Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
138 - 158
مسئلہ قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من سئل عن علم فکتمہ الجمہ اﷲ یوم القیمۃ بالجام من نار۲؎ اخرجہ احمدوابوداود والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ماجۃ والحاکم وصححہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس سے کوئی علمی بات پوچھی جائے وہ اسے چھپائے اﷲ تعالٰی روزقیامت اسے آگ کی لگام دے گا۔ اس حدیث کو ابوداؤد، ترمذی نے تحسین کی۔ نسائی ، ابن ماجہ، حاکم نے ابوھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے صحیح روایت کیا۔(ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد    باب کراہیۃ منع العلم        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۵۹ 

جامع الترمذی    باب ماجاء فی کتمان العلم        مطبوعہ  امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۸۹                 مسنداحمدبن حنبل    مروی ازمسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ     مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۲ /۳۰۵،۳۴۴، ۳۵۳، ۴۵۹)
اب کیافرماتے ہیں علمائے ملت اسمٰعیلیہ
ھدٰھم اﷲ تعالٰی الی الشریعۃ الحقۃ الابراھیمیۃ
(اﷲ تعالٰی شریعت حقہ ابراہیمیہ کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے۔ت) کہ دین خدا میں ایسی نئی نئی باتیں نکالنا اور یہ اقرارکرکے کہ کتاب وسنت سے اس کاثبوت نہیں ان پرعمل کرنا اور انہیںموجب ثواب وقرب رب الارباب سمجھنابدعت سیئہ نشیعہ ہے یانہیں، اور یہاں حدیث
من احدث فی امرنا مالیس منہ فھو رد۱؎
(جس نے ہمارے دین میں نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تو وہ مردودہے۔ت)
(۱؎ صحیح بخاری        کتاب الصلح            مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۷۱

صحیح مسلم        کتاب الاقضیہ        مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۲ /۷۷

السنن الکبرٰی    کتاب آداب القاضی        مطبوعہ دارصادر بیروت        ۱۰ /۱۱۹)
وحدیث کل بدعۃ ضلالۃ۲؎
(ہربدعت گمراہی ہے۔ت)
(۲؎ صحیح مسلم        کتاب الجمعہ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۸۵

سنن ابن ماجہ    باب اجتناب البدع والجدل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۱ /۶)
وکل ضلالۃ فی النار۳؎
(اور ہرگمراہی جہنم میں ہے۔ت)
(۳؎ درمنثور        تحت آیۃ من یہدی اﷲ فھوالمہتدی    مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایران    ۳ /۱۴۷)
وحدیث شرالامورر محدثاتھا
(۴؎سب سے بری بات نئے امورہیں۔ت)
(۴؎ صحیح مسلم        کتاب الجمعہ        مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ص۲۸۵

مشکوٰۃ المصابیح     باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، فصل اول    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ص۲۷)
وحدیث اصحاب البدع کلاب اھل النار۵؎
(بدعت والے جہنم کے کتے ہیں۔ت)
(۵؎ کنزالعمال    فصل فی البدع حدیث ۱۰۹۴    مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱ /۲۱۸)
واردہوں گی یانہیں، اور جن صاحبوں نے یہ باتیں ایجادفرمائیں آپ کیں، اوروں سے کرائیں، کتابوں میں لکھیں، زبانی بتائیں، حسب تصریح تقویۃ الایمان ان کے اصل ایمان میں خلل آیایانہیں، اور وہ بدعتی، فاسق، مخالف سنت قرارپائے یانہیں، اور ان سے کہاجائے گا یانہیں کہ صحابہ وحسنات پرتم سے زیادہ حریص تھے بھلائی ہوتی تو وہی کرجاتے، اور میاں بشیرقنوجی یہاں بھی ہیأت عبادات کو توفیقی بتائیں گے یانہیں، پھرجولوگ ان صاحبوں کوامام وپیشوا جانتے اور ان کی مدح وستائش میں حد سے زیادہ غلو کرتے ہیں(جیسے شاہ ولی اﷲ مداح ومعتقد مرزامظہرصاحب اور شاہ عبدالعزیز وصّاف ومرید شاہ ولی اﷲ صاحب اور مولوی اسمٰعیل غلام وبادخوان ہردوشاہ صاحب اور تمام حضرات وہابیہ مداحین ومتعقدین جمیع صاحبان مذکورین) ان سب کے بارے میں کیاحکم ہے، آیابحکم حدیث
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام۶؎
(جس نے بدعت والے کی تعظیم کی اس نے اسلام کوڈھانے میں مدد کی۔ت)
(۶؎ مشکوٰۃ المصابیح     باب الاعتصام والسنۃ    فصل سوم     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ص۳۱

