فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالٰی لہ یہاں نکات غامضہ ہیں کہ ان پرمطلع نہیں ہوتے مگرتوفیق والے، جب معلوم ہولیا کہ حق جل وعلا عزمجدہ کی طرف اس کے محبوبوں سے توسل محمود مقصود وسنت ماثورہ و طریقہ مامورہ اور ہنگام توسل ان کی جانب توجہ درکار، یہاں تک کہ جب خلیفہ ابوجعفر منصورعباسی نے سید ناامام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا: دعا میں قبلہ کی طرف منہ کروں یا مزارمبارک حضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف؟ فرمایا:
ولم تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک اٰدم علیہ الصلوۃ والسلام الی اﷲ تعالٰی یوم القٰیمۃ بل استقبلہ واستشفع بہ فیشفعک اﷲ تعالٰی۱؎۔ اخرجہ الامام القاضی عیاض فی الشفاء وغیرہ فی غیرہ۔
کیوں اپنامنہ ان سے پھیرتاہے وہ قیامت کوتیرا اور تیرے باپ آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا اﷲ تعالٰی کی طرف وسیلہ ہیں بلکہ انہیں کی طرف منہ کر اور شفاعت مانگ کہ اﷲ تعالٰی تیری درخواست قبول فرمائے۔
(۱؎ کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمتہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ شرکۃ صحافیۃ فی بلاد عثمانیۃ ۲ /۳۵
نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمتہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۳۹۸)
اور سوال حاجت سے پہلے دورکعت نماز کی تقدیم مناسب کہ اﷲتعالٰی فرماتاہے:
واستعینوا بالصبر والصلٰوۃ۲؎
(صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ت)
(۲؎ القرآن ۲ /۱۵۳)
پھرکامل اکسیریہ ہے کہ کسی محبوب خدا کے قریب جائیے اسی طرف حق جل وعلا نے قرآن عظیم میں ہدایت فرمائی کہ ارشاد کرتاہے:
اور اگروہ جب اپنی جانوں پرظلم کریں تیرے حضور حاضر ہوکر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول اُن کے لئے استغفار کرے تو بیشک اﷲ تعالٰی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
( ۳؎ القرآن ۴/ ۴۶)
سبحان اﷲ خداہرجگہ سنتاہے اور بے سبب مغفرت فرماتاہے مگرارشاد یوں ہوتاہے کہ گنہگار بندے تیری خدمت میں حاضر ہوکر ہم سے دعائے بخشش کریں اور قدیماً وحدیثاً وصلحا اس آیہ کریمہ کوزمانہ حیات ووفات سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں عام اور حاضری مزارمبارک کوحاضری مجلس اقدس کی مثل سمجھاکئے اور اوقات زیارت میں یہی آیہ کریمہ تلاوت کرکے اﷲتعالٰی سے استغفار کرتے رہے اس مضمون کی بہت روایات وحکایات مواہب لدنیہ و منح محمدیہ و مدارج النبوۃ وجذب القلوب الٰی دیار المحبوب و خلاصۃ الوفا فی اخبار دارالمصطفی وغیرہا تصانیف علمامیں مذکور ومشہور بعض ان سے حضرت مقدام المحققین حضرت والد قدس سرہ الماجد نے سرورالقلوب فی ذکرالمحجوب میں ذکرکرکے اس مسئلے کااثبات فرمایا
من شاء فلیتشرف بمطالعتہ
(جوچاہے اس کے مطالعہ سے مشرف ہو۔ت) اسی طرح بہت علما مصنفان مناسک باب زیارت شریفہ مدنیہ طیبہ میں وقت حاضری اس آیت کو پڑھ کر استغفار کاحکم دیتے ہیں توثابت ہوا کہ محبوبان خدا کی طرف جانا اور بعد وصال اُن کی قبور کی طرف چلنا دونوں یکساں جیسا کہ سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سیدنا امام ابوحنیفہ کے مزارفائض الانوار کے ساتھ کیاکرتے۔ اب یہ کہ گدائے سرکار قادریہ اس آستان فیض نشان سے دور ومہجورہے گوبعد نماز مزار اقدس تک جانے کی حقیقت اسے میسرنہیں تاہم دل سے توجہ کرنا اور چندقدم اس سمت چل کر اُن چلنے والوں کی شکل بناتا ہے کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حدیث حسن میں فرمایا:
من تشبہ بقوم فھومنھم۱؎۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد حسن وان کان طریق ابی داود عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما لےس بذلک
جو کسی قوم سے مشابہت پےدا کرے وہ انہیں سے ہے اس کی تخرےج طبرانی نے اوسط میں حضرت حذےفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کی ہے یہ سند جےد ہے اگرچہ ابوداؤد کے طرےق پرابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی قوی نہیں ہے(ت)
(۱ ؎ مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اللہ ابن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ /۵۰و ۹۲
