افادہ اولٰی: بسم اﷲ شریف کے باب میں ہمارے ائمہ کرام بلکہ جمہورائمہ صحابہ وتابعین وغیرہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب حق ومحقق یہ ہے کہ وہ کسی سورت قرآن کی جزنہیں، جداگانہ آیت واحدہ ہے کہ تبرک و فصل بین السور کے لئے مکرر نازل ہوئی۔ امام عبدالعزیز بن احمدبن محمدبخاری علیہ رحمۃ الباری کہ اجلہ ائمہ حنفیہ ہیں کتاب التحقیق شرح حسامی میں فرماتے ہیں:
الصحیح من المذھب انھامن القراٰن لکنھا لیست جزء من کل سورۃ عندنا بل ھی اٰیۃ منزلۃ للفصل بین السور کذا ذکر ابوبکر الرازی ومثلہ روی عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۳؎۔
صحیح مذہب ہمارایہ ہے کہ وہ قرآن کی جزہے مگرہرسورت کی جزنہیں بلکہ یہ ایسی آیۃ ہے جوسورتوں میں فاصلہ کے لئے نازل کی گئی ہے، یوں ابوبکررازی نے ذکر کیااور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔(ت)
(۳؎ کتاب التحقیق شرح حسامی مقدمہ الکتاب مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ص۶)
امام محقق ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:
المشھور عن اصحابنا انھا لیست باٰیۃ من الفاتحۃ ولامن غیرھا بل ھی اٰیۃ من القراٰن مستقلۃ نزلت للفصل بین السور۱؎۔
ہمارے اصحاب سے یہی مشہور ہے کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے بلکہ یہ قرآن کی مستقل آیۃ ہے جو سورتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں:
ان مذھبنا ومذھب الجمہور لیست اٰیۃ من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ۲؎۔
ہمارا اور جمہور کامذہب یہ ہے کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے(ت)
(۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی بیان صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۶)
امام ابوالبرکات نسفی کنزالدقائق اور علامہ ابراہیم حلبی ملتقی الابحر اور علامہ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی تنویرالابصار میں فرماتے ہیں:
ھی اٰیۃ من القراٰن انزلت للفصل بین السور ولیست من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ۳؎۔
یہ قرآن کی آیۃ ہے جوسورتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے(ت)
(۳؎ ملتقی الابحر مع مجمع الانہر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۵
درمختار فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۷۵)
امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
قال اصحابنا البسملۃ اٰیۃ من القراٰن انزلت للفصل بین السور لیست من الفاتحۃ ولامن اول کل سورۃ۴؎۔
ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ بسم اﷲ قرآن کی آیت ہے جوسوتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے نہ تو یہ فاتحہ کی جز ہے اور نہ ہی کسی سورۃ کایہ اول ہے(ت)اسی طرح بہت کتب میں ہے:
افادہ ثانیۃ: مجردتکرر نزول ہرگز موجب تعددنہیں ورنہ قائلان تکرارنزول فاتحہ قرآن عظیم میں دوسورہ فاتحہ مانتے کہ اُن کے نزدیک فاتحہ مکہ معظمہ میں نازل ہوکر مدینہ طیبہ میں دوبارہ اُتری۔ علامہ حسن چلپی حاشیہ تلویح میں فرماتے ہیں:
تعدد نزولہا یقتضی تعدد قراٰنیتھا کیف و قدقیل بتکرار نزول الفاتحۃ ولم یقل احد بتعدد قراٰنیتھا۱؎۔
بسم اﷲ کے نزول کاتعدد اس بات کولازم نہیں کہ وہ متعددبارقرآن کاجزبنے، یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ سورہ فاتحہ کے نزول میں تعدد کاقول ہے لیکن فاتحہ کا قرآن کے متعدد جز ہونے کاقول کسی نے نہیں کیا(ت)
اسی طرح قمرالاقمار سے بھی گزرا کہ وہ ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک تمام قرآن میں صرف ایک آیت ہے نہ یہ کہ ایک سوتیرہ یاچودہ آیتیں ہوں اور جب آیت واحدہ ہے تراویح میں اس کی صرف ایک بارتلاوت ادائے سنت ختم کے لئے آپ ہی کافی
کمالا یخفی علی کل عاقل
(یہ کسی عاقل سے مخفی نہیں چہ جائیکہ فاضل سے مخفی ہو۔ت) کون جاہل کہے گا کہ ایک آیت کوجب تک سوبارنہ پڑھو ختم پورانہ ہو۔
افادہ ثالثہ: بسم اﷲ شریف کاجزو سورت ہونا، ہرگزہرگز حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر ہونا درکنار، ثابت کرنا دشوار، اس کے تواتر کاادعا محض بہتان وافتراء، بلکہ احادیث صحیحہ اس کلیہ کے نقض پرصاف گواہ،
کحدیث قسمۃ الصلٰوۃ وحدیث ثلثین اٰیۃ للملک وغیرھا کمافصلہ العلماء الکرام فی تصانیفھم ولاحاجۃ الٰی ایرادھا ھنافان شھرۃ الکلام فیہ اغنتنا عن اعادتہ و اطالۃ المقال بتذکارہ۔
