Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
143 - 158
وکذا تسبیح سیدنا ذی النون علی نبینا الکریم وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیم ولیختمہ باٰمین (عف) ثلثا فانہ خاتم الدعاء ومماخص اﷲ تعالٰی بہ ھذہ الامۃ المرحومۃ وبالصلٰوۃ عف والسلام علٰی خاتم النبیّین والحمدﷲ عف رب العٰلمین لیکون البدء وختم کلامھا بالصلٰوۃ علی واھب الصلٰوۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فان الدعاء طائروالصلٰوۃ جناحہ فبذلک یتم الجناحان ولان الصلٰوۃ علیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام مقبولۃ لاشک فاذا استجیب الطرفان فاﷲ تعالٰی اکرم من ان یدع مابینھما ولیکن الدعاء وترا فان اﷲ وتر یحب الوتر ولیصل بعد کل مرۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ لم یرشیئ اجلب للاستجابۃ من الصلٰوۃ والسلام علی ھذا النبی الکریم علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم ولیجتھد ان تخرج دمعۃ فانھا علم الاجابۃ فان لم یبک فلیتباک فمن تشبّہ بقوم فھو منھم ثم المختار عندی ان یبقی حین الدعاء ایضا کما ھو مستقبل الجھۃ العراقیۃ فانھا کما اسمعناک جھۃ الشفعاء الکرام ولاعلیہ ان لاینحرف الی القبلۃ وقد(عہ) سأل ابوجعفر المنصور ثانی الخلفاء العباسیۃ عالم المدینۃ مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ یاابا عبداﷲ استقبل القبلۃ وادعوام استقبل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال ولم تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک اٰدم علیہ السلام الی اﷲ عزوجل یوم القٰیمۃ بل استقبلہ واستشفع بہ فیشفعک اﷲ تعالٰی ۱؎اھ فمن فعل ذلک موقنا بقبلہ غیرمستعجل من ربہ یقول دعوت فلم یجب لی قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ مالم یدع باثم اوقطیعۃ رحم،
ایسے ہی حضرت سیدنا ذی النون علیہ السلام کی تسبیحات باری تعالٰی کو ابتداء میں پڑھے اور دعا کے آخر میں تین مرتبہ آمین کہے کیونکہ یہ دعا کی مہرہے اور یہ خاص اس امت مرحومہ کوعطیہ ہے، اور دعا کے بعد حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر درودوسلام، اور ''الحمدﷲ رب العٰلمین'' پڑھے تاکہ دعا کی ابتدا اور اس کاخاتمہ، نمازیں عطاکرنے والے نبی پاک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے درودشریف پرہوجائے، یہ اس لئے کہ دعا ایک پرندہ ہے اور درود شریف اس کے پرہیں، اور اس لئے بھی کہ درودشریف مقبول ہے، توجب دعاء کے ابتداء وانتہاء میں درود ہوگا تواﷲ تعالٰی کے کرم سے بعید ہے کہ وہ درمیان میں دعا کو قبول نہ فرمائے، اور دعا میں وتر کالحاظ ہوناچاہئے کیونکہ اﷲ تعالٰی وترہے اور وتر کو پسندفرماتاہے، اورہربار درودشریف پڑھے کیونکہ درودشریف سے بڑھ کر کوئی چیزمقبولیت کوحاصل کرنے والی نہیں ہے صلی اﷲ تعالٰی علی النبی الکریم وآلہٖ افضل الصلٰوۃ والتسلیم، اور کوشش کرے کہ دعامیں آنسو نکلیں کیونکہ یہ بھی قبولیت کی علامت ہے، اگررونانہ آئے تورونے والی صورت بنائے کیونکہ جوکسی کی مشابہت اختیارکرتاہے وہ بھی انہی میں شمارہوتاہے پھرمجھے یہ پسند ہے کہ دعاء کے وقت بھی عراق کی طرف متوجہ رہے کیونکہ یہ جہت شفاعت والوں کی ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، لہٰذا اس دعامیں قبلہ کی طرف متوجہ نہ رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوجعفرمنصور خلیفہ ثانی خاندانِ عباسیہ نے ایک دفعہ حضرت امام مالک عالم مدینہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سوال کیاکہ میں قبلہ روہوکر دعاکروں یا حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف متوجہ رہوں، تو امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جواب دیا کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے اپنا چہرہ نہ پھیرے کیونکہ وہ تیرا اور تیرے باپ حضرت آدم علیہ السلام کاقیامت کے روز اﷲ تعالٰی کے دربار میں وسیلہ ہیں بلکہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف متوجہ ہوکر ان کوشفیع بنا اﷲ تیرے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا، جو شخص دلی یقین سے یہ دعا کرے گا اﷲ تعالٰی اس کی حاجت کوپورا فرمائے گا، بشرطیکہ عجلت سے کام لیتے ہوئے مایوسی کااظہار نہ کرے کہ میں نے دعا کی اور قبول نہ ہوئی۔ یہ دعا قبول ہوگی جبکہ اس میں گناہ یاقطع رحمی کاسوال نہ ہو۔
عـــــہ قال الفقیر احمد رضا غفراﷲ تعالٰی لہ ابنأناسراج الحنفیۃ عبدالرحمٰن بن عبداﷲ السراج المکی عن مفتی الحنفیۃ جمال بن عمرالمکی عن المولی عابدالسندی المدنی عن الشیخ صالح الفلّانی عن محمد بن سنۃ عن الشریف محمد بن عبداﷲ عن محمد بن ارکماش عن الحافظ ابن حجر العسقلانی عن ابی اسحٰق القنوجی عن ابی المواھب ربیع بن ابی عامر یحیی بن عبدالرحمٰن بن ربیع انا الحسن بن علی الغافقی اجازنا القاضی عیاض ثنا القاضی ابی عبداﷲ محمد بن عبدالرحمٰن الاشعری وابوالقاسم احمد بن بقی الحاکم وغیرواحد فیما اجازونیہ قالوا انا ابوعباس احمد بن عمر بن دلہاث نا ابوالحسن علی بن فھرابوبکر محمد بن احمد بن فرج ناابوالحسن عبداﷲ بن منتاب نایعقوب بن اسحٰق بن ابی اسرائیل ناابن حمید قال ناظر ابوجعفر امیر المؤمنین مالکا فذکر الحدیث، وفیہ و قال یااباعبداﷲ ما استقبل، الحدیث ۱۲منہ یحفظہ اﷲ تعالٰی ابدا۔(م)
عـــــہ: فقیراحمد رضا غفرلہ کہتاہے کہ مجھے خبردی حنفیوں کے چراغ عبدالرحمن بن عبداﷲ سراج مکی نے، انہوں نے حنفیوں کے مفتی جمال بن عمر مکی سے روایت کی، انہوں نے آقا عابدسندی مدنی سے، انہوں نے شیخ صالح فلّانی سے، انہوں نے محمدبن ارکماش سے، انہوں نے حافظ ابن حجر عسقلانی سے، انہوں نے ابواسحٰق قنوجی سے، انہوں نے ابومواہب ربیع بن ابی عامر یحٰیی بن عبدالرحمن بن ربیع سے، انہوں نے کہا کہ مجھے حسن بن علی غافقی نے خبردی، انہوں نے کہا کہ مجھے قاضی عیاض نے اجازت دی، انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی قاضی ابوعبداﷲ محمد بن عبدالرحمن اشعری اور ابوالقاسم احمد بن بقی حاکم وغیرہم نے مجھے اجازت دی اور انہوں نے فرمایا کہ ہمیں بیان کیا ابوعباس احمد بن عمربن دلہاث نے، انہوں نے کہا کہ مجھے بیان کیا ابوالحسن علی بن فہر ابوبکرمحمد بن احمد بن فرج نے، انہوں نے کہا مجھے بیان کیا ابوا لحسن عبداﷲ بن منتاب نے، انہوں نے کہا مجھے بیان کیا یعقوب بن اسحق بن ابی اسرائیل نے، انہوں نے کہا مجھے بیان کیا ابن حمید نے اور کہا کہ ابوجعفر امیرالمومنین نے امام مالک سے بحث کی اور پوری حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ ابوجعفر نے کہا اے ابوعبداﷲ (مالک) ! میں کس طرف منہ کروں، الحدیث۱۲منہ اﷲ تعالٰی اس کی حفاظت فرمائے۔(ت)
 (۱؎ کتاب الشفاء    فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     مطبوعہ مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ بلادعثمانیہ    ۲ /۳۵

