Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
123 - 158
اور اس کے آخر میں قلم شیخ رحمہ اﷲ تعالٰی سے یہ تحریر ہے:
قدتم ھذا الکتاب علی یدمنشئہ وھو النسخۃ الثانیۃ من بخط یدی وکان الفراغ منہ بکرۃ یوم الاربعاء الرابع و العشرین من شھر ربیع الاول سنۃ ست و ثلثین ۶۳۶ وستمائۃ وکتبہ منشؤہ۱؎۔
یہ کتاب بقلم مصنف تمام ہوئی اور یہ میرے خط سے دوسرانسخہ ہے اس کی تحریر سے روزچار شنبہ وقت صبح بتاریخ ست وچہارم ماہ مبارک ربیع الاول ۶۳۶ فراغ لکھاہواہے اس کے مصنف نے، رحمہ اﷲ تعالٰی۔
 (۱؎ تا ۴؎ کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ    مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد    ۲/ ۱۲۳۹)
اور سیدموصوف نے یہ بھی بیان فرمایا کہ سینتیس ۳۷ مجلد میں ہے اور اس میں اس نسخے سے جس میں ملحدوں نے عقائد شنیعہ الحاق کئے، عبارت زیادہ ہے اور اس کی پشت پرنام کتاب بخط مصنف علیہ الرحمہ لکھاہے اس کے نیچے شیخ صدرالدین قونوی رحمہ اﷲ تعالٰی کے خط سے یہ عبارت تحریرہے :
انشاء مولانا شیخ الاسلام وصفوۃ الانام محی الدین بن عربی۲؎۔
یہ کتاب ہمارے آقا سردار مسلمانان برگزیدہ جہاں محی الدین بن عربی کی تصنیف ہے۔
(۲؎ کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ          مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد      ۲/ ۱۲۳۹)
اور اس کے نیچے لکھاہے:
ملک ھذہ المجلدۃ لمحمدبن اسحٰق القونوی۳؎
(یہ مجلدمحمد بن اسحٰق قونوی کی ملک میں آیا۔
 (۳؎ کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ   مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲/ ۱۲۳۹)
 اس کے نیچے شیخ صدرالدین ممدوح کے خط سے محمد بن ابی بکرتبریزی کی روایت کہ ان سے بطریق سماع حاصل ہوئی مکتوب ہے اور محمدبن اسحٰق قونوی کی شرح دستخط یہ ہے:
انتقل الی خادمہ وربیب لطفہ محمد بن اسحٰق سنۃ سبعین وثلثین۶۳۷ وستمائۃ۴؎۔
یہ کتاب مصنف کے خادم ولطف پروردہ محمد بن اسحٰق قونوی کی طرف ۶۳۷ میں منتقل ہوئی۔
(۴؎ کشف الظنون   بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ     مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد     ۲/ ۱۲۳۹)
انتہٰی ظاہرہے کہ اس سے زیادہ کون سانسخہ معتمدہوگا خود قلم خاص حضرت مصنف قدس اﷲ تعالٰی سرہ العزیز کی تحریر اور اس کے اول وآخرمیں خود مصنف ودیگرعلماء وعمائد کے دستخط کثیر، جب یہ نسخہ ان عبارات شنیعہ سے خالی ملاتو الحاق وافترا میں کیاشک رہا
والحمدﷲ رب العٰلمین
ولہٰذا مفتی سلطنت عثمانیہ عمدہ علمائے روم علامہ ابوالسعود علیہ رحمۃ الملک الودود نے اپنے فتوے میں تصریح فرمائی کہ
یتقنا ان بعض الیہود افتراھا علی الشیخ قدس اﷲ سرہ
ہمیں یقین ہے کہ بعض یہودیوں نے یہ کلمات شیخ قدس سرہ، پرافتراء کئے ہیں۔
کمانقلہ فی الدرالمختار عن معروضاتہ۔
اب کلام امام شعرانی کاحال سنئے، خود امام موصوف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ میزان میں فرماتے ہیں:
وقع لی ذلک من بعض الاعداء فانھم دسوا فی کتابی المسمی، بالبحر المورود فی المواثیق والعھود، امور اتخالف ظاھر الشریعۃ و داروبھا فی الجامع الازھر وغیرہ و حصل بذلک فتنۃ عظیمۃ وماخمدت الفتنۃ حتی ارسلت لھم نسختی التی علیھا خطوط العلماء ففتشھا العلماء فلم یجدوافیھا شیئا ممایخالف ظاھر الشریعۃ ممادسہ الاعداء فاﷲ تعالٰی یغفرلھم ویسامحھم۱؎۱ھ۔
