Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
128 - 158
بااینہمہ علمانے تصریح فرمائی کہ غیرخدا کے لئے تواضع حرام ہے،
فتاوٰی ہندیہ میں یہ ہے :
التواضع لغیراﷲ حرام کذافی الملتقط۲؎
 (غیرخدا کے لئے تواضع حرام ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ        الباب الثامن والعشرون فی ملاقات الملوک الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۶۸)
توبات وہی ہے کہ انبیاء واولیاء و مسلمین کے واسطے تواضع ا س لئے ہے کہ وہ اﷲ کے نبی ہیں یہ اﷲ کے ولی ہیں وہ دین الٰہی کے قیم ہیں یہ ملت الٰہیہ پرقائم ہیں توعلت تواضع، جب وہ نسبت ہے جوانہیں بارگاہ الٰہی میں حاصل،
 تویہ تواضع بھی درحقیقت خداہی (عــہ)کے لئے ہوئی ،
جیسے صحابہ کرام واہل بیت عظام کی تعظیم ومحبت بعینہٖ محبت و تعظیم سیدعالم ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،
کمانص علیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی غیرما حدیث ونحن فی غنی عن سردھا ھھنا فماھی شوارد بل معلومۃ الموارد۔
جیسا کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس پرتصریح فرمائی، ایسی بہت سی احادیث ہیں ہمیں ان کو ذکرکرنے کی ضرورت نہیں، وہ احادیث اجنبی نہیں ہیں ان کامورد سب کومعلوم ہے۔(ت)
عہ : عجیب تربشنو

(نہایت عجیب بات سن۔ت)

مرزا مظہر جانجاناں صاحب اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:

ایشاں بجناب پیرخود نوشتند کہ محبت شمار برمحبت خدا و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غالب وست موجب انفعال میشود درجواب برنگا شتند کہ محبت پیرہمیں محبت خدا ورسول ست وسبب جذب کمالات الٰہیہ کہ درباطن پیرثابت ست می شود؎

چوں دیدہ عقل آمد احول

معبود توسری ست اول۳؎

انہوں نے اپنے پیر کی خدمت میں لکھاکہ آپ کی محبت اﷲ تعالٰی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت پرغالب ہے جوکہ فیضیاب ہونے کاسبب ہے، پیرصاھب نے جواب میں لکھا کہ پیرکی محبت بھی اﷲ تعالٰی اور رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہی کی محبت ہے جوکہ پیرکے باطن میں ثابت شدہ اﷲ تعالٰی کے کمالات کوجذب کرنے کاباعث ہے۔ا نتہی بلطفہ ۱۲منہ (م)
 (۳؎ ملفوظات مرزامظہر جانجاناں    مجتبائی دہلی        ص۱۸۲)
تواضع لغیراﷲ کی شکل یہ ہے کہ عیاذاً باﷲ، کسی کافر یادنیادارغنی کے لئے اس کے سبب تواضع ہوکہ یہاں وہ نسبت موجود ہی نہیں یاموجود ہے توملحوظ نہیں، اے عزیز! کیاوہ احادیث کثیرہ بثیرہ جن میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کاحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے خشوع وخضوع بجالانا مذکور، اس درجہ اشتہار پرنہیں کہ فقیر کو اُن کے جمیع واستیعاب سے غناہو، ابوداؤد و نسائی و ترمذی و ابن ماجہ اسامہ بن شریک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ حولہ کأَنَّ علی رؤسھم الطیر۱؎۔
فرمایا میں سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، حضور کے اصحاب حضورکے گردتھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، یعنی سرجھکائے گردنیں خم کئے بے حس وحرکت کہ پرندے لکڑی یاپتھرجان کر سروں پر آبیٹھیں، اس سے بڑھ کر اور خشوع کیاہوگا!
 (۱؎ سنن ابوداؤد    کتاب الطب باب الرجل یتداوہ     مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۸۳

مسند احمدبن حنبل    حدیث اسامہ بن شریک        مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۴ /۲۷۸)
ہند بن ابی ہالہ وصاف النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورضی عنہ کی حدیث حلیہ اقدس میں ہے:
اذا تکلم اطرق جلساؤہ کانّ علی رؤسھم الطیر۲؎۔
جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلام فرماتے جتنے حاضران مجلس ہوتے سب گردنیں جھکالیتے گویا ان کے سروں پرپرندے ہیں ؎
 (۲؎ المعجم الکبیر        حدیث ہندبن ابی ہالہ ۴۱۴        مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت        ۲۲ /۱۵۸)
عجب ست باوجودت کہ وجود بمن ماند

توبگفتن اندرآئی ومراسخن بماند
 (تعجب ہے کہ تیرے وجود سے میراوجود باقی ہے تیری گفتگو نافذ ہے اور میری بات باقی ہے)
مولاناجامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں لکھتے ہیں:
یکے ازمشایخ گوید کہ من وشیخ علی ہیتی درمدرسہ شیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ بودیم کہ یکے از اکابر بغداد پیش آمدو گفت یاسیدی قال جدک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من دعی فلیجب وھاانا ادعوک الی منزلی گفت اگرمرا اذن کنند بیایم زمانے سرورپیش انداخت پس گفت مے آیم وبراستر سوارشد شیخ علی ہیتی رکاب راست وی گرفت ومن رکاب چپ تابسرائے آں شخص رسیدیم ہمہ مشایخ بغداد وعلماواعیان آنجا بودند سماطے برکشیدند بروی انواع نعمتہا وسلّہ بزرگ سرپوشیدہ دوکس برداشتہ پیش آوردند ودرآخر سماط نہادند بعدازاں آں شخص کہ صاحب دعوت بودگفت الصّلا وشیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سردرپیش افگندہ بودہیچ نخورد واذن نیزندادد ہیچکس ہم نخور واھل المجلس کأنّ علی رؤسھم الطیر ھیبتہ۱؎۔
ایک بزرگ نے فرمایا کہ میں اور شیخ علی ہیتی حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مدرسہ میں تھے کہ اتنے میں بغداد کے ایک بزرگ تشریف لائے اور انہوں نے عرض کی اے آقا (غوث اعظم) آپ کے جدّامجد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جودعوت دے اس کی دعوت قبول کی جائے، لومیں آپ کو اپنے گھرکے لئے دعوت دیتاہوں توآپ نے فرمایا اگرمجھے اجازت ملی توآؤں گا، یہ فرماکر آپ نے کچھ دیرسرمبارک کوجھکایا پھرفرمایا میں آرہاہوں آپ گھوڑے پرسوار ہوئے شیخ علی ہیتی نے دایاں رکاب اور میں نے بایاں رکاب پکڑا، حتی کہ ہم سب اس شیخ کے گھرپہنچے تووہاں پر بغداد کے مشائخ اور علما اور خاص لوگ موجودتھے دسترخوان بچھایاگیا جس پرمختلف قسم کی نعمتیں موجودتھیں اور ایک بھاری بوجھل تابوت کودس آدمی اٹھائے ہوئے لائے جواُوپر سے ڈھانپا ہواتھا وہ دسترخوان کے قریب ایک طرف رکھ دیاگیا، اس کے بعد صاحب خانہ شیخ نے کھاناکھانے کوکہا تو حضرت غوث اعظم نے سرمبارک جھکایانہ خود کھانا تناول فرمایا اور نہ ہی ہمیں کھانے کی اجازت دی، اور کسی نے بھی نہ کھایا جبکہ تمام اہل مجلس ایسے خاموش سرجھکائے ہوئے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔(ت)
 (۱؎ نفحات الانس   حالات شیخ ابوعمروصریفینی رحمۃ اﷲ علیہ    مطبوعہ انتشارات کتاب فروشی ایران    ص۵۲۰)
یعنی اہل مجلس کہ تمام اولیاء وعلماء وعمائد بغداد تھے ہیبت سرکار قادریت کے سبب ایسے بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں، مقصود اسی قدرتھا مگرایسی جانفزابات کاناتمام رہنادل کونہیں بھاتا لہٰذا تفریح قلوب سنت وغیظ صدور بدعت کے لئے تتمہء روایت نقل کروں، فرماتے ہیں:
شیخ رضی اﷲ تعالٰی بمن وشیخ علی ہیتی اشارتی کرد کہ آں سلّہ راپیش آرید برخاستیم وآں راپیش برداشتیم وبس گراں بوددرپیش شیخ نہادیم فرمود تاسرآنرا بکشادیم دیدیم کہ فرزند آں شخصے بودنابینائے مادرزاد برجائے ماندہ ومجذوم ومفلوج گشتہ شیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وی راگفت قم باذن اﷲ معافی، آں کودک برخاست دواں وبیناوبران ہیچ آفتے نے فریاد ازحاضراں برخاست شیخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ درانبوہ مردم بیروں آمدوہیچ نخوردپیش شیخ ابوسعید قیلوی رفتم وآں قصہ باوے بگفتم گفت شیخ عبدالقادر یبرئ الاکمہ والابرص ویحي الموتی باذن اﷲ عزوجل ست انتہی۱؎۔
حضرت نے مجھے اور شیخ علی ہیتی کو اشارہ فرمایا کہ اس تابوت کو میرے سامنے لاؤ، وہ بھاری تابوت ہم نے اٹھاکر آپ کے سامنے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا اس پرسے کپڑا ہٹاؤ، جب ہم نے دیکھا وہ اس شخص کالڑکاتھا جومادر زاد نابینا اور مفلوج تھا تو حضرت نے اس لڑکے کوحکماً فرمایا قم باذن اﷲ معافی (اﷲ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ عافیت والے ہوکر) وہ لڑکا فوراً تندرست حالت میں کھڑاہوگیا جیسا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔ اس کے بعد حضرت حاضرین میں سے اُٹھ کر پوری جماعت کے ساتھ باہرتشریف لے گئے اور کچھ نہ کھایا۔ اس کے بعد میں شیخ ابوسعید قیلوی کے پاس گیا اور ان کو میں نے یہ تمام قصہ سنایا توانہوں نے فرمایا کہ شیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کوتندرست اور مُردے کو زندہ اﷲ کے اذن سے کرتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ نفحات الانس  حالات ابوعمرو صریفینی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ  مطبوعہ انتشارات کتاب فروشی ایران    ص۵۲۰)
 			قادرا قدرت توداری ہرچہ خواہی آں کنی

  			مردہ راجانے دہی ودردرا درماں کنی
(اے قدرت والے تجھے قدرت ہے جوچاہے توکرے، مردہ کوجان دیتاہے اور درد کو آرام دیتاہے)
Flag Counter