رابعاً : سنت نبویہ علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ ہے کہ جہاں انسان سے کوئی تقصیر واقع ہو عمل صالح وہاں سے ہٹ کر کرے اسی لئے جب ایک بار سفرمیں آخرشب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے نزول فرمایا اور آنکھ نہ کھلی یہاں تک کہ آفتاب چمکا، حضور نے وہاں نماز نہ پڑھی اور فرمایا اس جگہ شیطان حاضر ہواتھا اپنے مرکبوں کویونہی لئے چلے آؤ،پھروہاں سے تجاوز فرماکر نمازقضا کی،
مسلم فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال عرسنا مع نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم نستیقظ حتی طلعت الشمس فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیأخذ کل رجل براس راحلتہ فان ھذا منزل حضرنا فیہ الشیطان قال ففعلنا ثم دعا بالماء فتوضأ الحدیث۲؎
(حدیث کاترجمہ متن حدیث سے پہلے موجود ہے)
(۲؎ صحیح مسلم باب قضاء الصلٰوۃ الفائتہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۳۸)
یہاں بھی جب یہ محتاج دورکعت نمازپڑھ چکااور اب وقت وہ آیا کہ جہت توسل کی طرف منہ کرکے اﷲ جل جلالہ، سے دعاچاہتاہے، نفس نماز میں جوقلت حضوروغیرہ قصورسرزد ہوئے یاد آئے اور سمجھاکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں شیطان کے دخل نے مجھ سے مناجات الٰہی میں تقصیر کرادی، ناچار ہٹتاہے اور پُرظاہر کہ جہت توجہ اس کے لئے اولٰی وایسر، یمیناً وشمالاً انصراف میں ترک توجہ، اور رجعت قہقری بعد کی صورت اور اقبال نشان اقبال فکان ھوالمختار۔
خامساً خادم شرع جانتاہے کہ صاحب شرع صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کو باب دعا میں، تفاؤل پربہت نظر ہے اسی لئے استسقاء میں قلب ِ ردا فرمایا کہ تبدل حال کی فال ہو
الدارقطنی بسند صحیح علی اصولنا عن الامام ابن الامام ابن الامام جعفر بن محمد بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم عن ابیہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استسقی وحوّل رداء ہ للیتحول القحط۱؎۔
ہمارے اصول کے مطابق دارقطنی نے صحیح سند کے ساتھ امام ابن امام ابن امام جعفر بن محمدبن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم وہ اپنے والد سے راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے (بارش کے لئے دعامیں) چادرمبارک الٹی تاکہ قحط ختم ہوجائے۔(ت)
(۱؎ سنن الدارقطنی کتاب الاستسقاء حدیث ۲ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۶۶)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
قالوا والتحویل شرع تفاؤلا بتغییر الحال من القحط الی نزول الغیث والخصب ومن ضیق الحال الی سعتہ۲؎۔
ائمہ کرام نے فرمایا کہ چادر الٹانا اس لئے مشہور ہے کہ قحط سے بارش کی طرف اور تنگی سے خوشحالی کی طرف حالت کوتبدیل کرنے کے لئے نیک فال بن سکے۔(ت)
(۲؎ شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ الاستسقاء مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ /۲۹۲)
اسی لئے بدخوابی کے بعد جو اس کے دفع شر کی دعا تعلیم فرمائی، ساتھ ہی یہ بھی ارشاد ہوا کہ کروٹ بدل لے تاکہ اس حال کے بدل جانے پر فال حسن ہو
مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما مرفوعا اذا رأی احدکم الرؤیا یکرھھا فلیبصق عن یسارہ ثلثا ولیستعذ باﷲ من الشیطان ثلثا ولیتحول عن جنبہ الذی کان علیہ۳؎۔
مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین مرتبہ بائیں جانب تھوکے اور
اعوذباﷲ من الشیطان الرجیم
تین مرتبہ پڑھے اور اپنی کروٹ دوسری جانب بدلے۔(ت)
(۳؎ صحیح مسلم کتاب الرؤیا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ /۲۴۱
