Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
144 - 158
لطیفۃ نظیفۃ: بامرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان یخطوا احدی عشرۃ خطوۃ، علم ان لھذا العدد مزیۃ اختصاص بالحضرۃ القادریۃ من زمنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولیس ان القادریین ھم اختاروہ لکون العرس الشریف فی الحادی عشرولکن لم اکن اعلم سراً فی ذلک حتی صلیت فی شاھجہان عـــہ اٰباد ذات لیلۃ صلٰوۃ الاسرار وانا مقبل علیھا بشرا شر عـــہ۱قلبی ماکانت منی التفاتۃ الی ذلک اذ لمعت بارقۃ سرجلیل، فی خاطر کلیل، واﷲ اعلم منی جاءت وکیف جاءت ماشعرت بھا الا وھی حلیلۃ ببالی فتأملتھا بعد الفراغ من الصلٰوۃ فاذا ھی کما اودو اشتھی،
پاکیزہ لطیفہ: حضور غوث اعظم کے حکم کے مطابق گیارہ قدم چلے اور یہ یقین کرے کہ اس عدد کو خاص مقبولیت دربارقادریہ سے حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے زمانہ سے حاصل ہے، اور یہ خیال نہ کرے بعد میں قادری سلسلہ والوں نے گیارہویں شریف کی مناسبت سے ایساکیاہے، لیکن مجھے خود گیارہ قدموں کاراز معلوم نہ تھا حتٰی کہ ایک روز میں نے شاہجہاں آباد میں رات کے وقت صلٰوۃ الاسرار پڑھی اورمیں پوری توجہ قلبی سے مصروف تھا اور میرا ا س راز کی طرف ذرا بھی التفات نہ تھا کہ میرے دل پر ایک عظیم رازدار تجلی چمکی، خدا کی قسم مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ کب اور کس طرح یہ چمک آئی جبکہ وہ میرے دل میں سرایت کرچکی تھی میں نے نماز سے فارغ ہوکر غوروتأمل کیا تو وہ میری مراد اور خواہش میری تمنا کے مطابق تھی،
عــــــہ۱ھی قاعدۃ دیارالھند المعروفۃ بدھلی وکان ذلک سنۃ اثنتین بعدالالف وثلثمأتہ حین شددت الیہا رحلی قاصدا زیارۃ سیدہ سلطان المشایخ نظام الحق والدین قدس اﷲ تعالٰی سرہ المکین ۱۲منہ (م)
یہ ہندوستان کامرکزی مقام (ضلع) ہے جو دہلی کے نام سے معروف ہے اور یہ واقعہ ۱۳۰۲ھ کاہے جب میں وہاں سیدی سلطان المشائخ نظام الدین قدس سرہ کی حاضری کے ارادہ سے گیا ۱۲منہ (ت)
عـــــہ ۲ ای بجمیع اجزائہ ۱۲(م)
یعنی مکمل طور پر ۱۲منہ(ت)
وھی ان فی احد عشر عقدا وواحدۃ، وھماعـــہ۲ بالحروف یاء والف والمجموع، یا، ان قدمت العقد و اِی ان عکست عـــہ ۱ و یاللنداء، واِی عـــہ ۲ للایجاب فکانت فی ذلک اشارۃ الٰی معاملتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مع السائلین والفقراء المستغیثین فانھم فی مقام الکثرۃ مع کثرتھم فی انفسھم، واذا اراد وسؤال حاجاتھم من الحضرۃ العلیۃ توجھوا الی الوحدۃ وکان علیھم افراغ القلوب من تشتت الخاطر مع کونھم ھھنا علی منھج واحد، سواء منھم العاکف والباد وعظیم عـــہ۳ الملک وعدیم الزاد فقد انتقلوا بوجھین من الکثرۃ الی الوحدۃ
