Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
137 - 158
شفاء العلیل میں شاہ عبدالعزیزصاحب سے نقل کیاحق یہ ہے کہ ''سب راہوں سے یہ راہ زیادہ قریب ہے'' ۲؎انتہی۔
(۲؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل    چھٹی فصل طریقہ مراقبہ بسیط    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص ۸۰)
اب کون کہے کہ یہ وہی راہ ہے جسے آپ کے سچے معتقدین ٹھیٹ بت پرستی بتائیں گے، مرزاصاحب نے اگرچہ کتاب وسنت کوطرق حادثہ سے افضل مانا اور بے شک ایساہی ہے مگر ان کے بھی مباح ومفید ہونے کی تصریح فرمائی، مکتوب ۱۱میں لکھتے ہیں:
ذکرجہر باکیفیات مخصوصہ ونیز مراقبات باطوار معمولہ کہ درقرون متاخرہ رواج یافتہ از کتاب و سنت ماخوز نیست بلکہ حضرات مشایخ بطریق الہام و اعلام ازمبدئہ فیاض اخذ نمودہ اند وشرع ازاں ساکت ست ودائرہ اباحت وفائدہائے دراں متحقق وانکار آں ضرورنے۳؎۔
آخری زمانہ جوذکربالجہر مخصوص کیفیت کے ساتھ ہورہاہے نیزمراقبات جن کاعمل جاری ہے یہ کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں بلکہ یہ مشائخ کرام نے بطورالہام مبدئہ فیاض سے پایاہے اور شریعت اس کے منع پر خاموش ہے لہٰذا یہ دائرئہ اباحت میں داخل ہے اس میں فائدہ ہے اس کا انکار ضروی نہیں۔(ت)
(۳؎ مکتوبات مرزامظہرجانجاناں    ازمجموعہ کلمات طیبات        مکتوب یازدہم    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ص۲۳)
اور سنئے مکتوب ۶۱میں ہے:
اگرچہ ازمصحف مجیدفال زدن درحدیث شریف نیامدہ اماممنوع ہم نیست اگرکسی (عہ) زند مضائقہ ندارد۱؎۔
اگرچہ نیک فال قرآن مجید سے نکالنا حدیث شریف میں مذکورنہیں لیکن ممنوع بھی نہیں، اگرکوئی نکالے تو مضائقہ نہیں۔(ت)
(۱؎ مکتوبات مرزامظہرجانجاناں    ازمجموعہ کلمات طیبات    مکتوب شصت ویکم    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ص۵۶)
عہ: اقول یہ جناب مرزاصاحب کاخیال تھا، صحیح یہ ہے کہ قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے،

حدیقہ ندیہ میں ہے : قال والدی رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرحہ علی شرح الدرر وفی کتاب التحفۃ اخذ الفال من المصحف مکروہ کذاذکرہ القھستانی یعنی کراھۃ التحریم الخ۱۲منہ دام ظلہ(م)

میرے والد رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا درر کی شرح میں اور کتاب التحفہ میں ہے کہ قرآن پاک سے فال نکالنا مکروہ ہے، قہستانی نے ایسے ہی ذکرکیاہے یعنی مکروہ تحریمہ ہے الخ ۱۲منہ دام ظلہ (ت)
انہیں کے ملفوظات میں ہے:
حضرت مجددرضی اﷲ تعالٰی عنہ طریقہ نوبیان نمودہ ومقامات وکمالات طریقہ خودبسیار تحریر
فرمودہ ودراں مقامات ہیچ شبہ نیست کہ باقرار ہزاراں علماء عقلاء بتواترہ رسیدہ۲ ؎ اھ ملخصاً
حضرت مجددصاحب نے نئے طریقے بیان فرمائے ہیں اور اپنے طریقہ کے کمالات ومقامات کوخوب بیان فرمایاہے،
ان مقامات میں کوئی شک وشبہ نہیں کیونکہ ہزاروں علماء وعقلاء نے اس کی تصدیق فرمائی ہے جوتواتر کوپہنچی ہے اھ ملخصاً (ت)
(۲؎ ملفوظات مرزامظہرجانجاناں    زمجموعہ کلمات طیبات    ملفوظات     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ص ۷۰)
اسی میں ہے:
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث رحمۃ اﷲ علیہ طریقہ جدیدہ بیان نمودہ اندودرتحقیق اسرارمعرفت طرزخاص دارند مثل ایشاں درمحققان صوفیہ کہ جامع ازنددرعلم ظاہروباطن وعلم نوبیان کردہ اند چند کس گزشتہ باشند۳؎اھ ملخصاً
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے جدیدطریقہ بیان فرمایاہے وہ معرفت کے اسرار کی تحقیق میں خاص طرز رکھتے ہیں اور یہ ان چندمحقق صوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے ظاہری وباطنی علوم جمع فرمائے اور نئے علوم بیان کئے ہیں ایسے چندبزرگ ہوئے ہیں۱ھ ملخصاً (ت)
(۳؎ ملفوظات مرزامظہرجانجاناں  زمجموعہ کلمات طیبات  ملفوظات  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ص ۸۳ و ۸۴)
میاں اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں لکھتے ہیں:
اشغال مناسبہ ہروقت وریاضات ملائمہ ہرقرن جداجدا می باشند ولہٰذا محققال ہروقت ازاکابر ہرطرق درتجدید اشغال کوششہاکردہ اند بناء ً علیہ مصلحت دیدوقت چناں اقتضاکردکہ یک باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعیین کردہ شود۱؎الخ
ہروقت کے مناسب وظائف اورہرزمانہ کے لائق ریاضتیں جداجداہیں لہٰذا ہرزمانہ کے محققین نے ہرسلسلہ کے اکا برین سے نئے وظائف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اس بناپر میں نے مصلحت دیکھی کہ وقت کاتقاضا ہے کہ اس کتاب کا ایک باب نئے وظائف و اعمال میں جو اس وقت کے مناسب ہوں، کے لئے معین کروں۱؎الخ
(۱؎ صراط مستقیم        قبیل باب اول        مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ص۷)
اب خداجانے یہ حضرات بدعتی کیوں نہ ہوئے اور انہیں خاص ان اموردینیہ میں جومحض تقرب الی اﷲ کے لئے کئے جاتے ہیں نئی نئی باتیں جو قرآن میں حدیث میں نہ صحابہ میں نہ تابعین میں، نکالنی اور عمل میں لانی اور ان سے امید وصول الی اﷲ رکھنی، کس نے جائزکی۔
Flag Counter