کنزالعمال         فصل فی البدع حدیث ۱۱۰۲ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱ /۲۱۹)
یہ سب کے سب قصراسلام کے ڈھانے والے ہوئے یانہیں، یایہ احکام صرف مجلس میلاد وغیرہ انہیں امور کے لئے ہیں جن میں محبوبان خدا کی محبت وتعظیم ہوباقی سب حلال وطیب، اور شاہ عبدالعزیزصاحب نے کہ تصوربرزخ کواتناپسند کیاکہ اسے سب سے زیادہ قریب تر راستہ خداکابتایا اور مولوی خرم علی صاحب نے اسے نقل کرکے مسلم، رکھا یہ دونوں صاحب مع اصل کاتب یعنی شاہ ولی اﷲ صاحب پھر ان صاحبوں کے معتقدین ومداح سب کے سب مشرک وشرک پرست ٹھہرے یانہیں، یایہ حضرات احکام شرع س مستثنٰی ہیں، اور تقویۃ الایمان و تذکیرالاخوان وغیرہما کی آیتیں حدیثیں صرف مؤمنین اہل سنت کو جو خاندان عزیزی سے نہ ہوں معاذاﷲ مشرک بدعتی بنانے کے لئے اتری ہیں، بینواتوجروا۔

سبحان اﷲ ان صاحبوں کے یہ احداث واختراع سب مقبول ہوں، اور ناجائز وبدعت ٹھہرے تو وہ نماز جو حضور پرنور غوث اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ نے قضائے حاجات کے لئے ارشاد فرمائی
عین تفاوت رہ ازکجاست تابکجا
(دیکھ راستہ کہاں سے کہاں تک ٹیڑھا ہے)
حق جل علامسلمانوں کو نیک توفیق بخشے اور اپنے محبوبوں کی جانب میں معاذاﷲ بدعقیدہ نہ کرے خصوصاً حضورسید المحبوبین مطلوب المطلوبین رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعنہم اجمعین آمین۔ یہ ہے جواس گدائے سرکار فیضبار قادریہ پربرکات ونعمات حضورپرنور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فائض ہوا،ع
گرقبول افتدزہے عزوشرف
گدائے بے نوافقیرناسزااپنے تاجدارعظیم الجو عمیم العطا کے لطف بے منت وکرم بے علت سے اس صلے کاطالب کہ عفووعافیت وحسن عاقبت کے ساتھ دارناپائدار سے رخصت ہوتے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عزیز پسر، بتول زہرا کے لخت جگر، علی مرتضٰی کے نورنظر، حسن وحسین کے قرئہ بصر، محی سنت ابی بکر و عمر
صلی اﷲ تعالٰی علی الحبیب وعلیھم وسلم
یعنی حضورغوث صمدانی قطب ربانی واہب الآمال ومعطی الامانی حضور پرنور غوث اعظم قطب عالم محی الدین ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وارضاہ وجعل حرزنا فی الدارین رضاہ کی محبت وعشق وعقیدت واتباع واطاعت پرجائے او جس دن
یوم ندعواکل اناس بامامھم۱؎
(جس دن ہرجماعت کوہم اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ت)
(۱؂القرآن     ۱۷/۷۱)
کاظہورہویہ سراپاگناہ زیرلوائے بیکس پناہ سرکارقادریت ظل آلہ جگہ پائے،
فان ذلک علی اﷲ یسیر ان اﷲ علی کل شیئ قدیر بحمد اﷲ وقع الفراغ من تسویدہ لثمان خلون للقمر الزاھر من شھرسیّدنا الغوث الفاخر اعنی شھرربیع الاٰخر فی ثلثۃ مجالس من ثلث غدوات وعام الف وثلث مائۃ وخمس من ھجرۃ سیدالکائنات علیہ وعلی اٰلہ وابنہ الوارث لمجدہ وکمالہ افضل الصلوات واکمل تسلیمات وازکی التحیات وانمی البرکات اٰمین اٰمین والحمدﷲ رب العٰلمین واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
پس بیشک یہ اﷲ تعالٰی کے لئے آسان ہے اﷲ تعالٰی ہرچیزپرقادر ہے، بحمداﷲ تعالٰی اس رسالہ کے مسودہ سے ۸ربیع الثانی ۱۳۰۵ھ کوفراغت ہوئی یہ مسودہ تین دن کی تین مجلسوں میں تیارہوا۔ سیدالکائنات پران کی آل پر اور آپ کے بیٹے جوآپ کی بزرگی اور کمال کے وارث ہیں پرافضل دروداور کامل سلام اور پاکیزہ تعریفیں اور بڑی برکات ہوں آمین آمین اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لئے ہیں اﷲ سبحانہ، وتعالٰی زیادہ علم والاہے اور اس کاعلم بڑاہے اور اس کی بزرگی مضبوط اور تام ہے۔(ت)
Flag Counter