| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
یونہی شیخ نے اخبار الاخیار شریف اور مولٰینا ابوالمعالی محمدمسلمی عالمہ اﷲ تعالٰی بلطفہ نے جنہیں رسالہ مذکورہ شیخ محقق میں علمائے سلسلہ علیہ سے شمارکیا تحفہ شریفہ ار حضرت سیدنا ومولٰینا اسدالواصلین جبل العلم والیقین حضرت سیدشاہ حمزہ عینی قادری فاطمی حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کاشف الاستار شریف میں اسے نقل وارشاد فرمایا اور امام یافعی
بل اﷲ تربتہ
(اﷲ تعالٰی ان کی قبر کو ٹھنڈا رکھے۔ت) تصریح فرماتے ہیں کہ حضور پرنورغوث اعظم صلی اﷲ تعالٰی علٰی جدہ الاکرم وعلیہ وسلم کے اصحاب کرام
عطراﷲ ضرائحھم القادسۃ
(اﷲ تعالٰی ان کی قبروں کو معطر فرمائے ۔ت) اس نماز کو عمل میں لاتے اور زبدۃ الآثارمیں اولیائے طریقہ علیہ عالیہ
روحت ارواحھم
(ان کی روحیں معطرہوں۔ت) کے آداب میں فرمایا:
وملازمتہ صلٰوۃ الاسرار التی بعدھا التخطی احدی عشرۃ خطوۃ ۱؎
یعنی اس خاندان پاک کے آداب سے ہے صلٰوۃ الاسرار کی مداومت کرنی جس کے بعد گیارہ رہ قدم چلناہے۔
(۱؎ بحوالہ زبدۃ الاسرار خاتمۃ الکتاب مطبوعہ مطبع بکسلنگ کمپنی دہلی ص۱۲۶)
بااینہمہ اس کااعمال مشائخ کرام سے ہونا نہ ماننا آفتاب روشن کاانکارکرناہے اور خود کون سی راہ ہے کہ ان ائمہ و اکابر کو خواہی نخواہی جھٹلائیے اورعیاذباﷲ بدعتی وناحق کوش ٹھہرائیے، پھر یہ مقبولان خدا صرف اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ اسے خاس حضورپرنور غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاارشاد بتاتے ہیں اور حضور کے ارشاد واجب الانقیاد پر رَدّ وایراد اگرانجانی سے نہ ہو تو معاذاﷲ وہ آتش سوزاں وبلائے بے درماں وقہربے امان ہے جس کا مزہ اس دارالغرور والاقتباس میں نہ کلھا توکل کیادورہے۔
''ان موعدھم الصبح الیس الصبح بقریبo۲؎''
(بیشک ان کا وعدہ صبح کا وقت ہے کیاصبح قریب نہیں۔ت)
(۲؎ القرآن ۱۱/ ۸۱)
حضورخودارشاد فرماتے ہیں :
تکذیبکم لی سم قاتل لادیانکم وسبب لذھاب دنیاکم واخراکم۔
میرے ارشاد کوخلاف بتانا تمہارے دین کے لئے زہر قاتل اور تمہاری دنیاوعقبٰی دونوں کی بربادی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔
اور ان اکابران ملت وعلمائے اُمت کونقل وروایت میں بھی غیرموثوق جاننا اسی دارالفتن ہندوستان میں آسان ہے جہاں نہ کسی منہ کو لگام، نہ کسی زبان کی روک تھام۔ یہ امام ابوالحسن نورالدین علی شطنوفی قدس سرہ،کہ بہجۃ الاسرار شریف کے مصنف اور برطرز حدیث بسند متصل اس روایت جلیلہ کے پہلے مخرّج ہیں اجلّہ علماء وائمہ وقرأت و اکابراولیاء وسادات طریقت سے ہیں امام اجل شمس الدین ابن الجرزی رحمہ اﷲ تعالٰی کہ اجلہ محدثین وعلمائے قرائت سے ہیں جن کی حصن حصین مشہور ومعروف دیاروامصار ہے اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں انہوں نے یہ کتاب بہجۃ الاسرارشریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند واجازت حاصل کی اپنے رسالہ طبقات القرأ میں فرماتے ہیں:
انی قرأت ھذالکتاب اعنی بھجۃ الاسرار بمصر وکان فی خزانۃ سلطان المصر، علی الشیخ عبدالقادر وکان من اجلۃ مشایخ مصر، فاجازنی روایتہ ۱؎الخ
یعنی میں نے یہ کتاب بہجۃ الاسرارمصر میں خزانہ شاہی سے حاصل کرکے شیخ عبدالقادر سے کہ اکابرمشائخ مصرسے تھے پڑھی اور انہوں نے مجھے اس کی روایت کی اجازت دی الخ۔
(۱؎ رسالہ طبقات القراء)