| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
ولمثل ھذا ورد۴؎ فی الحدیث ''المتعبد بغیر فقہ کالحمار فی الطاحونۃ۱(آسیا)؎'' واکبر اثما منہ شیخہ الذی علمہ ھذا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ھذا ولیکن عند التخطی علی ھیأۃ الھیبۃ والخضوع والادب والخشوع، وانا احب ان یتخیل کانہ حاضر فی بغداد ومرقدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بین عینیہ وھو راقد فیہ مستقبل القبلۃ الکریمۃ والعبد یتعمد کرمہ فیرید ان یتقدم الیہ اذ یعتریہ الحیاء من قبل المعاصی فیقف حیران کانہ یستأذن ویستشفع الیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسعۃ جودہ و وببشری مقالتہ ''ان عــــہ لم یکن مریدی جیدا فانا جید۲؎،'' فبیناھوکذلک وھو رضی اﷲ تعالٰی عنہ ینظرالیہ و یعلم فقرہ وحیائہ اذ یجیئ الکرم العمیم فیشفع للعبد الاثیم فکانہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول ''اذنت لھذا الفقر المضطر ان یخطو الی تلک الخطوات،
ایسے ہی شخص کے بارے میں حدیث شریف میں آیاہے کہ بغیرعلم عبادت کرنے والا اس گدھے کی طرح ہے جو آٹے کی چکی میں جتاہو، ایساعمل کرنے والے سے بڑھ کر اس کا وہ شیخ مجرم ہے جس نے اسے یہ طریقہ بتایاہے، لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، اور قدم چلتے وقت خشوع، خضوع اور ادب وہیبت کی کیفیت ہونی چاہئے، اور مجھے یوں پسند ہے کہ اس وقت یوں خیال کرے کہ وہ بغداد شریف میں آپ کی مرقد شریف کے سامنے حاضر ہے اور اسے دیکھ رہاہے، اور یہ خیال کرے کہ حضور غوث اعظم اپنی قبرانور میں قبلہ رو سوئے ہوئے ہیں اور قدم چلنے والا بندہ آپ کے کرم پراعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھنے کاارادہ کئے ہوئے ہے مگر اپنے گناہوں کے پیش نظر آگے جانے میں حیاکرتے ہوئے حیران کھڑا ہوجاتاہے اور گویا اب آپ سے بڑھنے کی اجازت طلب کرتاہے او ر آپ سے شفاعت طلب کررہاہے کیونکہ آپ کاجودوسخا وسیع ہے اور آپ کی یہ بات بشارت ہے کہ ''اگرمیرامریدخوب نہیں میں توخوب ترہوں۔'' قدم بڑھانے والے کی اس کیفیت کو آپ دیکھ رہے ہیں اور اس کے فقروحیا کوجان کر آپ وسیع کرفرمائیں گے اور اس بندے گنہگار کی شفاعت فرمائیں گے، اور گویا یہ فرمائیں گے کہ میں اس فقیر تنگدست کو اپنی طرف قدم بڑھانے کی اجازت دیتاہوں،
(۱؎ حلیۃ الاولیاء عنوان ۳۱۸ خالد بن معدان عن واثلۃ بن الاسقع مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۵ /۲۱۹) (۲؎ بہجۃ الاسرار ومعدن الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشرٰھم مطبوعہ البابی مصر ص۱۰۰)
عـــــــہ۴ اخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ومثلہ قول علی کرم اﷲ وجہہ قصم ظھری اثنان جاھل متنستک وعالم متھتک نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ۱۲(م)
عـــــــہ اس کی تخریج امام ابونعیم نے واثلہ بن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اپنی کتاب حلیہ میں کی ہے، اور ایسا ہی ایک قول حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی ہے کہ دوچیزوں نے میری کمر توڑدی ہے ایک جاہل عامل نے اور دوسرے متشدّد عالم نے۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت کے خواستگارہیں۱۲(ت)