وہ قلبی القاء یہ تھا کہ گیارہ کے عدد میں ایک دہائی اور ایک کاعدد ہے، اور (ابجد کے حساب سے) دس کا حرف''ی'' اور ایک کاحرف ''الف'' ہے اور اگردہائی کومقدم کریں تودونوں حرفوں کامجموعہ ''یا'' ہے اور اگرالٹ کریں تومجموعہ ''اِی'' ہے جبکہ ''یا''ندااورطلب کے لئے ہے اور ''ای'' قبول ومنظوری کے لئے ہے تو اس طرح گیارہ کے عدد میں حضورغوث اعظم کا سوال اور امداد طلب کرنے کا لوگوں سے معاملہ سمجھ آتاہے (کہ جس طرح ''یا'' میں ''ی'' دہائی اور کثرت اور اس کے بعد ''الف''وحدت ہے) یوں ہی سائلین کثیر تعداد والے کثیرمطالبہ کرنے والے اپنے مطالبات کودربارعالیہ میں پیش کرتے ہوئے کثرت سے وحدت کی طرف متوجہ ہوں گے (کیونکہ آپ واحد ہیں)نیزیوں بھی کہ سائلین اور حاجتمند کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود غوث پاک کی طرف متوجہ ہونے میں یکساں ہیں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہاتی، شہنشاہ ہوں یاگدا، توقلبی حاجات مختلف وکثیر مگر ان کے ازالہ کاڈھنگ ایک،
عــــــہ۱ اعلم ان مالایوجد لہ حرف واحد فالمصیر فیہ الی الترکیب ویجب القصر علی اقل مایمکن فلایختار الثلاثی ماامکن الثنائی ولاالرباعی ماساغ الثلاثی کمالایختار الثنائی ماوجد حرف واحد ثم الحاجۃ الی الترکیب انما تقع فیما بین عقد وعقد الی مائۃ وفی العقود غیرالمأات المحضۃ ایضاً من مائۃ الی الف ثم تدوم الی مالا نہایۃ لہ وذلک لان العقود والمئات لکل منھما حروف معلومۃ فالترکیب الثنائی مثلا وان تصور بجمع آحاد الی آحاد کمثل طب وحج وزد وھو فی احد عشروھواول مایحتاج الی ذلک لکن اختیار بعض منہا دون بعض ترجیح بلامرجح والترکیب الطبعی ان یلتمس العقد۔ فیوضع حرفہ ثم حرف مازاد علیہ من الآحاد و ھکذا فیقدم الالف ثم المئات ثم العشرات ثم الآحاد ویکفی ھذا الی الف وتسعۃ وتسعین فلفظہا 'غظصط' فاذا زاد فیدور الامر فالفان 'بغ' وثلثۃ آلاف 'جغ' ومائۃ الف 'قغ' والف الف 'غخ' وھکذا الی مالانھایۃ لہ یعرف ذلک من یعلم ارقام الھیأۃ والنجوم ومن منافع ھذا الوضع الامن من الالتباس فی غالب الصور فان 'غظصط' المذکور مثلاً ان کتب من دون نقط التعینت الحروف بالوضع الطبعی فالاول لایمکن ان یکون ع مھملۃ لانہ لایتقدم ص ولاالثالث ض معجمۃ لانھا لاتعقب ظ ولاالرابع ظ معجمۃ لانھا لاتعقب ص ولاالرابع ظ معجمۃ لانھا لاتعقب ص وتمام الکلام فی رسالتنا اطیب الاکسیر۱۲منہ(م)
