Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
117 - 158
قلت الاترٰی ان الظھر و العصر من اعظم الفروض المستقلۃ والجمع بینھما من توابع الوقوف بعرفۃ ولوفی حجۃ نافلۃ فافھم قال الشامی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح۲؎۱ھ ای فکانت جماعتہ ادون حالامن جماعۃ التراویح المسنونۃ عند الجمہور حتی لوترکہا الکل اثموا فکیف بجماعۃ الفرض الواجبۃ علی الصحیح الرجیح فساغ ان یکون تبعا فی الجماعۃ وان کان اصلا فی الذات حتی افسد تذکرہ المکتوبات ۔
میں کہتاہوں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ظہراور عصر کے فرض عظیم اصل اور مستقل ہیں لیکن اس کے باوجود ان دونوں فرضوں کومقام عرفات کے تابع قراردے کرجمع پڑھاجاتاہے خواہ نفلی حج ہی کیوں نہ ہو۔ غورکر۔ علامہ شامی نے ماتن کی اس عبارت پرکہ''وترکوتراویح کے بعد باجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف ہے'' پرفرمایا یعنی وتر کی جماعت تراویح کی جماعت سے ادنٰی ہے کیونکہ تراویح کی جماعت جمہور کے ہاں مسنون ہے حتی کہ اگرتمام لوگ تراویح کی جماعت کے تارک ہوں تو سب گنہگار ہوں گے، توجماعت وتر کافرض کی جماعت سے جوکہ راجح قول کے مطابق واجب ہے، کیامقابلہ ہے، پس یہ بات ظاہرہوگئی کہ وتراگرچہ فی ذاتہٖ مستقل نماز ہیں لیکن ان کی جماعت عشاء کی نماز فرض کے تابع ہے اس لئے اگروتر کی جماعت میں یاد آئے کہ عشاء کے فرض باقی ہیں تووترفاسد ہوجائیں گے۔
 (۲؎ ردالمحتار            باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۴۸)
قلت علی ان التعلیل بالقضیۃ المذکورۃ تعلیل بالنفی وھو عندنا من التعلیلات الفاسدۃ کما صرحوا باہ فی الاصول و حصرالعلۃ فی التبعیۃ ممنوع محتاج الی البیان ھذا والاخر ان من صلی الفرض بجماعۃ یجوز لہ الدخول فی جماعۃ الوتر سواء صلی الفرض خلف ھذاالامام اوخلف غیرہ کما قررالشامی وسواء صلی التراویح وحدہ او خلف ھذا الامام اوغیرہ کما نصوا علیہ قلت بل ومن لم یصلہا رأسا کما یشملہ اطلاق قولہ ولولم یصلہا بالامام لہ ان یصلی الوتر معہ فانہ یصدق بانتفاء القید و المقید جمیعا ولیحرر، اماما ذکروا ان جماعۃ الوتر ھل ھی تبع لجماعۃ التراویح ام لا، جنح الفاضلان الحلبی والطحطاوی فی حواشی الدار الی الثانی کما سمعت واستظھر الشامی الاول قائلاان سنۃ الجماعۃ فی الوتر انما عرفت تابعۃ للتراویح۱؎ ۔
میں کہتاہوں کہ علامہ شامی کامتن کے قول مذکور کوعلت قراردینا یہ تعلیل بالنفی ہے جبکہ ہم احناف کے ہاں تعلیل بالنفی فاسد ہے جیسا کہ ا صول فقہ میں اس کی انہوں نے تصریح کی ہے پھر اس کلام کو وتر کی جماعت کافرض کے تابع بنانے کے لئے ہی علت ماننا محتاج بیان ہے، اس کو محفوظ کر، اس بحث سے حاصل شدہ دوسری چیز یہ ہے کہ جس نے فرض باجماعت اداکئے ہوں خواہ کسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھے تو س کو اس امام کے ساتھ باجماعت وترپڑھنا جائز ہے جیسا کہ علامہ شامی نے اس کی تقریر کی ہے خواہ اس نے تراویح باجماعت اس امام یاکسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھی ہوں یا تراویح اکیلے پڑھی ہوں جیسا کہ فقہأ نے اس کو صراحۃً بیان فرمایا۔ قلت (میں کہتاہوں کہ) خواہ اس نے تراویح سرے سے پڑھی ہی نہ ہوں کیونکہ اس کا یہ قول کہ ''اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں تو بھی وتر باجماعت پڑھ سکتاہے'' مطلق ہے، جو اس صورت کو بھی شامل ہے کیونکہ مقید کلام کی نفی سے قید اورمقید دونوں کی نفی بھی ہوسکتی ہے(جس سے تراویح نہ پڑھنے کی صورت بھی سمجھی جاتی ہے) اس کونوٹ کر۔ لیکن علماء کایہ بیان کہ وتر کی جماعت کیاتراویھ کی جماعت کے تابع ہے یانہیں، تو حلبی اور طحطاوی دونوں کارجحان یہ ہے کہ تابع نہیں، یہ بات انہوں نے درمختارکے حاشیہ میں کہی ہے جیسا کہ توسماعت کرچکاہے، اور علامہ شامی نے پہلے احتمال یعنی تابع ہونے کوظاہر قراردیاہے یہ کہتے ہوئے کہ وتر کی جماعت کاسنت معلوم ہونا تراویح کے تابع ہونے کی وجہ سے ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۸)
قلت وھذا ھوالاظھر فان مشروعیۃ جماعتہ لوکانت لاصالتہ فالتہ دائمۃ لاتختص برمضان، ثم رأیت العلامۃ البرجندی نص فی شرحہ للنقایۃ ان الجماعۃ فیہ لما کانت بتبعیۃ التراویح علی ماھو المشھور۲؎۱ھ فقد ثبت روایتہ واعتضد درایتہ وترجح شھرۃ فانقطع النزاع، فاعلم(عہ) ان ھذا کلہ فیما لوترک الکل جماعۃ التراویح کما قدمنا من الغنیۃ عن القنیۃ، اما اذا جمع القوم وتخلف عنھا ناس ثم ادرکوا الوتر مع الامام، فلاشک ان لھم الدخول فی جماعۃ الوتر اذا کانوا صلوا الفرض بجماعۃ کما سمعت، نعم ذھب بعض کالامام علی بن احمد وعین الائمۃ الکرابیسی الی تبعیۃ لجماعۃ التراویح فی حق کل مصل بمعنی ان من لم یدرکھا مع الامام لایتبعہ فی الوتر، لکنہ کما علمت قول مرجوح،
میں کہتاہوں کہ یہ علامہ شامی کا قول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اگروتر کی جماعت خود اصل ہوتی تو پھریہ جماعت پورا سال ہوتی صرف رمضان کی تخصیص نہ ہوتی، پھر اس کے بعد میں نے یہی بات علامہ برجندی سے صراحۃً پائی کہ انہوں نے اپنی نقایہ کی شرح میں کہا کہ وتر کی جماعت تراویح کے تابع ہے جیسا کہ کہ یہی مشہورہے۱ھ ان کی روایت ثابت اور ان کی درایت مضبوط اور شہرت کوترجیح ہے لہٰذا یہ اختلاف ختم ہوگیا ہے، معلوم ہوناچاہئے کہ یہ ساری بحث اس صورت میں تھی جبکہ تمام نے تراویح کی جماعت کوترک کیا ہو جیسا کہ ہم نے غنیہ سے قنیہ کے حوالے سے پہلے بیان کردیاہے لیکن اگرلوگوں کی جماعت تراویح سے کچھ لوگ رہ گئے ہوں اور یہ لوگ بعد میں آکر امام کووتر کی جماعت میں پائیں توکوئی شک نہیں کہ یہ لوگ وتر کی جماعت میں شریک ہوسکتے ہیں بشرطیکہ انہوں نے فرض باجماعت پڑھے ہوں جیسا کہ توسن چکاہے، ہاں بعض حضرات جیسا کہ علی بن احمد اور عین الائمہ کرابیسی اس طرف گئے ہیں کہ وتر کی جماعت تراویح باجماعت کے تابع ہے لہٰذا ہرنمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ تراویح باجماعت پڑھے بغیر وتر کی جماعت میں شامل نہ ہو لیکن تومعلوم کرچکاہے کہ یہ بات مرجوح ہے۔
عہ: جواب اما فی قولہ اما ماذکروا ۱۲(م)
 (۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی    فصل فی التراویح   مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۱۴۱)
