ابی داؤد عن السائب بن یزید عن ابیہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا دعا فرفع یدیہ مسح وجھہ بیدیہ۔
ابوداؤد نے حضرت سائب بن یزید سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیاکہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب دعافرماتے تو ہاتھ اُٹھاکر چہرہ مبارک پرملتے۔(ت)
کے نیچے لکھا:
تفاؤلا وتیامنا بان کفیہ ملئتا خیرافافاض منہ علی وجھہ۳؎۔
یہ نیک فال ہوسکے ہ ہاتھ خیر سے بھرگئے ہیں اور اس خیرکو چہرہ پرفائض فرمایا۔(ت)
(۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث کان اذا دعافر فع کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ /۲۴۹)
اور حدیث ابی داؤد :
بیھقی عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلوااﷲ ببطون اکفکم ولاتسئلوہ بظھورھا فاذا فرغتم فامسحوا بھاوجوھکم ۔
بیہقی حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی سے اپنے ہاتھوں کے باطن میں سوال کرو اور ہاتھوں کی پشت میں سوا ل نہ کرو، اور جب دعاسے فارغ ہوجاؤ توہاتھوں کوچہرے پرپھیرو۔(ت)
تاکہ نیک فال ہوسکے کہ مطلوب پالیا اور اس کو برکت کے لئے چہرے تک پہنچایا جوکہ اعضامیں افضل ہے اور اس سے تمام بدن میں سرایت کرے۔(ت)
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث سلواﷲ کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ /۶۰)
فاضل علی قاری نے حرزثمین میں فرمایا:
لعل وجھہ انہ ایماء الی قبول الدعاء و تفاؤل بدفع البلاء وحصول العطاء فان اﷲ سبحٰنہ یستحیی ان یرد ید عبد صفرا ای خالیا من الخیر فی الخلاء والملائ۲؎۔
ہوسکتاہے کہ یہ اس بات کااشارہ ہوکہ دعا قبول ہوچکی ہے اور دفع بلا اور حصول عطا کے لئے نیک فال بن سکے کیونکہ اﷲ تعالٰی اپنے بندے کے ہاتھوں کوخلاء اور ملاء میں خیر سے خالی لوٹانے پر حیافرماتاہے۔(ت)
اسی طرح صاحب شرع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نائب جلیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مقاصد شرع پر لحاظ فرماکر خاص ان کے موافق یہ چلنا مقرر فرمایا کہ نفی اعراض وعطائے قربت وحصول اغراض واقبال اجابت کے لئے فال حسن ہو واﷲ تعالٰی الموفق۔
سادساً صحیح مسلم شریف(ف) میں بروایت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ثابت کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عین نماز میں چندقدم آگے بڑھے جب جنت خدمت اقدس میں اتنی قریب حاضر کی گئی کہ دیوار قبلہ میں نظر آئی یہاں تک کہ حضور بڑھے تو اس کے خوشہ ہائے انگور دست اقدس کے قابو میں تھے اور یہ نماز صلوٰہ الکسوف تھی۔
ف: آئندہ سطورمیں ہلالین کے اندراعلٰی حضرت کی اپنی عبارت ہے اور ہلالین سے باہر حدیث کی عبارت ہے۔ نذیراحمد
وذلک قولہ (بعد ما وصف صلوۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الکسوف) ثم تأخر (یعنی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) وتأخرت الصفوف خلفہ حتی انتھینا (قال مسلم وقال ابوبکر یعنی ابن ابی شیبہ شیخہ حتی انتھی) الی النساء ثم تقدم وتقدم الناس معہ حتی قام فی مقامہ فانصرف حین انصرف وقد اٰضت الشمس فقال (وقص الحدیث حتی قال) ما من شیئ توعدونہ الاوقد رأیتہ فی صلٰوتی ھذہ لقدجیئ بالنار وذلکم حین رأیتمونی تأخرت (وساق الخبرالی ان قال) ثم جیئ بالجنۃ وذلکم حین رأیتمونی تقدمت حتی قمت فی مقامی ولقد مددت یدی وانا ارید ان اتناول من ثمرھا۱؎(الحدیث مختصر)
