Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
127 - 158
اسی میں ہے :
وقتیکہ فرودآید کارعظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہربلا۱؎۔
جب کوئی کام تاریکی کی گہرائی میں گرجائے توآپ ہی ہربلامیں پناہ دیتے ہیں۔(ت)
(۱؎ شرح قصیدہ ہمزیہ    فصل ششم        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ص۳۳)
اسی میں ہے :
بسوئے توست آوردن من وبہ توست پناہ گرفتن من ودرتوست امید داشتن من۲؎۔
میری جائے پناہ، میری جائے امید اور میرے مرجع آپ ہی ہیں۔(ت)
(۲؎ شرح قصیدہ ہمزیہ    فصل ششم        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ص۳۴)
بالجملہ بندگان خدا سے توسل کو اخلاص وتوکل کے خلاف نہ جانے گا مگرسخت جاہل محروم یاضال مکابرملوم، رہا اس نماز مبارک کے افعال پرکلام، اولاً:جب اس کی ترغیب خود حضورپرنورغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ارشاد سے ثابت تو مدعی تسنن کوکیا گنجائش انکار، خود منکرین کی زبانیں اس شہادت میں ہمارے دل وزبان کی شریک ہیں کہ وہ جناب اتباع قرآن وحدیث واقتضائے سنت سنیہ ومراعات سیرت صحابہ واجتناب محدثات شنیعہ والتزام احکام شرعیہ پراستقامت کاملہ رکھتے تھے
رضی اﷲ تعالٰی عنہ وارضاہ امدنا فی الدارین  بنعماہ اٰمین
(ا ﷲ تعالٰی اس سے راضی ہو اور اس کو راضی کرے اور اپنی نعمتوں سے دونوں جہاں میں ہماری امداد فرمائے آمین۔ت)
ثانیاً:دوعلما واولیا جن میں بعض کے اسمائے طیبہ فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ بہم نے ذکرکئے جنہوں نے یہ نمازپسند کی اجازت دی، سند لی، خود پڑھی، منکرین میں کون ان کے پائے کاہے؟ پھر ان کے کہے سے کیونکر مسلم ہو کہ حکم شرع پریہی چلے، اور وہ سب معاذاﷲ گناہگار، فسّاق، بدعتی گزرے اور ان اکابر کو غیرموثوق کہہ کر اتباع سواداعظم کی طرف بلانا، وہی پرانی تلبیس ہے سواد اعظم کاخلاف جب ہوکہ جمہورائمہ دین، فقہا ومحدثین، عرفائے محدثین رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین اس نماز سے ممانعت کرتے آئے ہوں، جب منکرین دوچار ائمہ معتمدین سے صحیح طور پر (جودیدہ ودانستہ کذب وافترا ووضع اسمائے کتب وعلما و استناد بمجاہیل واجزائے خاملہ سے، کہ داب قدیم اکابرمنکرین ہے خالی ہو) اس نمازکریم کی ممانعت کاثبوت نہ دے سکے نہ ان شاء اﷲ تعالٰی قیام قیامت دے سکیں توسواداعظم کانام لیناصرف عوام کودھوکادینا ہے۔
ثالثاًـ: ان صاحبوں کے اصول پرتو اس نماز کے جوازواباحت اور منع وانکار کی قباحت وشناعت پرنئے طورسے (جسے معارضہ بالقلب کہئے) سواداعظم ائمہ وعلماء و محدثین وفقہا کااجماع قطعی ثابت ہوگا، پہلے معلوم ہوچکا کہ ان حضرات کے مذہب میں عدم ذکر ذکرعدم ہے اور خود یہاں منکرین کے ادعائے سواداعظم کایہی مبنی
کما لایخفی
(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) اب ہم کہتے ہیں کلمات ائمہ میں اس نماز پرانکار جائزہونا ہرگز مذکورنہیں،
 ومن ادعی فعلیہ البیان ولایستطیعہ حتی یرجع القارظان
(جودعوٰی کرے اس پربیان لازم ہے جبکہ یہ اس کی استطاعت سے خارج ہے۔ت) اور عدم بیان، بیان عدم تولاجرم اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ان سب ائمہ کے نزدیک اس نمازمبارک پر انکار روانہیں اور جس پرانکار ناجائز ہوگا وہ اقل درجہ مباح ہوگا
فثبت المقصود وبھت العنود والحمد ﷲ العلی الودود
(مقصود ثابت ہوا، مخالف مبہوت ہوا، الحمدﷲ العلی الودود۔ت)
رابعاً:ان حضرات کی عجیب عادت ہے، جواز کہ عقلاً ونقلاً محتاج دلیل نہیں بے دلیل خاص قبول نہیں کرتے اور عدم جواز کے لئے ان کے زبانی دعوے کافی ہوجاتے ہیں کاش جہاں یہ کہتے ہیں کہ توجہ بعراق و روش باوسب درست نہیں وہاں اس پرکوئی دلیل شرعی بھی قائم کرتے اور جب کچھ نہیں توہمارے لئے اصل جواب وہی ہے جومدعیان بے ثبوت کے مقابل قرآن عظیم نے تعلیم فرمایا کہ
قل ھاتوابرھانکم ان کنتم صادقینo ۱؎
(فرمادیجئے اگرسچے ہو تودلیل پیش کرو۔ت)
(۱؎ القرآن        ۲/۱۱۱)
اور منکر نے اثنائے تقریر میں جو اپنے لئے بات آسان کرنے کوہیأت نمازوتذلل تام وانتہائے تعظیم کی قیدیں بڑھالیں وہ خود اسی پرمردود کہ ہرگز ترکیب صلٰوۃ الاسرار میں ان باتوں کانشان نہیں، ہاں محبوبان خدا کی نفس تعظیم بیشک اہم واجبات و اعظم قربات سے ہے:
قال اﷲ تعالٰی ومن یعظم حرمٰت اﷲ فہو خیرلہ عندربہ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا جوشخص اﷲ تعالٰی کی عزت والی چیزوں کی تعظیم کرے گا تویہ اس کے لئے ا ﷲ تعالٰی کے ہاں بہترہے۔
(۲؎ القرآن        ۲۲/۳۰)
وقال تعالٰی من یعظم شعائراﷲ فانھا من تقوی القلوب۳؎o
اور نیزفرمایا جوشخص اﷲ تعالٰی کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا تویہ قلبی تقوٰی ہوگا،
(۳؎ القرآن        ۲۲/۳۲)
وقال تعالٰی انا ارسلنٰک شاھداومبشراونذیراo لتؤمنوا باﷲ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ۱؎۔
اور نیز فرمایاہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا، بشارت سنانےوالا اور ڈرسنانے والابناکر بھیجاہے تاکہ اے مومنو! تم اﷲ اور اس کے رسول کی تعظیم وتوقیربجالاؤ(ت)
 (۱؎ القرآن        ۴۸ /۸ و ۹)
خود منکر نے کہا کہ صحابہ کرام تعظیم سیدالانام علیہ وعلیہم الصلٰوۃ والسلام میں ہم سے زیادہ تھے بلکہ شاید ابھی منکرین کوخبرنہیں کہ علمائے دین نے روضہ منورہ کے حضور خاص ہیأت نماز قائم کرنے کاحکم دیا تومنکر کو اس قید کا اضافہ بھی کام نہ آیا بلکہ گناہ بے لذت ٹھہرا۔ لباب و شرح لباب کی عبارت عنقریب مذکورہوگی بالفعل اختیار شرح مختار و فتاوٰی عالمگیری کی تصریح لیجئے فرماتے ہیں:
یتوجہ الی قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقف کما یقف فی الصلٰوۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البھیۃ۲؎اھ ملتقطا۔
یعنی قبرشریف سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف توجہ کرے اور یوں کھڑاہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتاہے اور حضور کی صورت مبارک کاتصور باندھے۔ اھ ملتقطا۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب المناسک مطلب زیارۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۶۵)
اے عزیز! ف اصل کاریہ ہے کہ محبوبان خدا کے لئے جوتواضع کی جاتی ہے وہ درحقیقت خدا ہی کے لئے تواضع ہے ولہٰذا بکثرت احادیث میں استاذ وشاگرد وعلماوعام مسلمین کے لئے تواضع کاحکم ہوا جنہیں جمع کیجئے تودفتر طویل ہوتاہے۔
ف: محبوبان خدا (مثلاً انبیاء، اولیاء، علما، استاد اور شاگرد کہ وہ اﷲ کے نبی، یہ اﷲ کے ولی، وہ دین الٰہی کے قیم ہیں اور ملت الٰہیہ پرقائم) کی تواضع اور تعظیم کرنادرحقیقت خدا ہی کی تواضع اور تعظیم کرنا ہے ورنہ محض کسی دنیادار یاکافر کی تعظیم جائزنہیں۔نذیراحمد
طبرانی معجم اوسط اور ابن عدی کامل میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعلموا العلم وتعلمواللعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ ۳؎۔
علم سیکھو اور علم کے لئے سکون ومہابت (وقار) سیکھو اور جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو۔
 (۳؎ الکامل فی ضعفاء الرجال من اسمہ عباد عباد بن کثیر ثقفی بصری            مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴ /۱۶۴۲)
اور خطیب نے کتاب الجامع لآداب الراوی والسامع  میں اُن سے یوں روایت کی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
تواضعوالمن تعلمون منہ وتواضعوا لمن تعلمونہ ولاتکونوا جبابرۃ العلماء فیغلب جھلکم علمکم۱؎۔
جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو اور جسے علم سکھاتے ہو اس کے لئے تواضع کرواور متکبر عالم نہ بنو کہ تمہاراجہل تمہارے علم پرغالب ہوجائے۔
 (۱؎ الجامع لاخلاق الراوی        باب ذکرماینبعی للراوی والسامع    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ص۹۱

الکامل فی ضعفاء الرجال من اسمہ عباد    عبادبن کثیرثقفی بصری        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۴ /۱۶۴۳)
ف : یہ فائدہ ضرورملاحظہ ہو
Flag Counter