یعنی مجھے یہ واقعہ بعض اعدا کے ساتھ پیش آچکاہے انہوں نے میری کتاب البحر المورودفی المواثیق والعہود میں خلاف شرع باتیں الحاق کردیں اور اسے جامع ازہر وغیرہ میں لئے پھرے اور اس کے سبب بڑا فتنہ اٹھا اور فرو نہ ہوا یہاں تک کہ میں نے ان کے پاس اپنا نسخہ جس پرعلما کے دستخط تھے بھیج دیا اہل علم نے تلاش کی تو اس میں وہ امور مخالفہ شریعت جو دشمنوں نے ملادئیے تھے اصلاً نہ پائے اﷲ تعالٰی ان کی مغفرت کرے اور درگزرفرمائے۔
(۱؎ المیزان الکبرٰی        مقدمۃ الکتاب    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۹)
خیر ایک طریقہ توثبوت الحاق کایہ ہے دوسرے یہ مصنف کامام معتمد وعالم متدین، مستند ہونا معلوم ہے اور یہ کلام کہ بے تواتر حقیقی اس کی طرف نسبت کیاگیا صریح معصیت یابدمذہبی وضلالت جس میں اصلاً تاویل وتوجیہ کی گنجائش ہی نہیں تو اس وجہ سے کہ علماء تو لما عام اہل اسلام کی طرف بے تحقق وتواتر وثبوت قطعی کسی کبیرہ کی نسبت مقبول نہیں
کما نص علیہ الامام الاجل حجۃ الاسلام محمد الغزالی قدس سرہ العالی فی الاحیاء
(جیسا کہ امام غزالی قدس سرہء نے ''احیاء العلوم'' میں اس کی تصریح کی ہے۔ت) رَد کردیں گے اور تحسیناً للظن، الحاقی کہیں گے اور اسی سے ملحق ہے، بات کا ایساسخیف ورذیل ہونا کہ کسی طرح عقل سلیم اس امام عظیم سے اس کاصدور منظورنہ کرے جیسے باب ذوی الارحام میں قبیل فصل صنف اول سراجیہ میں یہ مہمل عبارت
لان عندھما کل واحد منھم اولی من فرعہ وفرعہ وان سفل اولی من اصلہ۲؎
(کیونکہ ان دونوں کے نزدیک ان میں سے ہرایک اپنی فرع سے اولٰی ہے اور اس کی فرع اگرچہ نچلی ہو اصل سے اولٰی ہے۔ت)
(۲؎ السراجی فی المیراث        باب ذوی الارحام    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۳۹)
جس کے لئے اصلاً کوئی محصل نہیں ولہٰذا علامہ سیدشریف نے شرح میں نقل فرمایا:
لم یتحصل منھا معنی فھی من ملحقات بعض الطلبۃ القاصرین۳؎الخ
اس کاکوئی معنی نہیں بنتا لہٰذا یہ بعض نالائق طلباء کی الحاق کردہ عبارت ہے الخ (ت)
 (۳؎ حاشیۃ ضیاء السراج مع السراج    بحوالہ شرح سیدشریف    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۹)
اور اسی قبیل سے ہے وہ عبارت جس میں کسی طائفہ زائفہ کے لئے کوئی غرض فاسد ہو اور امام مصنف اس سے بَری اور جابجا خود اس کاکلام اس غرض مردودکے خلاف پرشاہد، جیسے بعض خداناترسوں کاامام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی کی طرف معاذاﷲ کلمات مذمت امام الائمہ مالک الازمہ کاشف الغمہ سراج الامّہ سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، نسبت کرنا حالانکہ اُن کی کتاب متواترہ احیاء وغیرہ مناقب امام کی شاہدعدل ہیں (عہ) اور مثل آفتاب روشن و بےنقا ب کہ مانحن فیہ میں ان صورتوں سے کوئی مشکل نہیں
والحمدﷲ رب العٰلمین،
عہ: ماینسب الی الامام الغزالی یردہ ماذکرہ فی احیاہ المتواترعنہ حیث ترجم الائمۃ الاربعۃ وقال واما ابوحنیفۃ فلقدکان ایضا عابدا زاھدا عارفا باﷲ خائفا منہ مریدا وجہ اﷲ تعالٰی یعلمہ۱؎ الخ۱ھ درمختار۔

امام اعظم کے بارے میں جو امام غزالی کی طرف منسوب ہے اس کا رَد خود امام غزالی کاذکر کردہ وہ کلام ہے جو انہوں نے تواتر سے مروی ''احیاء العلوم'' میں ائمہ اربعہ کے تراجم میں بیان کیاہے اور انہوں نے وہاں فرمایا کہ بیشک امام ابوحنیفہ بھی عابد، زاہد، عارف باﷲ، اﷲ تعالٰی سے ڈرنے والے، اپنے علم کی بناپر اﷲ تعالٰی کی رضا کے طالب تھے الخ ۱ھ درمختار(ت)
 (۱؎ احیاء العلوم        بیان العلم الذی ھو فرض الکفایۃ    مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر    ۱/ ۲۸)
یعنی امام حجۃ الاسلام احیاء العلوم میں فرماتے ہیں ابوحنیفہ خدا کی قسم عابد زاہد عارف باﷲ تھے اﷲ تعالٰی سے ڈرنے والے اور اپنے علم سے وجہ اﷲ کاارادہ رکھنے والے۱۲
اگر منکر بہجۃالاسرار شریف کے نسخ قدیمہ صحیحہ معتمدہ اس روایت سے خالی دکھادیتا یازبانی انکار کے سواکوئی دلیل معقول قابل قبول ارباب عقول، اس کے یقینی ضلالت ومخالف عقیدہ اہل سنت ہونے پرقائم کرلیتاتو اس وقت دعوٰی الحاق زیب دیتا،نہ کہ علی الرغم اس کے، علمائے مابعد، طبقہ فطبقہ اس روایت کو نقل فرمائیں، اور مقرر، و مسلم رکھتے آئیں اور بہجۃ کا ایک نسخہ معتمدہ بھی اس کے خلاف نہ ملے اور محض براہ سینہ زوری الحاق کا ادعائے باطل کردیاجائے،  فن اصول میں جسے ادنٰی مداخلت ہے اس پر کالشمس واضح کہ مجرد امکان، منافی قطع ویقین بالمعنی الاعم نہیں، جب تک احتمال ناشئی عن دلیل نہ ہو ورنہ تمام نصوص قرآن وحدیث سے ہاتھ دھو بیٹھے ،اور یہیں سے ظاہرہوگیا کہ منکر کاتصانیف شریفہ جناب شیخ اکبر و امام شعرانی قدس سرہما کی نظیردینا کس درجہ لغو وبے محل تھا، کہاں وہ روشن وقائع قطعی ثبوت، کہاں یہ زبانی شو سے حیلہ مبہوت، کاش منکر نے جہاں تصانیف مذکورہ کانام لیاتھا وہاں امام شعرانی کے اقوال مسطورہ بھی نقل کرلاتا، کہ دعوی مدلل وادعائےبے دلیل کافرق کھل جاتا
واﷲ الحجۃ السامیۃ۔
اور اس ف نماز کو قرآن وحدیث کے خلاف بتانا محض بہتان وافترا، ہرگزہرگز قرآن وحدیث میں کہیں اس کی ممانعت نہیں، نہ مخالف کوئی آیت یاحدیث اپنے دعوے میں پیش کرسکا، ہرجگہ صرف زبانی ادّعا سے کام لیامگر یہ وہی جہالتِ قبیحہ وسفاہت فضیحہ ہے جس میں فرقہ جدیدہ وطائفہ حادثہ قدیم سے مبتلا یعنی قرآن وحدیث میں جس امرکاذکرنہیں وہ ممنوع ہے اگرچہ اس کی ممانعت بھی قرآن وحدیث میں نہ ہو، ان ذی ہوشوں کے نزدیک امرونہی میں کوئی واسطہ ہی نہیں اور عدم ذکرذکرِعدم ہے پھر خداجانے سکوت کس شے کانام ہے!
ف: یہاں سے اعلٰیحضرت علیہ الرحمۃ ایک فائدہ نفیسہ کابیان شروع کررہے ہیں جو چاراحادیث اور ایک آیت قرآنی پرمشتمل ہے جس سے بہت سی فروعات مثل عیدمیلادالنبی، گیارہویں شریف، تیجا، دسواں، چہلم اور صلٰوۃ الاسرار وغیرہ کے جواز کاثبوت ملتاہے۔نذیراحمدسعیدی
ترمذی و ابن ماجہ و حاکم سیدنا سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحلال ما احل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرّم اﷲ فی کتابہ وماسکت فھومماعفاعنہ۱؎۔
حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جو خدانے اپنی کتاب میں حرام بتایا اور جس سے سکوت فرمایا وہ عفو ہے  یعنی اس میں کچھ مواخذہ نہیں،
 (۱؎ جامع الترمذی  ابواب اللباس ، باب ماجاء فی لبس الفراء   مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی  ۱/ ۲۰۶

      سنن ابن ماجہ    باب اکل الجبن والسمن            مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲/ ۲۴۹)
اور اس کی تصدیق قرآن عظیم میں موجود کہ فرماتاہے جل ذکرہ:
یایھاالذین امنوا لاتسئلو اعن اشیاء  ان تبدلکم تسؤکم وان تسئلوا عنہا حین ینزل القراٰن تبدلکم عفااﷲ عنھا واﷲ غفوررحیمo۲؎
اے ایمان والو! وہ باتیں نہ پوچھو کہ تم پر کھول دی جائیں تو تمہیں برالگے اور اگرقرآن اُترتے وقت پوچھوگے توتم پرظاہرکردی جائیں گے اﷲ نے اُن سے معافی فرمائی ہے اور اﷲ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے۔
(۲؎ القرآن   ۵ / ۱۰۱)
بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ ان کا حکم دیتے تو فرض ہوجاتیں اور بہت ایسی کہ منع کرتے تو حرام ہوجاتیں پھر جوانہیں چھوڑتا یاکرتاگناہ میں پڑتا، اس مالک مہربان نے اپنے احکام میں اُن کا ذکرنہ فرمایا یہ کچھ بھول کر نہیں کہ وہ توبھول اورہرعیب سے پاک ہے بلکہ ہمیں پرمہربانی کے لئے کہ یہ مشقت میں نہ پڑیں تومسلمانوں کوفرماتاہے تم بھی ان کی چھیڑنہ کرو کہ پوچھوگے حکم مناسب دیاجائے گا اور تمہیں کودقّت ہوگی۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ جن باتوں کا ذکرقرآن وحدیث میں نہ نکلے وہ ہرگز منع نہیں بلکہ اﷲ کی معافی میں ہیں، دارقطنی ابوثعلبہ خشنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان اﷲ تعالٰی فرض فرائض فلاتضیعوھا، وحرم حرمات فلاتعتدوھا، وسکت عن اشیئاء من غیرنسیان فلاتبحثوا عنہا۱؎۔
بیشک اﷲ تعالٰی نے کچھ باتیں فرض کیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو اور کچھ حرام فرمائیں اُن کی حرمت نہ توڑو ار کچھ حدیں باندھیں اُن سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں سے بے بھولے سکوت فرمایا اُن میں کاوش نہ کرو۔
 (۱؎ سنن الدارقطنی    باب الرضاع            مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان        ۴/ ۱۸۴)
احمد و بخاری و مسلم و نسائی و ابن ماجہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ذرونی ماترکتکم فانما ھلک من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیائھم فاذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ واذا امرتکم بامرفأتوا منہ ما استطعتم۲؎۔
یعنی جس بات میں میں نے تم پرتضییق نہ کی اُس میں مجھ سے تفتیش نہ کرو کہ اگلی اُمتیں اسی بلاسے ہلاک ہوئیں، میں جس بات کومنع کروں اس سے بچو اور جس کاحکم دوں اسے بقدر قدرت بجالاؤ۔
 (۲؎ صحیح مسلم        باب فرض الححج فی العمر، حدیث ۴۱۲    مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی    ۱/ ۴۳۲

سنن ابن ماجہ    باب اتباع سنت رسول اﷲ        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۲

مسند احمدبن حنبل    ازمسند ابوہریرہ        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۲ /۲۴۷)
احمد، بخاری، مسلم سیّدنا سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیئ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ۱؎۔
بیشک مسلمانوں کے بارے میں اُن کا بڑاگناہگار وہ ہے جو ایسی چیز سے سوال کرے کہ حرام نہ تھی اُس کے سوال کے بعد حرام کردی گئی۔
 (۱؎ صحیح بخاری    باب مایکرہ من کثرۃ السوال    مطبوعہ اصح المطابع کراچی    ۲ /۱۰۸۲)
یہ احادیث باعلی ندامنادی کہ قرآن وحدیث میں جن باتوں کاذکرنہیں نہ ان کی اجازت ثابت نہ ممانعت وارد، اصل جواز پرہیں ورنہ اگرجس چیز کاکتاب وسنت میں ذکرنہ ہو مطلقاً ممنوع ونادرست ٹھہرے تواس سوال کرنے والے کی کیاخطا، اس کے بغیر پوچھے بھی وہ چیز ناجائزہی رہتی۔ بالجملہ یہ قاعدہ نفیسہ ہمیشہ یادرکھنے کاہے کہ قرآن وحدیث سے جس چیز کی بھلائی یابرائی ثابت ہو وہ بھلی یابری ہے ور جس کی نسبت کچھ ثبوت نہ ہو وہ معاف وجائز ومباح ورَوا اور اس کو حرام وگناہ ونادرست وممنوع کہناشریعت مطہرہ پرافترا۔
قال ربنا تبارک وتعالٰی لاتقولوا لماتصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۲؎o
ہمارے رب تعالٰی نے فرمایا: اپنی زبانوں کامن گھڑت جھوٹ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، اﷲ تعالٰی پر جھوٹ افتراء کرتے ہو، بیشک جو لوگ اﷲ تعالٰی پر افتراء کریں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔(ت)
(۲؎ القرآن  ۱۶/۱۱۶)
Flag Counter