ان کاقول یہ کہ سوج گرہن کی نماز کوبیان کرتے ہوئے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والاسلام نماز میں پیچھے ہٹ گئے اور آپ کے پیچھے صفیں بھی ہٹ گئیں حتی کہ ہم ہٹ گئے'' مسلم نے فرمایا کہ ان کے استاد ابوبکر ابن ابی شیبہ نے فرمایا یعنی ہم عورتوں کی صف تک پیچھے ہٹ گئے، پھر حضورعلیہ السلام آگے بڑھے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھ گئے حتی کہ حضورعلیہ السلام اپنے پہلے مقام پرکھڑے ہوئے توسورج روشن ہوگیا، پس انہوں نے کہا کہ راوی نے پوری حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا تمہیں جن امور کاوعدہ دیاگیا میں نے نماز میں ان سب چیزوں کودیکھا ہے اور تحقیق میرے سامنے آگ (جہنم) پیش کیاگیایہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور واقعہ بیان کرتے ہوئے راوی نے کہا، پھرآپ نے فرمایا میرے سامنے جنت کوپیش کیاگیا اوریہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا حتی کہ میں اپنی جگہ کھڑاہوا اور میںنے اپنا ہاتھ بڑھایا اس خیال سے کہ میں جنت کاپھل حاصل کروں(الحدیث مختصراً)۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الکسوف مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۹۷)
اسی طرح جب ارباب باطن واصحاب مشاہدہ یہ نماز پڑھ کر بروجہ توسل عراق شریف کی طرف متوجہ ہوتے ہیں انوار وبرکات وفیوض وخیرات اس جانب مبارک سے باہزاراں جوش وہجوم پیہم آتے نظرآتے ہیں، یہ بیتابانہ ان خوشہائے انگورجنّات نوروباغات سرور کی طرف قدم شوق پربڑھتے اور ان عزیز مہمانوں کے لئے رسم باجمال تلقی واستقبال بجالاتے ہیں، سبحان اﷲ کیاجائے انکار ہے اس نیک بندے پرجو اپنے رب کی برکات وخیرات کی طرف مسارعت کرے۔
ان جئتکم قاصدا اسعی علی بصری
لم اقض حقا وای الحق ادیت
(اگرمیں تمہارے قصد سے آؤں تو آنکھوں کے بَل دوڑتاہوا آؤں، توحق ادانہ کرسکوں اور کونسا حق ہے جومیں نے ادا کردیا ہے)
رہے ہم عامی جن کاحصہ یہی شقشقہ لسان واضطراب ارکان ہے وبس
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
(ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت کاسوال کرتے ہیں۔ت) ہم اس امرجمیل میں اُن اہل بصائرکے طفیلی ہیں :ع
وللارض من کأس الکرام نصیب
(کریم حضرات کے پیالوں سے زمین کابھی حصہ ہے)
