Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
141 - 158
ثم یصلی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احدی عشرۃ مرۃ اذلایستجاب دعاء الابالصلٰوۃ علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وامر بالسلام احرازاللفضلین واحتراز اعن الخلاف فان من العلماء من کرہ الافراد ثم العبد یختار ھھنا الصلٰوۃ الغوثیۃ المرویۃ عن سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وھی اللھم صل علی (سیدنا عـــہ ومولٰنا) محمد معدن الجود والکرم واٰلہ وسلم والعبد یقولھا ھکذا اللھم صل علی سیدنا ومولٰنا محمد معدن الجود والکرم واٰلہ الکرام وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ یااکرم الاکرمین وبارک وسلم ثم لیتوجہ بقلبہ الی المدینۃ الطیبۃ ولیقل احدی عشرۃ مرۃ یارسول اﷲ یانبی اﷲ اغثنی واَمْدِدْنی فی قضاء حاجتی یاقاضی الحاجات،
اور پھر آخر میں نبی  پاک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پردرودوسلام گیارہ مرتبہ پڑھے کیونکہ درود شریف کے بغیر کوئی دعاقبول نہیں ہوتی اور سلام کابھی حکم ہے تاکہ دونوں کی فضیلت ہوجائے۔ اور بعض علماء نے دونوں میں سے ایک پراکتفاء مکروہ قراردیاہے اس لئے دونوں کوملاکر پڑھنے سے اس خلاف سے بچے گا۔ پھرمجھ بندہ کو یہاں درودغوثیہ جو آپ سے مروی ہے پسندیدہ ہے اور وہ یہ ہے : اے اﷲ ! ہمارے آقا و مولٰی محمد جودوکرم کی کان پررحمت نازل فرما اور آپ کی آل پر، اور سلامتی نازل فرما۔ جس کو یہ بندہ یوں پڑھتاہے: اے اﷲ! ہمارے آقاومولٰی محمد جودوکرم کی کان پر اور آپ کی برگزیدہ آل اور کریم بیٹے اور برگزیدہ امت پرصلوٰہ وسلام فرما، اے برگزیدوں کے برگزیدہ، اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف دلی توجہ کرکے گیارہ مرتبہ یوں پڑھے: یارسول اﷲ یانبی اﷲ! میری مدد کرو، اور اے حاجات پوری کرنے والے! میری حاجت کے پوراہونے میں مدد فرماؤ۔
عــــہ اعلم ان لفظہ سیدنا ومولانا من زیادات للفقیرعلی مابلغنا عن مشایخنا وقدزاد امیرالمؤمنین عمروابنہ عبداﷲ

رضی اﷲ تعالٰی عنھما علی تلبیۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واجاز العلماء زیادۃ السیادۃ فی الصلٰوۃ کما فی ردالمحتار فکیف فی غیرھا وقصۃ الترکی فی قرأۃ دلائل الخیرات معلومۃ والولایۃ مثل السیادۃ ۱۲(م)

عــــــہ سیدنا ومولانا کالفظ اس فقیر نے بڑھایاہے، یہ لفظ ہمارے مشائخ کانہیں، یہ اضافہ جائز ہے جیسا کہ امیرالمومنین عمرفاروق اور ان کے صاحبزادے عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے تلبیہ کے الفاظ میں زائد الفاظ شامل کئے، اور ہمارے علماء نے بھی درودشریف میں ''سیدنا'' کالفظ بڑھایا جیسا کہ درمختار میں ہے تو اس کے غیرمیں بھی جائز ہوگا، نیز دلائل الخیرات میں ترکی کاقصہ معلوم ہے جبکہ ولایت بھی سیادت کے معنی میں ہے۱۲(ت)