نسیم الریاض شرح شفاء    فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۳۹۸)
فھذہ صفتھا واللفظ الکریم مکتوب فیھا بالحمرۃ، وما علیہ خط احمر فھو الذی بلغنا عن مشایخنا قدست اسرارھم، ومادون ذلک فھو من ھذا العبد الاثیم غفر اﷲ تعالٰی لہ ولیعلمن العارف ان ماذکرتہ لایرکن الی خلاف لذرۃ من الکلمات العلیۃ، ولافیہ علیھا زیادۃ اجنبیۃ، وانما ھو تصریح مطوی، اوتوضیح منوی، اوتبیین مجمل، اوتعیین افضل، معتمدا فی ذلک علی احادیث کثیرۃ، اشرت الیھا فی جمل یسیرۃ، یعرفھا الماھر کالشمس فی فیئ ، ویمرالغافل کأن لم یکن شیئ، فجاءت بحمداﷲ عروسا ملیحۃ، مکشوفۃ النقاب عن عوارضھا الصبیحۃ، بحلیتھا حلیتھا، ثم اجتلیتھا، فالحمدﷲ اولا واٰخرا، وباطنا وظاھرا، والماصول من لطف مولٰنا الشاہ محمد ابراہیم، وغیرہ من اخواننا القادریۃ سلمھم المولی الکریم، ان لاینسوا ھذا الفقیر فی صالح دعائھم ، غبّ ھذہ الصلٰوۃ وفی سائراٰنائھم ، ویسمحوا لہ بسؤال المغفرۃ، وکمال العافیۃ فی الدنیا والاٰخرۃ، والعبد یدعولہ ولھم، والدعاء یغنی عن ذروع (بضمتین قلعہا۱۲) واطم، لاسیما دعوۃ المسلم لاخیہ بظھر الغیب، طھرنا اﷲ جمیعا من کل عیب، ووقانا شرور الجھل والریب، وحشرنا طرّافی الامۃ المحمدیۃ، والجماعۃ المبارکۃ (اے جمیعا۱۲) السنیۃ السنۃ، والزمۃ الکریمۃ القادسۃ القادریۃ، انہ علی مایشاء قدیر، فنعم المولٰی ونعم النصیر۔
''صلٰوۃ الاسرار'' کا یہ طریقہ ہے (آپ کی طرف لکھی گئی تحریرمیں) اصل منقول الفاظ سرخ سیاہی سے لکھے گئے ہیں اور جن الفاظ پر سرخ خط ہے وہ الفاظ ہمیں اپنے مشائخ کرام سے پہنچے ہیں، ان کے علاوہ باقی الفاظ مجھ گنہگار بندے کے زائد کردہ ہیں، اور عارف شخص ضرور جانے کہ میرے ذکرکردہ الفاظ اصل کلمات کے ذرہ بھر خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کوئی اجنبی زیادتی ہے بلکہ یہ مخفی کی تصریح اور نیت میں مراد کی وضاحت ہے یاپھر مجمل کابیان یا افضل کی تعیین ہے اور یہ سب کچھ کثیر احادیث سے اخذکردہ ہے جن کی طرف میں نے مختصر جملوں میں اشارہ کیاہے جن کو ماہرخوب جانتاہے جس طرح دھوپ اور سایہ کی معرفت رکھتاہے اور غافل شخص کوئی توجہ کئے بغیر گزرجائے گا، الحمدﷲ، صلٰوۃ الاسرار کاطریقہ، دلکش دلہن جس کے خوبصورت رخسار سے نقاب اٹھایاگیاہو، کی طرح واضح طورپرحاصل ہوگیا، میں نے اس دلہن کو زیورات سے آراستہ کرکے مزید جلادی ہے، الحمدﷲ اولاً وآخراً، باطناً وظاہراً۔ مجھے مولانا شاہ محمدابراہیم (سائل) کی مہربانی سے توقع اور امید ہے کہ وہ اور دوسرے ہمارے قادری بھائی (اﷲ تعالٰی ان کوسلامت رکھے) اس صلٰوۃ الاسرار کوپڑھنے کے بعد کسی مرحلہ پربھی اس فقیر کو اپنی دعاؤں میں نہ بھولیں گے، اور اس کے لئے مہربانی فرماتے ہوئے مغفرت اور دنیا و آخرت میں عافیت کی دعاکریں گے، اور یہ بندہ بھی ان کے لئے دعاگو رہے گا، حقیقت یہ ہے کہ ہتھیاروں اور قلعوں سے دعامستغنی کردیتی ہے خصوصاً وہ دعا جو پس پشت مسلمان بھائی کے لئے کی جائے۔ میری دعاہے کہ اﷲ تعالٰی ہم سب کو ہرقسم کے عیب سے پاک فرمائے اور جہالت کے شروشک سے محفوظ فرمائے اور ہم سب کو اُمت محمدیہ میں اٹھائے ا ور اہل سنت وجماعت کی مبارک اور قیمتی جماعت اور سلسلہ کریمہ قادریہ میں شامل رکھے، اﷲ تعالٰی جو چاہتاہے اس پرقادر ہے پس وہ اچھا مددگار اور اچھا آقاہے۔
Flag Counter