عـــــہ:اخرج الامام الشنطوفی روح اﷲ تعالٰی روحہ فی بھجۃ الاسرار عن الشیخ القدوۃ ابی الحسن علی القرشی قال قال سیدی الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اعطیت سجّلامدالبصر فیہ اسماء اصحابی ومریدی الی یوم القٰیمۃ وقیل لی قدوھبوالک وسألت مالکا خازن النار ھل عندک من اصحابی احدا فقال لاوعزۃ ربی و جلالہ ان یدی علی مریدی کالسماء علی الارض ان لم یکن مریدی جیدا فانا جید وعزۃ ربی و جلالہ لابرحت قدمای من بین یدی ربی حتی ینطلق بی وبکم الی الجنۃ ۱؎ اھ والحمدﷲ رب العٰلمین الکرم عمیم والرجاء عظیم ۱۲منہ (م)
عـــــــہ امام شنطوفی نے بہجۃ الاسرار میں شیخ امام ابوالحسن علی قرشی سے تخریج فرمائی ہے کہ میرے آقا حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مدِّبصر تک دراز ایک دفتر مجھے عطاکیاگیا جس میں میرے ساتھیوں اور مریدین کے نام ہیں جوقیامت تک میرے سلسلے میں داخل ہوں گے مجھے کہاگیا یہ آپ کی ملکیت ہے، اور میں نے جہنم کے خازن فرشتے سے پوچھا کہ کیا تیرے پاس میرے اصحاب میں سے کوئی ہے؟ تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر حضورغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مجھے رب ذوالجلال کی عزت کی قسم کہ تمام مریدین پر میر اہاتھ ایسے ہے جیسے زمین پرآسمان سایہ فگن ہے۔اور فرمایا: اگر میرا مرید خوب نہیں تومیں خوب ترہوں،اور رب ذوالجلال کی عزت کی قسم میں اس وقت اﷲ تعالٰی کے دربار سے حرکت نہ کروں گا جب تک مجھے اور تم سب کوجنت کاپیغام نہ مل جائے گا، الحمد ﷲ رب العٰلمین الکریم ۱۲منہ (ت)
(۱؎ بہجۃ الاسرار ذکرفضل اصحابہ وبشراہم مصطفی البابی مصر ص۱۰۰)
ویذکرفیھا اسمی ولایخشی المعاصی عندی فانی انا ضمینہ وکفیل مھماتہ فی الدنیا والاٰخرۃ'' فینشط العبد ویتقدم علی اقدام الوجد قائلا علی کل خطوۃ یاغوث الثقلین ویاکریم الطرفین فانہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حسنی الاب حسینی الام اغثنی وامددنی فی قضاء حاجتی یاقاضی الحاجات ثم لیدع اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی متوسلا الیہ بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم بجاہ ابنہ ھذا السید الکریم غوثنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ولیراع اٰداب الدعاء المذکورۃ فی کلمات العلماء کالحصن الحصین وغیرہ ومن احسن من فضلہا وجمع شتاتھا مقدام المحققین امام المدققین العالم الربانی سیدی ووالدی(عہ)قدس سرہ الزکی فی کتابہ الشریف ''احسن الوعالاٰداب الدعاء'' وقد لخصھا تلخیصا حسنا فی باب الحج من کتابہ ''المستطاب جواھر البیان فی اسرار الارکان'' ولیبدأ بیاارحم الراحمین ثلثا فان من قالہ ناداہ ملک موکل بہ ان ارحم الراحمین قد اقبل علیک وبیا بدیع السمٰوٰت والارض یاذالجلال والاکرام فانہ اسم اﷲ الاعظم علٰی قول،