جیسا کہ تقسیم نماز والی حدیث، اور وہ حدیث جس میں سورۃ ملک کی تیس آیتوں کاذکر اور ان جیسی اور احادیث جن کو علماء کرام نے مفصل طورپر اپنی تصانیف میں ذکرکیاہے، یہاں ان کوبیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس بات کی شہرت نے ہمیں یہاں ذکرکرنے سے مستغنی کردیا ہے نیز ان کے ذکر سے بات لمبی ہوگی۔(ت)
افادہ رابعہ: یونہی اس پراجماع امت کابیان افتراوبہتان ،بلکہ علماء فرماتے ہیں صحابہ کرام وتابعین اعلام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کااجماع تھا کہ بسم اﷲ شریف جزوسور نہیں، قول جزئیت اُن کے بعد حادث ونوپیداہوا، سیدی فقیہ مقری علی نوری سفاقسی غیث النفع فی القرا ء ات السبع میں فرماتے ہیں:
ھذا ان قلنا ان البسلملۃ لیست باٰیۃ ولا بعض اٰیۃ من اول الفاتحۃ ولامن غیرھا وانما کتبت فی المصاحف للتیمن والتبرک اوانھا فی اول الفاتحۃ لابتداء الکتاب علی عادۃ اﷲ جل وعز فی ابتداء کتبہ وفی غیرالفاتحۃ للفصل بین السور قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایعرف فصل السورۃ حتی ینزل علیہ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم وھو مذھب مالک وابی حنیفۃ والثوری وحکی عن احمد وغیرہ وانتصرلہ مکی فی کشفہ وقال انہ الذی اجمع علیہ الصحابۃ والتابعون والقول بغیرہ محدث بعد اجماعھم وشنع القاضی ابوبکر بن الطیب بن الباقلانی المالکی البصری نزیل بغداد علی من خالفہ وکان اعرف الناس بالمناظرۃ وادقھم فیھا نظر۱؎۔
یہ تب ہے جب ہم یہ کہیں کہ بسم اﷲ آیت نہیں اور فاتحہ اور کسی سورۃ کی جزنہیں اور یہ صرف قرآن میں برکت کے طور پر لکھی گئی ہے یا اس لئے کہ اﷲ تعالٰی کی عادت کریمہ ہے کہ اس نے اپنی تمام کتابوں میں بسم اﷲ سے ابتداء فرمائی لہٰذا سورہ فاتحہ کے ا بتداء میں بھی ذکر فرمائی اور باقی سورتوں کے ابتداء میں صرف سورتوں کے درمیان فصل کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام دوسورتوں کافصل بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے پرمعلوم کرتے تھے، یہی امام مالک ، ابوحنیفہ، ثوری کامذہب ہے، اور امام احمد وغیرہ سے یہی بیان کیاگیا ہے اور امام مکی نے اسی کو اپنی کتاب کشف میں اپنایاہے اور فرمایا کہ یہی وہ ہے جس پرصحابہ وتابعین کا اجماع ہے، بسم اﷲ کے بارے میں کوئی اور بات اس اجماع کے بعد نئی چیزہوگی، اور قاضی ابوبکر بن طیب بن باقلانی مالکی بصری نیز بغداد ی نے اس کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے اور یہ قاضی ابوبکر خود بحث کے ماہر اس میں دقّت نظر رکھتے ہیں۔(ت)
(۱؎ غیث النفع فی القراء ات السبع باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۷)
امام زیلعی تبیین الحقائق پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین میں فرماتے ہیں:
قال بعض اھل العلم ومن جعلھا من کل سورۃ فی غیرالفاتحۃ فقد خرق الاجماع لانھم لم یختلفوا فی غیر الفاتحۃ۲؎۔
بعض علماء نے فرمایا کہ جو شخص بسم اﷲ کوفاتحہ کے علاوہ کسی سورت کاجزمانتاہے وہ اجماع کاخلاف کرتاہے کیونکہ فاتحہ کے بغیر کسی سورۃ کے بارے میں اختلاف نہیں ۔(ت)
(۲؎ فتح المعین علی شرح الکنز فصل واذا اراد الدخول الخ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۱۸۷)
امام بدرالدین محمودعینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
فان قیل نحن نقول انھا اٰیۃ من غیرالفاتحۃ فکذلک انھا اٰیۃ من الفاتحۃ قلت ھذاقول لم یقل بہ احدولھذا قالوا زعم الشافعی انھا اٰیۃ من کل سورۃ وماسبقہ الی ھذا القول احدلان الخلاف بین السلف انماھو فی انھا من الفاتحۃ اولیست باٰیۃ منھا ولم یعدھا احد اٰیۃ من سائر السور۳؎۔
اگراعتراض کیاجائے کہ ہم بسم اﷲ کو آیت مانتے ہیں تو اس کامعنی یہ ہوا کہ فاتحہ کی آیت ہے اور کسی اور سورۃ کی بھی آیت ہے، میں کہتاہوں کہ یہ کسی کاقول نہیں ہے اسی لئے جمہور نے کہا کہ صرف امام شافعی کاخیال ہے کہ یہ ہرسورہ کی آیت ہے جبکہ امام شافعی سے پہلے کسی نے یہ بات نہیں کی، کیونکہ اس سے پہلے اسلاف میں صرف یہ تھا کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ کی آیت ہے یانہیں، اور اس کو کسی نے باقی سورتوں کاجز نہیں مانا۔(ت)
(۳؎ عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ /۲۹۲)