| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
قلت : وفرجت وقضیت تحتملان صیغۃ المجہول لواحدۃ غائبۃ، وصیغۃ المعلوم للواحد المتکلم وعلی ھذہ ترجمۃ الشاہ ابی المعالی رحمہ اﷲ تعالٰی فی التحفۃ القادریۃ، وایاما کان فالحاصل واحد، اولٰھما تحتمل الحقیقۃ الباطنۃ الذاتیۃ (عہ۱) والظاھرۃ (عہ۲) المستفادۃ، والاخری تتعین للاخیر والمرجع ماذکرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اٰخر بقولہ قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ ان الٰی ربک المنتھٰی،
قلت : ''فرجت'' اور ''قضیت''
دونوں صیغے، واحدغیب مونث مجہول اور واحدمتکلم معلوم بن سکتے ہیں، اور شاہ ابوالمعالی نے ''تحفہ قادریہ'' میں واحد متکلم معلوم کاترجمہ فرمایاہے (یعنی میں اس کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کروں گا) بہرحال جوبھی صیغہ ہو ماحصل ایک ہے کیونکہ پہلاصیغہ ہو تو یہ اﷲ تعالٰی کی طرف سے ذاتی باطنی حقیقت کااحتمال ہے جبکہ دوسرا صیغہ، ظاہری حاصل کردہ حقیقت کامعین احتمال ہے لیکن وہ ہے جس کو خود حضورغوث اعظم نے بعد میں یوں ذکرفرمایا ہے کہ ''اﷲ تعالٰی اس کی حاجت پوری کرے گا کیونکہ تیرے رب کی طرف ہرچیز کی انتہی ہے''۔
عـــــہ : وھی التی تثبت بالذات من دون عطاء ولاالاستناد الی جعل وھذا مختص بصفات اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی فحسب ۱۲(م) عـــــہ : یہ بالذات ثابت ہے عطاء اور جعل کی طرف منسوب نہیں، اور یہ صرف اﷲ تعالٰی کی صفات سے مختص ہے اور بس۱۲۔ (ت)
عـــــہ وھی التی حصلت بالعطاء ولاثبوت لھا الابالجعل وکذا جمیع صفات المخلوق کالعلم والقدرۃ والعطاء والعون حتی الوجود۱۲(م) عـــــہ یہ صرف عطاء سے حاصل ہے اس کا ثبوت اللہ تعالی کے عطا فرمانے پر جیسا کہ مخلوق کی تمام صفات ہیں مثلا انسان کا علم ، قدرت ، عطا ، امداد حتی کہ مخلوق کا وجود بھی عطائی ہے ۱۲(ت)
ثم ان لمشایخنا قدست اسرارھم ورحمنا اﷲ تعالٰی بھم فی ھذا الصلٰوۃ طریقتین، صغرٰی، وکبرٰی، والمعمول عندنا الاسھل الاشمل من حیث السوغ لکل احد من دون الاختصاص بالقائمین فی مجالی الشھود الھائمین فی فیافی الوجود ھی الطریقۃ الانیقۃ الصغری، صفتھا بحیث یکون کالشرح لللفظ الکریم ویتضمن مختارات ھذا العبد الاثیم، ان من عرضت لہ حاجۃ دینیۃ اودنیویۃ صلی بعد صلٰوۃ المغرب بسنتھا رکعتین من غیرفریضۃ ناویا صلٰوۃ الاسرار تقربا الی اﷲ تعالٰی و ھدیۃ لروح سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وان جددلھما الوضوء فھو اضوء، وقدعھدنا ذلک من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی صلٰوۃ الحاجۃ، والا فھوبسبیل من الرخصۃ فان توضأ فلیحسن وضوءہ ھکذا امرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ذلک المکفوف بصرہ ۔
پھرہمارے مشائخ (رحمہم اﷲ تعالٰی اور ان کے سبب ہم پررحم فرمائے) نے اس نماز کے بارے میں دوطریقے بتائے ہیں، ایک مختصر اور دوسراطویل ہے، اور ہمارے ہاں جومروّج ہے وہ آسان اور جامع اورہرایک کے مناسب ہے یہ مرتبہ شہود پر فائز لوگوں یامرتبہ وجود میں طالبین کے لئے مخصوص نہیں، یہ بہترین طریقہ اختصار والاہے، اس کا طریقہ ایسا ہے جوخود لفظ (صلٰوۃ الاسرار) کی شرح جیسا ہے اور اس عاجز بندے کاپسندیدہ ہےکہ جس شخص کوکوئی حاجت درپیش ہوخواہ وہ دینی ہو یا دنیوی، تووہ مغرب کی نماز کے بعد سنتوں کے ساتھ دورکعت ''صلٰوۃ الاسرار'' کی نیت سے اﷲ تعالٰی کی قربت اور حضور غوث اعظم کی روح کو ہدیہ کے لئے پڑھے، اور اگر اس کے لئے نیاوضوکرے تویہ نورہوگا کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک نابینا کو یہ فرمایاتھا، ورنہ نیاوضو ضروری نہیں،
