Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
139 - 158
ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)
(صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول)

(نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۵
شکرالک یامن بالتوسل الیہ یغفر کثرالذنوب، وحمدالک یامن بالتوکل علیہ یجبرکسرالقلوب، اسألک ان تصلی وتسلم وتبارک علی سراج افقک، وملجأ خلقک، وافضل قائم بحقک، المبعوث بیتیسرک ورفقک، رحمۃ للعٰلمین، وشفیعا للمذنبین، وامانا للخائفین، ویسراًللبائسین(سخت حاجت مند۱۲)، وبشری للاٰئسین(باامیداں۱۲)، محمدن النبی الرؤف الرحیم، الجواد الکریم، العلی العلیم، الغنی الحی الحکیم الحلیم، ومصحح الحسنات، مقیل العثرات، قاضی الحاجات، واھب المرادات، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہ الطاھرین، واصحابہ الظاھرین وازواجہ الطیبات امھات المؤمنین، واولیاء امتہ الکاملین العارفین، وامناء ملتہ الراشدین المرشدین، لاسیما علی ھذا الفرد الفرید، الغوث المجید، الغیث المجید، واھب النعم، سالب النقم، کاسب العدم، صاحب القدم جودالجود وکرم الکرم، ملاذالعرب ومعاذالعجم، مناح العطایا، مناع الرزایا، القطب الربانی، الغوث الصمدانی، سیدنا ومولٰنا ابی محمد عبدالقادر الحسنی الحسینی الجیلانی، رضی اﷲ تعالٰی عنہ و ارضاہ، وجعل حرزنا فی الدارین، اٰمین اٰمین، یاارحم الراحمین، واشھدان محمداً عبدہ ورسولہ بالرحمۃ ارسلہ، صلوات اﷲ وسلامہ علیہ، وعلی کل محبوب ومرضی لدیہ، امابعد فقدسألنی الفاضل الکامل، جمیل الشمائل، جامع الفضائل، والفخرالجسیم، والشرف العظیم، مولانا الشاہ محمدابراہیم القادری المدراسی الحیدراٰبادی، جعلہ اﷲ من اولی الایادی، وحفظہ من شرالعادی، اجازۃ الصلٰوۃ الغوثیۃ، المبارکۃ المرضیۃ، المعروف عندنا بصلٰوۃ الاسرار، المجربۃ مرارالقضاء الاوطار، ودفع 

الاشرار، تحسین ظن منہ بھذا العبد الظلام، الکثیر الاثام، الفقیر الاذل، الحقیر الارذل، عبدالمصطفٰی احمدرضا، المحمدی السنی الحنفی، القادری البرکاتی البریلوی، لطف اﷲ بہ، وعفا عن ذنبہ، واصلح عملہ، وحقق املہ، مع انی لست ھنالک، ولا اھلا لذلک، لکنی اجبتہ بالانقیاد، واجزتہ بالمراد، رجاء البرکۃ لی ولہ فی الدنیا والاٰخرۃ، ان ربنا تعالٰی ھواھل التقوی واھل المغفرۃ، کما اجازنی بہا سیدی ومولای، وسندی ومأوای، شیخی ومرشدی،وکنزی وذخری لیومی وغدی، تاج الکاملین،سراج الواصلین، حضرۃ السیدالشاہ اٰل الرسول الاحمدی، المارھری، رضی اﷲ تعالٰی عنہ بالرضی السرمدی، بحق روایتہ لہاواجازتہ بھا عن شیخہ الاجل، وعمہ الابجل، الامام الاکمل، والکرم الاشمل، والقمر الاجمہ، فردعصرہ، وقطب دھرہ، ذی الفیض العظیم، والفضل المبین، حضرۃ ابی الفضل شمس الملۃ والدین، السید الشاہ اٰل احمد اچھے میان المارھری، رضی اﷲ تعالٰی عنہ بالرضوان لابدی، عن ابیہ العرّیف، النبیہ الغطریف، البحر الطمطام، والحبر الصمصام، ذی الفناء والبقاء، والوصول وللقاء، حضرۃ السید الشاہ حمزۃ العینی المارھری علیہ الرضوان الدائم العلی القوی، بسندہ المسلسل کابرا عن کار، عن الحضرۃ الرفیعۃ، والسدۃ المنیعۃ، مرجع البریۃ، الحضرۃ القادریۃ، علی حضارھا وخدامھا رضوان القادر، فان اصلہا ماثور بطرق عدیدۃ، عن الحضرۃ المجیدۃ، کماذکرہ العلماء منھم الامام ابوالحسن نورالدین علی بن جریر(عــــہ ) اللخمی الصوفی الشطنوفی فی بھجۃ الاسرار، والامام الاجل عبداﷲ بن الاسعد الیافعی الشافعی، والفاضل علی بن سلطان محمدالقاری الھروی