Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
122 - 158
امام شمس الدین ذہبی مصنف میزان الاعتدال کہ علم حدیث ونقدرجال میں اُن کی جلالت شان عالم آشکار، اس جناب کے معاصر تھے اور باآنکہ حضرات صوفیہ کرام کے ساتھ اُن کی روش معلوم ہے
سامحنا اﷲ تعالٰی وایاہ
(ہم پر اور ان پر اﷲ تعالٰی نرمی فرمائے۔ت) امام ابوالحسن ممدوح کی ملاقات کو اُن کی مجلس تدریس میں گئے اور اپنی کتاب طبقات المقرئین میں اُن کی مدح وستائش سے رطب اللساں ہوئے فرماتے ہیں:
علی بن جریر الخمی الشطنوفی الامام(عہ) الاوحد نورالدین شیخ القراء بالدیار المصریۃ ابوالحسن اصلہ من الشام ولد بالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وستمائۃ وتصدر للاقراء بجمامع الازھر وغیرہ تکاثر علیہ الطلبۃ وحضرت مجلس اقراہ فاعجبتی سمتہ وسکوتہ وکان ذاعزام بالشیخ عبدالقادر الجیلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وجمع اخبارہ ومناقبہ فی نحوثلث مجلدادت ۱؎۱ھ ملخصا
یعنی علی بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتا ہیں نورالدین لقب ابوالحسن کنیت بلاد مصر میں علمائے قرأت کے استاد ہیں اصل ان کی شام سے ہے ۶۴۴ھ میں قاہرہ مصر میں پیداہوئے اور جامع ازہر وغیرہ میں مسند اقرأ پرصدرنشینی کی بکثرت طلبہ ان کے پاس جمع ہوئے میں اُن کی مجلس درس میں حاضرہوا ان کی نیک روش و کم سختی مجھے پسند آئی حضور شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے شیدائی تھے انہوں نے حضور کے فضائل تین مجلد کے قریب میں جمع کئے ہیں۔
عہ: بعینہٖ اسی طرح امام اجل جلال الملۃ والدین سیوطی نے حسن المحاضرۃ فی اخبارمصروالقاہرۃ میں اس جناب کو الامام الاوحد لکھا یعنی بے مثل امام ۱۲منہ غفرلہ (م)
 (۱؎ طبقات المقرئین)
پرظاہر کہ امام ذہبی رحمہ اﷲ تعالٰی کے مثل سے یہ کلمات جلیلہ اس جناب کی کمال وثاقت وعدالت ووفورِ علم وجلالت پرشاہدعدل ودلیل فصل ہیں اور خود امام اوحد یعنی بے مثل امام یکتا، کالفظ اجل واعظم تمام فضائل ومناقب جلیلہ کا یکتا جامع اکمل واتم ہے وہ جناب سندعالی رکھتے اور زمانہ اقدس حضور پرنورغوث الثقلین رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نہایت قریب ہیں انہیں حضوراقدس تک صرف دوواسطے ہیں قاضی القضاۃ امام اجل حضرت سیدناابوصالح نصر قدس سرہ، کے اصحاب سے ہیں اور وہ اپنے والدماجد حضرت سیدنا ابوبکرتاج الملۃ والدین عبدالرزاق رحمہ اﷲ تعالٰی اور وہ اپنے والد ماجد حضورپرنور سیدالسادات غوث الافراد قطب الارشاد غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے خلیفہ و مرید وصاحب ومستفید ہیں رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین۔ شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالٰی زبدۃ الآثار شریف میں فرماتے ہیں یہ کتاب بہجۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف ومشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قرأت سے عالم معروف ومشہور اور ان کے احوال شریفہ کتابوں میں مذکورومسطور، پھر ذہبی وابن الجزری کے وہ اقوال نقل فرمائے اور رسالہ مذکورہ شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ میں اسی نمازمبارک کے بارے میں مرقوم:
اقوٰی دلائل واوضح مسائل درین باب کتاب عزیز بہجۃ الاسرار معدن الانوار کہ معتبرومقررومشہورومذکورست ومصنف ایں کتاب ازمشاہیرمشائخ وعلماست میانِ وے و حضرت شیخ یعنی حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ دو واسطہ است ومقدم است برامام عبداﷲ یافعی رحمۃ اﷲ علیہ کہ ایشان نیزازمنتسبان سلسلہ شریفہ ومحبان جناب غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۲؎۔ (ملتقطا)
اس باب میں اقوٰی دلیل ''بہجۃالاسرار'' معدن الانوار ہے جو کہ معتبر اور مشہور ہے، اس کتاب کے مصنف اور حضرت شیخ یعنی غوث اعظم کے درمیان صرف دو واسطے ہیں اور یہ امام یافعی سے مقدم ہیں کہ جبکہ امام یافعی خود سلسلہ قادریہ سے متعلق ہیں اور حضور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عقیدت رکھتے ہیں(ت)

ہیں،
(۲؎ رسالہ متعلق بصلٰوۃ الاسرار لعبدالحق المحدث الدہلوی)
امام یافعی وعلامہ علی قاری و حضرت شیخ محقق دہلوی وغیرہم اکابر کی امامت وجلالت ووثاقت عدالت سے کون آگاہ نہیں۔
؎    وکیف یصح فی الاعیان شیئ        اذا احتاج النہار الی دلیل
 (جب روز روشن دلیل کامحتاج ہوجائے توپھر کسی چیز کا وجود کیسے ثابت ہوسکتاہے)
بالجملہ ایسے اکابر کی روایات معتمدہ کو بے وجہ وجیہ، رَد کردینا یاسخت جہالت ہے یا خبث وضلالت والعیاذ باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اور بے دلیل دعوٰی الحاق محض مردود، ورنہ تصانیف ائمہ سے امان اُٹھ جائے اور نظام شریعت درہم وبرہم نظرآئے جوسند پیش کیجئے مخالف کہہ دے یہ الحاقی ہے، چلئے تمسک واستناد کادروازہ ہی بند ہوگیا ''ہیہات'' کیابزور زبان کچھ کہہ دینا، قابل قبول ہوسکتاہے، حاشاوکلا ادعائے بے دلیل مطرودوذلیل، ہاں ہم کو مسلم کہ بعض کتابوں میں بعض الحاق بھی ہوئے مگر اس سے ہرکتاب کی ہرعبارت تومطروح یامشکوک نہیں ہوسکتی کسی خاص عبارت کی نسبت یہ دعوٰی زنہار مسموع نہیں جب تک بوجہ وجیہ اس میں الحاق ثابت نہ کردیں جس کے لئے امثال مقام (عہ) میں صرف دوطریقے متصور، ایک تو یہ کہ اس کتاب کے صحیح، معتمد، عمدہ، قدیم نسخے اس عبارت سے خالی ملیں یاخاص مصنف کااصل مسودہ پیش کیاجائے جس میں اس عبارت کانشان نہ ہو،
حضرت جناب شیخ اکبر و امام شعرانی قدس سرہما کی تصانیف میں الحاق یونہی ثابت ہوا،
عہ: اشارۃ الی انہ قدیعلم ذلک بالرجوع الی المتکلم وانکارہ عندمن لایتھمہ، ویعرف تارۃ باعتراف المفتری کماوقع بعض الوضاعین، ویقبل اخری اذا نص علی ذلک من یرجع الیہ لعظمہ وفضلہ، ولاینکر علیہ لثقتہ وعدلہ وکذلک یحکم بہ اذا لم یأت ذلک الامن طریق من عرف بالکذب کقول المحدثین ان ھذا موضوع ای فی سندہ وضاع او کذاب وھذا انما یعطی عدم الجزم لاالجزم بالعدم الا اذا ضم الیہ دلیل اٰخر فالکذوب قدیصدق واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ

یہ اس طرف اشارہ ہےکہ الحاق کبھی خود متکلم کی طرف رجوع کرنے پر اور اس کا ایسا  شخص کے سامنے الحاقی عبارت سے انکارکرنا، جس کو کذب سے متہم نہیں کیاجاسکتا اور کبھی خود افتراء کرنے والے کے اعتراف سے معلوم ہوتاہے جیسا کہ بعض ایسے لوگوں سے اعتراف واقع ہواہے اور کبھی ایسی منظم اور افضل شخصیت جس کے تقوٰی اور عدل کی بناپر اس کی بات کاانکار نہیں کیاجاسکتا، کی تصریح سے معلوم ہوتاہے اور کبھی الحاق کاحکم تب کیا جاتاہے جب کہ اس بات کو صرف جھوٹ بولنے میں مشہورشخص ہی بیان کرے جیسا کہ محدثین کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں من گھڑت اور کذاب راوی ہے، یہ آخری وجہ صرف عدم جزم کافائدہ دیتی ہے اور جزم بالعدم کانہیں کیونکہ جھوٹا بھی کچھ سچ بول دیتاہے ہان اگرکوئی اوردلیل بتائے کہ یہ جھوٹ ہے توپھر جزم بالعدم کافائدہ ہوسکتاہے واﷲ تعالٰی اعلم۱۲۔منہ (ت)
امام شعرانی رحمۃ اﷲ علیہ لواقح الانوارمیں فرماتے ہیں:
قدم علینا الاخ العالم الشریف شمس الدین السید محمد ابن السید ابی الطیب المدنی المتوفی ۹۵۵ ؁ خمس وخمسین و تسعمائۃ فذاکرتہ فی ذلک فاخرج الی نسخۃ من الفتوحات  التی قابلھا علی النسخۃ التی علیھا خط شیخ محی الدین نفسہ بقونیۃ فلم ارفیھا شیئا مما توفقت فیہ وحذفتہ فعلمت ان النسخ التی فی مصر ان کلھا کتبت من النسخۃ التی دسوا علی الشیخ فیھا مایخالف عقائد اھل السنۃ والجماعۃ کماوقع لہ ذلک فی کتاب الفصوص وغیرہ۱؎ الخ
یعنی ہمارے دوست عالم شریف سیدشمس الدین محمد بن سید ابوالطیب مدنی جن کی وفات ۹۵۵ھ میں ہوئی ہمارے یہاں آئے میں نے فتوحات شیخ اکبرقدس سرہ، کاتذکرہ کیا انہوں نے ایک نسخہ فتوحات نکالا جسے انہوں نے اس نسخے سے مقابلہ کیاتھا جو شہر قونیہ میں کہ شیخ اکبرقدس سرہ، کا وطن ہے خاص شیخ قدس سرہ، کے دستخط شریف سے مزیّن ہے اس نخے میں میں نے کہیں ان عبارتوں کانشان نہ پایا جن میںمجھے تردّد تھا اور میں نے فتوحات کے انتخاب میں قلم انداز کردی تھیں تومجھے یقین ہوا کہ اب جس قدر نسخے مصر میں ہےں سب اسی نسخے سے نقل ہوئے ہیں جس میں لوگوں نے عقائد اہلسنت وجماعت کے خلاف عبارتیں شیخ پرافتراکرکے ملادی ہیں جیساکہ ان کی فصوص وغیرہ کے ساتھ بھی یہی واقع ہوا۔ الخ
 (۱؎ کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیہ من الفتوحات المکیہ    مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد    ۲/ ۱۲۳۸)
اس کے بعد امام شعرانی نے دو تحریریں نقل فرمائیں جوعالم ممدوح سیدشریف مدنی مرحوم نے نسخہ مذکورہ قونیہ پر خود حضرت شیخ ودیگر عمائدرحمہم اﷲ تعالٰی کے دستخطوں سے لکھی دیکھیں اور بیان کیاکہ یہ نسخہ خود حضرت شیخ اکبررحمہ اﷲ تعالٰی کاوقف فرمایاہواہے شیخ نے اپنی علامت وقف یوں تحریرفرمائی ہے :
وقف محمد بن علی بن عربی الطائی ھذاالکتاب علی جمیع المسلمین۲؎۔
یہ کتاب محمد بن علی بن عربی طائی نے تمام مسلمانوں پر وقف کی۔
 (۲؎کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیہ من الفتوحات المکیہ    مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد    ۲/ ۱۲۳۹)
Flag Counter