جب کوئی عدد ایک حرف والانہ ہو تو وہاں ترکیب ضروری ہے اور ترکیب حسب ضرورت ہوگی اگر ترکیب ثنائی کافی ہوثلاثی کی ضرورت نہیں اور ثلاثی کافی ہو تو رباعی کی ضرورت نہیں ہے، پھراکائیوں اور دہائیوں میں سو تک ہوگی، اور اسی طرح سو سے اوپر ہزارک، لیکن خالص دہائیوں اور خالص سوکے لئے ترکیب کی ضرورت نہیں(کیونکہ ان کے لئے ایک ایک حرف ہے مثلاً ترکیب ثنائی تمام اکائیوں کی آپس میں ہوسکتی ہے مثلاً ترکیب ثنائی تمام اکائیوں کی آپس میں ہوسکتی ہے مثلاً طَبَ، حَجَ، زَدَ، گیارہ میں جوکہ پہلاعدد ہے جس میں ترکیب ثنائی کی ضرورت ہے اگرچہ کوئی دوحرف ملائے جاسکتے ہیں مگر ان حروف میں سے یہاں بعض کولینا اور بعض کونہ لینا بے مقصد ہے،اس لئے طبعی ترکیب کو ملحوظ رکھناہوگا وہ یہ کہ جودہائی مقصد ہو پہلے اسے پھراکائی جومقصود ہو، اگرہزار ہو تو پہلے ہزارپھرسواور پھر دہائی اور پھراکائی کوترکیب وار ذکرکرکے ترتیب دی جائے گی یہ ترکیب ایک ہزارنوسوننانوے تک کام دے گی، اس کے لئے حروف میں غظصط سے مرکب ہوگا، اور اس پر ایک زائد ہو تو دوہزارہوگا جس کے حروف میں بغ، اور تین ہزارجغ، لاکھ کے لئے قغ، اور دس لاکھ کے لئے غغ، اسی طرح جتناچاہے آگے جائے، جس کو علم نجوم اور ہیأۃ کی رقموں کی معرفت ہے خوب جانتاہے۔ اس ترکیب کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان ہندسوں میں غلطی سے بچ جاتاہے کیونکہ مثلاً غظصط میں اگر نقطے نہ بھی لکھے جائیں تومذکورہ حروف اپنی طبعی ترتیب کے لحاظ سے سمجھے جاسکتے ہیں کیونکہ غ کو ع اور ظ کو ط نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس ترکیب میں ظ سے غ مقدم ہوتاہے اور ع مقدم نہیں ہوسکتاہے، اسی طرح ص سے ظ مقدم ہے ط مقدم نہیں ہوسکتا، اور آخری دوحروف ص، ط کو ض ، ظ نہیں پڑھاجاسکتا، کیونکہ ض ظ کے بعد نہیں ہوسکتاہے، اورآخری دوحروف ص، ط کو ض، ظ نہیں پڑھاجاسکتا، کیونکہ ض ظ کے بعد نہیں ہوسکتا اور یونہی ظ بھی ص کے بعد نہیں ہوسکتاہے، یہ اس لئے کہ ایک ترکیب میں بڑے عدد والاحرف پہلے اور چھوٹے والا بعد ہوتاہے یہی ترکیب طبعی ہے اور یہ پوری بحث ہمارے رسالہ 'اطیب الاکسیر''میں ہے۱۲منہ(ت)
عـــہ۲وقوعہ ھھنا علٰی قول انہ کنعم مطلقا ظاھروالا فالتقدیر یاسیدی ھل تقضی حاجتی الجواب ای واﷲ ۱۲منہ (م)
یہاں اس کااستعمال ''نعم'' کی طرح ہے جیسا کہ ایک قول ہے ورنہ اصل میں، اے میرے آقا! کیا آپ میری حاجت روائی فرمائیں گے، جواب میں اِی واﷲ ہے ۱۲منہ (ت)
عـــہ۳ وذلک طریق الارقام الجفریۃ یقدمون فیھا الآحادثم عشرات الخ فالف ومائۃ واحد عشربار قامھم ''ایقع'' وبالارقام النجمومیۃ ''غقیا'' ۱۲(م)
یہ جفری علم کی رقم کاطریقہ ہے جس میں اکائی کودہائی پر مقدم کرتے ہیں مثلاً ہزار، سو کے بعد گیارہ کاذکر ان کی رقم میں ''ایقع'' ہے اور نجومی رقم میں ''غقیا'' ہے ۱۲منہ (ت)
عـــہ۴ الاضافۃ لفظیۃ ای عظیم ملکہ او معنویۃ فالعظیم بمعنی السلطان کعظیم الروم ای سلطانہ ۱۲(م)
یہ اضافت لفظی ہے یعنی اس کاملک عظیم ہے اور اگر اضافت معنوی بنائی جائے توعظیم بمعنی سلطان ہوگا جیسے عظیم الروم ہے۱۲(ت)
Flag Counter