ثم یخطو الٰی جھت العراق وھو من بلادنا بین الشمال والمغرب افادہ سیدی حمزۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھی ایضا جھۃ المدینۃ المنورۃ وکربلاء والعبد الضعیف قداستخرج جھۃ حضرۃ بغداد من بلدتنا بریلی بالمؤامرۃ البرھانیۃ علی ان عرضہالحصہ ک عــ۱ــہ وطولھا مدعــ۲ـــہ لح وعرض بریلی الح ص عـــہ۱ کا وطولہا عط حہ عـ۲ـہ عط الرفجاء الانحراف الشمالی اعنی من نقطۃ المغرب الی نقطۃ الشمال لح ص (عہ۳) لح فیستخرج خط الزوال ویقیم علیہ عمود الی المغرب ویدیر علیھما قوسا بجعل راس القائمۃ مرکزا فیجزّیھا اخماسا(عہ۴) ویصل خطابین الراس والخمس الاول مما یلی المغرب فھذا الخط ھو سمت حضرۃ بغداد اما المدینۃ الکریمۃ فاربع درج اعنی ححہ نر من نقطۃ المغرب الی الشمال علی مااستخرجت بعدۃ طرق برھانیۃ احدی عشرۃ خطوۃ معتدلۃ معتادۃ فانہ المتبادر من الکلام لامایفعلہ بعض العوام من انھم لایرفعون قدما ولایخطون خطوۃ وانما یتقدمون کل مرۃ نحو ثلاث اصابع اواربع فلیس ھذا من الخطوۃ فی شیئ وانما امرنا بالخطا فالعدول عنہا بدون ضرورۃ عین الخطانعم ان کان فی مضیق لایجد مساغا للخطوات المعہودۃ ولاالخروج الی مندوحۃ فلیأت بما استطاع واشد شناعۃ من ھذا مارأیت بعضھم من انہ یصلی رکعتین حتی اذا کان فی اٰخرقرأۃ الاخری انحرف الی العراق فتخطی، ثم عاد الی مکانہ فتوجہ نحوالقبلۃ واتم الصلٰوۃ ولایدری المسکین ان ھذا مع مخالفتہ للوارد(عہ۱) مفسد(عہ۲) لصلٰوتہ وابطال العمل حرام ثم النفل یجب بالشروع فیلزمہ القضاء وھو لایریدہ ولایدری بہ فیأثم مرتین(عہ۳)،
پھر عراق کی طرف قدم بڑھائے اور ہمارے ہاں عراق شمال مغرب میں ہے یہ میرے آقا حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بیان کیاہے اور یہی مدینہ منورہ اور کربلا معلی کی جہت ہے اور اس عبدضعیف نے اپنے علاقہ بریلی سے دربار بغداد کی جہت جیومیٹری کی بنیاد پرمتعین کی ہے یوں کہ بغداد کاعرض لح ک اور اس کا طول مدلح اور بریلی کا عرض الح صہ اور اس کا طول عط الر ہے۔ اس سے شمالی انحراف یعنی نقطہ مغرب سے نقطہ شمال کی طرف لحصہ لح حاصل ہوا، اب خط زوال نکال کہ راس پرقائمہ کی صورت میں عمود، مغرب کی طرف کھینچاجائے اور خط زوال اور عمود پرقوس اس طرح بنایاجائے کہ رأس القائمہ کو مرکز قراردیاجائے اور قوس کے پانچ جز بنائے جائیں ا اور را س القائمہ اور مغرب کی طرف سے پہلے خمس کوخط کے ذریعے ملایاجائے تو یہ خط دربار بغداد کی جہت ہوگی۔ لیکن مدینہ منورہ نقطہ مغرب سے شمال کی جانب چاردرجے ہے
