Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
120 - 158
انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)
 (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں)

(نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۱۱۱۳ :از دہلی کھڑکی فراش خانہ مسجد حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ، مرسلہ جناب مستطاب مولانا مولوی حافظ شاہ سراج الحق محمدعمرصاحب قادری	 اواخرربیع الاول شریف ۱۳۰۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلٰوۃ الاسرار یعنی نمازغوثیہ حضورغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی اور شرع میں جائز ہے یانہیں؟ زید اس کی روایت کو بے اصل اوراسے بہجۃ الاسرار میں کسی فاسق بدعتی کاالحاق بتاتا اور تصانیف شیخ اکبر و امام شعرانی کی نظیردیتاہے کہ ان میں الحاق ہوئے۔ اور کہتاہے کہ نمازفرض کے بعد قبلے سے انحراف اور کسی مزاروولی کی تعیین سمت او بہیأت نماز یا تعظیم اس طرف چلنا تذلل وخشوع تمام کرناہرگزدرست نہیں اور کہتاہے کہ آنجناب یعنی حضورغوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوکتاب وسنت وسیرتِ صحابہ کے اتباع اور احکام شرع پرقیام او محدثات سے اجتناب تام اور طاعات میں اخلاص اور ہرحال میں خداپرتوکل واعتماد میں استقامت کاملہ تھی وہ ان امور کے خلاف کیونکرفرماتے کہ بعد نماز مغرب عراق کی طرف بتعظیم تمام لو اوع دل سے متوجہ ہوکر میرانام لے کرحاجت چاہو، یہ فعل کتاب وسنت وطریقہ خلفائے راشدین کے خلاف ہے اور سیرت وعمل صحابہ کے موافق نہیں اور تابعین وتبع تابعین ودیگراسلاف کرام وائمہ عظام سے اس کامثل منقول نہیں، عوام کہ اسے عمل مشائخ کہتے ہیں قابل التفات نہیں مشائخ میں جواہل علم فقہاء و ائمہ ہوئے کسی نے اس کے مثل تصریح نہ کی اور قول وفعل بعض غیرموثوق پرعمل نہ چاہئے بلکہ سواداعظم کااتباع چاہئے، صحابہ محبت وتعظیم آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں ہم سب سے زیادہ اور ثواب وحسنات پربہت حریص تھے اگریہ عمل موجب ثواب وقربت الی اﷲ ہوتا تو سلف کرام بلکہ خود حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی علیہ الرحمۃ مدینہ منورہ کی طرف کرتے ، آیا یہ کلام اس کاغلط ہے یاصحیح؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

