اور جب خدانے عہدلیا ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی اسے صاف بیان کردیں گے لوگوں سے اورچھپائیں گے نہیں۔
(۱؎ القرآن ۳ /۱۸۷)
اب کیافرماتے ہیں علمائے ملت نجدیہ
ھداھم اﷲ تعالٰی الی الملۃ الحنفیۃ
(اﷲ تعالٰی ان کی حق کی طرف رجوع کرنے والی ملت کی طرف رہنمائی کرے) کہ جولوگ نادعلی پڑھیں، پڑھائیں، سیکھیں، اس کی سندیں دیں، اجازتیں لائیں، اس کے سلسلے کوسلاسل اولیاء اﷲ میں داخل کرجائیں، اس کے حکم دینے والون کوولی کامل بتائیں اپنا شیخ ومرشد مرجع سلسلہ بتائیں، ان میں بعض کوبلفظہ ثقہ واعیان مشائخ او ان کی ملاقات کوبکلمہ دستبوس تعبیر فرمائیں، انہوں نے غم ومصیبت ورنج وآفت کے وقت یاعلی یاعلی کہنا روارکھا یانہیں اور اسے ورد وظیفہ بنایا یا نہیں اور غیرخدا کو خدا کاشریک فی العلم وشریک فی التصرف ٹھہرایا یانہیں اور وہ اس سبب سے مشرک کافر، بے ایمان، جہنمی ہوئے یانہیں پھر جوایسوں کواپناپیرجانیں
عالم اُمت، حامی سنت وقطب زماں و مرشد دوراں مانیں
(جیسے جناب شاہ عبدالعزیز صاحب) انہیں مقتدائے دین وپیشوائے مسلمین بتائیں ان کے علم وافضال وعرفان وکمال پرسچے دل سے ایمان لائیں(جیسے تمام اصاغرواکابر حضرات وہابیہ) انہیں سیدالحکما سیدالعلماوقطب المحققین، فخرالعرفاء المکملین، اعلمہم باﷲ وقبلہ ارباب تحقیق وکعبہ اصحاب تدقیق وقدوۃ اولیاوزبدئہ ارباب صفا، بلکہ امام معصوم وصاحب وحی تشریعی ٹھہرائیں (جیسے میاں اسمٰعیل دہلوی) ان سب صاحبوں کی نسبت کیاحکم ہے یہ حضرات ایک مشرک شرک جوشرک پسند، شرک آموز کو پیروپیشوا وامام ومقتدابناکر سیدالعلماء ومقبول خدابتاکر خود بھی کافرومشرک ومستحق عذاب الیم ومہلک ہوئے یانہیں اور ان پربھی مسئلہ
الرضاء بالکفر کفر
(کفر پررضامندی کفرہے۔)
ومسئلہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر
(جس نے اس کے کفر اور اس کے عذاب پرشک کیا وہ کافر ہوگیا۔ت)
وحکم آیہ کریمہ
ومن یتولھم منکم فانہ منھم۲؎
(تم میں سے جوجس سے محبت کرتاہے وہ انہیں میں سے ہوگا۔ت)
(۲؎ القرآن ۵/۵۱)
وحدیث صحیح، المرء مع من احب۳؎
(آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتاہے۔ت) جاری ہوگا یانہیں، بیّنواتوجروا۔
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الادب، باب علامۃ الحب فی اﷲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۱)
خیر، یہ توجملہ معترضہ تھا پھراصل مبحث یعنی دربارئہ اعمال تجدید واختراع کی طرف چلئے، یہی شاہ ولی اﷲ صاحب اسی انتباہ میں قضائے حاجات کے لئے ختم خواجگان چشت قدست اسرارہم کی ترکیب بتاتے اوراس کے آخر میں یوں فرماتے ہیں:
دس مرتبہ درودشریف پڑھ کر ختم دیں اور کچھ شیرینی پرخواجگان چشت کے نماز کی فاتحہ پڑھیں اور اﷲ تعالٰی سے اپنی حاجت کاسوال کریں، یہ عمل روزانہ کریں ان شاء اﷲ چند روز میں مقصود حاصل ہوجائے گا۔(ت)
ختم حضرت خواجہا وختم حضرت مجددرضی اﷲ تعالٰی عنہم نیزاگر یاراں جمع آیند بعد ازحلقہ صبح براں مواظبت نمایند کہ ازمعمولات مشائخ ست وفائدہ بسیار وبرکت بے شماردارد۴؎۔
ختم خواجگان و ختم حضرت مجددصاحب رضی اﷲ عنہم صبح کے حلقہ ذکرکے بعد پابندی سے کریں کیونکہ یہ مشایخ کے معمولات میں سے ہے بہت مفید اور بابرکت ہے۔(ت)
