سابعاً دیدہ انصاف بے غبار وصاف ہوتو احادیث صحیحہ سے اس کابھی پتاچلتاہے کہ جہاں جاناچاہے اس طرف چندقدم قریب ہونا اور جہاں سے جدائی مقصود ہو اس سے کچھ گام دورہونا بھی نافع وبکارآمد ہوتاہے جب کمال قرب وبعد میسرنہ ہو۔ طبرانی نے معجم کبیر اور حاکم نے بسند صحیح مستدرک میں برشرط شیخین ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
کل شیئ یتکلم بہ ابن اٰدم فانہ مکتوب علیہ فاذاخطأ الخطیئۃ ثم احب ان یتوب الی اﷲ عزوجل فلیأت بقعۃ مرتفعۃ فلیمدد یدیہ الی اﷲ ثم یقول اللھم انی اتوب الیک منھا لاارجع الیھا ابدا فانہ یغفرلہ مالم یرجع فی عملہ ذلک۱؎۔
آدمی کاہربول اس پرلکھاجاتاہے توجوگناہ کرے پھر اﷲ تعالٰی کی طرف توبہ کرناچاہے اسے چاہئے بلندجگہ پرجائے اور اﷲ تعالٰی کی طرف ہاتھ پھیلاکرکہے الٰہی! میں اس گناہ سے تیری طرف رجوع لاتاہوں، اب کبھی اُدھر عودنہ کروں گا، اﷲ تعالٰی اس کے لئے مغفرت فرمادے گا جب تک اس گناہ کو پھرنہ کرے۔
(۱؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء دعا قضاء الرین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۵۱۶)
توبہ کے لئے بلندی پرجانے کی یہی حکمت ہے کہ حتی الوسع موضع مصیبت سے بعد اور محل طاعت ومنزل رحمت یعنی آسمان سے قرب حاصل ہو، جب سیدنا موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کازمانہ انتقال قریب آیا بَن میں تشریف رکھتے تھے اور ارض مقدسہ پرجبّارین کاقبضہ تھا وہاں تشریف لے جانا میسرنہ ہوا دعافرمائی کہ اس پاک زمین سے مجھے ایک سنگ پرتاب قریب کردے۔ بخاری، مسلم، نسائی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
ارسل ملک الموت الی موسی علیھا الصلٰوۃ والسلام (فذکر الحدیث الی ان قال) نسأل اﷲ ان یدنیہ من الارض المقدسۃ رمیۃ بحجر۲؎۔
موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف اﷲ تعالٰی نے ملک الموت کوبھیجا، پس حدیث کوبیان کرتے یہاں تک بیان کیا کہ مجھے بیت المقدس کے اتناقریب کردے جتناکہ پتھرپھینکنے کافاصلہ ہوتاہے۔(ت)
(۲؎ صحیح بخاری باب وفات موسٰی علیہ السلام الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸۴
صحیح مسلم باب من فضائل موسٰی علیہ السلام مطبوعہنورمحمد اصح المطابع کراچی ۲ /۲۶۷)
شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالٰی شرح مشکوٰۃ میں دعائے موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کایوں ترجمہ کرتے ہیں:
نزدیک گردان مرا از ان اگرچہ بمقداریک سنگ اندازہ باشد۳؎۔
مجھے اس قدر نزدیک کردے اگرچہ ایک پتھر کااندازہ ہو۔(ت)
(۳؎ اشعۃ اللمعات کتاب الفتن باب بدء الخلق الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۴۵۳)
ظاہرہے کہ ہنگام حاجت سردست، عراق شریف کی حاضری متعذر، لہٰذا چندقدم اس ارض مقدسہ کی طرف چلنا ہی مقرر ہوا کہ
مالایدرک کلہ لایترک کلہ وﷲ الحمد دقہ وجلّہ
(جومکمل حاصل نہ ہوسکے تو تووہ مکمل چھوڑابھی نہ جائے، اﷲ تعالٰی ہی کے لئے ہرچھوٹی اوربڑی حمدہے۔ت) رہی عدد یازدہ کی تخصیص، اس کی وجہ ظاہر کہ
قالہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رواہ الامام احمد عن ابن عمر بسند صحیح والترمذی عن علی بسند حسن وابن ماجۃ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین
(یہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کاارشاد مبارک ہے، اس کو امام احمد نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت) اور افضل الاوتار و اول الاوتار، ایک ہے مگریہاں تکثیر مطلوب اور اس کے ساتھ تیسیربھی ملحوظ، لہٰذا یہ عدد مختارہوا کہ یہ افضل الاوتار کاپہلا ارتفاع ہے جوخود بھی وتراور مشابہت زوج سے بھی بعید کہ سواایک کے اس کے لئے کوئی کسرصحیح نہیں اور اس سے ایک گھٹادینے کے بعد بھی جوزوج حاصل ہوتاہے زوج محض ہے نہ زوج الازواج کہ اس کے دونوں حصص متساویہ، خود افراد ہیں بلکہ خلو مرتبہ پروہ بعینہٖ ایک ہے۔
شاہ ولی اﷲ حجۃ اﷲ البالغہ میں لکھتے ہیں:
الشرع لم یخص عدداً الا لحکم ترجع الٰی اصول، الاول ان الوتر عدد مبارک لایجاوز عنہ ماکان فیہ کفایۃ، ثم الوتر علی مراتب، وتر یشبہ الزوج کالتسعۃ والخمسۃ فانھما بعد اسقاط الواحد ینقمان الٰی زوجین والتسعۃ وان لم تنقسم الی عددین متساوین فانھا تنقسم الی ثلثہ متساویۃ، وامام الاوتار الواحد وحیث اقتضت الحکمۃ ان یؤمر باکثرمنھا اختار عدداً یحصل بالترفع کالواحد یترفع الی احد عشر۱؎ اھ ملتقطا۔
شرع شریف میں عدد کی تخصیص صرف ایسے حکم کے لئے کی جاتی جوکئی معانی کی طرف راجع ہوتاہے اول، یہ وتر ایسامبارک عدد ہے کہ اس سے تجاوز اس وقت تک جائزنہیں جبکہ اس وتر میں کفایت موجود ہے پھر وتر کے کئی اقسام ہیں، ایک وتر زوج کے مشابہ ہوتاہے جیسا کہ نو اور پانچ کاعدد کہ یہ دونوں ایسے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک ایک کو ساقط کردیاجائے تویہ دونوں برابرتقسیم ہوکر دو زوج بن جاتے ہیں، اور نو کا عددخود اگرچہ دو جفت (زوج) پرتقسیم نہیں ہوتا مگرتین مساوی عددوں پرمنقسم ہوتاہے، تمام وتروں کاامام (اصل) ایک کاعدد ہے اور حکمت کاتقاضا ہوتو زیادہ عدد کا تب حکم ہوتا کہ وہ عددبڑھ کر واحد کی طرح ہوجائے مثلاً گیارہ ہوجائے۱ھ ملتقطا(ت)
اس کے بعد فقیرگدائے سرکار قادریہ غفراﷲ لہ کل ذنب وخطیّہ، نے سرکار غوثیت مدار سے اس عدد مبارک کےاختصاص پر بعض دیگر نکات جمیلہ عظیمہ جلیلہ پائے ہیں کہ بتوفیق اﷲ تعالٰی رسالہ مبارک ازھار الانوار من صبا صلوۃ الاسرارمیں ذکرکئے یہاں اُن کابیان زخمہ برعود پیس گاواں
فمن شاء فلیرجع الی ذاک التحریر الانیق واﷲ سبحنہ ولی التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق وصلی اﷲ تعالٰی علی سیّدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