قلت بھذا التحقیق ظھرالتوفیق بین کلام العلامۃ البرجندی المذکور وکلام الفاضل شیخی زادہ فی مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر حیث قال لولم یصلھا (یعنی التراویح) مع الامام صلی الوتر بہ لانہ تابع لرمضان وعند البعض لالانہ تابع للتراویح عندہ، وفی القھستانی ویجوز ان یصلی الوتر بالجماعۃ وان لم یصل شیئا من التراویح مع الامام اوصلاھا مع غیرہ وھو الصحیح۱؎۱ھ مافی المجمع فانہ صریح فی ان القول بتبعیۃ للتراویح قول مرجوح خلاف الجمہور وصریح مافی البرجندی انہ ھوالقول المشھور ووجہ التوفیق ان التبعیۃ فی کلام المجمع ماخوذۃ بالنظر الٰی کل احد فی خاصۃ نفسہ ولذا بنی علیہ منع من لم یدرکھا مع الامام عن دخولہ فی الوتر، وفی کلام البرجندی بمعنی وقوعہ بعد اقامۃ الناس جماعۃ التراویح وان لم یدرکھا بعض القوم فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق ثم انما المعنی بتبعیتہ لرمضان ان جماعتہ غیرمشروعۃ الافیہ لاسلب تبعیتہ عما سواہ مطلقا حتی ینافی تبعیتہ لجماعۃ التراویح بل والفرض فان فیہ ماقد علمت، فاذن لاخلاف بین التبعیتین الاعلی قول البعض المرجوح، ھکذا ینبغی التحقیق و اﷲ تعالٰی ولی التوفیق،
میں کہتاہوں کہ اس تحقیق سے، علامہ برجندی کے کلام اور فاضل شیخی زادہ کی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ذکر کردہ کلام میں موافقت واضح ہوگئی فاضل نے وہاں یہ کہا کہ اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ بھی پڑھی ہوں تووہ امام کے ساتھ وترپڑھ سکتاہے کیونکہ وترکی جماعت رمضان کے تابع ہے، بعض کے نزدیک وہ وتر امام کے ساتھ نہیں پڑھ سکتاکیونکہ ان کے نزدیک وترکی جماعت تراویح کے تابع ہے۔ اور قہستانی میں ہے کہ اگرکسی نے تراویح جماعت سے نہ پڑھی ہوں یا کسی اور امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو وہ بھی وترامام کے ساتھ باجماعت پڑھ سکتاہے، یہی صحیح ہے۱ھ۔ مجمع کابیان اس بات میں صریح ہے کہ وتر کی جماعت کاتراویح کے تابع ہونےکاقول مرجوح ہے اور جمہور کے خلاف ہے۔ اور برجندی کابیان یہ ہے کہ یہ قول مشہورہے اورموافقت کی وجہ یہ ہے کہ مجمع کلام میں جس تابع کومرجوح کہاہے اس سے مراد وہ صورت ہے جبکہ تراویح کی جماعت بالکل نہ ہوئی اورکسی نے بھی تراویح کی جماعت سے نہ پڑھی ہوں، اسی لئے اس نے وتر کی جماعت میں شامل ہونے کی ممانعت ی بنااس بات کوبنایاہے کہ امام کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہوں، جبکہ علامہ برجندی کا یہ کہنا کہ وتر کی جماعت تراویح کے تابع ہونا مشہور قول ہے، اس سے مراد وہ صورت ہے کہ جب بعض نے تراویح کی جماعت کی ہو اور بعض لوگ اس جماعت سے رہ گئے ہوں، یوں توفیق ہوگئی اﷲ کی دی ہوئی توفیق سے، پھر وتر کی جماعت کارمضان کے تابع ہونے کامطلب یہ ہے کہ رمضان کے بغیروتر کی جماعت جائزنہیں یہ مطلب نہیں کہ یہ کسی اور چیز کے تابع نہیں تاکہ اس کاتراویح اور فرض کے تابع ہونے کی نفی ہوسکے، کیونکہ یہ مطلب لینے میں اعتراض ہے، لہٰذا دونوں کے تابع ہونا ایک دوسرے کے منافی نہیں ہے ماسوائے ایک مرجوح قول کے، تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے۔
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    فصل فی التراویح    مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۱۳۸)
Flag Counter