اسی طرح اس نماز کو طریقہ خلفائے راشدین وصحابہ کرام کے خلاف کہنا بھی اسی سفاہت قدیمہ پرمبنی کہ جو فعل اُن سے منقول نہ ہو عموماً ان کے نزدیک ممنوع تھا حالانکہ عدم ثبوت فعل وثبوت عدم جواز میں زمین وآسمان کافرق ہے، امام علامہ احمد بن محمد قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ و منح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع۳؎۔
کرناتوجواز کی دلیل ہے اور نہ کرنا ممانعت کی دلیل نہیں۔
(۳؎ مواہب اللدنیہ )
رافضیوں نے ا س طائفہ جدیدہ کی طرح ایک استدلال کیاتھا اس کے جواب میں شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناء عشریہ میں لکھتے ہیں:
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں بعد بیان اس امر کے کہ اذان مغرب کے بعد فرضوں سے پہلے دورکعت نفل پڑھنانہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہ سے۔ فرماتے ہیں:
ثم الثابت بعدھذا نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلاالاان یدل دلیل اٰخر۱؎۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام کے نہ کرنے سے اس قدرثا بت ہواکہ مندوب نہیں۔ رہی کراہت وہ اس سے ثا بت نہ ہوئی جب تک اور کوئی دلیل اس پرقائم نہ ہو۔
(۱؎ فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۸۹)
اور اسے اخلاص فـــ و توکل کے خلاف ماننا عجب جہالت بے مزہ ہے اس میں محبوبان خدا کی طرف توجہ بغرض توسل ہے اور ان سے توسل قطعاً محمود، اور ہرگز اخلاص وتوکل کے منافی نہیں،
ف:یہاں سے اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ شفاعت،وسیلہ،استمداد،التجا اور ہنگام توسل ندائے محبوبانِ خدا کے جواز پر کلام شروع کررہے ہیں جو کہ آیات قرآنی،احادیث اور کتب سیرت سے ماخوذ ہے،غور کرو۔ نذیر احمد
اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں کوشش کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔
(۲؎ القرآن ۵/۳۵)
اور انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کی نسبت فرماتاہے:
اولٰئِک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ۳؎۔
وہ ہیں کہ دعاکرتے اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔
(۳؎ القرآن ۱۷/۵۷)
اور آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام ودیگرانبیاء وصلحاء وعلماء وعرفاء علیہم التحیۃ والثناء کاقدیماً وحدیثاً حضوراقدس غایۃ الغایات، نہایۃ النہایات علیہ افضل الصلٰوۃ واکمل التسلیمات سے حضور کے ظہورپرنور سے پہلے اور بعد بھی حضور کے زمان برکت نشان میں اور بعد بھی عہد مبارک صحابہ وتابعین سے آج تک اور آج سے قیام قیامت و عرضات محشر ودخول جنت تک ''استشفاع وتوسّل'' احادیث وآثار میں جس قدر وفوروکثرت وظہوروشہرت کے ساتھ وارد محتاج بیان نہیں، جسے اس کی گونہ تفصیل دیکھنی منظورہو مواہب لدنیہ امام قسطلانی و خصائص کبرائے امام جلال الدین سیوطی و شرح مواہب علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی و لمعات و اشعہ شروح مشکوٰۃ و جذب القلوب الٰی دیار المحبوب و مدارج النبوۃتصانیف شیخ محقق مولٰنا عبد الحق صاحب دہلوی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ العزیز العلّام ،کی طرف رجوع لائے کہ وہاں حجاب غفلت منکشف ہوتاہے اور مصنف خطا سے منصرف و
باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی التوفیق۔
اسی طرح صحیح بخاری شریف میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا سیدنا عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے طلب باراں سے توسل کرنا مروی ومشہور، حصن حصین میں ہے:
وان یتوسل الی اﷲ تعالٰی بانبیاہ خ ر مس والصالحین من عبادہ۱؎خ۔
یعنی آداب دعا سے ہے کہ اﷲ تعالٰی کی طرف اس کے انبیاء سے توسل کرے۔ اسے بخاری و بزاز وحاکم نے امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور اﷲ کے نیک بندوں کاوسیلہ پکڑے، اسے بخاری نے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۱؎ حصن حصین آداب دعاء افضل المطابع انڈیا ص۱۸)
اور سب سے زیادہ وہ حدیث صحیح ومشہور ہے جسے نسائی وترمذی و ابن ماجہ و حاکم و بیہقی و طبرانی و ابن خزیمہ نے عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور حاکم نے برشرط بخاری و مسلم صحیح کہا اور حافظ امام عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ نقدوتنقیح نے اس کی تصحیح کو مسلّم ومقرر رکھا جس میں حضوراقدس ملجاء بیکساں، ملاذ دوجہاں، افضل صلوات اﷲ تعالٰی وتسلیماتہ علیہ وعلٰی ذریاتہٖ، نے نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نمازکہے:
اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) یامحمد انی اتوجہ بک الٰی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی۔۲؎
الٰہی! میں تجھ سے مانگتااور تیری طرف توجہ کرتاہوں بوسیلہ تیرے نبی محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کہ مہربانی کے نبی ہیں یارسول اﷲ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت رواہو، الٰہی! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۹۷)
اور لطف یہ ہے کہ بعض روایات حصن حصین میں لتقضی لی بصیغہ معروف واقع ہوا یعنی یارسول اﷲ! میں آپ کے توسل سے خدا کی طرف توجہ کرتاہوں کہ آپ میری حاجت روائی کردیں۔
مولٰینا فاضل علی قاری علیہ الرحمۃ الباری حرزثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں:
وفی نسخۃ بصیغۃ فاعل ای لتقضی الحاجۃ لی والمعنی تکون سببا لحصول حاجتی ووصول مرادی فالاسنادمجازی۱؎۱ھ
اورایک نسخہ میں معروف کاصیغہ ہے یعنی تومیری حاجت روائی فرما، اور معنی یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی کاسبب بنیں، پس یہ اسناد مجازی ہے۱ھ (ت)
(۱؎ حرزثمین شرح حصن حصین مع حصن حصین صلٰوۃ الحاجۃ افضل المطابع انڈیاٍ ص۱۲۵)