اوریہ حدیث نفیس نجیح مذیل بطراز گرانبہائے تصحیح عــہ۱ امام ابوالقاسم سلیمن لخمی طبرانی کے پاس یوں ہے:
ان رجلاکان یختلف الی عثمٰن بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حاجۃ لہ، فکان عثمٰن لایلتفت الیہ ولاینظر فی حاجتہ، فلقی عثمٰن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ فشکا ذلک الیہ، فقال لہ عثمٰن بن حنیف: ائت المیضأۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسألک واتوجہ الیک بنبینا محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی الرحمۃ، یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فتقضی لی حاجتی، وتذکر حاجتک ورح الی حتی اروح معک، فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ، ثم اتی باب عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمن بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ، فقال حاجتک،فذکر حاجتہ فقضاھالہ، ثم قال: ماذکرت حاجتک حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکانت لک من حاجۃ فاذکرھا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ، فقال لہ جزاک اﷲ خیرا، ماکان ینظر فی حاجتی ولایلتفت الی حتی کلمتہ فی، فقال عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ واﷲ ما کلمتہ، ولکن شھدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر فشکا الیہ ذھاب بصرہ، فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ائت المیضأۃ فتوضأ ثم صل رکعتین ثم ادع بھذہ الدعوات، فقال عثمن بن حنیف فواﷲ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط۱؎۔
یعنی ایک حاجتمند اپنی حاجت کے لئے امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں آتا امیرالمومنین نہ اس کی طرف التفات کرتے نہ اس کی حاجت پر نظرفرماتے، اس نے عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس امر کی شکایت کی انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دورکعت نمازپڑھ پھریوں دعامانگ: الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف اپنے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے توجہ کرتاہوں یارسول اﷲ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتاہوں کہ میری حاجت روا فرمائے اور اپنی حاجت کاذکرکر، شام کوپھرمیرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں، حاجت مند نے یوں ہی کیا پھرآستان خلافت پرحاضرہوا دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضورلے گیا امیرالمومنین نے اپنے ساتھ مسند پربٹھایا مطلب پوچھا، عرض کیا فوراً روافرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت تم نے اپنا مطلب بیان کیاپھر فرمایا جوحاجت تمہیں پیش آیاکرے ہمارے پاس چلے آیاکرو۔ یہ شخص وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ملا اور کہااﷲ تمہیں جزائے خیردے امیرالمومنین میری حاجت پرنظر اور میری طرف التفات نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے اُن سے میرے بارے میں عرض کی، عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا خدا کی قسم میں نے توتیرے معاملے میں امیرالمومنین سے کچھ بھی نہ کہا، مگر ہوایہ کہ میں نے سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کودیکھا حضورکی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضرہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضورنے یوں ہی اسے ارشاد فرمایا کہ وضوکرکے دورکعت پڑھے پھریہ دعا کرے، خدا کی قسم ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے، باتیں ہی کررہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیاگویا کبھی اندھاہی نہ تھا۔
(۱؎ المعجم الکبیر للطبرانی مااسند عثمان بن حنیف ۸۳۱۱ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۹ /۱۷)
عــہ ا: امام منذری ترغیب میں فرماتے ہیں : قال الطبرانی بعد ذکر طرقہ والحدیث صحیح ۲؎
طبرانی نے اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکرکرکے کہا حدیث صحیح ہے ۱۲منہ (م)
عــہ۲: ھکذا ھو ھھنا یثبت الصلٰوۃ فی نفس الحدیث فی النسخۃ التصحیحۃ للترغیب التی من اﷲ تعالٰی بہا علی ھذا المحتاج ولعل عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذا روی الحدیث اتی بہ کما ھو واذا علم الرجل زاد الصلٰوۃ کما ھو المطلوب فی امثال المقام، واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (م)
