| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
وھذا شان عـــہ۱ یا وحرکۃ الیاء لاضطرابھم فی الطلب وتخصیص الفتح یدل مالھم من فتح وفیض ببرکۃ ھذا النداء، ثم ھو رضی اﷲ تعالٰی عنہ مستغرق فی بحارالوحدۃ رفیع مقامہ عن مجامع الکثرۃ فاذا نودی لکشف بلاء اورشف عطاء دعاہ الکرم الی التنزل من غیب الوحدۃ الی مشاھد الکثرۃ وذلک شان عـــہ۲ اِی والکسر یحکی التنزل و سکون الیاء لتسکین قلقھم فکان المعنی انھم تحرکوا من مقام الکثرۃ مضطربین وھم یوزعون متوجھین الی حضرۃ الوحدۃ متحدین ھنالک فی الرغبۃ والرھبۃ وکان رضی اﷲ تعالٰی عنہ ساکنا فی مقام الوحدۃ فتنزل منہ الی نادی الکثرۃ لتسکین قلوبھم و اصلاح خطوبھم والحاصل انہ اذا دعی یجیب وسائلہ لایخیب،
لہٰذا کثرت کے بعد وحدت جیسے ''ی'' کے بعد ''الف'' ہے دوطرح سے ثابت ہے۔ یہ ''یا'' کے لحاظ سے ہے پھر ''ی'' کی حرکت، طالبین کے اضطراب ، اور اس حرکت کافتح ہونا اس نداکی برکت سے فتح وفیض کی علامت ہے، اور ''اِی'' کے اعتبار سے یہ کہ غوث اعظم بحروحدت میں مستغرق ہیں اور کثیر اجتماعات سے آپ کامقام بلندوبالاہے، جب آپ کو مصائب مٹانے اورعطیات نچھاور کرنے کے لئے پکاراجاتاہے تو آپ کو کرم وسخا مجبورکرتاہے کہ آپ وحدت غیب سے تنزل فرماکر کثرت مشاہد پرتوجہ فرمائیں (یہ وحدت سے کثرت کی طرف رجوع ہے جیسا کہ ''اِی'' میں ''الف'' اور پھر ''ی'' ہے) اور ''اِی'' کاکسرہ (زیر) تنزل کی حکایت ہے اور ''ی''کاسکون طالبین کاپریشانی سے سکون ہے۔ معنی یہ ہوا کہ حاجتمندلوگ اضطراب کی حالت میں متفرق طورپرمقام کثرت سے مقام وحدت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور سب کے سب امید وخوف میں یکساں ہیں اور آپ یعنی غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ مقام وحدت پر ساکن ہیں، پھرآپ نداء کرنے والے کثیرلوگوں کی طرف تنزل فرماکر ان کے دلوں کو تسکین دیتے ہیں اور ان کی پراگندہ حالت کی اصلاح فرماتے ہیں غرضیکہ جب آپ کو نداء دی جائے توآپ جواب دیتے ہیں اور سائل کومحروم نہیں کرتے۔
عــــہ فانہ ینتقل فیھا من العقد الی الواحد۱۲(م)
کیونکہ اس میں دہائی سے اکائی کاانتقال ہے۱۲(ت)
عـــــہ۲ فان الواحد مقدم فیہ علی الکثیر ۱۲(م)
کیونکہ واحد، کثیرپرمقدم ہے۱۲(ت)
ومن عجائب صنع اﷲ سبحنہ وتعالٰی ان ا اول الحروف فلا حرف فوقھا وی اٰخر الکل فلاحرف تحتھا فمن ترقی من ی فلامظھر لہ وراء ا ومن تنزل من ا فلا منزل لہ تحت ی فدل ذلک ان سیدنا رضی اﷲ تعالٰی عنہ اخذ فی الطرفین بغایۃ الغایات فتنقطع مطایا الکاملین دون سیرہ فی اﷲ فلذا کانت قدمہ علی جمیل الرقاب ولذا قال رضی اﷲ تعالٰی عنہ الانس لھم مشایخ، والجن لھم مشایخ و انا شیخ الکل بینی وبین مشایخ الکل کما بین السماء والارض لا تقیسونی باحد ولا تقیسوا علی احداوکذا ما استکمل المکملون عـــہ سیرہ من اﷲ ولذا کانت ھدایتہ اتم واوفر، وطریقتہ انفع و ایسر، وکراماتہ اکثر واظھر، حتی لم ینقل عشرھا ولامعشارھا عن احد من الاولیاء فیما نعلم ذلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم، واٰخر دعوٰنا ان الحمدﷲ ربّ العٰلمین، والصلٰوۃ والسلام علی خاتم النبیین، محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، وابنہ ھذا الفرد المکین، والغوث المبین، وعلینا بھم یاارحم الراحمین، واوفٰی ختامہ ستاً بقین من صفر الخیر یوم جمع المسلمین، سنۃ الف وثلثمائۃ وخمس، من ھجرۃ من اٰتی بالصلوات الخمس، وردّت لامرہ من المغرب الشمس، صلی اﷲ علیہ وعلٰی اٰلہ اجمعین، والحمدﷲ رب العٰلمین۔