الحمدﷲ علی حسن بلائہ، ملأ ارضہ وملأ سمائہ، والشکر للمصطفٰی علی نعمائہ، شکرایوافی حسن الائہ، ویکافئ عنامزید عطائہ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی ابنائہ، وازواجہ واصحابہ واحبائہ و وارث علمہ ومجدہ و سنائہ ووارث علمہ ومجدہ وسنائہ، غوثنا الاعظم رافع لوائہ، ومشایخنا الکرام وسائر اولیائہ، صلٰوۃ تکشف لنا الاسرار، ونصرف عنا اذی الاشرار، وتکون عدۃ لیوم لقائہ، واشھد ان لاالٰہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ شھادۃ موجبۃ لرضائہ، واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الصادع بالحق بعد خفائہ، صلی اﷲ تعالٰی وسلم علیہ، وعلی کل عبد مرضی لدیہ، صلٰوۃ تأتی علی قدر کبریائہ، وسلام بدوامہ و بقائہ، اٰمین اٰمین، الٰہ الحق امین یاراحم العبد وسامع دعائہ، قال العبید الذلیل، للمولی الجلیل، ابومحمد النسی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی، لطف بہ اﷲ فی شدتہ ورخائہ، مستعینا باﷲ فی دفع الارتیاب، ورفع الحجاب، عن وجھہ الصواب، مسمیا للجواب، بعلم یُعلم عام املائہ، ''انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار''(۱۳۰۵ھ)، جعلھا اﷲ ذخیرۃ لدیہ، وذریعۃ الیہ، یوم تشرق الارض بنورربھا وجمیل ضیائہ، اٰمین، والحمدﷲ رب العٰلمین، اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اس کے اچھے امتحان پر، زمین وآسمان کوعجائبات سے بھرنے اور اپنی قدرت وقضاء میں جسے چاہے بھرنے پراور شکر مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے ان کے انعامات پر، ایسا شکر جوان کی بہترین نعمتوں کوپوراہو ار ان کی مزید عطاؤں کوہماری طرف سے کفایت کرے، اﷲ تعالٰی ان پر اوران کے صاحبزادوں اور ازواج اور اصحاب اور آپ کے علم، بزرگی اور بلندی کے وارث ہمارے غوث اعظم پر جو آپ کے جھنڈے کو بلندکرنے والے ہیں اور تمام اولیاء پر، رحمت نازل فرمائے، ایسی رحمت جوہمارے لئے اسرار کوکھول دے اور شریرلوگوں کی اذیت کوہم سے پھیردے، اور اﷲ تعالٰی کے ہاں حاضری کی اذیت کو ہم سے پھیردے، اور اﷲ تعالٰی کے ہاں حاضری کے دن کے لئے ذخیرہ بنے، اور میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالٰی وحدہ، لاشریک ہے ایسی گواہی جواس کی رضا کی موجب ہو، اور گواہی دیتاہوں کہ محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کے بندے اوررسول ہیں جوحق کوخفا سے ظاہرکرنے والے ہیں صلی اﷲ تعالٰی وسلم آپ پر اور اس کے دربارمیں تمام پسندیدہ بندوں پر، وہ صلٰوۃ جو اس کی کبریائی کے شایان شان ہو اور وہ سلام جو اس کی بقاء اور دوام تک دائم ہو، آمین آمین اے الٰہ برحق آمین، بندے پررحم کرنے اور اس کی دعاکوسننے والے، اپنے جلیل القدر آقا کے سامنے حقیر اور ناتواں بندہ ابومحمد عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی(اﷲ تعالٰی اس کی شدت وسہولت میں لطف و مہربانی فرمائے) نے اﷲ تعالٰی سے امداد چاہتے ہوئے اور حق وصواب کے چہرے سے پردہ اٹھاتے اور شک کو دورکرتے ہوئے جواب کاایسا نام جو اس کی تحریر کے سال کوظاہرکرے ''انہار الانوار من یم صلٰوۃالاصرار'' رکھتے ہوئے کہاکہ اﷲ تعالٰی اس کو ذخیرہ اور ذریعہ اپنے دربار میں بنائے جس دن زمین اپنے رب کے نور سے چمک جائے۔ اور خوب روشن ہوجائے، آمین، الحمدﷲ رب العالمین، اے اﷲ حق وصواب کی رہنمائی فرما۔(ت)
فی الواقع یہ مبارک نماز حضرات عالیہ مشائخ کرام قدست اسرارہم العزیزہ کی معمولی اور قضائے حاجات وحصول مرادات کے لئے عمدہ طریق مرضی و مقبول اور حضور پرنور غوث الکونین غیاث الثقلین صلوات اﷲ وسلامہ علٰی جدہ الکریم وعلیہ سے مروی ومنقول، اجلہ علماء واکابر برکملا اپنی تصانیف علیہ میں اسے روایت کرتے اور مقبول ومقرر ومسلم معتبررکھتے آئے، امام اجل ہمام ابجل سیدی ابوالحسن نورالدین علی بن جریر لخمی شطنوفی قدس اﷲ سرہ العزیز بسند خود بہجۃ الاسرار شریف میں اور شیخ شیوخ علماء الہند شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی نوراﷲ مرقدہ زبدۃ الآثار لطیف میں اور دیگرعلمائے کرام وکملائے عظام رحمہم اﷲ تعالٰی اپنے اپنے اسفار منیف میں اس جناب ملائک رکاب، علیہ رضوان العزیز الوہاب، سے راوی وناقل کہ ارشاد فرمایا:
من صلی رکعتین (زید فی روایۃ) بعد المغرب (وزادا) یقرأ فی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم اتفقوا فی المعنی واللفظ للامام ابی الحسن قال ثم یصلی علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکرنی ثم یخطوا الٰی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ ویذکر اسمی ویذکر حاجتہ فانھا تقضی (زاد الشیخ) بفضل اﷲ وکرمہ (وقال اٰخر) قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ۱؎۔
جوبعد مغرب دورکعت نمازپڑھے ہررکعت میں بعد فاتحہ سورہ اخلاص یازدہ بارپھر بعد سلام، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرصلٰوۃ وسلام عرض کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرانام یاد اور اپنی حاجت