واحب الی ان یقدم عـــــہ صدقۃ فانھا اسرع فی الانجاح واسد لابواب البلاء وقدامر اﷲ تعالٰی من یناجی رسولہ
ان یقدموا بین یدی نجوٰھم صدقۃ،
فنجوی اﷲ احق مع ان ھٰذہ الصلٰوۃ تشتمل علی نجوی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایضاً، والوجوب وان نسخ رحمۃ من اﷲ تعالٰی فلامریۃ فی الاستحباب ھذا یقرأ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ فھو احسن حتی اذا سلم حمداﷲ تعالٰی واثنی علیہ بماھو اھلہ، والافضل الصیغ عـــــــہ الواردۃ عن النبی صلی اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ لایقدر احدان یحمد الاحدکحمد احمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن احسنھا اللھم ربنالک الحمد حمد اکثیر اطیبا مبٰرکا فیہ کما تحب ربنا وترضی ملأ السمٰوٰت وملأ الارض وملأ ماشئت من شیئ بعد، ومنھا اللھم لک الحمد حمدا دائما مع دوامک ولک الحمد حمدا خالدا مع خلودک ولک الحمد حمد الامنتھی لہ دون مشیتک ولک الحمد حمداً دائماً لایرید قائلہ الارضاک ولک الحمد حمداً عند کل طرفۃ عین وتنفس کل نفس، ومنھا اللھم لک الحمد کما ینبغی لجلال وجہک وعظیم سلطٰنک ومنھا اللھم لک الحمد شکراً ولک المن فضلا، ومنھا اللھم لک الحمد کما تقول وخیرا ممانقول الی غیرذلک مما وردت بہ الاحادیث فلیجمعھا اولیکتف ببعضھا، ویعجبنی ان یختمھا بقولہ اللھم لااحصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک فانہ من اجمع حمد واوسع ثناء علیہ سبحنہ وتعالٰی ومن لم یحسن من ذلک شیأ فلیقل الحمد ﷲ ثلثا اولیقرء الفاتحۃ اواٰیۃ الکرسی بنیۃ الثناء فلایجدن ثناء افضل منھا،
مجھے تویہ پسند ہے کہ صلٰوۃالاسرار پڑھنے سے پہلے کوئی صدقہ کرے کیونکہ یہ عمل کامیابی جلدی لاتاہے اور مصیبتوں کے دروازوں کو خوب بند کرتاہے جبکہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے مناجات کیلئے پہلے صدقہ دینے کو اﷲ تعالٰی نے حکم دیا، تو اﷲ تعالٰی سے مناجات میں اور زیادہ بہترہے باوجودیکہ اس نماز میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے بھی مناجات موجود ہے، اگرچہ اس صدقہ کاوجوب منسوخ ہوچکا ہے جس میں اُمت کی آسانی ہے مگراستحباب کے طور پر جوازمیں کوئی شک نہیں ہے، اس نماز میں فاتحہ کے بعد کوئی آسان سورت پڑھے بہترہے کہ سورہ اخلاص گیارہ بارپڑھے تو بہت اچھاہے، نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اﷲ تعالٰی کی حمدوثنا اس کی شان کے مطابق بجالائے اوراس میں بہتر وہ الفاظ ہیں جو حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے بطور حمدوثنا پڑھے ہیں کیونکہ حضورعلیہ السلام سے بڑھ کر بہترحمد اور اچھی ثنا کوئی نہیں کرسکتا، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیان کردہ بہترین محامد میں ایک یہ ہے: اے اﷲ! ہمارے رب! تیرے لئے کثیر، طیب، مبارک حمد جیسے تجھے پسند ہے اور تو راضی ہے، زمینیں اور آسمان اور ہروہ چیز بھرکر جس کوتوچاہے اور ان