چندنواع ازکرامت ازہیچ ولی الاماشاء اﷲ منفک نمی شود ازانجملہ ظہورتاثیردراعمال تصریفیہ اوتاعاملے بفیض اومنتفع شوند۱؎اھ ملخصاً۔
چندکرامتیں ایسی ہیں جوکسی ولی سے جدانہیں ہوپاتیں جن میں ایک یہ کہ اس کے جاری اعمال ووظائف کی ایسی تاثیر جوان پرعمل پیراکو اس کے فیض سے نفع دیتی ہے اھ ملخصاً(ت)
خودشاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب اور ان کے فرزند ارجمند شاہ عبدالعزیز صاحب نے ہرگونہ حاجات کے لئے صدہااعمال بتائے کہ تازہ بنے تھے، جن کاپتا قرون ثلٰثہ میں اصلاً نہ تھا بعض ان مین سے فقیرنے اپنے رسالہ
منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین
میں ذکرکئے، اور خود ان کی ''قول الجمیل'' ایسی باتوں کی حائزوکفیل۔ جامع ترسنئے شاہ ولی اﷲ کتاب
الانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ
میں تصریح کرتے ہیں کہ انہوں نے جواہرخمسہ شیخ محمدغوث گوالیاری حلیہ رحمۃالباری کی سندیں اور اس کے اعمال کی اجازتیں اپنے استاذ علم حدیث مولانا ابوطاہرمدنی شیخ محمد سعید لاہوری مرحومین سے حاصل کیں حیث قال
ایں فقیر خرقہ از دست شیخ ابو طاہر کردی پوشیدہ وایشاںبعمل انچہ در جواہر خمسہ است اجازت دارند عن ابیہ الشیخ ابراہیم الکردی عن الشیخ القشاشی عن الشیخ احمدالشناوی عن السید صبغۃ اللہ عن الشیخ محمد غوث الکوالیاری وایضالبسہا الشیخ ابو طاہر عن الشیخ احمد النخلی بسندہ۲؎ الی اخرہ ،
اس فقیر نے شییخ ابو طاہر کردی کے ہاتھ سے خرقہ پہنا اور انہوں نے جواہر خمسہ کے تمام وظائف کی اجازت دی یہ اجازت ان کو اپنے والد شیخ ابراہیم کردی سے اور ان کو اپنے شیخ احمدقشاشی سے اور ان کو شیخ احمدشناوی اور ان کو سیدصبغۃ اﷲ سے ان کو شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی سے ان کو شیخ محمدغوث گوالیاری سے۔ نیز خِرقہ پایا شیخ ابوطاہر نے احمد نخلی سے ان کی آخری سند تک۔
(۲؎ الانتباہ فی سلاسل اولیاء مترجم اردو طریقہ شطاریہ مطبوعہ آرمی برقی پریس دہلی ص۱۳۷)
ایضا ایں فقیر درسفر حج چوں بہ لاہور رسید ودست بوس شیخ محمد سعید لاہوری دریافت ایشاں اجازت دعائے سیفی دادند بل اجازت جمیع اعمال جواہر خمسہ وسند خود بیان کردند وایشاں دریں زمانہ یکی ازاں عیاں مشائخ طریقہ احسنیہ وشطاریہ بودند وچوں کسے را اجازت می دادند او رادعوت رجعت نمی شود رحمۃ اللہ تعالٰی ،سند قال الشیخ المعمر الثقۃ حاجی محمد سعید لاہوری اخذت الطریقۃ الشطاریۃ واعمال الجواہر الخمسۃ من السیفی وغیرہ عن الشیخ محمد اشرف لاہوری عن الشیخ عبد الملک عن الشیخ البایزید الثانی عن الشیخ وجیہ الدین الکجراتی عن الشیخ محمد غوث الکوالیاری ؎۱انتہی
اور نیز فقیر جب حج کے سفرمیں لاہور پہنچا تو وہاں شیخ محمدسعید لاہوری کی دست بوسی کی توانہوں نے مجھے دعائے صیفی کی اجازت مرحمت فرمائی بلکہ انہوں نے ان تمام وظائف واعمال کی اجازت دی جو جواہرخمسہ میں ہیں، اور انہوں نے اپنی سندبھی بیان کی اور آپ اس زمانہ کے مشائخ شطاریہ احسنیہ کے سلسلہ کے خاص بزرگوں میں سے تھے، اور جب آپ کسی کو اپنے سلسلہ کی اجازت دیتے توپھر اس کورجوع کی حاجت نہ رہتی (اﷲ تعالٰی ان پررحم فرمائے) سندیہ ہے شیخ بزرگ باوثوق حاجی محمد سعید لاہوری نے فرمایا کہ میں نے سلسلہ شطاریہ اور جواہرخمسہ کے وظائف واعمال سیفی وغیرہ، شیخ محمد اشرف لاہوری انہوں نے شیخ عبدالملک بایزید ثانی سے انہوں نے وجیہ الدین گجراتی انہوں نے شیخ محمدغوث گوالیاری سے حاصل کئے، انتہی(ت)
(۲؎ الانتباہ فی سلاسل اولیاء مترجم اردو طریقہ شطاریہ مطبوعہ آرمی برقی پریس دہلی ص۱۳۸)
حضرات منکرین ذرامہربانی فرماکر جواہرخمسہ پرنظرڈال لیں اور اس کے اعمال کاثبوت وقرون ثلٰثہ سے دے دیں بلکہ اپنے اصول مذہب پراُن اعمال کوبدعت وشرک ہی سے بچالیں جن کے لئے شاہ ولی اﷲ جیسے سنی، موحد، محدثانہ سندلیتے اور اپنے مشائخ حدیث وطریقت سے اجازت حاصل کرتے ہیں زیادہ نہ سہی یہی دعائے سیفی جس کی نسبت شاہ ولی اﷲ نے لکھاکہ میں اپنے شیخ سے اخذ کی اور اجازت لی اسی کی ترکیب میں ملاحظہ ہوکہ جواہرخمسہ میں کیالکھاہے:
نادعلی ہفت باریاسہ باریایکبار بخواند وآں اینست نادعلیا مظھرالعجائب تجدہ عونالک فی النوائب کل ھم وغم سینجلی بولایتک یاعلی یاعلی یاعلی۲؎۔
نادعلی سات باریاتین باریاایک بارپڑھو اوروہ یہ ہے: پکارعلی کو جوعجائب کے مظہرہیں تو ان کو اپنے مصائب میں مدد گار پائے گا، ہرپریشانی اور غم ختم ہوگا آپ کی مدد سے یاعلی یاعلی یاعلی(ت)
(۲؎ فتوح الغیب ضمیمہ جواہرخمسہ مترجم اردو نادعلی کابیان مطبعہ دارالاشاعت کراچی ص۴۵۳)