سنن ابوداؤد باب فی الرؤیا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ /۶۸۵)
علامہ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں:
تفاؤلا بتحول تلک الحال۴؎
(تاکہ اس سے نجات کے لئےنیک فال بن سکے۔ت) اسی لئے ہنگام استسقا، پشتِ دست جانبِ آسمان رکھے کہ ابرچھانے اور باران آنے کی فال ہو۔
(۴؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اذا رأی احدکم کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۱ /۹۷)
مسلم عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استسقی فاشار بظھر کفیہ الی السماء۱؎۔
مسلم نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی علیہ عنہ سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام جب بارش کے لئے دعافرماتے توہتھیلی مبارک کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ فرماتے۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ الاستسقا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ /۲۹۳)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃمیں ہے :
طیبی گفتہ ایں نیزبرائے تفاول ست بقلب وتبدل حال مثل صنیع وے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درتحویل رداشار تست بمطلوب کہ بطون سحائب بجانب زمین گرد و بریزد انچہ دروست از امطار واﷲ تعالٰی اعلم۲؎۔
طیبی نے فرمایا یہ عمل بھی حالت کو تبدیل کرنے کی نیک فال کے طورپر ہے جیسا کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چادرتبدیل کرتے تھے جس میں بادلوں کے پیٹ زمین کی طرف ہوجانے اور بادلوں سے بارش ہونے کے مطلوب کی طرف اشارہ تھا واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
اسی لئے علمانے مستحب رکھا، جب دفع بلاکے لئے دعاہو، پشت دست سوئے سماہو، گوہاتھوں سے آتش فتنہ کوبجھاتااور جوش بلا کو دباتا ہے۔اشعہ میں ہے:
گفتہ اندچوں دعابرائے طلب وسوال چیزے ازنعمابود مستحب است کہ گردانیدہ شود بطن کفہا بجانب آسمان وہرگاہ کہ برائے دفع و منع فتنہ وبلاباشد پشت ہائے دست بجانب آسمان کندازبرائے اطفائے نائرہ فتنہ وبلاوپست کردن قوت حادثہ وغلبہ آں۳؎۔
علمانے فرمایا ہے کہ جب کسی نعمت کے حصول کے لئے دعاکی جائے تومستحب یہ ہے کہ دعامیں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوآسمان کی طرف کیاجائے اور اگرکسی دفع شر کے لئے دعا کی جائے توپھرہاتھوں کی پشت کوآسمان کی طرف کیاجائے تاکہ فتنہ اور مصیبت کی شدت کم ہو اور حادثہ کی قوت وغلبہ پست ہوجائے۔(ت)
اسی لئے دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا مسنون ہوا کہ حصول مرادقبول دعا کی فال ہو گویادونوں ہاتھ خیروبرکت سے بھرگئے اس نے وہ برکت اعلٰی و اشرف اعضاپراُلٹ لی کہ اس کے توسط سے سب بدن کو پہنچ جائے گی۔ ترمذی وحاکم کی حدیث میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا رفع یدیہ فی الدعاء لم یحطھما حتی یمسح بھما وجھہ۱؎۔
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے توچہرہ مبارک پرپھیرتے بغیرہاتھوں کونیچے نہ کرتے۔(ت)
(۱؎ جامع الترمذی ''الدعوات'' باب ماجاء فی رفع الایدی عندالدعاء مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۷۴
المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء مسح الوجہ بالیدین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۵۳۶)
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں :
تفاؤلاباصابۃ المراد وحصول الامداد۲؎۔
مراد کوپانے اور امداد حاصل کرنے کے لئے نیک فال کے طورپر۔(ت)
(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث کان اذارفع یدیہ فی الدعاکے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ /۲۵۰)