| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
نعم وقع فی شرح المنیۃ الصغیر، مانصہ اذا لم یصل الفرض مع الامام قیل لایتبعہ فی التراویح ولافی الوتر وکذا اذالم یصل معہ التراویح لایتبعہ فی الوتر والصحیح انہ یجوز ان یتبعہ فی ذلک کلہ حتی دخل بعد ماحصل الامام الفرض وشرع فی التراویح فانہ یصلی الفرض اولا وحدہ ثم یتابعہ فی التراویح وفی القنیۃ لوترکوا الجماعۃ فی الفرض لیس لھم ان یصلا التراویح جماعۃ۱؎۱ھ فاوھم ذلک عند بعض الناس ان الحلبی صحح جواز اتباع الامام فی الوتر وان لم یتبع فی الفرض،
ہاں منیہ صغیرمیں یہ بات مذکور ہے کہ جس نے فرض باجماعت نہ پڑھے ہوں وہ تراویح اور وتر کی جماعت میں ایک قول کے مطابق شریک نہ ہو اور وہ بھی جو اس امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شریک نہ ہوا تووہبھی اس امام کے ساتھ ورترکی جماعت میں شریک نہ ہو( لیکن یہ بات درست نہیں) کیونکہ ان مذکور تمام صورتوں میں وہ وترامام کے ساتھ باجماعت پڑ ھ سکتاہے، حتی کہ امام کے فرض سے فارغ ہونے کے بعد اگر مسجد میں آیا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ پہلے اکیلے فرض پڑھ کرپھرتراویح کی جماعت میں شریک ہوجائے۔ اور قنیہ میں ہے کہ اگرلوگ فرض کی جماعت کے تارک ہوں تو وہ تراویح باجماعت امام کے ساتھ نہ پڑھیں۱ھ۔ اس سے بعض حضرات کویہ وہم ہواہے کہ حلبی نے فرض باجماعت کے بغیروترکی جماعت میں شرکت کوصحیح قراردیاہے۔
(۱؎ صغیری شرح منیۃ المصلی فروع فاتتہ ترویحۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۱۰)
وانا اقول لیس ھورحمہ اﷲ تعالٰی من اصحاب التصحیح وانما وظیفتہ النقل عن ائمۃ الترجیح ومعلوم ان شرحہ الصغیر انما ھوملخص من شرحہ الکبیر وھذہ عبارۃ الکبیر بمرأی عین منک لاتری فیہ تصحیحا اصلا ناظر الی ھذا المتوھم وانما فیہ تصحیحان الاول من الامام الفقیہ ابی اللیث بجواز اتباع الامام فی الفقیہ ابی اللیث بجواز اتباع الامام فی الوتر سوء صلی التراویح کلھا اوبعضھا معہ اومع غیرہ اووحدہ منفردا وھذا مجمل قولہ ''یجوز ان یتبعہ فی ذلک کلہ والثانی عن الامام ظھیر الدین المرغینانی لجواز الاتباع فی التراویح وان لم یتبعہ فی الفرض، وعلہ یتفرع الفرع المذکور فی الشرحین معا''حتی لودخل بعد ماصلی الامام الفرض'' فالتوھم الحاصل فی عبارۃ الشرح الصغیر انما منشوہ ماوقع فیہ ھھنا من الاختصار المخل الاترٰی انہ اقتصر فی التفریع المذکور کاصلہ الکبیر علی قولہ، یتابعہ فی التراویح، ولوکان مرادہ بقولہ فی ذلک کلہ، مایشمل المتوھم، لزاد ایضا والوتر،
