اِن احادیث وروایات وکلمات طیبات سے کالشمس فی وسط السماء روشن وآشکارہوگیا کہ ہنگام توسل محبوبان خدا کی طرف منہ کرناچاہئے اگرچہ قبلہ کوپیٹھ ہو، اور دل کو ان کی طرف خوب متوجہ کرے یہاں تک کہ ہر این وآں خاطر سے محو ہوجائے اور ان کے لئے خضوع وخشوع محمود و مشروع، اور اس میں ان کازمانہ وفات ظاہری وحضور مرقدو ذکرمجرد سب برابرہے اور ان کے سوا عبارت اخیرہ سے جو اور فوائد جمیلہ وعوائد جلیلہ حاصل ہوئے بیان سے غنی ہیں
والحمدﷲ رب العٰلمین
پس زید منکر نے کہ توجہ قلب وخشوع وہیأت نماز وغیرہ کی قیدیں بڑھاکر گمان کیاتھا کہ اب اسے اثبات عدم جواز کی طرف راہ آسان ہوگی۔ بحمداﷲ ثابت ہوا کہ اس کامحض خیال ہی خیال تھا
و یحق اللّٰہ الحق بکلمتہ ولوکرہ المجرمون۳؎
(اور اﷲ تعالٰی حق کو اپنے کلمہ سے ثابت فرماتاہے اگرچہ باطل واے ناپسند کریں۔ت)
(۳؎ القرآن ۱۰/۸۲)
فقیرحیران ہے کہ اس نمازمبارک میں اول توصلٰوۃ مفروضہ کے بعد قبلے سے انحراف کہاں، اورہوبھی تو اس میں کیاگناہ ہے، ہرنماز مفروضہ کے بعد امام کو قبلے سے انحراف سنت معلومہ ہے، پھر اسے ممانعت میں کیا مداخلت، ہاںجوکچھ غیظ وغضب کرناہو تعیین سمت پرکیجئے اور اس کاجواب مرزا مظہرجانجاناں شہید سے لے لیجئے جنہیں شاہ ولی اﷲ دہلوی اپنے مکتوبات میں نفس زکیہ، قیم طریقہ احمدیہ، داعی سنتِ نبویہ متحلی بانواع فضائل وفواضل لکھتے ہیں اور حاشیۃ مکتوبات پر شاہ صاحب مذکور سے مرزاصاحب موصوف کی نسبت منقول:
انچہ قدر ایشاں مامردم میدانیم شماچہ دانیداحوال مردم ہندبرما مخفی نیست کہ خود مولد ومنشاء فقیرست وبلاد عرب رانیزدیدہ ایم وسیرنمودہ، واحوال مردم ولایت ازثقات آنجا شنیدہ ایم وتحقیق کردہ عزیزے کہ برجادہ شریعت وطریقت واتباع کتاب وسنت ہمچنین استوارومستقیم باشد ودرارشاد طالبان شان عظیم ونفسے قوی دارد ودریں جزوزماں مثل ایشاں دربلاد مذکور یافتہ نمی شودمگردرگز شتگان بلکہ درہر جزوزمان وجوداین چنیں عزیزاں کمتر بودہ است چہ جائے ایں زماں کہ پرفتنہ وفسادست انتہی ۱؎۔
ان کی جو قدرہم جانتے ہیں تم کیاجانو، ہندوستان کے لوگوں کے احوال ہم سے مخفی نہیں کیونکہ ہندوستان فقیر کاجائے پیدائش وپرورش ہے اور عرب بھی میںنے دیکھاہے اور اس کی سیرکی ہے اور ولایت کے لوگوں کے احوال بھی سنے ہیں، تحقیق کی ہے کہ ان صاحب عزت، جوکہ شریعت وطریقت کے مرتبہ پر فائز ہیں اور کاب وسنت پرعمل پیراہیں اور طالب حضرات کی رہنمائی میں عظمت اور مضبوطی رکھتے ہیں، جیسا بلادمذکورہ میں فی زمانہ کوئی نہیں ہے گزشتہ لوگوں (اسلاف میں ہوسکتاہے، بلکہ ہردور میں ان جیسے بزرگ بہت کم ہوئے ہیں اس پرفتن زمانہ کی بات ہی کیاہے اھ(ت)
(۱؎ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ دہلوی ازمجموعہ کلمات طیبات فصل چہارم ''مکاتیب شاہ ولی اﷲ'' مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۵۸)
یہی جناب مرزاصاحب اپنے مکتوبات میں ایک مرید رشید کو (جن کی بی بی کی نسبت فرمایا:
تخمے پاک در خاک آں عفیفہ کاشتہ ایم بروقت مقدرسرسبز خواہد شد
(ہم نے اس پاکیزہ کی مٹی میں ایک پاک بیچ کاشت کیاہے جومقررہ وقت پرسرسبز ہوگا۔ت) تحریرفرماتے ہیں:
انچہ ازقصد خودومردم خانہ بجانب شاہجہاں آباد نوشتہ اندبشرط امن مبارک ست وتارسیدن شما فقیر اِن شااﷲ تعالٰی بعد نمازیک دوگھڑی روزبرآمدہ پیش از حلقہ یابعدآں بجانب آں مستورہ شمامتوجہ خواہد شد باید کہ ہرروز منتظر ومتوقع فیض روبایں طرف کردہ بعد نمازصبح روبایں طرف کردہ بعد نمازصبح بنشیند کہ محبت ایں عفیفہ کہ فرزند ماست دردل فقیر تاثیر کردہ است۲؎الخ
میں نے اور گھروالوں نے شاہجہان آبادکی طرف جوخط لکھاہے وہ بشرط امن مبارک ہے اور تمہارے پہنچنے تک ان شاء اﷲ فقیرروزانہ ایک دوگھڑی حلقہ ذکر سے قبل یابعد باہرآکر آپ کی مستورہ بیوی کی طرف توجہ کرتاہے، ہوسکتاہے تو روزانہ فیض کا متوقع ہوکر اس طرف منہ کرکے صبح کی نماز کے بعد بیٹھاکرو تاکہ اس پاکیزہ کی جو میری بیٹی ہے کی محبت کی تاثیر اس فقیر کے دل پرہو۔الخ(ت)
جان من سلامت باشی دریں مدت مفارقت دورقعہ شمارسید وحرزجاں گردید باید دید کہ انتظار باماچہ میکند، ہرصبح بعد نماز متوجہ بفقیر بنشینید بے ناغہ توجہ می دہم از کسی توجہ نگیرید زیادہ عمرومزہ عمرباد ۱؎ انتہی ملخصا
میری جان! سلامت رہو، اس جدائی کی مدت میں تمہارے دورقعے ملے ہیں جوحرزجاں ہیں، غورکرو کہ ہماراانتظار کیااثرکرتاہے روزانہ صبح کی نماز کے بعد مجھ فقیر کی طرف منہ کرکے بیٹھاکرو اور ناغہ نہ کرو، میں خودتوجہ کیاکروں گا کسی دوسرے کی توجہ کی ضرورت نہیں ان شاء اﷲ عمرزیادہ اور عمرکامزہ بھی پاؤ گے اھ ملخصاً
نسبت مابجناب امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ مے رسد وفقیر رانیازے خاص بآنجناب ثابت ست دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفا میگردد۲؎الخ۔
میراخاص تعلق حضرت امیرالمؤمنین علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہ الکریم سے قائم ہے اور فقیر کوآپ سے خاص نیازحاصل ہے، فقیرجسمانی عارضہ کے وقت آپ کی طرف توجہ کرتااور شفاپاتاہے الخ(ت)
نفیسہ: امام علامہ ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اﷲ علیہ الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں :
لم یزل العلماء و ذووالحاجات یزورون قبرالامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ویتوسلون عندہ فی قضاء حوائجھم و یرون نجح ذلک، منھم الامام الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فانہ جاء عنہ انہ قال انی لاتبرک بابی حنیفۃ واجیئ الی قبرہ فاذا عرضت لی حاجۃ صلیت رکعتین وجئت الٰی قبرہ وسألت اﷲ تعالٰی عندہ فتقضی سریعا۲؎۔
یعنی ہمیشہ سے علماو اہل حاجت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مزارمبارک کی زیارت اور اپنی حاجت روائیوں کوبارگاہ الٰہی میں اُن سے توسّل کرتے اور اس سبب سے فوراً مرادیں پاتے ہیں اُن میں سے ہیں امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ فرماتے ہیں میں ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تبرک کرتااور اُن کی قبر پر جاتاہوں اور جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی ہے دورکعت نمازپڑھتااور ان کی قبر کی طرف آکر خدا سے سوال کرتاہوں کچھ دیرنہیں لگتی کہ حاجت رواہوتی ہے۔
(۲؎ الخیرات الحسان الفصل الخامس والثلاثون فی تادب الائمۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۴۹)