میں سے ایک اوریہ ہے : اے اﷲ! تیرے لئے دائمی حمد جیسا کہ تیرا دوام ہے اور تیری حمد جوباقی رہنے والی ہو تیری بقاء کے ساتھ، تیری ایسی حمد جوتیری مشیت کے بغیرختم نہ ہو اور ایسی دائمی حمد جس کو بیان کرنے والا صرف رضاکا طالب ہو، اور تیرے لئے ایسی حمد جوآنکھ کی ہرپلک اورہرسانس کے وقت ہو، اور ایک اور یہ ہے: اے اﷲ! تیرے لئے تیری ذات کے جلال اور تیری عظیم سلطنت کے شایان شایان حمد ہو، او ر ایک یہ ہے: اے اﷲ ! شکربجالانے کے لئے تیری حمد اور تیرااحسان وفضل ہے اور ایک یہ ہے اے تیرے لئے وہ حمد جوتونے فرمائی اور وہ بہتر جوہم کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگرجواحادیث میں مروی ہیں سب کو یابعض کو پڑھے۔ اور مجھے توپسند ہے کہ آخر میں یہ حمد پڑھے: اے اﷲ! میں تیری ثناء کوبجانہیں لاسکتا جس طرح تونے خود اپنی ثنائی فرمائی ہے کیونکہ یہ حمد بہت جامع اور وسیع ہے۔ اور اگرکسی مذکورہ محامد میں سے کوئی حمد یادنہ ہو تو تین بار الحمد ﷲ پڑھ لے یاسورہ فاتحہ یاآیۃ الکرسی حمدوثنا کی نیت سے پڑھے، ان سے بہترثناء نہ پاؤگے،
عــــــہ الافضل الاسرار بنص القراٰن وھی تقی مصارع السوء کمافی الحدیث وفضائلھا اکثرمن ان تحصی والاحسن ان یتصدق بزوجین بفضل ذلک ورد حدیث وفلسان زوجان وخبزان زوجان ومن لم یجد فودعتان زوجان والودعۃ خرمھرہ (م) عــــــہ : صدقہ میں افضل یہ ہے کہ پوشیدہ دے کیونکہ قرآن کا یہ حکم ہے، اور یہی برے احتمال سے بچاؤ ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان کیاگیاہے اور اس میں بہت زیادہ فضیلت ہے اور بہتریہ ہے کہ صدقہ میں جو دے، دو کی تعداد دے، دوپیسے، دوروٹیاں، اگراور کچھ نہ پائے توکم ازکم دوخرمہرے دے۱۲(ت)
عـــــہ کقولہ اللھم لک الحمد حمد ایوافی نعمک ویکافیئ مزید کرمک وقولہ اللھم لک الحمد انت قیم السمٰوٰت والارض ومن فیھن ولک الحمد انت ملک السمٰوٰت والارض ومن فیھن ولک الحمد انت نورالسمٰوٰت والارض ومن فیھن وملک الحمد وقولہ اللھم لک الحمد فی بلائک وصنیعک الی خلقک ولک الحمد فی بلائک وصنیعک الی اھل بیوتنا ولک الحمد فی بلائک وصنیعک الی انفسنا خاصۃ ولک الحمد بما ھدیتنا ولک الحمد بما اکرمتنا ولک الحمد بما سترتنا ولک الحمد بالقراٰن ولک الحمد بالاھل والمال ولک الحمد بالمعافاۃ ولک الحمد حتی ترضی ولک الحمد اذا رضیت یااھل التقوی واھل المغفرۃ الی غیرذلک من صیغ کثیرۃ۱۲ منہ(م) عہ : اور جیسے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے منقول ہے اے اﷲ! تیرے لئے ایسی حمدجوتیری نعمتوں کے برابرہو اور مزید کرم کوکفایت کرے، اور حضور کاارشاد کہ تیری حمد کہ توآسمانوں اور زمین کا نگران ہے اور تیری حمد کہ توآسمانوں اور زمین اور ان میں ہرچیز کامالک ہے، اور تیری حمد کہ توزمین اور آسمانوں اور ان میں ہرچیز کانورہے اور مالک حمدہے۔ اور آپ کایہ قول: اے اﷲ! تیری مخلوق کے لئے تیرے امتحان اور تیرے حکمت والے عمل پرتیری حمد۔ ہمارے گھروالوں کے لئے امتحان اور تیری کارسازی پرحمد۔ اور خاص ہماری جانوں میں تیرے امتحان وکارسازی پرحمد۔ ہمیں مستورکرنے پرتیری حمد، قرآن سے تیری حمد اہل ومال دینے پر، عافیت دینے پر تیری حمد، حتی کہ توراضی ہوجائے، تیرے لئے حمد ہے جب توراضی ہو، اے تقوٰی اور مغفرت والو۔ اور ان جیسے دیگرالفاظ کثیرہ سے حمد پڑھے۱۲منہ (ت)