ان صاحبوں سے کوئی نہیں کہتا کہ یہ طریقے قرون ثلٰثہ میں کہاں منقول ہیں، ان میں کچھ ثواب
یاتقرب الی اﷲ
کی امیدہوتی توصحابہ ہی بجالاتے اور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی فاتحہ شیرینی پردلاتے
والحمدﷲ علی وضوح الحق
(حق کے واضح ہونے پر اﷲتعالٰی کی حمد ہے۔ت)
ثالثاً خیر صلٰوۃ الاسرار شریف تو ایک عمل لطیف ہے کہ مبارک بندہ اپنے حصول اغراض ودفع اعراض کے لئے پڑھتاہے مزاج پرسی ان حضرات کی ہے جو خاص امور ثواب وتقرب رب الارباب میں جومحض اسی نیت سے کئے جاتے ہیں ہمیشہ تجدید واختراع کوجائز مانتے اور ان محدثات کوذریعہ وصول الی اﷲ جانتے ہیں وہ کون، شاہ ولی اﷲ، شاہ عبدالعزیز، مرزامظہرجانجاناں، شیخ مجددالف ثانی، مولوی اسمٰعیل دہلوی، مولوی خرم علی بلہوری وغیرہم جنہیں منکرین بدعتتی وگمراہ کہیں تو کس کے ہوکررہیں، خود شاہ ولی اﷲ قوال الجمیل میں اپنے اور اپنے پیران مشائخ کے آداب طریقت واشغال ِ ریاضت کی نسبت صاف لکھتے ہیں:
لم یثبت تعین الاداب ولاتلک الاشغال۲؎۔
یہ خاص آداب واشغال نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہ ہوئے۔(ت)
(۲؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل گیارہویں فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۷۳)
شاہ عبدالعزیزصاحب حاشیہ قول الجمیل میں فرماتے ہیں: اسی طرح پیشوایان طریقت نے جلسات و ہیأت واسطے اذکار مخصوصہ کے ایجاد کئے ہیں مناسبات مخفیہ کے سبب سے جن کو مرد صافی الذہن اور علوم حقہ کا عالم دریافت کرتاہے۳؎
(الٰی قولہ)
تو اس کویادرکھنا چاہئے ۴؎
انتھی بترجمۃ البلھوری۔
(۳؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چوتھی فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۱)
(۴؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چوتھی فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۲)
مولوی خرم علی صاحب مصنف نصیحۃ المسلمین اسے نقل کرکے لکھتے ہیں: یعنی ایسے امور کومخالف شرع یاداخل بدعات سیہ نہ سمجھناچاہئے جیسا کہ کم فہم سمجھتے ہیں۵؎ انتہی۔
(۵؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چوتھی فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۲)
اور سنئے اسی قول الجمیل میں اشغال مشائخ نقشبندیہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم میں تصور شیخ کی ترکیب لکھی کہ:
ثالثھا الرابطۃ بشیخۃ فاذا صحبہ خلی نفسہ من کل شیئ الامحبتہ وینتظر لمایفیض منہ واذا غاب الشیخ عنہ یخیل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ماتفید صحبتہ۱؎اھ ملخصا۔
یعنی تیسراطریقہ وصول الی اﷲ کارابطہ شیخ ہے جب شیخ کی صحبت میں ہو تو اپنادل اس کی محبت کے سواہرچیزسے خالی کرے اور فیض کامنتظر ہو اور جب شیخ غائب ہوتواس کی صورت اپنے پیش نظر محبت وتعظیم کے ساتھ تصور کرے جوفائدے اس کی صحبت دیتی تھی اب یہ صورت دے گی اھ ملخصا(ت)
(۱؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل چھٹی فصل طریقہ مراقبہ بسیط مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۰۔۸۱)