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط کتاب الزہد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۱۰ /۲۷۱)
ثانیاً توسل میں توجہ باطن ضرور اور ظاہر، عنوان باطن، لہٰذا یہ چلنا مقررہوا کہ حالت قالب، حالت قلب پرشاہد ہو جس طرح سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے استسقا میں قلبِ ردا فرمایا کہ قلب لباس، قلب احوال وکشف باس کی خبر دے، شاہ ولی اﷲ نے قول الجمیل میں قضائے حاجت کے لئے
''صلٰوۃ کن فیکون''
کی ترکیب لکھی جس کے آخر میں ہے کہ پھرپگڑی اتارے، آستین گلے میں ڈالے، پچاس باردعاکرے، ضرورمستجاب ہو۲؎۔
(۲؎ القول الجمیل مترجم اردو پانچویں فصل صلٰوۃ کن فیکون مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۳)
اس پر ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں: ''بعض ناواقفوں نے اعتراض کیا ہے، آستین گردن میں ڈالنا کیونکر جائز ہوگا، حالانکہ ادعیہ ماثورہ میں یہ ثابت نہیں، ہم جواب دیتے ہیں کہ قلب ردا یعنی چادر کااُلٹنا پلٹنا نماز استسقاء میں رسول علیہ السلام سے ثابت ہے تاحال عالم کابدل جائے تو اس طرح آستین گردن میں ڈالنا، امر مخفی کے اظہار کے واسطے یعنی تضرع کے، واسطے حصول شعار گردش حال کے یامقصود کے کیونکر ناجائز ہوگا۳؎''۔
انتھی مترجما بترجمۃ المولوی خرم علی البلھوری فی شفاء العلیل ترجمۃ القول الجمیل۔
(۳؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل پانچویں فصل صلٰوۃ کن فیکون مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۴)
میں کہتاہوں جب آستین گلے میں باندھنا باآنکہ طرق ماثورہ میں وارد نہیں، اس وجہ سے کہ اس میں تضرع مخفی کااظہار شدیدہے، اگرچہ نفس اظہار گڑگڑانے کی صورت سے حاصل تھا، جائز ٹھہرا تویہ چندقدم جانب عراق محترم چلنا اس وجہ سے کہ اس میں توجہ مخفی کااظہار قوی ہے کیونکرناجائز ہوگا۔
ثالثاً ظاہرمصلح خاطر ولہٰذا جس امر میں جمع عزیمت وصدق ارادت کااہتمام چاہتے ہیں وہاں اس کے مناسب احوال وجوارح رکھے جاتے ہیں کہ ان کی مدد سے خاطر جمع اور انتشار دفع ہوا،اسی لئے نماز میں تلفظ بہ نیت قصد جمع عزیمت علماء نے مستحسن رکھا
کمافی المبسوط والھدایۃ والکافی والحلیۃ وغیرھا
(جیسا کہ مبسوط، ہدایہ، کافی اور حلیہ وغیرہ میں ہے۔ت) شاہ ولی اﷲ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں:
من جبلۃ الانسان انہ اذا استقر فی قلبہ شیئ جری حسب ذلک الارکان واللسان و ھوقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ''ان فی جسد ابن اٰدم مضغۃ'' الحدیث ففعل اللسان ولارکان اقرب مظنۃ وخلیفۃ لفعل القلب۔۱؎
انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی چیز اس کے دل میں جم جاتی ہے تواعضاء اور زبان اسی کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد مبارک کا کہ انسان کے جسم میں ایک ٹکڑا ہے الحدیث، پس زبان اور اعضاء کی حرکت دل کے فعل کے تابع ہوتی ہے۔(ت)
اوریہی سر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین اور تشہد میں انگشتِ شہادت سے اشارہ مقررہوا، شاہ ولی اﷲ اسی کتاب میں لکھتے ہیں:
الھیأۃ المندوبۃ ترجع الی معان، منھا تحقیق الخضوع کصف القدمین، ومنھا محاکاۃ ذکراﷲ تعالٰی باصابعہ ویدہ حذوما یعقلہ بجنانہ کرفع الیدین و الاشارۃ بالمسبحۃ لیکون بعض الامر معاضداً لبعض۱ھ۲؎ ملخصاً
مستحب حالت کئی معانی کی طرف راجع ہے، ایک خشوع کاپایاجانا، جیسے قدموں کابرابرہونا، اور ایک اﷲ کے ذکر کی حکایت ہاتھ اور انگلیوں سے کرناب تاکہ دل میں جوکچھ ہے اس کی مطابقت ہوسکے، جیسے ہاتھ اٹھانا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا جس سے بعض افعال کی بعض تقویت ہوتی ہے اھ ملخصا(ت)
اور اسی قبیل سے ہے دعامیں ہاتھ اٹھانا چہرے پرپھیرنا، شاہ ولی اﷲ تصریح کرتے ہیں کہ یہ افعال رغبت باطنی کی تصویر بنانے کوہیں کہ قلب اس پرخوب متنبہ ہوجائے اورحالت قلب ہیأت سے تائید پائے۔
کتاب مذکورمیں ہے:
اما رفع الیدین ومسح الوجہ بھما فتصویرللرغبۃ مظاھرۃ بین الھیأۃ النفسانیۃ وما یناسبھا من الھیأۃ البدنیۃ وتنبیہ للنفس علی تلک الحالۃ ۱؎۔
اور ہاتھ اٹھانا اور دعاکے بعد ہاتھوں کو چہرے پر ملنا یہ اپنی دعا میں رغبت کااظہارہے اور ہیئت نفسانیہ کی تصویر اور ہیئت بدنیہ کی مناسبت ہے اور نفس کو اپنی حالت پرتنبیہ ہے۔(ت)