یوں ہی وہ یہاں نماز کا ثبوت نفس حدیث میں ہے ''ترغیب'' کے صحیح نسخہ میں ہے یہ نسخہ اﷲ تعالٰی نے اس محتاج کو بطوراحسان عطافرمایاہے ہوسکتاہے کہ عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جب روایت کیا توانہوں نے حدیث کودرست بیان فرمایا اور جب انہوں نے آدمی کو ترغیب دی ہو تو نماز کالفظ زائد کردیا ہو جیسا کہ ایسے مقام میں مطلوب ہوتاہے، واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (ت)
تنبیہ:
ایھا المسلمون
حضرات منکرین کی غایت دیانت سخت محل افسوس وعبرت،
اس حدیث جلیل کی عظمت رفیعہ وجلالت منیعہ اوپرمعلوم ہوچکی اور اس میں ہم اہل سنت وجماعت کے لئے جواز استمداد والتجا وہنگام توسل، ندائے محبوبانِ خداکابحمداﷲ کیسا روشن و واضح وبین ولائح ثبوت، جس سے اہل انکار کو کہیں مفرنہیں اب ان کے ایک بڑے عالم مشہور نے باوجود اس قدردعوی بلند علم وتدوین کے اپنے مذہب کی حمایت بیجا میں جس صریح بے باکی وشوخ چشمی کوکام فرمایا ہے انہیں اس سے شرم چاہئے تھی حضرت نے حصن حصین شریف کاترجمہ لکھا، جب اس حدیث پرآئے اس کی قاہرشوکت، عظیم عزت نے جرأت نہ کرنے دی کہ نفس متن میں اس پرطعن فرمائیں اور ادھرپاس مشرب، ناخن بدل جوش عصبیت تاب گسل، ناچار حاشیہ کتاب پریوں ہجوم ہموم کی تسکین فرمائی کہ:
یک راوی این حدیث عثمن بن خالد بن عمربن عبداﷲ متروک الحدیث است چنانکہ درتقریب موجوداست وحدیث، راوی متروک الحدیث قابل حجت نمی شود۔
ایک راوی اس حدیث میں عثمن بن خالد بن عمربن عبداﷲ ہے جو متروک ہے جیسا کہ ''تقریب'' میں موجودہے، اور متروک الحدیث راوی کی حدیث حجت کے قابل نہیں ہوتی۔(ت)
انا ﷲ وانا الیہ راجعون،
انصاف ودیانت کا تو یہ مقتضی تھا کہ جب حق واضح ہوگیاتھا تسلیم فرماتے ارشاد مفترض الانقیاد حضور پرنورسیدالانبیاء صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ الامجاد، کی طرف رجوع لاتے نہ کہ خواہی نخواہی بزورتحریف، ایسی تصحیح رجیح حدیث کو ، جس کی اس قدرائمہ محدثین نے یک زبان تصحیح فرمائی معاذ اﷲ ساقط ومردود قراردیجئے اور انتقام خدا و مطالبہ حضورسیدروزجزا علیہ افضل الصلٰوۃ والثناء کاکچھ خیال نہ کیجئے، اب حضرات منکرین کے تمام ذی علموں سے انصاف طلب کہ اس حدیث کاراوی عثمن بن خالد بن عمربن عبد اللہ متروک الحدیث ہے جس سے ابن ماجہ کے سوا کتب ستہ میں کہیں روایت نہیں ملتی،یا عثمن بن عمر بن فارس عبدی بصری ثقہ جوصحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما تمام صحاح کے رجال سے ہیں، کاش اتناہی نظرفرمالیتے کہ جو حدیث کئی صحاح میں مروی، اس کامدار روایت وہ شخص کیونکر ممکن جو ابن ماجہ کے سوا کسی کے رجال سے نہیں، وائے بیباکی، مشہور و متداول صحاح کی حدیث جن کے لاکھوں نسخے ہزاروں بلاد میں موجود اُن کی اسانید میں صاف صاف
عن عثمن بن عمرمکتوب ،
پھر کیاکہاجائے کہ ابن عمر کا ابن خالد بنالینا کس درجہ کی حیا و دیانت ہے
لاحول ولاقوۃ الاَّ باﷲ العلی العظیم۔
اور سنئے ابن السنی عبداﷲ بن مسعود اور بزار عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جب تم میں کسی کاجانور جنگل میں چھوٹ جائے تو چاہئے یوں نداکرے ''اے خدا کے بندو! روک لو'' کہ اﷲ تعالٰی کے کچھ بندے زمین میں ہیں جو اسے روک لیں گے۔
(۱ ؎ المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود حدیث ۱۰۵۱۸ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ /۲۶۷
المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ ۳ /۲۳۹ کشف الاستار عن زوائد البزار ۴ /۳۴
مجمع الزوائد ۱۰ /۱۳۲
الاذکار للنووی ص۱۰۱)
بزار کی روایت میں ہے یوں کہے:
اعینوا یاعباداﷲ
مدد کرو اے خدا کے بندو!۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما ان لفظوں کے بعد
رحمکم اﷲ ۲؎
(اﷲ تم پررحم کرے۔ت) اور زیادہ فرماتے
رواہ ابن شیبۃ فی مصنفہ
(اسے ابن شیبہ نے اپنی مصنّف میں روایت کیا۔ت)
(۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ مایدعوبہ الرجل حدیث ۹۷۶۹ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ /۳۹۰)
امام نووی رحمہ اﷲ تعالٰی اذکار میں فرماتے ہیں: ہمارے بعض اساتذہ نے کہ عالم کبیر تھے ایسا ہی کیا، چھوٹا ہواجانور فوراً رک گیا، اور فرماتے ہیں: ایک بار ہمارا ایک جانور چھٹ گیا، لوگ عاجز آگئے ہاتھ نہ لگا، میں نے یہی کلمہ کہا فوراً رک گیا جس کا اس کہنے کے سوا کوئی سبب نہ تھا۳؎
نقلہ سیدی علی القاری فی الحرز الثمین
(ملاعلی قاری نے اسے حرزثمین میں نقل کیا۔ت)
(۳؎ الاذکار للنووی باب مایقول اذا انفلتت دا بۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۲۰۱)