اگرکوئی چاہے تو اس صاف ستھری تحریر کی طرف رجوع کرسکتاہے۔ اﷲ تعالٰی پاک ہے، اور مجھے توفیق ملی، جبکہ اﷲ کے قبضہ میں ہی تحقیق کی لگام ہے۔ اور صلٰوۃ وسلام ہوہمارے آقامحمد اوران کی آل وصحابہ سب پر۔(ت)
بالجملہ اس نمازمقدس میں اصلاً کوئی محذور شرعی نہیں، اور خود کون ساطریقہ دیانت وانصاف ہے کہ جو امرحضور پرنور
(اﷲ تعالٰی ان کی رضا کو دونوں جہان میں ہماری جان کاموتی بنائے۔ت) ارشاد فرمائیں اور حضور کے اصحاب اکابر انجاب
قدست اسرارھم وتُمّمت انوارھم
(ان کے اسرار مقدس اوران کے انوارتام کئے جائیں۔ت) کہ بالیقین اعاظم علماء واجلہ کملاتھے اسے بجالائیں اور طبقۃً فطبقۃً اولیاء وعلمائے سلسلہ عالیہ قادریہ
روح ارواح اصحابھا واروی قلوبنا بناھل عبابھا
(اﷲ تعالٰی ان کی ارواح کو معطرفرمائے اور ہمارے دلوں کو ان کے جاری چشموں سے سیراب فرمائے۔ت) اسے اپنامعمول بنائیں اور ثقات علماء وکبار اولیاء اپنی تصانیف میں اسے نقل و روایت کریں اجازتیں دیں اجازتیں لیں اور منکرین مکا برین کو اصلاً قدرت نہ ہو کہ آیت وحدیث توبڑی چیز ہے کہیں دو چارعمائد دین وفقہائے معتمدین ہی سے اس کا رد وانکار بے اعانت کذب واختلاق ومکابرہ وشقاق ثابت کرسکیں ایسی جمیل چیز جلیل عزیز کومحض اپنی ہوائے نفسانی واصول بہتانی کی بناپر بلحاظ اصل مذہب شرک قطعی اور فاعلوں، مجوزوں کومعاذاﷲ مشرک جہنمی اور بخوف اہل حق، تسہیل امر کوہارے جی سے صرف فاسق بدعتی بتائیے اور انکار ارشاد سیدالاولیاء وتضلیل وتفسیق علما وعرفاکا وبال عظیم، گردن پر اٹھائیے
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۱؎
(اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)
(۱؎ القرآن ۲۶/۲۲۷)
اور حضرات منکرین کایہ کہنا کہ صحابہ تابعین سے منقول نہیں، صحابہ محبت وتعظیم میں ہم سے زیادہ تھے، ثواب ہوتا تووہی کرتے۔
اوّلاً وہی معمولی باتیں ہیں جن کے جواب علمائے اہلسنت کی طرف سے ہزارہزاربار ہوچکے جسے آفتاب روشن پراطلاع منظورہو، ان کی تصانیف شریفہ کی طرف رجوع لائے، علی الخصوص کتاب مستطاب
(اﷲ تعالٰی ان کااجربڑاکرے، ان کی قبر کومنورکرے، ان کے اسرارمقدس بنائے، ان کی بھلائی ہمیں نصیب فرمائے اور ان کو سرورعطافرمائے، اور ان کو ہرضرر و تکلیف سے محفوظ فرمائے، حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام اور ان کی آل کی وجاہت کی برکت سے علیہم الصلٰوۃ والسلام اے تقوی اور مغفرت والو!۔ت) اور فقیرغفراﷲ تعالٰی بھی اس بحث اور اس کے امثال کو،بروجہ اجمال، رسالہ
اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ''صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورسالہ ''منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین''وغیرہما
اپنے رسائل ومسائل میں بقدرکفایت منقح کرچکا والحمدﷲ رب العٰلمین۔