ذکرکرے اﷲ تعالٰی کے فضل وکرم سے اس کی مرادپوری ہو، اس عبارت میں ''مغرب کے بعد'' ایک روایت میںزائد ہے اور صاحب بہجۃ الاسرار اور صاحب زبدۃ الآثار نے ''ہررکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ مرتبہ'' زائد ذکرکیا، پھر شیخ عبدالحق نے، بفضل اﷲ وکرمہ، کوبھی اور دوسرے نے صرف ''قضی اﷲ تعالٰی حاجتہ''ذکرکیا۔(ت)
 (۱؎ بہجۃ الاسرار    فضل اصحابہ وبشراہم    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ص۱۰۲)
اسی طرح امام جلیل علامہ نبیل امام عبداﷲ یافعی مکی طیب اﷲ ثراہ صاحب خلاصۃ المفاخر فی اختصار مناقب الشیخ عبدالقادر نے روایت کی، یونہی فاضل کامل مولاناعلی قاری ہروی نزیل مکہ معظمہ صاحب شروع فقہ اکبر ومشکوٰۃ اکرم اﷲ نزلہ، نے نزہۃ الخاطر میں ذکر فرمایا زبدہ مبارکہ میں اپنے شیخ واستاذ احسن اﷲ مثواہ کا اس نماز کی اجازت دینا اور اپنااجازت لینا بیان کیا اور حضرت شیخ محقق تغمدہ اﷲ برحمۃ سے اس نمازمبارک میں خاص ایک رسالہ نفیس (عہ ۱) عجالہ ہے۔
عہ ۱: نقلھا برمتھا مولٰینا سراج الحق محمد عمر القادری حفظہ اﷲ تعالٰی ابن الفاضل الجلیل مولانا فرید الدین الدھلوی رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتابہ ریاض الانوار من شاء فلیرجع الیہا۱۲منہ

یہ تمام مولانا سراج الحق محمد عمرقادری ابن فاضل جلیل مولانا فرید الدین دہلوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے اپنی کتاب ''ریاض الانوار'' میں نقل کیاہے جو چاہے اسے دیکھے۱۲(ت)
 اس سے ثابت کہ حضرت وَرِع سراپا سعادت حامل شریعت کامل طریقت سیّدی عبدالوہاب متقی مکی برداﷲ مضجعہ نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار کو معتمد ومعتبر اور اس مبارک روایت کو مسلم ومقرر فرمایا اور مولٰینا شیخ وجیہ الدین علوی احمدآبادی علیہ رحمۃ الرؤف الہادی کہ سال وفات (عہ۲) امام اجل علامہ سیوطی رحمہ اﷲ تعالٰی میں متولد ہوئے،
عہ ۲ : یعنی ۹۱۱ ھ؁ ووفاتہ لسلخ صفر۹۹۸ھ؁ ۱۲منہ

یعنی ۹۱۱ھ؁ اور ان کی وفات ماہ صفر کے آخر ۹۹۸ھ؁۔(ت)
حضرت شیخ غوث گوالیاری علیہ رحمۃ الملک الباری کے مرید سعید اور حضرت شیخ محقق کے استاد مجید اور شاہ ولی اﷲ دہلوی کے شیخ سلسلہ اور صاحب مقامات رفیعہ وتصانیف کثیرہ بدیعہ ہیں، بیضاوی وہدایہ وتلویح وشرح وقایہ ومطول ومختصر و شروح عقائد مواقف وغیرہا پرحواشی مفیدہ رکھتے ہیں اور کبرائے منکرین نے بھی اپنے رسائل میں اُن سے استناد کیا نہایت شدومد سے اس نمازمبارک کی اجازت دیتے اور اس پربتاکید تحریص وترغیب فرماتے،
Flag Counter