| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
واجب علی کل مومن متی ذکرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوذکر عندہ ان یخضع و یخشع ویتوقر ویسکن من حرکتہ ویأخذ فی ھیبتہ واجلالہ بماکان یاخذبہ نفسہ لوکان بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویتأدب بماادبنا اﷲ تعالٰی بہ۲؎۔
ہرمسلمان پرواجب ہے جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کویادکرے یااس کے سامنے حضورکاذکر آئے خضوع وخشوع بجالائے اور باوقار ہوجائے اور اعضاء کوحرکت سے بازرکھے اور حضور کے لئے اس ہیبت وتعظیم کی حالت پرہوجائے جو حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے روبرو اس پرطاری ہوتی اور ادب کرے جس طرح خداتعالٰی نے ہمیں ان کا ادب سکھایاہے۔
(۲ ؎ کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعدموتہ مطبوعہ مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ ترکی ۲ /۳۴)
امام علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض میں اس قول کے نیچے لکھتے ہیں:
یفرض ذلک ویلاحظہ ویتمثلہ فکانہ عندہ۱؎۔
یعنی یادحضور کے وقت یہ قراردے کہ میں حضوراقدس کاتصورباندھے گویا حضورکے سامنے حاضرہوں۔
(۱؎ نسیم الریاض شرح شفائ فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد موتہ مطبوعۃ دارالفکر بیروت ۳ /۳۹۶)
امام اجل سیدی قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالٰی شفاشریف میں امام تجیبی کا ارشاد نقل کرکے فرماتے ہیں:
وھذہ کانت سیرۃ سلفنا الصالح وائمتنا الماضین رضی اﷲ تعالٰی عنھم۲؎۔
ہمارے سلف صالح وائمہ سابقین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کایہی داب وطریقہ تھا۔
(۲؎ کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد موتہ مطبوعہ مطبعۃشرکۃ صحافیۃ ترکی ۲ /۳۴)
اور فرماتے ہیں :
کان مالک اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتغیّر لونہ وینحنی۳؎۔
امام مالک رحمہ اﷲتعالٰی جب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکرکرتے رنگ اُن کابدل جاتا اور جھک جاتے۔
(۳؎ کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد موتہ مطبوعہ مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ ترکی ۲ /۳۶)
نسیم میں ہے:
لشدہ خشوعہ۴؎
یہ جھک جانا سبب شدت خشوع تھا۔
(۴؎ نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد موتہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۳۹۹)
شفاشریف وغیرہ تصانیف علماء میں اس قسم کی بہت روایات مذکور، شاہ ولی اﷲ قصیدہ ہمزیہ میں لکھتے ہیں:؎
ینادی ضارعا لخضوع قلب وذل وابتھال والجتاء رسول اﷲ یاخیرالبرایا نوالک ابتغی یوم القضاء۵؎
(حاجت مندی، دل کی عاجزی، انکساری، تضرع اور التجاء کے ساتھ رسول اﷲ کو نداکرے اور عرض کرے کہ اے مخلوق سے افضل ذات! میں آپ سے قیامت کے روزعطاکاخواستگار ہوں)
(۵؎ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳)
دیکھو صاف بتاتے ہیں کہ جب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ندااور حضور سے عرض حاجت کرے تو تضرع و خضوع قلب وتذلل والحاح وزاری سب کچھ بجالائے۔ میں کہتاہوں واﷲ ایسا ہی چاہئے مگرآپ کے ان شرک فروشوں کی دواکون کرے، غرض اس مطلب نفیس میں کلمات علماء کا استیعاب کیجئے تودفترچاہئے لہٰذامیں یہاں منسک متوسط اور اس کی شرح مسلک متقسط کی ایک نفیس عبارت کہ بہت فوائد جلیلہ پرمشتمل تلخیصاً اور ذکر کرتاہوں مولٰینا رحمۃ اﷲ سندی متن اور فاضل علی قاری شرح میں فرماتے ہیں:
