| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ ۱۱۱۱ : دورکعت تراویح کی نیت کی قعدئہ اولٰی بھول گیاتین پڑھ کربیٹھا اور سجدہ کیاتو نماز ہوئی یانہیں اور ان رکعتوں میں جوقرآن شریف پڑھا اس کااعادہ ہویانہیں اور چارپڑھ لیں تو یہ چاروں تراویح ہوئیں یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب صورت اولٰی میں مذہب اصح پرنماز نہ ہوئی اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھاگیا اعادہ کیاجائے،
فی ردالمحتار لوتطوع بثلاث بقعدۃ واحدہ کان ینبغی الجواز اعتبارا بصلٰوۃ المغرب، لکن الاصح عدمہ لانہ قدفسدما اتصلت بہ القعدۃ وھو الرکعۃ الاخیرۃ، لان التنفل بالرکعۃ الواحدۃ غیرمشروع فیفسد ماقبلھا۲؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ اگر کسی نے تین نفل ایک قعدہ کے ساتھ پڑھے مغرب کی نماز پرقیاس کرتے ہوئے جائز ہونا چاہئے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ نفل جائزنہیں کیونکہ اس کی آخری رکعت جس کے بعد قعدہ کیاہے وہ فاسد ہے کیونکہ وہ دوپر زائد ایک رکعت نفل رہ گئی جبکہ ایک رکعت نفل جائزنہیں لہٰذا اس آخری رکعت کے فساد سے پہلی دورکعت بھی فاسد ہوجائیں گی۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۲)
اور چارپڑھ لیں اور قعدئہ اولٰی نہ کیا تو مذہب مفتی بہ پر یہ چاروں دوہی رکعت کے قائمقام گنی جائیں گی باقی اور پڑھ لے
کما صرح بہ فی ردالمحتار عن النھر الفائق الزاھدی
(جیسا کہ ردالمحتارمیں نہرالفائق اس نے زاہدی سے وضاحت کردی گئی ہے۔ت) اور دونوں قعدے کے توقطعاً چاروں رکعتیں ہوگئیں۔
ولاکراھۃ ایضا کما یفیدہ التعلیل المذکور فی ردالمحتار نعم الافضل مثنی مثنی کما لایخفی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
چاررکعت نفل دو قعدوں اور ایک سلام سے جائز ہیں اور کوئی کراہت نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار کی بیان کردہ علت سے حاصل ہے تاہم نفل دودو پڑھنا افضل ہے جیسا کہ واضح ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۱۲ : از جوالاپور ضلع سہارن پور مرسلہ سیدیادعلی صاحب ۱۹ شوال ۱۳۰۷ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جماعت تراویح میں مشغول ہے اب چندآدمی آئے وہ فرض جماعت سے پڑھیں توکوئی حرج ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب صحیح یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں:
ولوفی مسجد محلۃ حیث لم یکرر والاذان وعدلوا عن المحراب کماھو معلوم مشاھد۔
اگرچہ محلہ کی مسجدہی میں جبکہ دوبارہ اذان نہ دیں اور محراب سے ہٹ کر جماعت کرائیں جیسا کہ معلوم و معروف ہے۔(ت)
طحطاویہ میں ہے :
اذا کررت بغیراذان فلاکرھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون ۱؎۔
جب تو جماعت کاتکرار اذان کے بغیرکرے توکوئی کراہت نہیں ہے، مسلمانوں کایہی عمل ہے۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۴۰)
غنیہ میں ہے :
عن ابی یوسف اذا لم یکن علی الھیئۃ الاولی لایکرہ والایکرہ وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئاۃ کذا فی فتاوی البزازیۃ۲؎۔
امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ جب دوسری جماعت پہلی جماعت کی طرز پرنہ ہو تومکروہ نہیں ورنہ مکروہ ہے، یہی صحیح ہے، اور محراب سے ہٹ کر کرنے سے پہلی جماعت کی طرز بدل جاتی ہے۔ فتاوٰی بزازیہ میں ایسے ہی ہے(ت)
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام المسجد مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۵)
مگرجہاں تک ممکن ہو جماعت تراویح سے دورجماعت کریں اور ان کاامام ضرورت سے زیادہ آواز بلند نہ کرے تاکہ تخلیط وتلبیس سے ایمن رہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