعیف عندنا۴؎۔
بسم اﷲ کے قرآن کاجز ہونے کاامام اوزاعی، امام مالک اور ہمارے بعض مشائخ نے انکار کیاہے۔ متقدمین کی طرف منسوب بلکہ تلویح میں اور کشاف کے حواشی وغیرہ میں ہے کہ یہی امام ابوحنیفہ کامشہور مذہب ہے، امام قہستانی نے فرمایا اس قول کاوجود نہیں ہے، علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا ہے بلکہ یہ قول ضعیف ہے۔(ت)
(۲؎ التوضیح والتلویح مع حاشیہ چلپی بیان ادلہ اربعہ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۰)
(۳؎ جامع الرموز فصل صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۱۵۱)
(۴؎ ردالمحتار مطلب قرأۃ البسملۃ بین الفاتحۃ والسورۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۴۹۱)
علامہ حسن چلپی حاشیہ تلویح میں فرماتے ہیں:
قال الجد المحقق فی تفسیر الفاتحۃ قال ابوحنیفۃ ومالک رحمھما اﷲ تعالٰی المعتبر التواتر فی قراٰنیتھا لافی نقلہ فقط وھو الحق اذمن الظاھر ان النقل اذالم یکن علی انہ قراٰن لایفید القراٰنیۃ والتواتر فی نقل البسامل لیس علی انہ قراٰن والالم یخالف فیہ بل کتب فی المصاحف للفصل والتبرک بھا۱؎الخ
بزرگ محقق نے سورہ فاتحہ کی تفسیر میں فرمایا کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے فرمایا ہے بسم اﷲ کے قرآن ہونے کیلئے صرف نقل متواتر نہیں بلکہ اس کاقرآن ہونا متواتر چاہئے اور یہی معتبراور حق ہے کیونکہ ظاہربات ہے کہ اگر قرآن ہونا منقول نہ ہو توپھر بسم اﷲ کاقرآن ہوناثابت نہیں ہوگا، اور بسم اﷲ کے نقل میں جوتواتر ہے وہ اس کے قرآن ہونے کا تواترنہیں ورنہ اس میں اختلاف نہ ہوتابلکہ بسم اﷲ کو قرآن میں سورتوں کے فصل اور تبرک کے لئے لکھا گیاہے الخ(ت)
(۱؎ تتمہ حاشیہ چلپی علی التوضیح والتلویح بیان ادلہ اربعہ حاشیہ ۲۶ متعلق ص۵۰ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۵)
ہمارے ائمہ کہ اثبات فرماتے ہیں، بوجہ اثبات فی المصاحف وامربالتجرید، دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں نہ تواتر سمعی، بالجملہ حق یہ کہ بسم اﷲ شریف کاجزء قرآن عظیم ہونا توہمارے نزدیک دلیل قطعی سے ثابت ہے مگرجز سور ہوناہرگزنقلاً عقلاً کسی طرح قطعی نہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام اسے دلیل قطعی سے باطل،اور بعض اخباراحاد کو،کہ موہم جزئیت واقع ہوئے، مخالف قاطع کے سبب نامقبول ومضمحل بتاتے ہیں، نہایت یہ کہ علمائے شافعیہ رحمہم اﷲ تعالٰی کہ قائلین جزئیت ہیں خود منکر قطعیت ہیں،امام نووی شافعی فرماتے ہیں: یہی صحیح ہے۔ امام عبدالعزیز بن احمدبخاری تحقیق میں فرماتے ہیں:
النقل المتواتر لمالم یثبت انھا من السورۃ لم یثبت ذلک۲؎۔
جب نقل متواتر بسم اﷲ کوسورت کاجز ہوناثابت نہیں کرتا تو اس کاجز ہونا ثابت نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ کتاب التحقیق شرح الحسامی مقدمہ الکتاب مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۶)
علامہ بہاری مسلم الثبوت اور علامہ بحر فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں:
(لم یتواتر انھا جزء منھا) فلاتثبت الجزئیۃ اذقد سبق ان تواتر الجزئیۃ شرط لاثباتہا۳؎۔
اس کاجز ہونا تواترسے ثابت نہیں، لہٰذا جزئیت ثابت نہ ہوگی کیونکہ پہلے معلوم ہوچکا ہے جزئیت کے اثبات کے لئے جزئیت کاتواتر شرط ہے۔(ت)
(۳؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریۃ بولاق مصر ۲ /۱۴)
اُنہیں میں ہے:
(عارضہ القاطع) وھوعدم تواتر الجزئیۃ الدال علی عدمھا فی الواقع فیضمحل المظنون وھذا ھوالجواب عن الاخبار الاحاد التی توھم الجزئیۃ بل یجب ان تکون ھذہ الاخبار مقطوع السھو والالتواترات۱؎الخ
بسم اﷲ کے جزہونے کو ایک قطعی دلیل معارض ہے اور وہ جزئیت کے تواتر کانہ ہونا جوکہ فی الواقع جزنہ ہونے کی دلیل ہے پس ظنی امرکمزور قرارپائے گا، یہ جزئیت کاوہم پیدا کرنے والی اخباراحاد کاجواب ہے لہٰذا ان اخبار کا سہوقطعی ہے ورنہ اگر بسم اﷲ سورۃ کاجز ہوتی توتواتر سے ثا بت ہوتی۔(ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی، مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریۃ بولاق مصر ۲ /۱۵)