المکی، والشیخ المحقق شیخ اشیوخ علماء ھند عبدالحق بن سیف الدین المحدث الدھلوی وغیرھم رحمۃ اﷲ تعالٰی عیہم اجمعین انہ قال سیدنا ومولٰنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ من توسل بی فی شدۃ فرجت عنہ ومن استغاث بی فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی بعد المغرب رکعتین ثم یصلی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم یخطوا الی جھۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ یذکرفیہا اسمی قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ۱؎ ۔
تیراشکر ہے اے ایسی ذات جس کی طرف وسیلہ پیش کرنے سے کثیرگناہ معاف ہوتے ہیں اور تیری حمد ہے اے وہ ذات کہ جس پرتوکل سے شکستہ دلی ختم ہوجاتی ہے، اے اﷲ! میں تجھ سے سوال کرتاہوں کہ رحمت، سلامتی اور برکتیں نازل فرما اس پرجوتیری کائنات کاچراغ اور تیری مخلوق کاملجا اور تیرے حق کے لئے قائم لوگوں سے افضل اور تیری سہولت اور مہربانی لے کرمبعوث ہونے والے رحمۃ للعالمین اور شفیع المذنبین اور ڈرنے والوں کے لئے امان اور حاجت مندوں کی سہولت اور ناامید ہونے والوں کے لئے بشارت رؤف ، رحیم نبی، کرم والے سخی، بلندمرتبہ، بڑے علم والے، غنی، تابندہ حکمت والے، بردبار، نیکیوں کوبنانے والے، غلطیوں کومٹانے والے، حاجتوں کوپوراکرنے والے، مرادیں بَرلانے والے، محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ والطاہرین اور حق کوظاہرکرنے والے صحابہ اور اس کی پاک ازواج پرجو مومنین کی مائیں ہیں اور اس کے کامل، عارف اولیاء امت ہدایت یافتہ، رہنما، اس کی امت کے امینوں پرخصوصاً ایسی یکتا، منفرد، غوث بزرگی والے، برکت دینے والی بارش، انعامات دینے والے، محروموں کوبنانے والے، تسلط والے، سخیوں کے سخی، کریموں کے کریم، عرب وعجم کی جائے پناہ، عطیات دینے اور مصیبتوں کودفع کرنے والے، قطب ربانی، خدائی مدد، ہمارے آقاومولٰی ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی پررضی اﷲعنہم اور جس کووہ راضی کرے، اور اس کودونوں جہانوں میں ہمارے لئے محفوظ خزانہ بنائے آمین آمین، یاارحم الراحمین، اور میں گواہ ہوں کہ اﷲ تعالٰی وحدہ، لاشریک ہے اور گواہ ہوں کہ بیشک محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور اس کے خاص رسول ہیں جن کو اس نے رحمت بناکر بھیجاہے اس پراﷲ کی رحمتیں اور سلام ہو اور ہراس پرجواس کامحبوب اور پسندیدہ ہو۔ امابعد کامل فاضل، اچھے اخلاق والے، فضائل کے جامع، بڑے فخر، عظیم شرف والے، مولانا شاہ محمدابراہیم قادری مدراسی حیدرآبادی (اﷲ تعالٰی ان کو صاحب قوت بنائے اور ان کو دشمنوں کے شرسے محفوظ فرمائے) نے مجھ سے ''صلٰوۃ غوثیہ'' مبارکہ پسندیدہ جوکہ ہمارے ہاں ''صلٰوۃ الاسرار'' کے نام سے معروف ہے کی جازت طلب کی، یہ صلٰوۃ الاسرار قضائے حاجت اور دفع شر کے لئے بارہا مجرب ہے، انہوں نے مجھ فقیر، حقیر، اپنے نفس پرظلم کرنے والے، نہایت گنہگار، عبدالمصطفٰی احمدرضا محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے یہ سوال کیا (اﷲ تعالٰی ان پرمہربانی فرمائے اور ان کو معاف فرمائے اور ان کے اعمال کو درست فرمائے) حالانکہ میں اس قابل نہیں ہوں اور نہ ہی اس کااہل ہوں لیکن ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کہ دنیاوآخرت میں ہم دونوں کے لئے باعث برکت ہو (تقوٰی اورمغفرت کامالک صرف اﷲ تعالٰی ہی ہے) (ان کومیری طرف سے اجازت ہے جیسا کہ مجھے میرے آقا، مولٰی، جائے اعتماد، مأوٰی، اورمیرے