اﷲ تعالٰی کے عجائبات میں سے ہے کہ ''الف'' پہلاحرف ہے اور ''ی'' آخری حرف ہے جس کے بعد کوئی حرف نہیں ہے، اگرکوئی ''ی'' سے آگے بڑھناچاہے توآگے الف ہی پائے گا، اور اگر کوئی الف سے آگے بڑھے گا تو ''ی'' سے آگے کوئی منزل نہ پائے گا توگیارہ کے حرف یعنی ''یا'' سے پتاچلتاکہ آپ دونوں طرف انتہائی مقاصد پررسائی رکھتے ہیں اور تمام کاملین حضرات سیرفی اﷲ میں غوث اعظم کی سیرفی اﷲ سے بہت پیچھے ہیں، اسی لئے آپ کاقدم گردنوں پرہے اوراسی لئے آپ نے فرمایا کہ انسان اور جن اور ملائکہ کے اپنے اپنے مشائخ ہیں جبکہ ان سب کا شیخ میں ہوں اور میرے اور تمام مخلوق کے درمیان زمین وآسمان کافرق ہے مجھے کسی دوسرے پر اور کسی دوسرے کو مجھ پرقیاس نہ کرو، اور ایسے ہی کوئی کامل شخص آپ کی سیرفی اﷲ کواﷲ تعالٰی سے کامل طور پر حاصل نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی رہنمائی اتم اور اکمل ہے اور آپ کا طریقہ آسان وواضح ہے اور آپ کی کرامات کثیر اور غالب ہیں حتی کہ کسی ولی کی کرامات آپ کی کرامات کی نسبت عشرعشیر بھی منقول نہیں جیساکہ ہمیں معلوم ہے۔ یہ اﷲ کافضل ہے جسے چاہتاہے عطافرماتاہے اﷲ تعالٰی بڑے فضل والا ہے۔ ہمارا آخری اعلان ہے کہ سب تعریفیں اﷲ رب العٰلمین کے لئے ہیں اور صلٰوۃ وسلام خاتم النّبیین محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور آپ کی آل وصحابہ پر اور آپ کے اس حاکم بیٹے اور واضح غوث پر، اور ان کے ساتھ ہم پر یا ارحم الراحمین۔ اس رسالہ کااختتام ۲۴۲۴صفر بروزجمعہ ۱۳۰۵۱۳۰۵ھ کو ہوا، سن ہجری اس ذات کی ہجرت جس کوپانچ نمازیں عطاکی گئیں اور جن کے حکم پرمغرب سے سورج واپس پلٹا، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین، الحمدﷲ رب العٰلمین۔(ت)
عـــــــہ۱: ای یجمع اولھم واٰخرھم ۱۲(م)
عـــــــہ یعنی ان کے اول اور آخر سب کو جمع کریں گے ۱۲(ت)
عـــــــہ:۲ ولاحاجۃ الی ابداء استثناء الانبیاء والمرسلین علیھم الصلٰوۃ والسلام فانہ مرکوز فی اذھان المسلمین وکذا الصحابۃ والتابعون لھم باحسان لما عرف فی محلہ وبالجملہ فسیدنا رضی اﷲ تعالٰی عنہ افضل الاولیاء الا من قائم الدلیل علی استثنائہ ۱۲ (م)
یہاں انبیاء ومرسلین کے استثناء کااظہارضروری نہیں کیونکہ یہ بات تمام مسلمانوں کے ذہنوں میں مرکوز ہے یوں ہی صحابہ وتابعین کااستثناء بھی معلوم ہے حاصل یہ کہ غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ تمام اولیاء سے افضل ہیں مگراس میں وہ لوگ مستثنٰی ہیں جن کے بارے میں دلیل موجود ہے ۱۲(ت)
عـــــــہ۳ ھذاکذلک ۱۲منہ (م)
عـــــــہ یہ بھی اسی طرح ۱۲منہ (ت)
عـــــــہ۴ ھذا کذلک ۱۲منہ (م)
عـــــــہ یہ بھی اسی طرح ۱۲منہ (ت)