فاذا فرغ من ذلک قصد التوجہ الی القبر المقدس وفرغ القلب من کل شیئ من امور الدنیا، واقبل بکلیتہ لماھو بصددہ لیصلح قلبہ للاستمداد منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، ولیلا حظ مع ذلک الاستمداد من سعۃ عفوہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعطفہ ورأفتہ (ای شدۃ رحمتہ علی سائر العباد) ان یسامحہ فیما عجز عن ازالتہ من قلبہ، ثم توجہ (ای بالقلب والقالب) مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعا خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والھیبۃ والافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح (من الحرکات) فارغ القلب (عمن سوی مقصودہ ومرامہ) واضعا یمینہ علی شمالہ (تأدبا فی حال اجلالہ) مستقبلا للوجہ الکریم مستدبرا للقبلۃ ناظرا الی الارض متمثلا صورتہ الکریمۃ فی خیالک مستشعرا بانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عالم بحضورک وقیامک وسلامک (بل بجمع افعالک واحوالک وارتحالک ومقامک) مستحضرا عظمتہ وجلالتہ وشرفہ وقدرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم قال من غیررفع صوت (لقولہ تعالٰی ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اﷲ الایۃ) ولا اخفاء (ای بالمرۃ لفوت الاسماع الذی ھوالسنۃ وان کان لایخفی شیئ علی الحضرۃ) بحضور (قلب واستحیاء) السلام علیک ایّھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۱؎ ثم یقول یارسول اﷲ اسألک الشفاعۃ ثلثا (لانہ اقل مراتب الالحاح لتحصیل المنال فی مقام الدعاء والسؤال)۲؎وصلی اﷲ تعالٰی علی قاضی حاجتنا ومعطی مواداتنا سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
یعنی جب مقدمات زیارت سے فارغ ہوقبرانور کی طرف توجہ کاقصد اور دل کو تمام خیالات دنیویہ سے فارغ کرے اور ہمہ تن اس طرف متوجہ ہوجائے تاکہ اس کاقلب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے استمداد کے لائق ہو بااینہمہ جوخیال مجبورانہ دل میں باقی رہے جس کے ازالہ پرقادرنہ ہو اس کی معافی کے لئے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی کمال مغفرت ومہربانی و رافت اور تمام بندوں پرحضور کی شدت رحمت سے مددمانگے پھردل وبدن دونوں سے نہایت ادب کے ساتھ مواجہہ شریف میں حاضرہو تواضع وخضوع وخشوع وتذلل وانکسار وخوف و وقار وہیبت واحتیاج کے ساتھ آنکھیں بند کئے اعضا کوحرکت سے روکے دل اس مقصود مبارک کے سوا سب سے فارغ کئے ہوئے ادب وتعظیم حضور کے لئے دہنا ہاتھ بائیں پررکھے حضور کی طرف منہ اور قبلے کوپیٹھ کرے نگاہ زمین پرجمائے رہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کاتصور باندھے اور ہوشیار ہوکہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی حاضری و قیام وسلام بلکہ تمام افعال واحوال اور منزل بمنزل کے قیام وارتحال پرمطلع ہیں اور حضورکی عظمت وجلال وشرف ومنزلت کوخوب خیال کرے پھرنہ توآواز بلند ہو کہ اﷲ تعالٰی ان کے حضورپست آواز کاحکم دیتاہے نہ بالکل آہستہ جس میں سنانے کی سنت فوت ہو اگرچہ سرکارپرکچھ پوشیدہ نہیں اس طرح حضور قلب وشرم وحیا کے ساتھ عرض کرے السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھرکہے یارسول اﷲ! میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں یارسول ! میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں یارسول اﷲ!میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں، تین باس اس لئے کہے کہ یہ دعا وسوال میں حصول مقصود کے واسطے ادنٰی مرتبہ الحاح کاہے۔(م)اﷲ تعالٰی ہمارے حاجت روا اور مرادوں کوپوراکرنے والے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور آپ کی آل وصحابہ کرام سب پر، رحمت نازل فرمائے۔(ت)
(۱؎ مسلک متقسط شرح منسک متوسط مع ارشاد الساری فصل ولوتوجہ الی الزیارۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۷) (۲؎ مسلک متقسط شرح منسک متوسط مع ارشاد الساری فصل ولوتوجہ الی الزیارۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۹)