شیخ، مرشد، سہارا، خزانہ اور میرے آج اور کل کے لئے ذخیرہ اور کاملین کے تاج، واصلین کے چراغ، حضرت شاہ آل رسول احمدی مارہروی، رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مجھے اجازت دی جیسا کہ ان کو روایت اور اجازت ملی، ان کے عظیم شیخ اور ان کے بزرگوار چچا، کامل امام، وسیع کرم ، خوبصورت چاند، اپنے زمانہ کے منفرد اور قطب، عظیم فیض اور واضح فضیلت، حضرت ابوالفضل، ملت اور دین کے سورج، سیدشاہ آل احمداچھے میاں مارہروی، رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے، اور ان کو اپنے والدگرامی عارف کامل، مضبوط فہم، بحربیکراں، پختہ ماہر، صاحب بقاء وفناء، صاحب وصول وحضور، حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی (ان پر اﷲ تعالٰی کی دائمی رضا) سے، اسلاف دراسلاف سے ان کی مسلسل، سندسے، جوان کو بلنددربار، مضبوط چوکھٹ، مخلوق کے مرجع، دربارقادریہ (وہاں کے رہنے والوں اور وہاں کے خدام پر اﷲ تعالٰی کی رضاہو) سے حاصل ہوئی کیونکہ ''صلٰوۃ الاسرار'' کاثبوت متعددطرق سے منقول ہے برگزیدہ دربار سے جیسا کہ اس کو بہت سے علماء نے ذکرفرمایاہے جن میں امام ابوالحسن نورالدین علی بن جریر لخمی صوفی شطنوفی نے بہجۃ الاسرار میں، اور امام اجل عبداﷲ بن اسعدیافعی شافعی و فاضل علی بن سلطان محمدالقاری الہروی المکی اور شیخ محقق علماء ہند کے شیوخ کے شیخ عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سے منقول کہ غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جس نے کسی مصیبت میں میراوسیلہ دیا تو اس کی مصیبت ختم ہوگی، اور جس نے اپنی حاجت کے لئے مجھ سے مدد مانگی تو اس کی حاجت پوری ہوگی، اور جس نے نمازمغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر صلوٰہ وسلام پڑھا اور پھر عراق کی جانب گیارہ قدم میرانام کہتے ہوئے چلا تو اﷲ تعالٰی اس کی حاجت کو پورا فرمائے گا۔
عــــہ:  یجب ان یعلم انہ لیس بابن جھضم الذی تکلم فیہ الذھبی علی دابہ مع الصوفیۃ الکرام فی ''المیزان'' فانہ مقدم علی سیدنا الغوث رضی اﷲ تعالٰی عنہ بزمان وھذا معاصر الذھبی وبینہ وبین سیدنا واسطتان صحب المولی اباصالح قاضی القضاۃ نصرا صحب اباہ سیدی عبدالرزاق صحب اباہ سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنھم وقد وصفہ الذھبی نفسہ فی ''طبقات القراء'' بالامام الاوحد وکذلک الامام الجلال السیوطی فی ''حسن المحاضرۃ'' اما نسبۃ الذھبی کتاب بھجۃ الاسرار الٰی ذلک فان کان لہ ایضا کتاب اسمہ ھذا فذاک والاشتباہ عظیم واجب التنبیہ۱۲ (م)

عــــــہ :  یا د رہے کہ یہ ابن جھضم نہیں ہے جن کے اولیاء کرام کے بارے میں خصوصی نظریات پر ذھبی نے اعتراض کیا ہے کیونکہ وہ غوث اعظم سے بہت پہلے کے ہیں یہ امام ذھبی کے معاصرہے جب کہ ان کے اور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان دو واسطے ہیں ، انہوں نے قاضی القضاء نصر کی انہوں نے اپنے والد محترم نے حضرت عبدالرزاق کی انہوں نے اپنے والد حضرت غوث اعظم کی صحبت پائی جن کو خود امام ذھبی نے طبقات القراء ِ میں ذکر فرمایا اور امام سیوطی نے بھی حسن المحاضرہ میں ذکر کیا ، امام ذھبی کے ابن جھضم کی طرف کتاب بہجۃ الاسرار کو منسوب کرنا جب درست ہوگا جب اس نام کی کوئی کتاب ان کی ہو ورنہ یہ نسبت درست نہیں ہے بلکہ ان کو اشتباہ ہوا ہے۱۲۔
(۱؎ بہجۃ الاسرار        ذکرفضل اصحابہ، وبشراھم    مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر    ص۱۰۲)
Flag Counter