7_3.jpg
جیسا کہ میں نے جامیٹری کے متعددطریقوں سے معلوم کیاہے بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم عادت کے مطابق درمیانے قدم چلے کیونکہ کلام سے یہی سمجھاجارہاہے اور بعض عوام کی طرح نہ کرے کہ وہ قدم چلنے کی بجائے ہرمرتبہ صرف تین یاچارانگشت آگے بڑھتے ہیں حالانکہ یہ قدم کافاصلہ نہیں کہلاتا، جبکہ ہمیں گیارہ قدم کے بارے میں حکم ہے اس لئے بغیر ضرورت اور بلاعذر اس حکم سے عدول نہیں کرناچاہئے، اور یہ عدول غلط ہے۔ ہاں اگرعذر ہو مثلاً جگہ تنگ ہو اور پورا قدم چلنے کی گنجائش نہ ہو اور کھلی جگہ نہ ملے تو پھر حسب گنجائش قدم کافاصلہ بنائے، اور اس سے بڑھ کر قابل اعتراض وہ صورت ہے جو میں نے بعض جہال کوکرتے دیکھا کہ وہ دورکعت پڑھتے ہوئے دوسری رکعت کی قرأت کے آخر میں نماز میں ہی عراق کی طرف منہ پھیرکر چلتے ہیں اور گیارہ قدموں کے بعد پھر واپس پہلی جگہ پر لوٹ کر قبلہ رو ہوجاتے ہیں اور پھرنماز کومکمل کرتے ہیں، ان غریبوں کویہ معلوم نہیں کہ یہ طریقہ مرویہ کے خلاف بھی ہے اور اس سے نمازبھی فاسد ہوجاتی ہے، حالانکہ عبادت کوشروع کرکے توڑنا حرام ہے۔ چونکہ نفل ہیں اور نفل شروع کرنے سے لازم ہوجاتے ہیں اس لئے ان پردورکعتوں کی قضالازم ہے، جبکہ اسے مسئلہ معلوم ہی نہیں توقضا کیاکرے گا لہٰذ اس کو دوہراگناہ ہے۔
عـــــہ۱: ثلاث وثلاثون درجۃ وثلث ۱۲(م)
عـــــہ:تینتیس درجے اور ایک ثلث ۱۲ (ت)
عـــہ (۲) اربع واربعون درجۃ وثمان وعشرون دقیقۃ ۱۲(م)
 عـــــہ چوالیس درجے اور ۲۸ دقیقے (ت)
عـــــہ۱:ثمان وعشرون درجۃ واحدی وعشرون دقیقۃ ۱۲(م)
عـــــہ۲۸درجے اور ۲۱دقیقے ۱۲(ت)
عـــہ (۲) تسع وسبعون درجۃ وسبع وعشرون دقیقۃ من قرنیص مرصد لندن ۱۲(م)
 عـــــہ۷۹درجے اور ۲۷دقیقے، لندن کی قرنیص رصدگاہ سے ۱۲(ت)
عــــہ (۳) ثمانی عشرۃ درجۃ ومثلھا الدقائق ۱۲(م)
عـــــہ۱۸درجے اور ۱۸دقیقے ۱۲(ت)
عــــــہ(۴) اقتصر عی التخمیس لعدم الحاجۃ الی تدقیق الدقائق مع فیہ من الدقۃ ۱۲(م)
عـــــہ پانچ حصوں کوبیان کیاہے کیونکہ دقیقے بنانے میں دقّت ہے ۱۲(ت)
عــــــہ(۱) فی صفۃ ھذہ الصلٰوۃ عن سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما سمعت۱۲(م)
عـــــہ اس نماز کو غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بیان کردہ طریقہ میں جیسا کہ میں نے سنا ہے ۱۲(ت)
عــــہ(۲) لان المشی عمل کثیر ۱۲(م)
عـــــہ کیونکہ چلنا، کثیر عمل ہے ۱۲(ت)
عـــــہ (۳) اثم الابطال حاضر الوقت واثم ترک القضاء یظھر عندالموت، والعیاذ باﷲ تعالٰی ۱۲(م)
عـــــہ ایک جاری عبادت کوتوڑنا وقتی گناہ اور دوسراگناہ قضا کاترک جوموت کے وقت ظاہرہوگا العیاذباﷲ تعالٰی ۱۲(ت)
Flag Counter