میں کہتاہوں کہ حلبی رحمۃ اﷲعلیہ اصحاب تصحیح میں سے نہیں، ان کاکام صرف ائمہ ترجیح کے قول کونقل کرنا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کی شرح صغیریہ ا ن کی کبیرشرح کاخلاصہ ہے اور کبیر شرح کی عبارت آپ کے سامنے ہے اس میں اس وہم کے متعلق کوئی تصحیح نظرنہیں آتی، اس مسئلہ میں صرف دو تصحیحیں موجود ہیں ایک امام فقیہ ابواللیث کی جوکہ کسی طرح بھی تراویح پڑھ لینے والے کو خواہ اکیلے یاجماعت کے ساتھ اس امام یاکسی دوسرے امام کے ساتھ، پھر یہ کہ تمام تراویح یابعض باجماعت پڑھی ہوں، وتر کی جماعت میں شرکت کے جواز کے بارے میں ہے اور اس کو بطوراجمال حلبی نے اپنے اس قول سے تعبیرکیاکہ، س وترکی جماعت میں شرکت کی ان تمام صورتوں میں جائزہے۔ اس بارے میں دوسری تصحیح امام ظہیرالدین مرغینانی کی ہے جوکہ امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شرکت کے جوازسے متعلق ہے اس شخص کے بارے میں جس نے اس امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں، اسی تصحیح پر صغیر و کبیر شرحوں کی تفریع مرتب ہے کہ کوئی شخص امام کے فرض سے فارغ ہونے کے بعد مسجد میں آیا الخ لہٰذا شرح صغیر کی عبارت سے جووہم پیداہواوہ اس اختصار کی وجہ سے پیداہوا، کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ انہوں نے تفریع بیان کرتے ہوئے صرف اتناکہا کہ وہ فرض پڑھنے کے بعد امام کے ساتھ تراویح میں شامل ہوجائے، اور شرح کبیر میں بھی اتناہی ذکر ہے، اور اس کے قول ''ان سب صورتوں میں'' وہ صورت بھی شامل ہوتی جس کاوہم ہواہے تو پھرتفریع میں، تراویح میں شامل ہونے کے ساتھ وتر میں شامل ہونے کوبھی ذکرکرتے،
وبالجملۃ فالمعروف المعلوم من تصحیحات الائمۃ ھو الذی بینہ فی الشرح الکبیر، وھذا المتوھم لایعرف لہ تصحیح ولاترجیح، فلایعارض مانص علیہ فی منیۃ الفقہاء وحکم بہ حکما جازما من دون ذکر خلاف فعلیک بالتبصر والانصاف ولک ان تقول ان ''الامام'' معرف باللام وضمیر ''یتبعہ'' راجع الیہ والمعرفۃ اذا اعیدت معرفۃ کان المراد عین الاول غالبا، فالمعنی اذا لم یصل الفرض مع ھذالامام فلہ ان یتبعہ فی الوتر ای لایجب لاتباعہ فی الوتر ان یکون اتبع ھذا الامام بعینہ فی الفرض، وھذا صحیح لاشک ویؤید ھذا الفھم ان القھستانی لما قال اذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر۱؎ احتاج الشامی الی ابانۃ مرادہ وان المقصود مع امام ما، لامع خصوص ھذا الامام، ان جادل مجادل فنقول الشرح الصغیر مطالب بتصحیح نقل ھذا التصحیح الذی لایعلم لہ اثراصلا فی کتاب قبلہ حتی فی الکبیر الذی کان اصلہ ، واﷲ الموفق۔
الحاصل ائمہ کرام کی تصحیحات سے صرف وہی بات معلوم ہوتی ہے جوکہ شرح کبیر میں ہے حالانکہ وہم شدہ کی اس میں کوئی تصحیح یاترجیح نظرنہیں آتی۔ لہٰذا شرح کبیرکی عبارت منیۃ الفقہاء کی تصریح عبارت کے معارض نہیں ہوسکتی جبکہ اس منیہ میں جزمی حکم ہے اور اس میں کسی اختلاف کااس بارے میں کوئی ذکرنہیںہے، تجھے غور وفکر میں انصاف چاہئے، اور تویہ بھی کہہ سکتاہے کہ شرح صغیر کی عبارت میں لفظ 'الامام' معروف بالام ہے اور لفظ یتبعہ، میں ضمیر کامرجع وہی امام ہے، اور اکثرطورپر معرفہ کوجب دوبارہ معرفہ ذکرکیاجائے تووہی ایک مراد ہوتاہے، تو اس قاعدہ کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ جب اس خاص امام کے ساتھ وتر باجماعت پڑھ سکتاہے یعنی کسی امام کے ساتھ وترپڑھنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ فرض بھی اسی کے ساتھ باجماعت پڑھے ہوں،اور یہ مفہوم بلاشک وشبہ صحیح ہے، اس مفہوم کی تائید قہستانی کے اس قول سے ہوتی ہے جس کی مراد کو علامہ شامی نے واضح کیاہے، وہ یہ کہ جب قہستانی نے کہا جب امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں تو وتر اس کے ساتھ نہ پڑھے اس پر علامہ شامی نے مراد کوواضح کرتے ہوئے کہاکہ اس امام سے مراد کوئی امام ہے یعنی اگر کسی بھی امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے تو پھروتر بھی جماعت سے نہ پڑھے، اگر کوئی اس وہم پربحث کااصرار کرتاہے تو اس کویہ کہہ دیا جائے کہ صغیر کااصل ہے، واﷲ الموفق،
(۱؎ جامع الرموز باب الوتروالنوافل مطبوعہ گنبدایران تہران ۱/ ۲۱۶)
فقد تحرربما تقرر، ان جماعۃ الوتر تبع لجماعۃ الفرض فی حق ک احد من المصلین، والجماعۃ التراویح فی الجملۃ لافی حق کل، ولرمضان بمعنی انھا تکرہ فی غیرہ لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد۲؎ کمافی الدرعن الدرر حتی جاز اقتداء ثلثۃ بامام بلاکراھۃ فی الاصح ۱؎ کما فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح للعلامۃ الشرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علی العلماء جمیعا، اتقن ھذا فلعلک لاتجد ھذا التحریر فی غیرھذا التقریر وماتوفیقی الابالعلیم الخبیر واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
پس اس تقریر سے یہ بات صاف ہوگئی کہ وتر کی جماعت فرض کی جماعت کے تابع ہے تمام نمازیوں کے لئے اور وتر کی جماعت، تراویح کی جماعت کے تابع ہے کچھ نمازیوں کے لئے (یعنی بعض حضرات نے بھی تراویح باجماعت پڑھ لیں تو دوسروں کوتر کی جماعت میں شرکت جائزہے) اور وتر کی جماعت رمضان کے بھی تابع ہے لیکن اس معنی میں کہ غیررمضان میں یہ جماعت مکروہ ہے، جب یہ غیررمضان میں وترکی جماعت میں یہ جماعت کروہ ہے، جب یہ غیررمضان میں وتر کی جماعت بطوردعوت و اہتمام ہو یعنی چار افراد ایک امام کی اقتداء کریں تو مکروہ ہے جیسا کہ درمختارمیں درر سے منقول ہے، حتی کہ اگرتین آدمی وتر کی جماعت میں ایک امام کی اقتداء کریں تو یہ اصح قول کے مطابق بلاکراہت جائزہے، جیسا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح شرح نورالایضاح کے حاشیہ میں ذکرکیاہے۔ نورالایضاح علامہ شرنبلالی کی کتاب ہے۔ اﷲ تعالٰی تمام علماء پررحمت فرمائے۔ ا س تحریر کومضبوط کر، ہوسکتاہے کہ تجھے دوسری جگہ یہ مفصل بحث نہ ملے وماتوفیقی الاباﷲ العلیم الخبیر واﷲ تعالٰی سبحٰنہ اعلم وعلمہ جل مجدہ، اتم واحکم۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الوتروالنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹) (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۱۱)