یہ چلتے ہوئے میرا نام ذکرکرے اور میرے پاس آکر اپنے گناہوں کافکر نہ کرے کیونکہ میں دنیاوآخرت میں اس کی مشکلات کا کفیل اور ضامن ہوں، توبندہ یہ سن کر خوشی کااظہار کرتے ہوئے آگے بڑھتاہے اور ہرقدم پروجدانی کیفیت میں یاغوث الثقلین، یاکریم الطرفین، پکارتا ہے (کریم الطرفین اس لئے کہ آپ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی ہیں) اور کہتاہے میری حاجت براری میں میری مدد کرو اے حاجات کو پورا کرنے والے، اس کے بعد اﷲ تعالٰی سے حضورعلیہ السلام اور ان کے صاحبزادے (غوث اعظم) کے وسیلے سے دعا کرے، مذکورہ دعامیں ان آداب کا خیال رکھے جو علماء کرام نے ذکرفرمائے جیسا کہ ''حصن حصین'' وغیرہ کتب میں مذکورہے۔ مختلف دعاؤں کوجمع کرنے اور فضیلت بیان کرنے والوں میں میرے والدگرامی نے اپنی کتاب ''احسن الوعاء لآداب الدعا'' میں بہترین دعاؤں کو ذکرفرمایا ہے اور پھر ان کاخلاصہ محققین کے امام مدققین کے پیشوا، عالم ربانی، میرے آقا والدگرامی قدرقدس سرہ نے اپنی بہترین کتاب ''جواہرالبیان فی اسرارالارکان'' کے باب الحج میں بیان فرمایا اور دعا کی ابتداء میں ''یاارحم الراحمین'' تین مرتبہ کہے، کیونکہ جو شخص یہ کہتاہے تو اس کو فرشتے جواب میں کہتے ہیں کہ بیشک ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہے اور ''یابدیع السمٰوٰت والارض یاذالجلال والاکرام'' بھی ابتداء میں پڑھے کیونکہ ایک قول کے مطابق یہ ''اسم اعظم'' ہے،
عـــہ ھوالبحرالزاخر، البدرالباھر،النجم الزاھر، حامی السنن، ماحی الفتن، العالم العامل، الفاضل کامل، الحاج الزائر، الجامع المفاخر مولٰنا المولوی محمد نقی علی خان المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی اجل خلفاء حضرۃ شیخنا ومرشدنا بحر الرحمۃ مولی النعمۃ حضرۃ السید الشاہ آل الرسول الاحمدی مارھری قدس اﷲ تعالٰی سرھما وافاض علینا برّھما، ولدرحمہ اﷲ تعالٰی ستھل رجب ۱۲۴۶ھ ونشأفی حجر العلم والعرفان تفقہ علی ابیہ الفاضل الاجل العارف الاکمل مولٰنا المولوی محمد رضا علی خاں قدس سرہ وصنّف تصانیف جلیلۃ تاقت خمسۃ وعشرین من اجلھا ھذا الکتاب ''جواھرالیبان'' الذی لم یرمثلہ فی بابہ والتفسیر الکبیرۃ لسورۃ الانشراح وسرور القلوب فی ذکر المحبوب واصول الرشاد لقمع مبانی الفساد واذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام وغیرذلک توفی سلخ ذی القعدۃ ۱۲۹۷ھ رحمہ اﷲ تعالٰی رحمۃ واسعۃ (م)
عـــہ یہ گہراسمندر، روشن چاند، چمکنے والاستارہ، سنت کی حمایت والااور فتنوں کومٹانے والا، عالم باعمل، کامل فاضل الحاج اور مدینہ منورہ کی زیارت والا، فخرکاجامع، مولانا مولوی محمد نقی علی خان محمدی، سنی، حنفی، قادری، برکاتی، بریلوی، خلیفہ اجل حضرت ہمارے شیخ، مرشد، رحمت کے دریا، نعمت کے مالک، حضرت شاہ آل رسول احمدی مارہروی (قدس اﷲ سرہما) اﷲ تعالٰی ان کی بھلائی کاہم پرفیضان فرمائے، آپ کی پیدائش ابتدائے رجب ۱۲۴۶ھ میں ہوئی، انہوں نے علمی اور عرفانی ماحول میں پرورش پائی اور اپنے والد فاضل اجل، عارف اکمل، مولانا مولوی محمدرضاعلی خاں قدس سرہ سے علم حاصل کیا، اور ۲۵کے قریب تصنیفاتِ جلیلہ تصنیف فرمائیں، اوران کتب میں سے یہ کتاب ''جواہرالبیان'' بے مثل ہے، اور ایک سورہ الم نشرح کی تفسیرفرمائی ہے، اور ایک سرورالقلوب فی ذکرالمحبوب، اور ایک اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد، اور اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرذلک ہیں، اور آپ کی وفات آخرذیقعدہ ۱۲۹۷ھ میں ہوئی، رحمۃ اﷲ علیہ رحمۃ واسعۃ (ت)