جیسے نماز کے اس کے اکثر افعال واحکام ان سرار وحکم پرمبنی جوحقیقۃً صرف احوال سنیہ اہل قلوب پرمتبنی پھرعوام بھی صورت احکام میں ان کے مشارک مثلاً نمازنہاری میں اخفاء واجب ہو اور لیلی میں جہر کہ لیل آیت لطف ہے اور اس کی تجلی لطیف اورنہار آیت قہری ہے اور اس کی تجلی شدید پھرتجلی جہری سری سے بہت قوی وگرم تر، لہٰذا تعدیل کے لئے تجلی قہری کے ساتھ ٹھنڈی تجلی رکھی گئی اور لطفی کے ساتھ گرم، جمعہ و عیدین میں باوجود نہاری حکم جہرہواکہ بوجہ کثرت حاضرین اُنس حاصل اور دہشت زائل اور قلب بوجہ شہود تجلی سے قدرے ذاہل بھی ہوگا، معہذا ایک ہفتہ کی تقصیرات جمع ہوکر حجاب میں گونہ قوت پیداکرتی ہیں تو گاہے ماہے یہ معالجہ مناسب ہوا جواپنی حرارت سے اسے گلادے جیسے اطبّا، خطوط دقیقہ دیکھنے سے منع کرتے اور نادراً بغرض تمرین اسے علاج سمجھتے ہیں اور کسوف میں گوجماعت کثیر اور وقفہ طویل ہے پھربھی اخفاء ہی رہاکہ وہ وقت تخویف وتجلی جلال اور وقفہ طویل ہے جہر نہ ہوسکے گا، اسی لئے ہمارے نزدیک نماز جنازہ میں اصلاً قراء ت نہیں کہ یہ ہیبت عظیم وتجلی جلال، تجلی شدید قرآنی سے جمع نہ ہو اور جو قراء ت کہتے ہیں وہ بھی جہر نہیں رکھتے کہ شدت برشدت بڑھ جائے گی۔ شب کو آٹھ رکعت تک ایک نیت سے جائز اور دن کو چار سے زیادہ منع کہ سنت الٰہیہ ہے تجلی شیئاً فشیئاواردکرتے اور ہرثانی میں اول سے قوی بھیجتے ہیں تو تجلی گرم، نہاری کے ساتھ چار سے آگے تاب نہ آئے گی اسی لئے ہردورکعت پرجلسہ طویلہ کاحکم ہوا کہ خوب آرام پالے، اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یاد واجب ہوئی کہ لطف جمال سے حظ اٹھالے اور پچھلی رکعتوں میں قراء ت معاف کہ تجلیات بڑھتی جائیں گی شاید دشواری ہو اور منفرد پرجہر واجب نہیں کہ بوجہ تنہائی دہشت وہیبت زیادہ ہوتی ہے عجب نہیں کہ تاب نہ لائے تو اسے اس کے حال و وقت پرچھوڑنا مناسب رکوع وسجود میں قراء ت قرآن ممنوع ہوئی کہ ان کی تجلی، تجلی قیام سے سخت اشد، دوسری تجلی شدید قراء ت مل کرافراط ہوگی، نیز قعود میں قراء ت ممنوع ہوئی کہ وہ آرام دینے کے لئے رکھاگیا تجلی قرآنی کی شدت مل کر اسے مقصود سے خالی کردے گی اسی لئے رکو ع کے بعد قومہ کاحکم ہوا کہ اس تجلی قوی سے آرام لے کرتجلی اقوی کی طرف جائے ورنہ تاب نہ لائے گا اسی بنا پر بین السجدتین، اطمینان سے بیٹھنا واجب کیاگیا کہ تجلی سجدہ ثانیہ اور اشد واعظم ہوگی اشدبراشد کی توالی سے بنیان بشری نہ منہدم ہوجائے۔ امام عارف باﷲ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان میں نقل فرماتے ہیں:
انہ وقع لبعض تلامذۃ سیدی عبدالقادر جیلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ سجد فصار یضمحل حتی صار قطرۃ ماء علی وجہ الارض فاخذھا سیدی عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بقطنۃ ودفنھا فی الارض وقال سبحن اﷲ رجع الی اصلہ بالتجلی علیہ۱؎۔
یعنی حضورپُر نورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے بعض مریدوں نے سجدہ کیاجسم گھلنا شروع ہوا، یہاں تک کہ گوشت پوست ہڈی پسلی کسی شے کانشان نہ رہا صرف ایک بوندپانی کی زمین پر پڑی رہ گئی حضورپرنور نے روئی کے پھوئے سے اٹھاکر زمین میں دفن کردی اور فرمایا سبحٰن اﷲ تجلی کے سبب اپنی اصل کی طرف پلٹ گیا۔ ؎
قسمت نگر کہ کشتہ شمشیر عشق یافت
مرگے کہ زندگان بدعا آرزو کنند
(قسمت دیکھ کہ عشق کی تلوار کے مقتول نے ایسی موت کوپایا جس کے لئے زندہ لوگ دعا کی آرزو کرتے ہیں)
(۱؎ المیزان الکبرٰی باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۱۵۷)