( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان)
(ختم تراویح میں ایک بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۱۱۱۴: ازاوجین، مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی ملامحمدیعقوب علی خاں صاحب ۲۶/رجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں تمام بلاد ہندوستان میں کہ سب اہل سنت وجماعت بفضلہ تعالٰی حنفی المذہب ہیں ہمیشہ سے یہی رواج دیکھا سنا کہ تمام حفاظ قرآن، تراویح میں بسم اﷲ شریف سارے قرآن مجید میں کسی نہ کسی سورت پر، بس ایک بارآواز سے پڑھ لیتے ہیں اور بعض لوگ پیداہوئے کہ اس میں بہت جھگڑا اٹھاتے ہیں زید کہ اس کارسالہ مرسل خدمت والا ہے باتباع دومولویوں گنگوہی و پانی پتی کے دعوٰی کرتاہے کہ تراویح میں بسم اﷲ بالجہر ہرسورت کے سرے پر ماسواء سورہ برأت کے، از بس لازم ہے ورنہ ۱۱۳ ایک سوتیرہ اور کبھی کہتا ہے ایک سوچودہ۱۱۴ آیت کانقصان لازم آئے گا، بسم اﷲ کاجزویت ہونا آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے آج تک تواتراً منقول ہے حنفیہ کے نزدیک بھی علی سبیل القطع والتواتر ہے متفق علیہ،بلکہ اجماع امت متفق ہیں، عمرو نے اس جہر سے انکارکیا،اس پر زید نے اسے کہا بتسویل نفسانی، منہمک سیآت کے ہوا اور تخریبِ دین محمدی میں کمرباندھ کر اصول وقواعد دینیہ سے برطرف ہوا، اس رسالہ میں ایک عبارت اور دوفتوے مولویین مذکورین سے نقل کئے صفحہ ۱۵پرلکھا قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی تبیین الضاد ترجمہ تحفہ نذریہ میں فرماتے ہیں جان لوکہ جب اہل قرأت کااس امر میں اختلاف ہے کہ بسم اﷲ ہرسورت کاجزو ہے یا نہیں، پس تمام قرآن کو تراویح میں پڑھنے والے پر، جو اُن قاریوں کی قرأت پڑھے جو بسم اﷲ کو ہرسورت کاجزوجانتے ہیں، واجب ہے کہ بسم اﷲ کو ہرسورت کے سرے پر پکارکرپڑھے ورنہ ختم قرآن مجید میں سے اس کو ایک سوچودہ ۱۱۴ آیتوں کاکم کرناا ور ترک کردینالازم آتاہے اورجائزنہیں ہے، ان شہروں میں جہاں کے اکثر باشندے حنفی مذہب رکھتے ہیں اس کے خلاف دستور ہے، پس معلوم نہیں اس ترک وغفلت کاکیاسبب ہے فقط، صفحہ ۱۷پرلکھا ''استفتائے مولوی رشیداحمدگنگوہی، بسم اﷲ کاجہرسے پڑھناتراویح میں مضائقہ نہیں اور نمازمیں اس سے کوئی قباحت نہیں ہوتی،یہ بھی قرأ کامذہب ہے ،اگرحضرت حفص کی اقتداء کرو، درست ومقبول ہے اور جوحسب مذہب حنفیہ نہ پڑھے تاہم کوئی عیب نہیں،سب حق پرہیں سب کے مذاہب صحیح ودرست ہیں لیکن حفاظ قرآن مجید کولازم ہے کہ پڑھاکریں ورنہ بموجب فرمان مولوی عبدالرحمن صاحب کے عندالحفص ختم میں نقصان رہے گا فقط واﷲ اعلم کتبہ رشیداحمدگنگوہی''، صفحہ ۱۸پرلکھا ''استفتاء قاری عبدالرحمان صاحب پانی پتی، زمانہ قراء سبعہ کا، زمانہ اجتہاد وعمل بالسنۃ کاتھا، زمانہ تابعین کاتھا،اور مذہب مسائل اجتہاد یہ میں ہوتاہے نہ منقولہ میں، اور مدار قراء کافقط روایت وصحت پر ہے اور قراء سب اپنی اپنی قراء ت کی روایت صحیح رکھتے ہیں اس میں دخل مذہب کو نہیں ہے لہٰذا قراء ت میں کسی اہل ہوا کا خلاف نہیں ہے۔ ائمہ مذہب تازمانہ قراء، محتاج الیہ ومحصورنہ تھے بلکہ بعد قراء کے تھے، ائمہ قرأت کوپوچھنا کہ کیامذہب رکھتے تھے، حمق ہے،بعد صحت روایت کے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پھرحاجت کسی مذہب اور کسی اجتہاد کی نہیں ہے
اذا صح الحدیث فھومذھبی
(جب حدیث صحیح ہوتو وہی میرامذہب ہے۔ت)قول احناف کاہے، جب مدارصحت روایت پرمذاہب اربعہ میں ہوا پھرجوکوئی کسی مذہب کاکسی قاری کی قرأت پڑھے گا اس کی قرأت میں جو ہواس کی اتباع کرے،جو کہ امام عاصم کی قرأت میں بروایت حفص بسم اﷲ درمیان ہردوسورت کے ثابت ہے روایۃً، اور کہیں حنفیہ کی کتب میں ممانعت قرأت عاصم وحفص کی استیعاباً واقع نہیں ہے توتراویح میں بسم اﷲ پڑھنا جائز ہوا و اِلاَّ پوراختم روایت حفص میں نہ ہوافقط واللہ اعلم بالصواب العبد عبدالرحمٰن عفی عنہ ''۔صفحہ ۲۱ پر لکھا ''صلوٰ ۃ مفروضہ میں ختم مقصودنہیں اس لئے وہاں جہرلازم نہیں وہاں اتباع ابوحنیفہ کاچاہئے اورتراویح میں مقصود ختم کامل قرآن ہے وہاں اتباع قرائے مبسلمین، بسم اﷲکوجہراً پڑھناساتھ تأکد کے جائز ہے ورنہ ختم میں نقصان لازم آتاہے چنانچہ یہی تحریر خاکسار نے بارہا قاری عبدالرحمن صاحب کی زبانی بھی سنی ہے''۔ اب علماء سے عرض ہے کہ یہ بیانات وفتاوٰی صحیح ہیں یاغلط،اور یہاں مذہب حنفی میں کیاحکم ؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
الحمد ﷲ سرا وجھارا ولیلا ونھارا حمدا کبارا ادامۃ واکثارا والصلوات السامیۃ والتحیات النامیۃ علی من سن فی الصلٰوۃ اسرارالتسمیۃ وعلی الہ وصحبہ النفوس الحامیۃ لبیضۃ السنۃ من الغوغاء العامیۃ اٰمین اٰمین یاارحم الراحمین۔
سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں آہستہ اور بلند، دن اور رات کو، بڑی حمدیں اور زیادہ، بلنددروداور اونچا سلام اس ذات پرجس نے نمازمیں بسم اﷲ کو آہستہ پڑھناسنت فرمایا اور آپ کی آل واصحاب پرجوکہ خالص سنت کوعوام کے شور ش سے محفوظ رکھنے والے ہیں آمین آمین یاارحم الراحمین۔(ت)
بسم اﷲ شریف کاتراویح میں ہرسورت پرجہر، مذہب حنفی میں لازم وواجب ہونامحض بے اصل وباطل صریح، اور حنفیہ کرام پرافتراء قبیح ہے تحصیل سنت ختم فی التراویح کے لئے صرف ایک بار کسی سورت پر جہرکرنے کی ہماری کتب میں صاف تصریح ہے زید بے علم اور اس کے دونوں متبوعوں کی تحریر سراسربے تحریروغیرصحیح ہے، مسلم الثبوت میں ہے:
البسملۃ من القراٰن اٰیۃ فتقرأ فی الختم مرۃ۱؎۔
یعنی بسم اﷲ شریف قرآن عظیم کی آیت ہے توختم میں ایک بارپڑھی جائے۔
(۱؎ مسلم الثبوت کامل مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص۱۵۱)
ملک العلماء بحرالعلوم اس کی شرح فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں:
علی ھذا ینبغی ان یقرأھا فی التراویح بالجھر مرۃ ولاتتأدی سنۃ الختم دونھا۲؎۔
یعنی اس بناپرچاہئے کہ بسم اﷲ شریف تراویح میں جہرسے ایک بارپڑھی جائے بے اس کے سنت ختم ادا نہ ہوگی۔
(۲؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۲ /۱۴)
شرح مولانا ولی اﷲ میں ہے:
من قال بکون البسملۃ جزء من القراٰن من غیرتعیین المحل اوجزئیتھا لہ فی اول کل سورۃ قال بوجوب قراء تھافیمایختم فیہ القراٰن من الصلٰوۃ کالتراویح الا ان الجماعۃ الاولی تقول بوجوب قراء تھا جھراً مرۃ والثانیۃ تقول بوجوب قرأتھا جھرا فی اول کل سورۃ سواء البراء ۃ۱؎۔
یعنی جو علماء بسم اﷲ شریف کوجزوِ قرآن مجیدمانتے ہیں خواہ بے تعیین محل (جیسے علماءِ حنفیہ وغیرہم) یایوں کہ ہرسورت کی پہلی آیت ہے (جیسے علماء شافعیہ) ان سب کے نزدیک جس نماز میں قرآن مجید کاختم کیاجائے جیسے تراویح، اس میں بسم اﷲ شریف کاپڑھناضرور ہے مگر ہمارے ائمہ وجمہور علماء کے نزدیک صرف ایک باربآواز اورشافعی مذہب میں سورہ برأت کے سواہرسورت کی ابتدا پر۔
(۱؎ شرح مسلم الثبوت ولی اﷲ)
قمرالاقمار مولانا عبدالحلیم انصاری میں ہے:
اعلم ان التسمیۃ اٰیۃ من القراٰن کلہ انزلت للفصل بین السور ولیست جزء من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ فالقراٰن عبارۃ عن مائۃ واربعۃ عشرسورۃ واٰیۃ وھی التسمیۃ فلابد فی ختم القراٰن من قراء ۃ التسمیۃ مرۃ علی صدرایۃ سورۃ کانت وھذا کلہ عندنا علی المختار۲؎۱ھ مختصرا۔
یعنی بسم اﷲ شریف سارے قرآن مجیدمیں صرف ایک آیت ہے کہ سورتوں میں فصل کے لئے اتاری گئی، نہ وہ فاتحہ کی جز ہے نہ ہرسورت کی، تو قرآن عظیم نام ہے ایک سوچودہ۱۱۴ سورتوں اور ایک آیت کا کہ وہ بسم اﷲ شریف ہے پس ختم قرآن میں بسم اﷲ شریف کا کسی سورت کے سرے پر ایک بارپڑھنا ضرورہے یہ سب ہمارے ائمہ کامذہب مختارہےاھ مختصراً۔
جواب مسئلہ تواسی قدرسے ہوگیامگرفقیر غفراﷲ بعون رب قدیر جل جلالہ، تحقیق حق نجیح وتلخیص قول رجیح کے لئے چند افادات عالیہ لکھے جن سے بتوفیق تعالٰی احکام مسئلہ کونورانکشاف اور اوہام باطلہ کوظہورانکساف ملے
واﷲ المعین وبہ نستعین
(اﷲ تعالٰی مددگار ہے اور اسی سے ہم مددطلب کرتے ہیں۔ت)