جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کردے اور مددمانگنی چاہے تویوں کہے: اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، کہ اﷲ کے کچھ بندے عــہ ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔
(۴؎ المعجم الکبیر ماسند عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ /۱۱۷ و ۱۱۸)
عــہ: جن کے سیدو مولاوسند وماوٰی حضورپرنورسیدناعبدالقادرجیلانی ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کما نص علیہ سیدنا الخضر علیہ الصلٰوۃ والسلام رواہ ونقلہ فی البھجۃ و الزبدۃ والتحفۃ وغیرہا ۱۲منہ (م)
جیسا کہ سیدنا خضرعلیہ السلام نے اس کی تصریح کی اور بہجۃ الاسرار، الزبدۃ اور التحفہ وغیرہا میں اس کو روایت کیا اور نقل کیا ۱۲منہ (ت)
عتبہ بن غزوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں
قد جرّب ذلک ۱؎
رواہ الطبرانی ایضاً
بالیقین یہ بات آزمائی ہوئی ہے
(اسے طبرانی نے بھی روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ المعجم الکبیر ماسند عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ /۱۱۸)
فاضل علی قاری علامہ میرک سے وہ بعض علمائے ثقات سے ناقل ھذا حدیث حسن یہ حدیث حسن ہے۔ اور فرمایا مسافروں کو اس کی ضرورت ہے، اور فرمایا مشائخ کرام قدست اسرارہم سے مروی ہوا
انہ مجرب قرن بہ النجاح۲؎
یہ مجرب ہے اور مراد ملنی اس کے ساتھ مقرون۔
ذکرہ فی الحرز الثمین
(اس کو حرزثمین میں ذکرکیا ہے۔ت) ان احادیث میں جن بندگان خدا کو وقت حاجت پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کاصاف حکم ہے وہ ابدال ہیں کہ ایک قسم ہے اولیائے کرام سے
قدس اﷲ تعالٰی اسرارھم وافاض علینا انوارھم
یہی قول اظہرواشہرہے
کما نص علیہ فی الحرز الوصین
(جیسا کہ حرزالوصین میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ت) اور ممکن کہ ملائکہ یا مسلمان صالح جن، مراد ہوں وکیفما کان ایسے توسل وندا کو شرک وحرام اور منافی توکل واخلاص جاننا معاذاﷲ شرع مطہر کو اصلاح دیناہے۔
تنبیہ : یہاں تو حضرات منکرین کے انہیں عالم نے یہ خیال فرماکر کہ معجم طبرانی بلاد ہند میں متداول نہیں بے خوف وخطر خاص متن ترجمہ میں اپنے زور علم ودیانت وجوش تقوٰی وامانت کاجلوہ دکھایافرماتے ہیں: اس حدیث کے راویوں میں سے عتبہ بن غزوان مجہول الحال ہے تقوی اور عدالت اس کی معلوم نہیں جیسا کہ کہاہے تقریب میں کہ نام ایک کتاب کاہے اسماء الرجال کی کتابوں سے۔
اقول:مگربحمداﷲ آپ کاتقوی وعدالت تومعلوم، کیسا طشت ازبام ہے خدا کی شان کہاں عتبہ بن غزوان رقاشی کہ طبقہ ثالثہ سے ہیں جنہیں تقریب میں مجہول الحال اور میزان میں لایعرف کہا ، اور کہاں اس حدیث کے راوی عتبہ بن غزوان بن جابر مازنی بدری کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابی جلیل القدر مہاجر ومجاہد غزوہ بدر ہیں جن کی جلالت شان بدر سے روشن، مہرسے اَبْیَنْ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وارضاہ مترجم صاحب دیباچہ ترجمہ میں معترف کہ حرزثمین اُن کے پیش نظر ہے،شاید اس حرز میں یہ عبارت تونہ ہوگی:
رواہ الطبرانی عن زید بن علی عن عتبۃ بن غزوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
اس کو طبرانی نے زید بن علی سے انہوں نے عتبہ بن غزوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔(ت)
(۱؎ حرزثمین شرح حصن حصین مع حصن حصین دعاء الرکوب فی البحر افضل المطابع انڈیا ص۴۵)
یا جس تقریب کا آپ نے حوالہ دیااس میں خاص برا بر کی سطر میں یہ تحریر تونہ تھی:
عتبۃ بن غزوان بن جابر المزنی صحابی جلیل مھاجر بدری مات سنہ سبع عشرۃ۲؎ اھ ملخصا۔
عتبہ بن غزوان بن جابر المزنی صحابی جلیل بدری اور مہاجرہیں جن کا وصال ۱۷ھ میں ہوا۔ اھ ملخصاً۔(ت)
پھرکون سے ایمان کامقتضٰی ہے کہ اپنے مذہب فاسد کی حمایت میں ایسے صحابی رفیع الشان عظیم المکان کوبزور زبان وبزورجنان درجہ صحابیت سے طبقہ ثالثہ میں لاڈالے اور شمس عدالت وبدرِ جلالت کومعاذاﷲ مردودالروایۃ ومطعون جہالت بنانے کی بدراہ نکالئے
ولکن صدق نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا لم تستحی فاصنع ماشئت۳؎۔
لیکن حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تجھے حیانہیں تو پھرجوچاہے کر۔(ت)
آپ مجھے ہرایسی مصیبت میں جودل میں بدترین اضطراب پیداکرے، پناہ دیتے ہیں۔(ت)
(۵؎ شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲)
اور اپنے قصیدہ ہمزیہ کی شرح میں توقیامت ہی توڑگئے، لکھتے ہیں:
آخر حالتی کہ ثابت است مادح آں حضرت را صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقتیکہ احساس کند نارسائی خودرااز حقیقت ثناضراعۃ (بالفتح) خواری وزاری، ابتہال واخلاص دردعا آنست کہ ندا کند زار وخوارشدہ بشکستگی دل واظہار بے قدری خود، باخلاص درمناجات وپناہ گرفتن بایں طریق، اے رسول خدا، اے بہترین مخلوقات، عطائے ترامیخواہم روزفیصل کردن۔۶؎
مایوسی کے وقت مدح کرنے والے کی آخری حالت میں یہ دعااور ثنا ہونی چاہئے کہ وہ اپنے کو انتہائی گریہ و زاری اور دل جمعی اور اظہار بے قدری میں خلوص کے ساتھ پناہ حاصل کرتے ہوئے یہ مناجات کرے اور کہے کہ اے رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اے اﷲ تعالٰی کی مخلوق میں بہترین ذات! قیامت کے روز میں آپ کی عطا کاخواستگار ہوں۔(ت)
(۶؎ شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳)